Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

صحافیوں کیلئے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ

Print Friendly, PDF & Email

حیدر جاوید سید صاحب جیسے نفیس انسان کو میں نے تو پہلے پڑھا ہی تھا اور بالمشافہ ان کی خوبصورت سیر حاصل گفتگو سے مستفید ہو کراور بھی ان کا گرویدہ ہوگیا۔پہلی بار قبلہ مرشدی کی زیارت کا بھی شرف حاصل ہوا۔دل باغ باغ ہوگیا ۔ ان کے کالم اور ان کی باتیں پڑھ کر بہت اشتیاق تھا کہ زندگی کے کسی نا کسی موڑ پر ان سے ملاقات ہو۔بالاآخر وہ ایک خوبصورت دن ہماری قسمت میں آہی گیا ۔19جنوری بروز ہفتہ چیچہ وطنی پریس کلب میں محترمی حیدر جاوید سید تشریف لا رہے تھے ۔ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جارہا تھا جس میں وہ بطورلیکچرار مہمان خصوصی شرکت فرما رہے تھے۔

پاکستان کے معروف کالم نگار حیدر جاوید سید نے چیچہ وطنی پریس کلب میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی کو اپنے مقدس شعبہ صحافت کے ساتھ ہر صورت میں پورا پورا انصاف کرنا چاہیے۔سیاسی، مذہبی اور لسانی وابستگی سے بالاتر ہو کر اپنے صحافتی امور سر انجام دینے چاہئیں۔صحافت کو بطور شیوہ اختیارکرنا چاہیے پیشہ نہیں ۔ حق اور سچ کو اپنے قلم کے ذریعے لکھتے ہوئے صحافی کو کسی کا ڈر اور خوف آڑے نہیں آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صحافی کا مقصد سماج کی فلاح وبہبود اور سلگتے ہوئے عوامی مسائل کی نشان دہی ہونا چاہیے۔سرکاری دفاتروں میں جا کر افسران بالا کو سلامی پیش کرنا شعبہ صحافت سے وابستہ افراد کا ہرگز وطیرہ نہیں ہونا چاہیے۔خبر کے حصول اور سچائی لکھنے کے لیے ہمت اور تندہی کی ضرورت ہوتی ہے تب جا کر صحافی اپنے مقدس شعبہ سے انصاف کر سکتا ہے۔حیدر جاوید سید نے کہا کہ حق اور سچ لکھنے پر آپ کو مصائب اور مشکلات کا سامنا ضرو ر کرنا پڑتا ہے۔جن سے آپ کوبالکل بھی نہیں گھبرانا چائیے اور بجائے خوفزدہ ہونے کے ان سب کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔

تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر حیدر جاوید سیدسے مختصر ملاقات میں بہت سی مختصر بات چیت ہوئی ۔اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے کہا جی بالکل آپ کے نام سے واقف ہوں۔عرض کیا مرشدی آپ سے ملاقات کر کے جتنی خوشی ہوئی الفاظ نہیں ہیں میرے پاس ۔پڑھے لکھے لوگوں کی محفل میں بیٹھ کر ہمیشہ انسان کچھ نہ کچھ سیکھتا ہی ہے۔ قبلہ مرشدی سے ملاقات کر کے کافی کچھ حاصل کیا بلکہ بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کی لطیف باتیں اور خوبصورت جملے سن کر مزہ آ گیا۔ اکثر لوگ سینئرز کی محفل میں بیٹھنے سے اجتناب کر تے ہیں کہ سینئرزنے نصیحتیں کر کر کے بور کر دینا ہے یا اپنے پرانے قصے سنا سنا کر ہمارا وقت ضائع کر دینا ہے لیکن یقین جانیں جتنا وقت انہوں نے خطاب کیا مجھ سمیت تمام شرکاء بڑے انہماک سے گفتگو سماعت کرتے رہے ایک پل کیلئے بھی انہیں بوریت کا احساس نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھئے:   ایک لڑکی - زرمینہ سحر

ان سے یہ میری پہلی ملاقات تھی ان سے تعارف تو دو سال قبل بہت ہی پیارے دوست اور بھائی ملک قمر عباس اعوان نے کر وادیا تھا ۔جب محترم حیدر جاوید سید صاحب نے قلم کاروں کے لئے ایک پلیٹ فارم کا آغاز قلم کار کے نام سے ویب سائٹ کو شروع کیا تھا۔ مجھ خاکسار کی تحاریر ویب سائٹ قلم کار پر شائع ہو تی رہتی ہیں۔ جبکہ ملک قمر عباس سے میری پہلی ملاقات اور تعارف تین سال قبل لاہور میں یو ایم ٹی ادبی بیٹھک اورناشتہ کے موقع پر ہوا تھا۔اور آج تک پیار محبت اور بھائی چارے کی دوستی قائم و دائم ہے ۔

محترمی حیدر جاوید سید نے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ سے صحافت سے لے کرسیاست معاشرتی زندگی و سسٹم اور تاریخ سے صحافیوں اور صحافتی اداروں کو درپیش مسائل سے لیکر صحافت کے ہر پہلو پر مفصل گفتگو کی جبکہ صحافتی رموزاوقاف،خبریت کے بنیادی اجزاء اور خبر کے نوک پلک کے حوالے سے بھی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ جڑے رہو اور اپنی زندگی کی دیگر ذمہ داریوں کا بھی احساس کرتے ہوئے ان کو بھی کما حقہ پورا کرو۔بندہ ناچیز کا تعلق بھی شعبہ صحافت سے ہونے ، علم و ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے تاریخ کے بہت سے نئے پہلو ان سے سننے کو ملے۔ مرشد ی کی گفتگو مجھ جیسے تشنہ طلب انسان کو تقویت دیتی رہی اور ان کا ہر ایک لفظ میری سماعتوں سے ٹکرانے کے بعد میرے لئے سوچ کے نئے راستے بناتا رہا۔وہ اپنی صحافتی زندگی پر نصیحتوں،تجربات اور مشاہدات کے ساتھ روشنی ڈالتے رہے ۔

یہ بھی پڑھئے:   لاہور کے صحافی ساتھیوں کا شکریہ

تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے چیچہ وطنی کے ممتاز دانشور پروفیسر منیر ابن رزمی نے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ صحافت کے طالب علموں کے لئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ہے ۔صحافت کے مقدس شعبہ کے تقدس کے لئے ضروری ہے کہ ایسی صحافتی تربیتی ورکشاپ منعقد ہونی چائیے۔ جس سے صحافیوں کا صحافت میں معیار بلند ہوگا اور انہیں معاشرے میں عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاسکے گا ۔

ایک روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے میزبان و صدر چیچہ وطنی پریس کلب صدیق سرفراز چشتی جنرل سیکرٹری ملک اسد عباس نے معزز مہمان حیدر جاوید سید کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے صحافتی سفر میں آج تک کسی سینئر کو اپنے جونیئر کی رہنمائی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ہم مرشدی حیدر جاوید کے بے حد شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے ہمارے لئے ٹائم نکالااور صحافت کے طالب علموں کی اصلاح کی اور رہنمائی کرتے ہوئے ہمیں اپنے صحافتی تجربات سے مستفید کیا ۔

تحصیل چیچہ وطنی اور کسووال بھر کے صحافیوں نے شرکت کی۔ تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر مہمان خصوصی حیدر جاوید سید نے تمام شرکت کرنے والے صحافیوں کو اعزازی سرٹیفکیٹ دئیے۔بعدازں شرکاء ورکشاپ کے لئے ٹھنڈے ٹھار موسم میں گرما گرم پرتکلف چائے اور دیگر لوازمات کا اہتمام کیا گیاتھا ۔آخر میں چیچہ وطنی پریس کلب رجسٹرڈ کے صدر صدیق سرفراز چشتی اور جنرل سکرٹری ملک اسد عباس سمیت دیگر انتظامیہ کو کامیاب تربیتی ورکشاپ پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد۔

Views All Time
Views All Time
418
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: