تبدیلی کی طرف پہلا قدم

Print Friendly, PDF & Email

ایک آدھ انگریزی اور دو چار مقامی فلموں کے خبریہ اشتہار ، قربانی کے جانوروں کی دوڑیں یا اشتہاانگیز پکوان مجھے لگتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کو خبروں کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔کون اُن کو سمجھائے کہ یہ نیا پاکستان ہے اب انہیں خبر کے بھی نئے انداز ڈہونڈھنے ہوں گے ۔کوئی زمانہ تھا کہ ایک ایک ریلی کی کوریج میں چوبیس گھنٹے کا پیٹ بھر جایا کرتا تھا اب ریلیوں والے سرکاری ایوانوں میں براجمان ہیں اور جنہوں نے اُن کی جگہ پائی ہے وہ نیب زدگی بھگتیں کہ ذرائع ابلاغ کے لئے خبروں کا انتظام کریں ۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ نئے پاکستان کا آغاز سنت ابراہیمی سے ہو رہا ہے یعنی نئے پاکستان کا پہلا تقاضا قربانی ہے ۔

پہلی قربانی حزب اختلاف کی ساری جماعتوں نے انتخابی نتائج کے حوالے سے جملہ تحفظات کے باوجود نئے سیاسی انتظام کے ہر مرحلے پر شرکت کرکے دے دی ہے ۔اور اس قربانی کا سہرا پاکستان پیپلز پارٹی کے سر ہے کہ جس نے نہ صرف خود شرکت کا فیصلہ کیا بلکہ دیگر جماعتوں کو بھی اس پر قائل کیا ہے ۔ لیکن قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر نونی اور جنونی ٹیں پٹاس کے بعد نو منتخب وزیرا عظم کے خطاب نے حزب اختلاف کی قربانی کا اثر زائل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ خان صاحب کو سمجھنا ہو گا کہ اب انہیں عمل کی ضرورت ہے رد عمل کی نہیں ۔ ایوانوں کی عددی صورتحال کا تقاضا ہے کہ وہ کسی ٹیں پٹاس میں الجھنے کے بجائے اپنے بھاری بھرکم ایجنڈے کے لئے جس قدر مفاہمت ممکن ہو اُس کا اہتمام کریں ۔

یہ بھی پڑھئے:   دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

میری ادنیٰ رائے میں وطن عزیز میں تبدیلی سے بڑا کوئی ایجنڈا نہیں ۔کیونکہ مجھے بعض اوقات لگتا ہے کہ ہمارے مسائل ہم سے بھی بڑے ہو گئے ہیں ۔ستر سال سے اوپر گذرنے کے باوجود ہم ا بھی تک قومی اور ملکی سلامتی کے امور میں الجھے ہوئے ہیں۔سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم سماجی سطح پر تبدیلی کے لئے تیار ہوں اور یہ تیاری صرف ہدایات اور خطبات سے ممکن نہیں ۔عمران خان تبدیلی سے کس قدر بھی مخلص کیوں نہ ہوں وہ ذاتی طور پر جوں کا توں حالات سے مستفید طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔اور نہ صرف عمران خان بلکہ ہماری قومی قیادت میں شامل ہر فرد ملک کے بد ترین حالات سے مستثنیٰ طبقے سے تعلق رکھتا ہے ان میں سے کسی کابھی عملی طور پر عوام سے کوئی تعلق نہیں ۔بلکہ عوامی طبقات کے لئے سیاست کیا زندگی ہی ناممکن بنتی جاتی ہے ۔

ضروری ہے کہ عمران خان سمیت ہماری قومی قیادت عوام کے ساتھ عملی سطح پر تعلق کی تدبیر کریں ۔اور اس تدبیر کا پہلا قدم اپنی اپنی جماعت میں سیاسی عمل کو فروغ دینا ہے ۔مجھے مایوسی ہوئی جب اقتدار سے متعلق ہر چھوٹا بڑا فیصلہ تحریک انصاف نے عمران خان پر چھوڑ دیا ۔اگر کسی جماعت کی پارلیمانی پارٹی اپنے قائد کے انتخاب کی اہل اور مختار نہیں تو پھر وہ اس سے بڑے فیصلے کیونکر کر سکتی ہے ۔ان یک فردی فیصلوں تو یہی تاثر ابھرتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے راہنما کے فین کلب سے زیادہ کچھ نہیں ۔کسی بھی فرد یا ادارے کی جانب سے مناسب یا درست فیصلہ نہ کئے جانے کا خدشہ یہ تقاضا نہیں کرتا کہ اُس فرد یا ادارے کو حق فیصلہ سے ہی محروم کر دیا جائے ۔ ورنہ سیدھا سیدھا وزیراعظم کا انتخاب کر لیا جائے اور باقی وہ جانے اور اُس کا کام ۔

یہ بھی پڑھئے:   آزادی اور انسان

جو راہنما بنیادی اور اہم فیصلہ سازی میں اپنی جماعتوں کی موثر شمولیت کو مناسب اور کار آمد خیال نہیں کرتے کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی اور کے ساتھ شرکت اختیار پر راضی ہوں جبکہ جمہوریت نام ہی اجتماعی شعور کی ترجمانی کا ہے ۔یہی اجتماعی شعور کی ترجمانی کا فقدان ہے کہ جس نے ہمارے ہاں سیاسی انتظام کی بنیادیں کھو کھلی کر رکھی ہیں ۔باد مخالف کا ایک جھونکا پوری جمہوری بساط لپیٹتا محسوس ہوتا ہے ۔سیاسی راہنماؤں کو شخصی اقتدار کے بجائے جمہوری اقدار پر استوار سیاسی نظام کے لئے کوشش کرنا ہوگی اور یہی تبدیلی کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے

Views All Time
Views All Time
585
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: