جب ملازمت نہ ملے تو …

Print Friendly, PDF & Email

لڑکیوں کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد والدین کی اولین خواہش ہوتی ہے کہ بیٹی کی شادی کر دی جائے، جب کہ بیش تر لڑکیوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنی تعلیمی قابلیت کو بروئے کار لایا جائے اور اسی مقصد کے حصول کے لیے وہ ملازمت کے  لیے کوشاں رہتی ہیں، جب کہ ملازمت اتنی آسانی سے نہیں ملتی اور وہ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام ہو کر عموماً افسردگی، پریشانی اور چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اکثر خواتین شادی کے بعد یا بچوں کے بعد بھی معاشی طور پر مستحکم ہونے کے لیے ملازمت کرنا چاہتی ہیں، لیکن فوری طور پر ملازمت نہ ملنے پر ذہنی اضطراب کا شکار ہو جاتی ہیں۔

فی زمانہ بے شمار تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں۔ ایک، دو اسامیوں کے لیے بھی ہزاروں امیدوار سامنے آجاتے ہیں۔ ملازمت کے حصول میں ناکامی اور مسترد کیے جانے کا احساس لڑکوں میں ہی نہیں، تعلیم یافتہ لڑکیوں میں بھی مایوسی کو جنم دیتا ہے۔ یہ مسئلہ زیادہ تر لڑکوں کے لیے سوچا جاتا ہے، خواتین کے حوالے سے عموماً اس کی وجوہات پر غور نہیں کیا جاتا۔ خاتون کی تعلیمی قابلیت کے ساتھ بہترین شخصیت بھی بے حد اہمیت رکھتی ہے۔

عموماً مایوسی کا شکار خواتین اپنی شخصیت پر توجہ نہیں دیتیں، جس کی وجہ سے اُن میں احساس کمتری بھی پیدا ہونے لگتا ہے۔ خصوصاً جب اپنی ہم عمر دیگر سہیلیوں یا کزن کو برسرروزگار دیکھتی ہیں، تو ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ایسے مواقع پر پرامید رہنا بے حد اہم ہے۔ ذہنی طور پر پُرسکون افراد ہمیشہ زندگی میں کام یاب رہتے ہیں۔ اس کے لیے لوگوں کے منفی رویوں یا طنزیہ باتوں کو نظر انداز کر دیں۔ اپنے مقصد کے حصول کو مدنظر رکھتے ہوئے سخت محنت کریں گی، تو  کام یابی ضرور قدم چومے گی۔

 ملازمت کے حصول میں ناکامی ہو تو اکثر خواتین عزیز و اقارب یا پھر حلقۂ احباب کی تعلیمی قابلیت اور کام یابیوں کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگتی ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ مصروفیات کے نام پر کرید کرید کر سوالات در سوالات کرتے ہیں، ایسے میں بہت سے لوگوں کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ بے روزگاری کا سبب لڑکی کو ہی قرار دیتے ہیں، ایسی صورت حال میں پریشان ہونے کے بہ جائے صرف یہ سوچیں کہ جو ایسا رویہ روا رکھتے ہیں، اُن کی  زندگی میں کتنی اہمیت رکھتے ہیں؟

یہ بھی پڑھئے:   دلیل حق ہے پیغامِ کربلا

کیا دوسروں کی باتوں سے پریشان ہو کر زندگی سے مایوس ہو جانے سے آپ کو کوئی فائدہ ہوگا، اگر نہیں تو لوگوں کی باتوں کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں۔ اگر وہ واقعی آپ کی زندگی میں اہم ہیں، تو ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ اگر وہ لوگ آپ کے ہم درد ہوتے تو کیا ایسی باتیں کرتے؟ اس لیے صرف مخلص اور ہم درد لوگوں کو اہمیت دیں اور ان سے اپنا مسئلہ بیان کریں۔ ایسی خواتین ہی آپ کے مسئلے کو سمجھیں گی اور آپ کو مفید مشوروں سے نوازیں گی، بلکہ کسی بھی ملازمت کے حوالے سے مدد کریں گی۔

اپنی سوچ کو مثبت رکھنے کی کوشش کریں، آپ دیکھیں گی کہ انسانی سوچ ہی دراصل حقیقت بن جاتی ہے۔ ہمارے ساتھ وہی ہوتا ہے، جو ہم سوچتے ہیں۔ مثبت سوچ رکھنے والے کبھی مایوس نہیں ہوتے اور کام یاب ہوتے ہیں، جب کہ منفی سوچ رکھنے والے اچھے حال اور آسائشوں کی زندگی گزارنے کے باوجود بھی شکوہ کناں نظر آتے ہیں، لہٰذا ہمیشہ اچھا سوچیں۔۔ پُرامید رہیں، مشکلات درحقیقت کام یابی تک پہنچنے کا زینہ ہیں۔ اس کو عبور کر کے کام یابی اور حقیقی خوشی کا حصول ممکن ہے۔

ملازمت کے حصول میں کام یابی نہ ہو رہی ہو تو فارغ بیٹھنے کے بہ جائے کوئی کورس کرلیں یا اپنی تعلیم جاری رکھیں۔ تعلیمی استعداد میں اضافہ بھی ملازمت کے حصول میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح نتیجے کے منتظر طالبات بھی وقت ضایع کرنے کے بہ جائے کچھ سیکھ سکتی ہیں۔ جو عملی زندگی میں معاون ثابت ہو۔ مختلف اداروں میں ملازمت کے لیے درخواست بھیجتی رہیں۔ انٹرویو کے لیے جانا ہو تو مثبت سوچ کے ساتھ پُراعتماد اور پُرسکون ہو کر انٹرویو دیں اور اچھی توقعات رکھیں۔

ملازمت کے حصول میں ناکامی ہو، تو اکثر لڑکیاں اپنی دل چسپی مدنظر رکھتے ہوئے مختلف کورسز کرنا چاہتی ہیں۔ ایسے تمام کورسز جو شخصیت میں نکھار پیدا کرتے ہیں اور ملازمت کے حصول میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کورسز کی منہگی فیسوں کی متحمل نہ ہوں تو آن لائن بھی مختلف کورسز کیے جا سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ایسے ادارے تلاش کیجیے، جو مفت تعلیم مہیا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر ایسی ویڈیوز دست یاب ہیں، جو راہ نمائی فراہم کرتی ہیں۔ وہ بہترین ثابت ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   فاطمہؑ فاطمہؑ است - عامر حسینی

اپنے اساتذہ، حلقۂ احباب، رشتے داروں سے رابطے میں رہیں اور پوچھیں کہ اگر کوئی ملازمت کی اسامی آئے تو آپ کو مطلع کر دیں۔ ملازمت نہ ملنے کی صورت میں بیش تر افراد مختلف اداروں میں محض تجربے کے حصول کے لیے بلامعاوضہ بھی اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ بیش تر خواتین بلامعاوضہ کام کرنے کے لیے رضامند نہیں ہوتیں، لیکن اس طرح نئے افراد نئے اداروں سے روابط قائم کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے اور ملازمت کے لیے دی جانے والی درخواست میں بھی اچھے ادارے کے نام سے اچھا تاثر پڑتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ اگر آپ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد کسی اچھی ملازمت کے حصول میں ناکام رہیں، تو آمدنی کے دیگر ذرایع پر بھی غور کریں، اپنے کسی ہنر کو کارآمد بنائیں، جز وقتی ملازمت کر لیں یا آن لائن کام کرلیں یا گھر پر ٹیوشن پڑھانا یا کوئی کورس سکھانا شروع کر دیں۔ اس سے شاید اتنی آمدن نہ ہو سکے، لیکن  کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہوتا ہے۔ اگر مثبت سوچ کے ساتھ کوئی راہ اپنائیں گی، تو ہوسکتا ہے کہ آپ کی آمدنی کسی ملازمت سے بھی بڑھ جائے۔ بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

 

Views All Time
Views All Time
735
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: