Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

میں خمیازہ ساحل کا (افسانہ) – ابوعلیحہ

Print Friendly, PDF & Email

وہ تیز تیز قدم اٹھارہا تھا۔
اس کے قدموں کاایک ایک ڈگ جیسے دودوفٹ کے فاصلے پر پگڈنڈی پر پڑرہا تھا۔
وہ خود کو اڑتا ہوا محسوس کررہا تھا۔
اس نے رفتار کم کئے بنا، یونہی چلتے چلتے اپنی پنڈلیوں کی مچھلیوں کو دیکھا جو بری طرح سے ابھر چکیں تھیں۔ ان پر سنہرے بال اور بالوں کے نیچے سرخی مائل جلد اور جلد سے ابھرتی نیلگوں رگیں نمایاں تھیں۔
اس نے پھپیھڑوں میں گہری سانس بھری اور قدموں کی رفتار کو بڑھا دیا۔
اب وہ دوڑ رہا تھا۔ اس کے قدم زمین پر نہیں لگ رہے تھے۔
کوئی اسے دیکھتا تو اسے وہ زمین سے چند قدم اوپر ہی اڑتا دکھائی دیتا۔ دوڑتے دوڑتے اس نے سامنے نظریں جمائیں۔ پگڈنڈی ختم ہورہی تھی۔ اسے دور سے دریا کی آواز سنائی دینے لگی۔ اس نے خود کو ایک لمبی اڑان بھرنے کے لئے تیار کرلیا۔
جیسے ہی پگڈنڈی ختم ہوئی اور نیچے گہری کھائی سے اسے دریا میں چمکتا پانی دکھائی دیا۔ اس نے ایک لمبی زقند بھری اور اڑتا ہوا پہاڑکے ایک کونے سے دریاکے اوپر اڑتا ہوا دوسری جانب بڑھنے لگا۔ جب اس کا جسم فضا میں پھڑپھڑاتا ہوا درمیان میں پہنچا تو اسے خیال آیا کہ اس کے تلے جو آواز شور مچارہی ہے۔ وہ دریا کی نہیں ہے۔ دریا کے پانی کی ہے۔پانی بھی وہ ہے جو جھاگ اڑارہا ہے۔
پھر اسے خیال آیا۔وہ انسان ہے تو کیسے فضا میں اتنی لمبی اڑان بھرکر پھڑپڑاتے ہوئے دریا کو پار کرسکتا ہے؟

کیا میں حقیقتاً انسان ہوں؟ اگر میں انسان ہوں تو کیسے تیزی سے چلتے ہوئے میں نے اپنے سیاہ ٹراوزر میں چھپی پنڈلیوں کی رنگت اور ابھرتی مچھلیوں کو دیکھ لیا؟
خیالوں کا یہ دائرہ مکمل نہ ہوپایا تھا کہ اسے احساس ہوا کہ وہ تیزی سے نیچے کی جانب جارہا ہے۔ پانی میں ڈوبتے ہی چھپاک کی آواز آئی جو جھاگ اڑاتے، پتھروں سے ٹکراتے پانی کے شور میں چند لمحوں میں گم ہوگئی۔ اس کے ہونٹوں نے جیسے ہی دریا کے کھارے پانی کا ذائقہ چکھتے ہوئے انہیں حلق بھرنے کا راستہ دیا۔ اس کی آنکھ کھل گئی۔

وہ بنی گالہ کے نواحی علاقے کے پانچ منزلہ مکان کی دوسری منزل پر اپنے کمرے میں لوہے کے بنے ایک کم قیمت پلنگ پر لیٹا ہوا تھا۔
وہ اٹھا۔ اس نے بیڈ کے ساتھ پڑی تپائی پر دھرے شیشے کے گلاس میں بھرے پانی کو اپنے خشک حلق سے اندر انڈیلنے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر پھر اسے یاد آیا کہ اس کے چھوٹے سے کمرے میں جہاں پلنگ ختم ہوتا ہے وہاں سے دروازہ شروع ہوجاتا ہے۔ تپائی رکھنے کا سوال اس لئے نہیں اٹھتا کہ اس کے گھر میں تپائی نہیں تھی اور شیشے والی گلاس بھی خام خیالی ہی ہے کہ اس کی گمشدگی کے دوران شیشے والے گلاس گھر کے بچوں نے توڑ پھینکے تھے۔
وہ اس پانچ منزلہ مکان میں اپنے دوبھائیوں کے ساتھ رہتا تھا۔ گزشتہ برس، ماہ اکتو بر، جب وہ کراچی صدر میں ایک کوئٹہ ہوٹل سے ٹوٹی ہوئی پیالی میں دودھ پتی پی کر اپنے چار سو روپے یومیہ ہوٹل قیام والے کمرے میں پہنچا تو چند گھنٹوں بعد اس پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ اگلی سورج کی صبح اس نے ایک سلامتی کے ادارے کے دفتر میں آنکھوں پر پٹی بندھے خود کو پایا۔ اس کے بعد اسے وہاں سے کہاں لے جایا گیا اور اس دوران اس کے ساتھ کیا کیا ہوا۔ وہ اس بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا کہ اس کے قریبی دوست ڈاکٹر شامی کے ایک دوست ڈاکٹر ندیم جو ماہر نفسیات تھے، نے اسے سختی سے منع کررکھا تھا کہ اگر پاگل نہیں ہونا چاہتے تو اس بارے میں کبھی بھی مت سوچنا کہ تمھارے ساتھ گزشتہ نوماہ میں کیا کیا ہوا۔ وہ چونکہ اپنے حواس سلامت رکھنے سے کے ساتھ ساتھ زندہ بھی رہنا چاہتا تھا تو اس نے پہلے سے ہی اس بارے میں کسی کوکبھی کچھ نہ بتانے کاتہیہ کررکھا تھا۔

خواب سے جاگنے کے بعد اس کی نیند اڑچکی تھی۔ وہ پلنگ سے نیچے اترا۔ کمرے سے باہر آکر اس نے کچن کا رخ کیا۔
وہاں کارنس پر پڑے ہوئے برتنوں میں سے سٹیل کا گلاس نکالا اور نلکا کھولا۔ نلکے میں سے بورنگ کا مٹیالہ پانی برآمد ہوا۔
یاد آیا کہ چھوٹا بھائی اسے آج ہی بتارہا تھا کہ بورنگ کی صفائی کروانی ہے اور بورنگ والے نے صفائی ستھرائی کا بارہ ہزارکا نسخہ دیا ہے۔
پانی کے چند گھونٹ بھر کر وہ برآمدے میں آیا۔ اس نے خواب کو یاد کیا اور تیز تیز چلنے کی کوشش کی مگر اس کے ٹخنوں میں درد شروع ہوگیا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ درد اسے کیوں ہورہا ہے مگر وہ اس بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھاکہ اسے پاگل جو نہیں ہونا تھا اور زندہ بھی رہنا تھا۔
چند قدم چلنے کے بعد جب تھکن اس کے ناتواں جسم پر حاوی ہوگئی تو وہ کمرے میں واپس لوٹ آیا۔ لائٹ جلا کر اس نے صوفے پر پڑا لیپ ٹاپ اٹھالیا اور اسے آن کرلیا۔نظریں سامنے گھومیں تو پلنگ کے سامنے نصب شیشے میں اس نے ایک سوکھے سڑے آدمی کو دیکھا جس کا چہرہ سیاہ پڑچکا تھا۔ ماتھے پر اور ناک پر گہرے سیاہ نشانات تھے۔ بال قریب قریب اڑچکے تھے۔ اس نے حیران ہوکر اس آدمی کو دیکھا۔

پھر اسے ادراک ہوا کہ یہ تو وہ خود ہے اور اچھے سے جانتا ہے کہ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ کیسے بنا۔ اس کا گندمی چہرہ سیاہ کیسے ہوا، ماتھے اور ناک پر جو نشانات ہیں، وہ کس مہربانی کی بنا پر قدرت نے اسے عطا کئے ہیں۔
اس نے قدرت پر دل ہی دل میں اور خود پر باآواز بلند لعنت بھیجی اور لیپ ٹا پ گود میں لے کر بیٹھ گیا۔

اس نے ٹویٹر آن کیا۔پیغامات والے سیکشن میں جاکراس نے کھنگالنا شروع کیا۔ جلد ہی ایک نام کو جگمگاتا دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ اس نے نام پر کلک کیا اور آئے ہوئے پیغاما ت کو پڑھنا شروع کردیا۔ یہ پیغامات ایک برس سے بھی زیادہ پرانے وقت کے ہیں۔ ٹویٹر نے بتایا۔
جانتا ہوں کافر وں کے حربے۔اس نے ٹویٹرکو برہمی سے گھورا۔
میرے اغواکئے جانے سے بھی دوماہ قبل سے لے کر اس سے بھی گزشتہ دوبرس پہلے کے پیغامات ہیں۔ مگر پیغام تو پیغام ہوتے ہیں۔
پیغام اگر محبت کے ہوں تو وہ لافانی ہوتے ہیں۔ وہ، وقت کی قید اور موسموں کی بندش سے آزاد ہوتے ہیں۔
مگر تم مشینوں پر بنایا گیا ایک وقت گزاری حربہ ہو۔
تم کیا جانو۔ محبت کیا ہوتی ہے؟
محبوب سے وابستہ توقعات کیا ہوتی ہیں؟
توقعات سے اسے یاد آیا کہ ایسے ہی ایک کمزور لمحے میں ایک سانولے چہرے پر ڈولتی سیاہ آنکھوں نے اسے کہا تھا۔
شاہ جہان۔ اگر تمہیں کوئی اٹھاکر لے گیا تو ساری دنیا بھی تمہیں بھول گئی۔ ایک پاگل لڑکی تمھارے نام کا کارڈ اٹھائے، پریس کلب کے باہر دھوپ، بارش، دن، رات، سردی، گرمی میں کھڑی رہے گی۔ وہ لڑکی میں ہوں گی۔
اس کے کمزور بدن سے منحنی سا قہقہہ بلند ہوا جسے دل سے اٹھتی درد کی لکیر بہاکر لے گئی۔
ایک بات تو سچ نکلی۔ ساری دنیا نے مجھے یاد رکھا کہ تم نے انہیں مجھے بھولنے نہیں دیا۔ اس نے ایک صاحب کے پیغام سیکشن پر بھیجے ہوئے سکرین شاٹ کو دیکھا جو سانولے چہرے کے اس کو بھیجے ہوئے پیغامات پرمبنی تھے۔ جس میں وہ ایک طرف اس کے دھوکا دے کر روپوش ہوجانے کا رونا روتے ہوئے وہ اپنی مجھ پر کی گئی مہربانیوں کی تعداد گنوارہی تھی۔
چند سکرین شاٹس بعدوہ اسی صاحب کو جتلارہی تھی کہ اب وہ بری طرح سے اس کی محبت میں گرفتار ہوچکی ہے۔
اس نے لیپ ٹاپ سے نظریں اٹھاکر پلنگ کے سامنے رکھے شیشے میں خود کو دیکھا۔
ایسی شکل سے تو میں خود بھی بات نہ کرنا چاہوں تو کوئی اس سے پیار کیسے کرے؟
اور انتظار کون کرتا ہے آج کے دور میں جب کافروں کے بنائے وقت گزاری حربوں نے سینکڑوں متبادل دے رکھے ہیں۔
آپ لوگوں کی ٹویٹ یا پوسٹ پر پسندیدگی بھرا لائیک پھیرہی رہے ہوتے ہیں کہ آپ کے انباکس میں ان کے التفات بھرے کمنٹس کا ڈھیر لگ جاتا ہے۔ اپنی سہولت کے حساب سے کسی کو بھی منتخب کیجئے اور ڈیجیٹل محبت کے مزے لیجئے۔

یہ بھی پڑھئے:   انجانا احساس

کارڈ اٹھائے، پریس کلب کے باہر دھوپ، بارش، دن، رات، سردی، گرمی میں کھڑی رہے گی۔ وہ لڑکی میں ہوں گی۔
اس کے کمزور بدن سے منحنی سا قہقہہ بلند ہوا جسے دل سے اٹھتی درد کی لکیر بہاکر لے گئی۔
ایک بات تو سچ نکلی۔ ساری دنیا نے مجھے یاد رکھا کہ تم نے انہیں مجھے بھولنے نہیں دیا۔ اس نے ایک صاحب کے پیغام سیکشن پر بھیجے ہوئے سکرین شاٹ کو دیکھا جو سانولے چہرے کے اس کو بھیجے ہوئے پیغامات پرمبنی تھے۔ جس میں وہ ایک طرف اس کے دھوکا دے کر روپوش ہوجانے کا رونا روتے ہوئے وہ اپنی مجھ پر کی گئی مہربانیوں کی تعداد گنوارہی تھی۔
چند سکرین شاٹس بعدوہ اسی صاحب کو جتلارہی تھی کہ اب وہ بری طرح سے اس کی محبت میں گرفتار ہوچکی ہے۔
اس نے لیپ ٹاپ سے نظریں اٹھاکر پلنگ کے سامنے رکھے شیشے میں خود کو دیکھا۔
ایسی شکل سے تو میں خود بھی بات نہ کرنا چاہوں تو کوئی اس سے پیار کیسے کرے؟
اور انتظار کون کرتا ہے آج کے دور میں جب کافروں کے بنائے وقت گزاری حربوں نے سینکڑوں متبادل دے رکھے ہیں۔
آپ لوگوں کی ٹویٹ یا پوسٹ پر پسندیدگی بھرا لائیک پھیرہی رہے ہوتے ہیں کہ آپ کے انباکس میں ان کے التفات بھرے کمنٹس کا ڈھیر لگ جاتا ہے۔ اپنی سہولت کے حساب سے کسی کو بھی منتخب کیجئے اور ڈیجیٹل محبت کے مزے لیجئے۔

مگر میں توڈیجیٹل نہ تھا۔
میری تو محبت بھی مکمل طور پر اینالاگ تھی۔
میں نے اس میں اپنی کمٹمنٹ کا سیل ڈالاتھا اور پھر اس میں چابی بھری تھی۔
اینالاگ محبت میں نہ دوسری بار سیل ڈالا جاسکتا ہے اور نہ ہی گھڑی دوبارہ چابی لیتی ہیں۔
سیل ختم ہوجائے یا چابی ٹوٹ جائے تو محبت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تھم جاتی ہے۔ دوبارہ اس کی سوئیاں کبھی حرکت میں نہیں آتیں۔

اس کی جگہ میں ہوتا تو کیا میں اتنا انتظار کرتا؟ اور کیوں کرتا؟مگر اس سوال کا جواب کھرچنے کے لئے اسے ماضی کے ان دوسو اکہتر دنوں میں جانا پڑتا جہاں جانے سے اس کے معالج نے اسے سختی سے منع کررکھا تھا۔ اور وہ چونکہ پاگل نہیں ہونا چاہتا تھا اور ہاں زندہ بھی رہنا چاہتا تھا تو اس نے اس سوال کو کسی اچھے وقت پر موقوف کردیا۔
اچھا وقت…… اس کے اندر کسی نے قہقہہ لگایا۔ نشتر چبھوتا قہقہہ۔ واپس آکر اس نے سب کو سوشل میڈیا پر مطلع کردیا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

اسے امید تھی کہ حقیقت حال جان کر گہری کالی آنکھیں برس اٹھیں گی اور شاہ جہاں، شاہ جہاں کہہ کر اس کے ماتھے کو چومنے کے لئے بھڑک کر سامنے آئینگی۔ پھر جب اس نے اپنی غیرموجودگی میں بھد اڑانے والوں کو للکارا تو چند ایک کو چھوڑ کر سب نے انہی سیاہ آنکھوں کا نام لیا۔ اسے یقین نہ آیا۔
ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ محبت میں ایسا کون کرتا ہے؟ محبت میں ایسا نہ ہوتا ہے نہ ہی کوئی یہ سب کرتا ہے؟
مگر محبت ہو تو نا۔ دماغ نے اس کی پھرکی لی
محبت تو اسے تھی۔ دل بولا
تجھے کیسے پتا؟ دماغ نے پوچھا
کیونکہ مجھے جو اس سے محبت تھی۔ دل جھٹ سے بولا
یک طرفہ ٹریفک کو محبت نہیں کہتے۔ دماغ کہاں خاموش رہتا۔۔۔محبت، محبت ہوتی ہے۔
خواہ یک طرفہ ہی کیوں نہ ہو۔ ایک جانب کے جذبے دوسری طرف کے لئے بھی کافی ہوتے ہیں
دونوں طر ف نصف نصف کا تناسب ہونا قطعی ضروری نہیں۔ اس کے دل نے دلیل تراشی۔
الو کا پٹھا، الو کا پٹھا ہی رہتا ہے خواہ وہ نوماہ قید و بند کی صعوبتیں جھیل کر کیوں نہ آیا ہو۔ دماغ نے گالیوں بھرا یہ جملہ اس کی رگوں میں انڈیلا۔
تو چھوڑ دے بکواس کرنا۔ دل غرایا۔
چھوڑتو اس نے دیا تجھے۔ دماغ کا قہقہہ لیپ ٹاپ کی سکرین پر حاو ی ہوگیا۔
تو کیا ہوا۔ میں پہلا ہوں نہ آخری، جو محبت میں رسوا ہوا۔
کوئی اور ڈھونڈھ لے۔ دماغ نے راہ سجھائی۔
کسی اور کی نہ گنجائش ہے نہ خواہش۔ دل نے کہا۔
ٹھیک ہے پھر موجیں مار۔دماغ نے گالی سے تواضع کی۔

اسے یاد آیا کہ بچپن سے جب بھی وہ لاجواب ہوتا تھا۔ گالیوں پر اترآتا تھا۔ اب وہ سمجھا کہ یہ عادت اسے کم بخت دماغ سے لگی تھی۔
واپس آئے ہوئے دوماہ ہوچلے تھے۔ اس نے ایک ای میل میں کہ باقی جگہوں سے سیاہ آنکھوں نے اسے خود کو دیکھنے سے روک رکھا تھا، میں سارا احوال لکھ کر اسے جتلا دیا کہ وہ جان گیا ہے کہ اس کے پیچھے اس کی جو بھی کردارکشی کی گئی۔ اس میں وہ دانستہ و غیر دانستہ طور پر ملوث رہی ہے۔
جواب میں پہلے تو انکار پڑھنے کو ملا۔ پھر چند روز کے بعد اس کا چہرہ وقت گزاری کے تمام حربوں سے اوجھل ہوگیا۔
ہوسکتا ہے وہ کسی جعلی آئی ڈی سے مجھے دیکھ رہی ہو۔ مجھے پرکھ رہی ہو۔ میرے موقف کو جانچ رہی ہو۔
ہوسکتا ہے کہ وہ پچھتا رہی ہو۔ اسے میں شدت سے یاد آرہا ہوں مگر پچھتاوے کی شرم اس کی پیش قدمی کے راستے میں مانع ہو۔
دوماہ کا مطلب ساٹھ دن ہوتے ہیں بیٹا۔ اتنے میں اسے آنا ہوتا تو واپس آچکی ہوتی۔جانتی تو ہے وہ اچھے سے کہ تیری جان لے کر بھی تیری قبر پر آئی تو تیری روح اسے اپنا قتل معاف کردے گی۔اس بار یہ آس دماغ نے بندھائی تھی۔ مگر وہ جانتا تھا کمینہ اس کو سلگاکر مزے لینا چاہتا ہے۔
میں اس پر خاک ڈال چکا ہوں۔ دل کے ساتھ اس کی روح بھی یہ کہنے میں شامل تھی۔ تب ہی ہر شب اس کی آئی ڈی کو چیک کرتا ہے کہ کہیں وہ واپس تو نہیں آگئی۔ دماغ کا طنز اس بار اس کے دل کو بھی بہت برالگا۔
میں نہ ہی اس کی آئی ڈی چیک کرتا ہوں اور نہ ہی اس کے پرانے پیغامات پڑھتا ہوں۔ وہ کھوکھلے لہجے میں بولاتو پھر یہ سب کون کرتا ہے؟
دل کرتا ہے میرا اور میں اپنے دل کی بچپن سے سنتے آرہا ہوں۔
میری کبھی سنی ہوتی تو آج کالا علم کرنے والے کسی بدبخت بنگالی بابا کی اجاڑ لاش نہ بنا ہوتا۔ دماغ نے دھیرے سے کہا۔
تیری کیوں سنوں میں؟۔ تیری سنتا تو آج کسی دفتر کا کلرک ہی ہوتا۔
ہاں نا۔ کلرک ہوتا۔ ایک قومی ادارے کا مجرم نہ ہوتا جسے انہوں نے عبرت کا نشان بناکر چھوٹی جیل سے اس دنیا کی بڑی جیل میں لا پھینکا ہے۔
دفع ہو۔ یہ کہہ کر اس نے یوٹیوب کھول لیا۔ غزلوں کو ڈھونڈھتے ہوئے اس کی نگاہ ایک ویڈیو پر ٹک گئی جس میں مرزا غالب کا خوبصورت کلام کسی دل جلے نے اپنی بھدی آواز میں گاکر اسے رنگین حروف کے ساتھ ویڈیو بناکر اپلوڈ کررکھا تھا۔ اس نے اسے پلے کردیا۔
سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

یہ بھی پڑھئے:   اوور کوٹ-غلام عباس

اس نے شعر کو پلے بیک کیا کہ دوبارہ سنے۔
سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
غالب جانتا تھا کہ دوہزار اٹھارہ میں آدھی رات کو کوئی اس شعر کو سنے گا اور تڑپے گا۔ اس نے سوچا۔
کیا غالب جانتا تھا کہ دوہزار اٹھارہ میں آدھی رات کو کوئی اس شعر کو سنے گا اور تڑپے گا؟ اس نے پھر سوچا۔
اوراپنا خیال خود ہی رد کر دیا۔
بادہ خوار، ولی کب مانے جاتے ہیں کہ نیلی چھتری والا ان پر اپنے کشف اتارے۔
اگلے مصرعہ نے اسے دوبارہ ماضی میں جھونک دیا۔
بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی
جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
اب اسے سپر مارکیٹ کا کافی کیفے۔
بلیو ایریا کے کیفے کا چیز کیک۔
مری کشمیر پوائنٹ کی خنکی۔
مال روڈ سے متصل ہوٹل کادھوپ سے چھنا ہوا ٹیرس۔
کراچی کے ساحل سمندر کے پاس ہونے والی لڑائی۔
آنکھیں، ستواں ناک، ناک میں پہلی بار اس کی خاطر کھدوائی گئی نوزپن اور نوزپن میں دمکتا موتی یاد آیا۔
بے اختیار اس نے دوبارہ گوگل کروم آن کیا اور اس کی آئی ڈی کو چیک کیا۔
یہ اس کا روزسونے سے قبل کا معمول تھا۔
غالب کے ان اشعار کا حق ہے کہ آج دوبار چیک کیا جائے۔ اس نے خودکلامی کی۔
جیسے ہی اس نے کلک کا بٹن دبایا۔قاتل آئی ڈی ابھر آئی۔
وہ لوٹ آئی ہے۔ اس کا دل زور سے دھڑکا۔
اس نے ڈی پی میں رکھی تصویر کو دیکھا۔ کلک کرکے اس نے تصویرکو اپنے ڈیسک ٹاپ پر سیو کیا۔
اس کی ٹائم لائن پر نگاہ دوڑائی۔ دو ہی ٹویٹس تھیں۔

ایک کسی فیک آئی ڈی کی ٹویٹ تھی جس میں اس کے بارے میں یعنی میرے بارے میں ایک گمراہ کن بات کو ری ٹویٹ کیا گیا تھا۔
دوسری ٹویٹ میں وہ اس شخص کا شکریہ اداکرتی دکھائی دی جس کی شکایت اور شرارت کی بنا پر وہ دوسواکہتر دن قید و بند کا عذاب سہہ کر آیا تھا۔
چند لمحوں تک وہ لیپ ٹاپ کی سکرین کو دیکھتا رہا۔ گم صم رہا۔ ساکت رہا۔
پھر اس نے آپشن میں جاکر بلاک کا بٹن دبایا۔
سانولا چہرہ ہمیشہ کے لئے اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
اس نے وقت گزاری کا حربہ بند کیا۔ یوٹیوب کا ونڈو کھل گیا۔
بھدی آواز ابھی تک اسی مصرعے پر اٹکی ہوئی تھی۔
جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا

اس نے مصرعے کو دہرایا۔ تصور میں کوئی درد ابھرا نہ کسی ٹیس نے پسلیوں سے اس کے پنجر پر دستک دی۔
اس نے یوٹیوب بھی بند کردیا۔ لیپ ٹاپ کو دوہرا کرکے صوفے پر پھینکتے ہوئے روشنی گل کی۔ پلنگ پر دائیں پہلو دراز ہوگیا۔
کھڑکی سے باہراچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی۔ سامنے والے گھروں کی چھتوں پرنصب پانی کی نیلے رنگ کی ٹینکیوں کو تکتے ہوئے آسمان سامنے آگیا۔ اس نے اپنی نگاہ آسمان میں جمائی۔ کچھ ہی دیر میں اسے خدادکھائی دینے لگا۔
خدا اس سے بے نیاز کسی جانب دیکھ رہا تھا۔
اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش خداایک مرتبہ اس کی طرف دیکھے۔
اگر اس نے دیکھ لیا تو میں کیا کہوں گا؟ لمحہ بھر کے لئے سوچ آئی
اگر دیکھا تو اسے ہی مانگ لونگا۔ یہ سوچ کر اس نے سانولی ستواں ناک میں کھدی نوزپن کا تصور کیا مگر ناکام رہا۔

پھر وہ لمحہ قبولیت کا لمحہ بن گیا۔ خدانے اس کی جانب پلٹ کردیکھا۔
وہی بے نیازی، وہی فاخرانہ تبسم جو اس کی شان ہے۔
مانگ کیا مانگتا ہے۔ آواز غیب سے نہیں۔ دل کے اندر سے پھوٹتی محسوس ہوئی۔
اس نے جان لیا کہ یہ وہ گھڑی ہے اگر وہ اس سمے سات آسمان بھی مانگے گا تو دان کردیئے جائیں گے۔
اس نے ایک بارپھر شاہ جان، میرے شاہ جان کی گردان کرتی، کھنکتی آواز کو پکارا۔
آواز بھی تصویر کی طرح اس کے خیالوں پر نہ برسی۔وہ سمجھ گیا کہ آج اس کے دل نے آخری تار بھی کاٹ ڈالی ہے اب اس کی سماعتوں اور بصارتوں پر وہ آواز ابھرے گی نہ ہی اس کے خدوخال کبھی نمایاں ہونگے۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ خدا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ مانگ کیا چاہئے؟
اس نے اپنے پالن ہار کو دیکھا۔ اغوا کئے جانے سے قبل کی ایک برس میں کی گئی انتھک محنت یاد کی۔
قید میں ملے درد اور تنہائی کے عذاب کو تصور کیا۔
رات کے اس پہر پلنگ کے چاروں طرف پھیلی تنہائی کا سوچا اور پھر دوبارہ آسمان کی طرف دیکھا۔
اس بار ہڈیوں کے ڈھانچے، سیاہ رنگت کے حامل اس اجڑے بنگالی بابے جیسی صورت پر حقارت تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ حقارت دنیا کے کسی بھی شخص یا عورت کے لئے نہیں تھی۔
اس نے مانگ کیا مانگتا ہے کی آفاق سے اتری پیش کش سے منہ موڑلیااور کروٹ بدل کر اپنا چہرہ کمبل میں چھپالیا۔

Views All Time
Views All Time
1362
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: