میٹرک کے حالیہ نتائج اور فیس بک ٹرولنگ

Print Friendly, PDF & Email

میٹرک کے رزلٹ پہ جہاں مختلف دوستوں کے بچوں کی شاندار کامیابی کی پوسٹیں دیکھ کر دل خوش ہوا وہاں بے حد رنج بھی ہوا کچھ لوگوں کی مختلف پوسٹس پر اور ان پر دئیے گئے کمنٹس پر ۔۔۔ جن میں ملے جلے خیالات کچھ اس طرح تھے کہ ۔۔
۔بچوں کے اتنے زیادہ نمبر کیسے آرہے ہیں ہماری دفعہ تو اتنے نمبر نہیں تھے یا ہمارے تو اتنے نمبر نہیں تھے ۔یہ بچے کیسے لے رہے ہیں آئے کہاں سے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ کچھ نظام تعلیم کی خرابیوں کا ذکر کر رہے تھے کچھ کہہ رہے تھے کہ یہ نمبر مارکنگ سسٹم میں جانبداری کی وجہ سے آئے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔اور کچھ خواتین و حضرات کی یہ طنزیہ پوسٹس بھی دیکھنے کو ملیں کہ کوئی سٹیٹس لگانے سے رہ تو نہیں گیا کہ میرا بچہ پاس ہوا ہے، کسی نے کہا کہ میرے تو اب بچے بڑے ہو گئے ہیں میں کس کی پوسٹ لگاؤں کچھ نے کہا کہ میں اپنے ہی نمبروں کا بتا دیتا / دیتی ہوں ۔

تو پیارے دوستو جہاں تک بات ہے کہ اتنے نمبر کیسے آگئے تو بات یہ ہے کہ ہمارا اور آپ کا زمانہ کیا تھا نہ کوئی کمپیٹیشن، نہ کوئی اکیڈمی، نہ کوئی میرٹ کی دوڑ، نہ کوئی فیوچر پلیننگ ۔۔۔۔پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ آگے کرنا کیا ہے ۔ جن کے بچے واقعی محنت کر رہے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ نمبر کیسے آتے ہیں جن کے بچوں کا ایک قدم سکول اور دوسرا اکیڈمی اور راتوں کو جاگ کر سکول اور اکیڈمی کے ٹسٹسز کی تیاری ۔۔خصوصاً مائیں تو بچوں کے ساتھ الارم کی گھڑی کا کام کر رہی ہوتی ہیں ۔اتنے بجے رات کو بچے کو اٹھانا ہے اسے چائے بنا کے دینی ہے، اب اسے ایک گھنٹے بعد اٹھانا ہے اب دو گھنٹوں بعد۔۔۔۔تو ظاہر ہے جب بچے نے اس قدر محنت کی ہے اور آج کے دورکے حساب سے ٹوٹل نمبر 1100 ہیں تو ان میں سے ایک ہزار سے اوپر نمبر لے لینا اس قدر حیران کن کیسے ہو گیا۔میں نے جب بی اے کیا تھا تو کل نمبر 800 تھے جس میں سے میں نے 498 نمبرز لے کر فرسٹ ڈویژن میں امتحان پاس کیا تھا ۔اور مجھے یوں مبارک بادیں ملیں کہ گویا کوئی قلعہ فتح کیا ہے ہر کوئی حیرانی اور خوشی سے کہتا واہ۔۔۔بی اے اور وہ بھی فرسٹ ڈویژن میں. ۔۔۔دیکھا جائے تو صرف 498 نمبر ہی تو تھے ۔

یہ بھی پڑھئے:   ایک تھی عائشہ ممتاز - محمد نورالہدیٰ

وقت وقت کی بات ہوتی ہے اب کمپیٹیشن کا وقت ہے ہمارے بچوں میں اچھے نمبر لینے کا شعور نہیں ہوگا تو ان میں احساس ذمہ داری کیسے پیدا ہو گا کہ ہمیں وقت ضائع نہیں کرنا ہمیں پڑھنا ہے ۔البتہ یہ والدین کا فرض ہے کہ اس احساس ذمہ داری کو صرف بچے میں محرک کے طور پر ہی رہنے دیں بچے پہ پریشر کی وجہ نہ بنائیں ۔۔۔ نہ ہی خود ٹینشن لیں کہ نمبر اچھے ہی لینے ہیں فلان کے نمبر تم سے زیادہ نہ ہوں وغیرہ ۔اب یہاں پہ والدین کی تربیت کا کردار شروع ہوتا ہے یعنی بچے کو پریشرائز کرنا اور دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ کرنا یہ سب غلط ہے ۔بچے کو محنت پہ ضرور لگائیں مگر اسے خود گرو(grow) کرنے دیں اس کے ہاتھ میں فیصلہ دیں اس کے فیصلوں کے ساتھ رہیں۔ہر قابل اور محنتی بچے کو علم ہوتا ہے کہ اس کا کون سا پیپر کیسا ہوا تھا ۔ایسی پوسٹس بھی نظر سے گزریں کہ بچے ایک ہزار سے اوپر نمبر لے کربھی رو رہے ہیں کہ فلاں پیپر میں مارکس اچھے کیوں نہیں آئے۔تو یہ مارکنگ سسٹم کی خرابی ہی ہوتی ہے ۔۔۔بچوں کا قصور نہیں ہوتا ان کی کاؤنسلنگ کریں۔

یہ بھی پڑھئے:   سیاسی حکیم کی غیر معیاری دوا بعوض قیمتی ووٹ

رہی بات یہ کہ کوئی رہ تو نہیں گیا پوسٹ لگانے والا تو دیکھیں ۔ہم فیس بک فیملی ہیں اپنا ہر دکھ سکھ یہاں آکر شئیر کرتے ہیں۔ کھانے کی تصویریں لگاتے ہیں سیلفیاں لگاتے ہیں کہاں جارہے ہیں یہ بتاتے ہیں سیاسی، معلوماتی، مذہبی غرض یہ کہ ہر طرح کی پوسٹ لگاتے ہیں اگر ہم نے اپنے بچوں کی کامیابی کی پوسٹ لگا دی تو اس میں طنز کا کون سا پہلو نکلتا ہے یا یہ کون سا مذاق ہے ۔اصل میں ہم پوسٹ لگا کر یا کسی پوسٹ پہ کمنٹ کر کے فیس بک پہ اپنے انرسیلف کا فیس ،اپنی سوچوں کا فیس ،اپنی نیچر کا فیس ،اپنے ظرف کا فیس اور اپنے خیالات کا فیس دکھا رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔خدارا اس فیس کو صاف شفاف ہی رہنے دیں خوب صورت خیال سوچیں اور خوب صورتیاں بانٹیں ۔۔۔جن پیارے دوستوں کے بچے کامیاب ہوئے ہیں ان کو ایک بار پھر مبارک باد

Views All Time
Views All Time
243
Views Today
Views Today
1

حمیرا جبین

حمیرا جبین درس و تدریس کے شعبے سے وابسطہ ہیں۔ ایم فل سکالر ہیں۔ تین مضامین میں ماسٹرز کر چکی ہیں۔ ایک زبردست شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ افسانہ نگار بھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: