مولانا فضل الرحمن (بشمول اپوزیشن) بمقابلہ بوکھلائی، گبھرائی تحریک انصاف حکومت

Print Friendly, PDF & Email

بالآخر مولانا فضل الرحمن نے 27 اکتوبر کو عمران خاں حکومت کے خلاف “آزادی مارچ” کے نام سے  لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان کر ہی دیا ہے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کی آنکھوں میں جو چمک اور باڈی لینگویج میں جو اعتماد تھا، اس سے یہ دعوی تو ثابت ہو جاتا ہے کہ مولانا احتجاجی کارکنوں کی کثیر تعداد کو گھروں سے نکال لائیں گے۔ مولانا تو بضد ہیں اور پراعتماد طریقہ سے دعوی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “آپ دیکھیں گے کہ 15 لاکھ لوگ کیسے اکٹھے ہوتے ہیں”۔ مولانا کے اس اعتماد کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی پارٹی کے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ممبران اسمبلی  خصوصاََ جے یو آئی فاٹا کے سربراہ اور  ممبر قومی اسمبلی مفتی عبدالشکور اور مولانا جمال الدین نے انہیں 5 لاکھ قبائلی لانے کے لئے وعدہ کیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں مولانا کے لئے جو حمایت اور ووٹ موجود ہیں، ان کی روشنی میں اگر 5 لاکھ کی بجائے 50 ہزار قبائلی بھی باہر نکل آئے تو وہ شہری 5 لاکھ کارکنوں سے بھی بھاری ہوں گے کیونکہ قبائلی علاقوں کے عوام کی نفسیات اور مزاج شہری علاقوں کے عوام سے مختلف اور زیادہ جارحانہ ہوتا ہے۔

مولانا نے ساتھی اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا مطالبہ مانتے ہوئے اس آزادی مارچ میں مذہبی کارڈ کو مائنس کرتے ہوئے اسے تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کی بجائے “آزادی مارچ” کا نام دیا ہے۔  پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے مولانا سے یہ  درخواست بھی  کی تھی کہ لانگ مارچ اور دھرنے میں شمولیت  کی تیاری کے لئے انہیں وقت دیا جائے اور اسے اکتوبر کی بجائے نومبر تک ملتوی کیا جائے۔ شاید مولانا نے اپنے انہی ساتھیوں کی وجہ سے لانگ مارچ اور دھرنا اکتوبر کے  آخری اتوار کے دن رکھا ہے تاکہ لانگ مارچ اور دھرنے کے لئے ان کے اعلان کردہ اکتوبر والے الٹی میٹم کا بھرم بھی رہ جائے اور ساتھی اپوزیشن کا مطالبہ بھی تقریباََ تسلیم کر لیا جائے۔ مولانا کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے پاس اب سڑکوں پر آنے کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں بچا۔ پیپلز پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے کور کمیٹی کی میٹنگ بلا رہے ہیں جس میں آزادی مارچ کے حوالہ سے اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ دوسری طرف نون لیگ کا بھی یہی کہنا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں شرکت کی ہدایت کے بعد پارٹی میں موجود نواز شریف اور مریم نواز کے حامی راہنماؤں کے حوصلے بڑھے ہیں اور اب نون لیگ کے پاس پیچھے ہٹنے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ 3 اکتوبر جمعرات کو کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف اور شہباز شریف کی ملاقات میں اس ضمن کے حوالہ سے اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے۔ نواز شریف کی ہدایت کے مطابق نون لیگ 10 اکتوبر کو آزادی مارچ میں نون لیگ کے قافلہ کی قیادت کرنے والی شخصیت کا اعلان کرے گی کیونکہ شہباز شریف کی صحت کی وجہ سے یہ ذمہ داری کسی دوسرے راہنما کو سونپی جانے کے امکانات ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے ان دونوں مطالبات کو تسلیم کر لینے کے بعد اب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے پاس کوئی گنجائش ہی باقی نہیں بچی کہ وہ مولانا فضل الرحمن کی حکومت ہٹاؤ تحریک میں شمولیت سے انکار کر سکیں۔ ابھی تک پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے “آزادی مارچ” میں  باقاعدہ شمولیت کے لئے فیصلہ تو نہیں کیا لیکن  پیپلز پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو زارداری اور نون لیگ کے صدر شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ دونوں بڑی جماعتیں حکومت ہٹانے کے لئے کوششیں کریں گے اور اس سلسلہ میں دونوں جماعتوں کے راہنماؤں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی قائم کر دی گئی تھی جو دونوں جماعتوں کے مشترکہ اہداف کا تعین کرے گی۔ دونوں جماعتوں نے اس موقع پر مولانا فضل الرحمن کی حکومت مخالف تحریک کی حمایت کرنے کا اعلان تو کر دیا تھا لیکن اس میں شمولیت کے لئے جن مشکلات کا تذکرہ کیا تھا، مولانا فضل الرحمن  نے ان رکاوٹوں کو ہٹا کر دونوں جماعتوں کے لئے اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں چھوڑی کہ وہ “آزادی مارچ” کی حمایت بھی کریں اور اس میں شمولیت بھی اختیار کریں۔

یہ بھی پڑھئے:   ایم کیو ایم، نئے سیاسی امتحان میں!

مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام نے آزادی مارچ کے “وارم اپ” مرحلہ کا آغاز صوبہ خیبر پختونخواہ سے کرنے کا فیصلہ کیا ہےجس کی شروعات 5 اکتوبر یعنی کل بروز ہفتہ رنگ روڈ پشاور کے جلسے سے کی جائے گی۔ اس کے بعد مختلف شہروں میں پےدرپے سیمینارز اور جلوس نکالے جائیں گے تاکہ آزادی مارچ کا ٹیمپو بنایا جا سکے۔ اس سلسلہ میں ہڑتالی ڈاکٹروں، دکانداروں، کلرکوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے مسلسل رابطے برقرار رکھے جا رہے ہیں۔ ان طبقات میں سے اکثر نے آزادی مارچ کی حمایت اور اس میں شرکت کے اعلانات کئے ہیں۔ جے یو  آئی کی قیادت اس سلسلہ میں دیگر اپوزیشن جماعتوں اور تحریک انصاف کے علاوہ پارلیمنٹ کی دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی رابطہ میں ہے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری طرف تحریک انصاف حکومت نے حسب توقع اس لانگ مارچ کا مقابلہ سیاسی طور پر کرنے کی بجائے اسے روایتی ہتھکنڈوں سے کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ حکومت کو سرکاری اداروں کی رپورٹوں کی وجہ سے پہلے سے ہی معلوم تھا کہ حکومتی وفد سے مذاکرات کے باوجود بھی مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ اور دھرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ مولانا کی طرف سے حکومت کے بھیجے جانے والے مفاہمتی پیغامات کے مسترد کئے جانے کے بعد حکومت نے جمعیت کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں 1200 سے زیادہ سرگرم عہدے داران کی گرفتاریاں کرنے کی حکمت عملی طے کی ہے۔ حکومت نے یہ فہرستیں صوبہ کے پولیس افسران کو فراہم کر دی ہیں اور انہیں یہ ہدایت بھی کی ہے کہ آزادی مارچ کے شرکاء کو اسلام آباد پہنچنے کی بجائے وہیں ان علاقوں تک ہی محدود کر دیا جائے۔صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاوہ تحریک انصاف نے یہ حکمت عملی پنجاب اور بلوچستان میں بھی آزمانے کے لئے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ پنجاب میں تو عثمان بزدار جیسے کمزور وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں تحریک انصاف کی قیادت من چاہے فیصلے کروا لے گی مگر بلوچستان میں تحریک انصاف مخلوط حکومتی اتحاد کا حصہ ہے، اس لئے وہاں اس حکمت عملی پر مکمل عمل درآمد کروانے کے لئے اسے اپنی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینا پڑے گا۔  گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حکومتیں  نون لیگ کی حمایت یافتہ ہیں، اس لئے وہاں سے تحریک انصاف کو حمایت ملنی مشکل ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام کا وہاں اچھا اثر و رسوخ موجود ہے۔ سندھ میں تو حکومت ہی پیپلز پارٹی کی ہے اور شنید ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس سلسلہ میں بلاول بھٹو زارداری کو پہلے ہی اعتماد میں لے چکے ہیں۔  ان تمام پریشانیوں سے گبھرائی ہوئی تحریک انصاف  حکومت نے  فی الحال مولانا فضل الرحمن کو گرفتار کرنے یا نظر بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا مگر ایسا کرنے کی صورت میں حالات اس قدر بگڑ جانے کا خدشہ بھی ہے کہ پھر یہ قابو ہی نہ آ سکیں۔

یہ بھی پڑھئے:   خواتین کے استحصال کی جدلیات

حکومت کی طرف سے گرفتاریوں، دھونس اور وارننگ کو نظر انداز  کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کے عہدے داران کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے 6 مہینوں سے اس آزادی مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ جمعیت کے دیرینہ کارکن مختار اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہم گرفتاریوں سے نہیں گبھراتے نہ ہی ہم کسی دھونس میں آئیں گے۔ جمعیت کے راہنما حافظ سیف اللہ نے  کہا کہ ہم نے دھرنے کے لئے 10 فٹ x 40 فٹ سائز کے 4 کنٹینرز تیار کروا لئے ہیں جن پر 40 لاکھ کی لاگت آئی ہے۔ ہر کنٹینر میں  کچن اور باتھ روم کی سہولت موجود ہے۔ ان میں بستر بھی لگائے گئے ہیں اور پانی کے ٹینک بھی بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے 2 کنٹینرز کے اندر کانفرنس روم بھی بنائے گئے ہیں۔ چونکہ یہ کنٹینرز بڑے ٹرالہ پر فٹ ہو سکتے ہیں اس لئے انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پر لے جانے کی سہولت بھی موجود ہو گی۔ جے یو آئی قیادت نے دھرنے کی مدت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے کنٹینرز کرایہ پر لینے کی بجائے خرید ہی لئے ہیں تاکہ انہیں مستقبل میں تنظیمی پروگراموں کے لئے بھی استعمال کیا جا سکے۔  حافظ سیف اللہ کا کہنا تھا کہ اسی لئے تو قائد جمعیت  مولانا فضل الرحمن نے عمران خاں سے پوچھا تھا کہ اسلام آباد دھرنے میں اپنے اعلان کے مطابق کنٹینر وہ فراہم کریں گے یا مولانا خود اپنا کنٹینر لائیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان کی تیاریوں اور جذبات کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ اس کے کارکنان آزادی مارچ میں شرکت کے لئے بہت پرجوش ہیں اور اس کی تیاریاں پورے زور و شور سے کر رہے ہیں۔ بوکھلائی اور گبھرائی تحریک انصاف حکومت کی طرف سے گرفتاریوں، آزادی مارچ کا میڈیا بائیکاٹ کرنے یا طاقت کے دیگر ذرائع کے استعمال سے حالات بگڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کےمجوزہ اقدامات پر عمل کرنے کے لئے سیکورٹی اداروں نے گرین سگنل نہیں دیا۔ اداروں نے حکومت کو بتایا ہے کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے مقابلہ میں جے یو آئی کے کارکنوں کو بزور طاقت نبٹنا بہت مشکل ہو گا کیونکہ اس میں شرکاء کی بہت بڑی تعداد مدارس کے طلبہ اور قبائلی علاقوں کے افراد پر مشتمل ہو گی جو آزادی مارچ میں شرکت ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر کریں گے۔ اگر انہیں طاقت کے ذریعہ روکنے کی کوشش کی گئی تو شدید تصادم خارج از امکان نہیں ہے۔ حکومتی ذرائع اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنے سے پریشان بھی ہیں اور بوکھلائے بھی ہوئے ہیں۔ حکومتی حکمت عملی کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا اور اس ضمن میں جو بھی فیصلہ ہو گا وہ وزیر اعظم عمران خاں کی زیر قیادت کابینہ اجلاس میں کیا جائے گا۔تمام تجزیہ نگاروں اور راقم کا یہی مشورہ ہے کہ آزادی مارچ اور دھرنے کا مقابلہ کرنے کے لئے عدم تشدد پر مبنی   ویسی  ہی حکمت عملی اختیار کی جائے جیسی سابق صدر آصف زارداری نے مولانا طاہر القادری کے دھرنا کو ڈی فیوز کرنے کے لئے استعمال کی تھی۔

Views All Time
Views All Time
496
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: