دھاندلی

Print Friendly, PDF & Email

دھاندلی کا لفظ وہ لفظ ہے جو میں سنہ 88 کے الیکشنز سے لیکر اب تک سنتا آیا ہوں۔ کوئی ایک بھی الیکشن ایسا نہیں ہوگا جس میں دھاندلی کا الزام نہ لگا ہو۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو ماضی میں، شاید ایک مثال کو چھوڑ کر، اس دھاندلی کا سب سے بڑا beneficiary کوئی اور نہیں بلکہ نواز شریف رہا ہے۔ حتی کہ وہ الیکشنز جن میں بینظیر بھٹو کامیاب ہوئی تھیں، اُن میں بھی نواز شریف ہارنے کے باوجود اس لحاظ سے beneficiary رہا کہ بینظیر حیرت انگیز طور پر وہ نتائج حاصل نہ کر پائیں جو اُن کا حق تھا۔ جب کہ اگر اُن انتخابات کا ذکر کریں جن میں نواز شریف نے دو تہائی اکثریت حاصل کی تو بغیر کسی بھی تفصیل کا ذکر کیے میں بس ایک لفظ یاد دلانا چاہوں گا جو بینظیر بھٹو نے ان نتائج کے بارے میں استعمال کیا تھا۔ یہ لفظ تھا “جھرلو” یعنی “جھرلو پھر گیا”۔

عین ممکن ہے کہ 88ء اور پھر نوے کی دہائی میں جب پیپلزپارٹی کو سادہ سی اکثریت ملنے پر حکومت بنانے کا موقع ملا تھا، اُس وقت نواز شریف نے بھی دھاندلی کا راگ الاپا ہو اور الیکشنز کی شفافیت پر اعتراض اُٹھایا ہو لیکن آج دو دہائیاں گزرنے کے بعد جب حقائق پر سے پردہ اُٹھا، جب خود نواز شریف نے اعتراف جرم کیے تو ہم سب نے دیکھا کہ پیپلزپارٹی کی ہار ہی نہیں بلکہ اس کی جیت بھی سازشوں میں گھری رہی۔ آج کون نہیں جانتا کہ اسلامی جمہوری اتحاد کیا تھا۔

مجھے کامل یقین ہے کہ 2013ء میں اگر بینظیر حیات ہوتیں تو وہ آر اوز، جنرل کیانی اور افتخار چوھدری کی بے مثال مدد کے طفیل ملنے والی دو تہائی اکثریت کیلئے بھی “جھرلو” کا لفظ استعمال کرتیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ 2013ء میں کسی بھی سرکاری اعلان سے پہلے نواز شریف نے جیو ٹی وی پر اپنی فتح کی تقریر کر ڈالی تھی۔ جب کہ مجھے یہ بھی بہت اچھی طرح یاد ہے جب کچھ گھنٹوں کیلئے نتائج آنا اچانک رک گئے تھے اور اس کے بعد جیسے دنیا ہی بدل گئی۔

یہ بھی پڑھئے:   فوری عام انتخابات کا مطالبہ - کس کا نفع کس کا نقصان؟

کل سے ایک جملہ بار بار دہرایا جارہا ہے کہ 2013 میں صرف عمران خان نے دھاندلی کا شور مچایا تھا اور اس دفعہ سوائے عمران خان کے سب نے دھاندلی کا نعرہ لگایا ہے۔ یہ بات درست نہیں۔ یہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، آپ سرچ کر کے دیکھ لیجئے کہ 2013 میں صرف عمران نہیں بلکہ پیپلزپارٹی نے بھی بھی انتخابات کی شفافیت پر سوال اُٹھایا تھا البتہ سڑکوں پر احتجاج کا فیصلہ فقط عمران خان نے کیا تھا جس میں ڈاکٹر طاہرالقادری بھی اُن کے ساتھ شامل تھے۔ ہماری سیاست میں ہار یا جیت، دونوں صورتوں میں دھاندلی کا فائدہ اگر کسی نے سب سے زیادہ اُٹھایا ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ نواز شریف ہے۔ ماسوائے سنہ 2002 کے انتخابات، کیوں کہ وہ مشرف سے ڈیل کر کے سعودی عرب جا چکے تھے۔ یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جن سے آپ کبھی بھی انکار نہیں کر سکتے۔

آج تحریک انصاف نے انتخابات میں اب تک اکثریت حاصل کر رکھی ہے اور اس بار سب سے پہلے دھاندلی کا الزام کسی اور نے نہیں بلکہ نون لیگ نے لگایا ہے۔ لیکن وہ یہ بھول رہی ہے کہ 2013 تک، نون لیگ کا ماضی شاہد ہے کہ یہ ہار اور جیت، دونوں میں دھاندلی کی سب سے بڑی beneficiary رہی ہے۔ جبکہ اگر 2013 کے انتخابات سے حالیہ انتخابات کا موازنہ کیا جائے تو دھاندلی کا ثبوت تو ضرور ملے گا لیکن “جھرلو پھرنے” کا ثبوت بہرحال نہیں مل پائے گا۔ نون لیگ کو اب بھی لاہور، گوجرانوالہ وغیرہ میں توڑا نہیں جاسکا اور پنجاب پر اس کی گرفت بھی کچھ زیادہ کمزور نہیں ہوسکی۔

یہ بھی پڑھئے:   سیاسی حکیم کی غیر معیاری دوا بعوض قیمتی ووٹ

لہذا میری رائے میں ہمیں نتائج کر تسلیم کرتے ہوئے تحریک انصاف کو مبارکباد دینی چاہئے، یہ سمجھتے ہوئے کہ پاکستان میں کوئی بھی الیکشن دھاندلی کے الزام سے پاک نہیں گزرا البتہ اس کا beneficiary ہردو صورتوں میں ہمیشہ نواز شریف رہا ہے۔ اب ہمیں دیکھنا فقط یہ ہوگا کہ اس بار تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد beneficiary تحریک انصاف ہی رہتی ہے یا ایک بار پھر نواز شریف۔ جبکہ پیپلزپارٹی کا تو طرہ امتیاز ہے کہ وہ جمہوریت بہترین انتقام ہے کے فلسفے پر عمل پیرا رہتے ہوئے آگے بڑھے گی۔ میری رائے میں تو موجودہ الیکشن بلاول کیلئے وارم اپ میچ تھا۔ 2023 کے الیکشن میں بلاول کے مقابل کوئی دوسرا لیڈر نظر نہ آئے گا۔

میری جانب سے تحریک انصاف کو پیشگی مبارکباد۔ آپ نیا پاکستان بنا پاتے ہیں یا نہیں، اس کا مجھے علم نہیں البتہ آپ کی خاتون اُمیدوار نے جھنگ میں ایک کالعدم تنظیم کے سرغنہ احمد لدھیانوی کو ہرا کر ایک محفوظ پاکستان کے حوالے سے مثبت پیغام ضرور دیدیا ہے۔

Views All Time
Views All Time
651
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: