Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

مریم (حاشیے) | مصلوب واسطی

Print Friendly, PDF & Email

مریم ۔ ۔ ۔ تمہیں کسی نے بتایا؟ ایک اور مریم بھی تھی، کرم ایجنسی دھماکے میں ماری گئی۔

نہیں نہیں وہ “ایک تھی مریم” والی نہیں۔ وہ والی ہوتی تو دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جنگی طیاروں سے بمباری جاری ہوتی۔ یہ تو ایک “جنرل” سی بچی تھی چند ماہ کی۔ نہیں نہیں جنرل کی بچی نہیں۔ وہ ہوتی تو دہشت گردوں کی لاشوں کے ڈھیر لگ جاتے۔ بیچاری، گاؤں سے شہر جا رہی تھی کہ ریموٹ بم دھماکہ ہوا۔ اس کا دل بند ہو گیا، چھوٹا سا دل، چند ماہ کے بچے کا دل ہوتا ہی کتنا ہے؟

سنو ۔ ۔ ۔ ان سے پوچھو تو ۔ ۔ ۔ سوچو ۔ ۔ ۔ اس کی جگہ تم ہوتی؟ محافظوں کی خبر لو، ان کا فرض یاد دلاؤ۔ فرض ہے زمین کی حفاظت، سر زمین کی حفاظت۔ انہیں فرق بتاؤ، زمین اور پلاٹ کا فرق۔ یہ ٹھیک نہ ہوئے تو تم بھی، ہاں تم بھی،

اللہ نہ کرے کہ تم ہو لیکن ہو گیا تو؟

Views All Time
Views All Time
818
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   گو وہ نہیں رہتا پر نام سدا رہتا ہے

مصلوب واسطی

مصلوب واسطی انجینئرنگ کے شعبہ سے وابستہ ہیں، بحیثیت بلاگر معاشرتی ناہمواریوں اور رویوں کے ناقد ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: