Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

منسٹر (عمر اصغر خان) کے قتل پر وہ سوالات جو کسی نے نہ پوچھے

Print Friendly, PDF & Email

کرپشن ایک گورکھ دھندہ ہے مجھ سمیت سب منہ بھر کر سیاستدانوں کو گالیاں دیتے ہیں لیکن پوراسچ کہنے لکھنے کا حوصلہ کسی میں نہیں
شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جولائی 2002ء میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں کرپشن کی تصویر کادوسرا رخ دیکھایا تھا ، یہ مضمون انہوں نے مشرف کی جرنیلی جمہوریت میں وفاقی وزیر رہنے والے عمر اصغر خان کی پراسرار موت کے بعد لکھا عمر اصغر کی فائل خودکشی قرار دے کر بند کردی گئی لیکن جو اس جوان رعنا کو قریب سے جانتے تھے وہ آج بھی اس کی موت کی وجہ خودکشی نہیں مانتے ، اس مضمون کا انگریزی متن اپنے لائق احترام دوست قانون فہم کی وال سے لیا ہے آپ مضمون پڑھیں اور زمینی حقائق کو سمجھنے کی جستجو کریں سترہ سال پرانی تحریر مندرجات اور حقائق کے اعتبار سے آج بھی تازہ تحریر لگتی ہے

حیدر جاوید سید

پچھلے مہینے کراچی میں وفاقی وزیر عمر اصغر کے قتل نے بہت سے شکوک شبہات کو جنم دیا ہے۔ جب گھر کے افراد دروازہ توڑ کر کمرے میں داخل ہوئے تو عمر وہاں مردہ حالت میں پائے گئے ۔ پولیس نے کہا کہ اس نے اپنی ہنڈرائٹنگ میں ایک نوٹ چھوڑ کر خودکشی کی۔
قریبی لوگوں نے انکار کیا کہ عمر کسی قسم کے ڈپریشن کا شکار تھا۔ حکومت نے انکوائری کا حکم دیے بغیر صرف تعزیت کی۔ کچھ لوگ عمر کی موت کو پینشن فنڈ کے غائب ہونے اور پچھلے سال ( 2001ء) میں منعقدہ بلدیاتی الیکشن میں استعمال ہونے والے این جیو او فنڈ کے آڈٹ سے جوڑ رہے ہیں۔
اس کی موت اس وقت واقع ہوئی جب واشنگٹن سرکار بلین ڈالر خرچ کر کے یہ دریافت کر رہی ہے کہ کن ذرائع سے القاعدہ کو رقم بھیجی جاتی ہے اور منی لانڈرنگ کے کون کون سے طریقے ہیں۔ 
حتی کے القاعدہ کو افغانستان سے ہرا دیا گیا ہے اور ان کا شکار پاکستان کی پہاڑی گزرگاہوں میں جاری ہے۔ میڈیا میں کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اسامہ بن لادن پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھے فوجی ڈکٹیٹر نے اس سے انکار کیا ہے۔ صاف طور پر نظر آ رہا ہے کہ القاعدہ کو ختم کرنے کا پلان بہت حد تک پاکستان میں منتقل ہو چکا ہے۔

عمر کے غم زدہ خاندان نے ریاستی مشنری پر الزام نہیں لگایا۔ پھر بھی عمر کا قتل ایک گلوبل سکیورٹی ماحول کے خلاف واقع ہوا۔ پچھلے اگست میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے دوران عمر کی وزارت نے این جی او فنڈر کی نگرانی کی تھی۔ ان دنوں این جی اوز متنازع تھیں۔ کچھ این جی اوز پر شک تھا کہ وہ مجاہدین کے گروپس کی فرنٹ تنظیمیں تھیں اور وہ نائن الیون کے بعد بین کر دی گئی تھیں۔ امریکی صدر نے بعض ٹرسٹز جو بظاہر چیرٹی کے مقصد کے لیے بنائی گئی تھیں انہیں بین کر دیا ہے۔ عمر کی وزارت نے ریاستی تسلط میں موجود پینشن فنڈز کی بہت بڑی رقم کی نگرانی بھی کی تھی۔ جب ایک ہزار ملین ڈالر کی پنشن میں خرد برد ہوئی تو عمر نے اس کے فوراً بعد مشرف کی کابینہ سے استعفی دے دیا۔ عمر پر خرد برد کا الزام نہیں تھا لیکن بہت سے لوگوں کا ماننا تھا کہ عمر بہت کچھ جانتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا سعد حریری کی لبنان واپسی ہوگی ؟ اداریہ: روزنامہ الاخبار بیروت

عمر پچھلے چھے مہینوں میں خودکشی کرنے والا دوسرا شخص ہے جس کا تعلق ای او بی آئی فنڈز سے تھا۔ اکاونٹنٹ فنڈر کو ای او بی ای سے ایک اور بینک اکاونٹ میں منتقل کرتا تھا جہاں سے وہ غائب ہو جاتے تھے۔ یہ خرد برد ایک ایماندار آفیسر نے اس وقت دریافت کی جب وہ prudential bank کی یکدم گراوٹ پر تحقیق کر رہا تھا۔
اس نے تین اگست دو ہزار ایک کو چیئرمین نیب کو لکھا کہ اسے اذیت دی جا رہی ہے۔ اس کے خط اور اس کی ایک سو چودہ صفحات کی رپورٹ پر کوئی ایکشن نہ لیا گیا۔ اس کے بعد چیئرمین نیب ( جنرل خالد مقبول ) کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ملک کے سب سے بڑے صوبے کا گورنر بنا کر اسے خاموش کر دیا گیا۔ اس سے پہلے وہ وشنگٹن میں پوسٹنگ کے دوران نقلی ڈالر بناتے ہوئے سے پکڑا گیا تھا۔

یہ کہنا بہت قبل از وقت ہو گا کہ غائب ہوئی رقم کا تعلق سکیورٹی ایجنسیز سے ہے، ملٹری ہارڈلائنرز سے ہے، القاعدہ سے ہے یا ملک میں آپریٹ کرنے والے کرپٹ گینگز سے ہے۔ کچھ شائع ہونے والی رپورٹ اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ رقم عطا ہائی جیکر کو اسلام آباد کے ذریعے ملی ہے۔
1993 میں مہران بنک کے دیوالیہ ہونے کے پیچھے یہ وجہ پتا چلی تھی کہ سکیورٹی ایجنسیاں خود کو ریاستی فنڈز میں سے مدد فراہم کر رہی تھیں۔ عمر کے والد نے سپریم کورٹ میں ان کے خلاف رٹ ڈائر کر دی۔ جو اس میں شامل تھا ان میں سے ایک سعودی عرب کا امبیسڈر ہے۔ دوسرا پنجاب میں لا اینڈ آڈر ( اس وقت کے ہوم سیکرٹری پنجاب اور اب موجودہ عمران حکومت کے وزیر داخلہ اعجاز شاہ) دیکھتا ہے۔ وہ ڈینیل پیرل کے قتل میں بھی شہرت حاصل کر چکا تھا۔ اسی دوران پیریس میں ایک اور پاکستانی بینک کے آفیسر کو فرانس والوں نے پکڑا اس پر بھی منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ پاکستان کے دوسرے بینک بھی گراوٹ کا شکار ہوئے۔ خاموشی سے ان کے آڈٹ کیے جاتے اور عوام کو بہت تھوڑا بتایا جاتا۔

انہی دنوں رپورٹس شائع ہوئی کہ فوجی حکومت ایک بڑا ٹرسٹ قائم کرنا چاہ رہی یے تا کہ ان پیسوں کو کرپٹ سیاستدانوں سے بچایا جائے۔ ایک آدمی جو مدد کے لیے ٹرسٹ کے پاس پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ آمدنی تو نجکاری سے حاصل ہو گی اور مزید رقم سوشل سکیورٹی کی مد میں ادا کی جائے گی۔ یہ آفر شکوک شبہات پیدا کر رہی تھی۔ 
نجکاری ورلڈ بینک اور وزارت خزانہ سے چھپائی نہیں جا سکتی تھی۔ سوشل سکیورٹی کو متعلقہ ادارے کے ذریعے دینا چاہیے نہ کہ خفیہ غیر ملکیوں پر مشتمل تنظیم کے ذریعے۔ اس کا مطلب تھا کہ پیسے دینے کا مقصد جو کہا جا رہا تھا اس مختلف ہو گا۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا کہ یہ کن کا فنڈ ہے؟ کہاں سے لیا جاتا ہے اور کہاں بھیجا جاتا ہے؟

یہ بھی پڑھئے:   میں اس قبیلے کا آدمی ہوں

اس بارے بھی بات ہو رہی ہے کہ دو سو چالیس بلین روہے اسلام آباد میں فارن ایکسچینچ ریزرو کو سپورٹ دینے کے لیے چھاپے گئے۔ آفیسرز سوٹ کیس لے کر مارکیٹ سے ڈالر خریدنے گیا اور اس پر اپنا کمیشن بھی لیا۔ رقم ساڈھے چار ہزار ملین ڈالر میں تبدیل ہوئی۔ لیکن کوئی نہیں جانتا دو سو چالیس بلین ڈالر کہاں گئے۔ جب مشرف نے 1999 میں مارشل لا نافذ کیا تو پارلیمنٹ ختم کر دیا گیا۔ اس طرح مالی خردبرد کا مسئلہ پارلیمنٹ میں نہ اُٹھایا جا سکا۔ مشرف نے وعدہ کیا کہ اکتوبر ( 2002ء) میں ہونے والے جنرل الیکشن کے بعد پارلیمنٹ کو دوبارہ بحال کرے گا۔ رفارمز کیے بغیر شفاف الیکشن بارے شکوک شبہات دور نہیں ہوں گے۔ طعنہ دینے والے کہہ رہے ہیں کہ مشرف اپنے پسندیدہ نمائندوں کو جتا کر ایک ڈمی پارلیمنٹ بنائے گا جس سے وہ متنازع فیصلہ کرسکے۔

سالوں سے پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ پاکستانی سیاستدانوں پر کرپشن کا الزام لگاتی رہی ہے۔ سیاستدان الزام لگاتے ہیں کہ یہ الزام مجاہدین اور ان کے حمایتی سیاسی مقاصد کے لیے لگاتے ہیں تا کہ وہ اپنے دباو سے ریاستی مشنری کو اپنے کنٹرول میں رکھ سکیں۔ پریس کے مطابق پینشن کی خرد برد پر تحقیق کرنے والا ایماندار آفیسر اب مسلم کمرشل بینک پر تحقیق کر رہا ہے۔ اس کے مالک پاکستان میں یونائیٹڈ بینک خریدنا چاہتے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کے گلف سے آنے والے سرمایہ کار کو پاکستان میں مدد نہیں دی جارہی کیونکہ حکومت خود بینکنگ سیکٹر میں مونوپلی قائم رکھنا چاہتی ہے

عمر ای او بی آئی کیس میں اکاونٹنٹ کی طرح چشم دید گواہ تھے۔ عمر جانتا تھا کہ کس کے کہنے پر پیسے اس اکاونٹ میں ٹرانسفر کیے گئے جہاں سے وہ غائب ہو گئے۔ عمر وہ راز اپنے ساتھ لے کر قبر میں چلا گیا۔


Views All Time
Views All Time
838
Views Today
Views Today
6

One thought on “منسٹر (عمر اصغر خان) کے قتل پر وہ سوالات جو کسی نے نہ پوچھے

  • 16/05/2019 at 8:43 شام
    Permalink

    بہت اھم اور تاریخی دستاویز۔۔۔ملٹیبلشمنٹ اور اس کے کاسہ لیسوں کے کرتوت طشت از بام کردۓ شہیدرانی نے

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: