شہید سید حیدر حسن عسکری آپ کا جرم ناقابلِ معافی تھا

Print Friendly, PDF & Email

پچھلے تین دن سے پوری فیس بک پر آپ کو صلاح الدین کا تذکرہ جابجا اور وال وال پر نظر آرہا ہے۔ اس کا قصور اتنا تھا کہ اس کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں اس کا اے ٹی ایم کارڈ مشین میں کیپچر ہو گیا اور اس نے مشین توڑ کر اپنا کارڈ نکالا۔ اس دوران کارڈ جیب میں رکھتے ہوئے اس نے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے زبان چڑائی۔ اس کے زبان چڑاتے سکیچ اور اے ٹی ایم والی ویڈیو وال وال پھر رہی ہے۔ اور اب پولیس ٹارچر اور تفتیش والی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر جگہ جگہ نظر آرہی ہیں ۔ اس کی لاش مردہ خانہ سے اس کا باپ وصول کرنے گیا۔ وہاں کچھ لوگ اس منظر کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ اور ان ہی ویڈیوز میں سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ بوڑھا باپ اپنے بیٹے کی لاش پر جھک گیا اور سسک سسک کر روتا رہا۔ پھر اس کے بعد اس کے غسل کی تصاویر کے ساتھ نوحے ہر وال پر سب نے پڑھے۔

ان نوحوں میں کسی دائیں بازو یا بائیں بازو والے کی تفریق نہ تھی۔ ہر مذہبی، لبرل، سیکولر، ملحد نے اس واقعہ کی مذمت کی اور پنجاب پولیس کو رگیدنے میں ہر کوئی پیش پیش رہا۔ یقیناََ ایک شخص کو پولیس حراست میں یوں مار دینا ایک جرم ہے اور اس کی جس قدر مذمت کی جائے اسی قدر کم ہے۔ ہماری قوم ہر ایسے سانحے کے بعد جاگتی ہے۔ سوشل میڈیا پر مظلوم کے حق کے لیے اور اس کی حمایت کے لیے ہیش ٹیگ چلا کر اس کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتی ہے۔ گوکہ صلاح الدین کے بارے کافی کہانیاں گردش میں ہیں لیکن قوم نے پولیس حراست میں مارے جانے کی وجہ سے اس کے جرائم کو سائڈ پر رکھتے ہوئے اس کے قتل پر احتجاج کے ایکسلریٹر پر پورا دباؤ ڈال رکھا ہے۔ میں اس احتجاج کے ذرا بھی خلاف نہیں ہوں ۔ بلکہ اس کا حمایتی ہوں۔ لاقانونیت کسی بھی طرح ناقابلِ برداشت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   جنید جمشید۔ گلوکار سے مبلغ تک کا سفر اور ہمارا اجتماعی رویہ

اب پنجاب سے ذرا نکل کر سندھ کی طرف چلتے ہیں۔ جس دن قوم کشمیر کے لیے آدھا گھنٹہ کھڑا ہو کر احتجاج کر رہی تھی اسی جمعے والے روز 30 اگست کو کراچی میں ایک انتہائی قابل عالمی شہرت کے حامل ماہر امراض قلب کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ کچھ سر پھرے بولے اور احتجاج کیا لیکن اس بھاری اکثریت میں سے اکثریت خاموش تماشائی تھی جو صلاح الدین کے لیے بول رہے ہیں۔ اور بلکہ خاموش تماشائی نہیں تھی یوں چپ تھے گویا پتہ ہی نہ چلا ہو کہ ملک میں کچھ ہوا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے ایک ماہر امراض قلب کی ٹارگٹ کلنگ سے زیادہ اہم کشمیر پر احتجاج کی کال کا مذاق اڑانا اہم تھا۔

لیکن رکیے۔ مقتول کا جرم دیکھ کر بولنے کا رواج ہے پاکستان میں۔ ہم دونوں مقتولوں کا جرم دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین نے تو اے ٹی ایم توڑ کر اپنا کارڈ نکالنے جیسا ایک چھوٹا سا جرم کیا تھا اور وہ پولیس کسٹڈی میں تشدد کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔ لیکن دوسری طرف ڈاکٹر سید حیدر حسن عسکری کا جرم بہت بڑا اور ناقابلِ معافی تھا۔ اس کا مسلک اس کا ناقابلِ معافی جرم تھا۔ ایک “کافر” مسلک سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر اس “مسلمان” ملک میں مسیحا بننے کا حق کیوں کر رکھ سکتا ہے؟ بلکہ اسے اس ملک میں زندہ رہنے کا حق ہی کیوں ہے؟

یہ بھی پڑھئے:   غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں

ہمیشہ کی طرح ایک فائدہ ہوا۔ ڈاکٹر حیدر عسکری شہید کے کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کے ہاتھوں المناک قتل کے بعد اس ملک کے بسنے والے کمرشل لبڑلز، سیکولرز، دیسی ملحدوں اور انسانی حقوق کے نام نہاد پرچارکوں کے منہ پر لپٹا نقاب مزید سرک گیا اور اور وہ مزید بے نقاب ہو گئے۔ اور مزید واضح ہو گیا کہ وہ قتل پر آواز خون ناحق دیکھ کر نہیں قتل ہونے والے کا مسلک دیکھ کر اٹھاتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
455
Views Today
Views Today
4

قمرعباس اعوان

پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ دوستی کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سوشل ویب سائٹس سے کافی اچھے دوست بنائے جنہیں اپنی زندگی کا سرمایہ کہتے ہیں۔ قلم کار ان کا خواب ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نےبہت محنت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: