Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

تصویریں پلٹتی ہیں

Print Friendly, PDF & Email

 ایک البم میری نظروں کے سامنے کھلا ہے۔  کئی چہرے ہیں ،کئی رنگ ہیں ،بہت سے رشتے ہیں، پیار ہے ،معصومیت ہے، حسن ہے ، پاکیزگی سے بھری معصومیت میں ڈوبی ہنسی، کلکارتی شوخی ہے ، آنکھوں میں عزم لیے روشن چمک ہے ، کچھ کر دکھانے کی آرزو لیے مسکراتا چہرہ لیے دین پہ ایمان پہ مر مٹنے کا جذبہ لیے تصویر ہے ۔ چھ ماہ کی معصوم جان سے لیکر دس بارہ سال تک کی چٹکتی کلیوں غنچوں سے مزین البم کہ جس صفحہ پر میں نظر ڈالتی ہوں شیش محل میں ہر چہرہ اپنا لگتا ہے۔  ہر بچی دل کے قریب  ہر بچے کی نازک انگلیاں میرا ہاتھ تھام لیتی ہیں۔ بالکل میرے اپنے بچوں کی طرح لمس  وپی گداز وہی، نرمی وہی، تحفظ کے لیے اٹھتی آنکھیں  کچی عمر کی پاکیزگی ،ان جانا خوف بھی، اعتماد بھی  کہ ہم اپنوں کے درمیان ہیں۔  

وہ اپنے جو مذہب کے لحاظ سے اپنے ہیں،  جو قومیت سے جان سے عزیز تر ہیں  مگر یہ کیا ؟؟؟البم پہ رکھے رکھے، میری انگلیاں کیوں تر ہونے لگیں ؟میری آنکھ تو خود پانی سے ،اشکوں سے بھری ہ۔ے  میرے بچو !میری انگلیاں اپنی آنکھوں سے نہ لگاؤ یہ نم ہیں، شبنم شبنم ہیں۔ ایک عرق ندامت ہے جو دامن تک بھگو دیتا ہے ۔ صفحات پلٹتے ہیں وہ یکم جنوری کو اپنے والدین سے ملنے کی بے تابی لیے معصوم زینب کا چہرہ ہو  یا لائبہ کا، عبد اللہ ہو ،حمزہ ہو یا دوسال کی بچی کی تصویر جو خون میں لت پت پڑوس کے گھر سے نکلی  ،ہر صفحہ اندوہ سے بھرا ہے ہر جگہ بین ہے ،اگلا صفحہ کھولتی ہوں یہاں بھی شور ہے، فغاں ہے ،آوازیں ہیں،صدائیں ہیں جو اپنے جگر کے ٹکڑوں کو آوازیں دیتی ہیں، شاید وہ پلٹ آئیں انتظار ہے کہ ان آنکھوں میں جم گیا ہے ۔

خالی خالی نظروں ،خالی گود لیے مائیں ہیں جن کی چھاتیاں ابھی بوجھل ہیں۔ لیکن شیر خوار تو کسی ہسپتال کی بے رحمی سے رزق خاک ہوا رگ جاں ہے کہ کھنچتی ہے درد پہلو سے اٹھتا ہے  جن بچوں کے اعضاء بھی تکمیل کو نہ پہنچے تھے وہ کلیاں کچرا گھر پہ ادھڑی، نچی نچوڑی پڑی ہیں ۔ایک اور تصویر سامنے آتی ہے ۔ارباب اختیار ایک مجبور باپ کے سامنے ٹھٹول میں مشغول، باپ بے حس جامد دماغ خالی نظروں سے، دیکھتا جاتا ہے مائیک کے منہ اپنا موقف سنا کر بند کردیئے جاتے ہیں ٹک ٹک دیدم  باپ ،خالی گود ماں قانون کی طرف بے بسی سے دیکھتے ہیں۔ ایک اور معصوم فرشتہ بھی البم کے صفحہ پر دکھتا ہے ایسے ہی فرشتے قوم لوط پر بھی بھیجے گئے تھے ۔وہ عذابوں کی گھڑی تھی  مگر یہ گھڑی یہ کیسی کڑی ہم پہ آن پڑی ہے ہم ظلم تو سہتے ہیں پر دادرسا نہیں بن پاتے  ۔

یہ بھی پڑھئے:   سلمان حیدر کا معاملہ، اک سنی سنی سی داستاں - تحریر: فاروق احمد

ہماری گودیں اجڑ رہی ،آنکھیں بے نور ہو رہی ہیں ۔روتے روتے بینائی چھن گئی۔  کوئی جبہ یوسف نہیں جو ان آنکھوں کی روشنی واپس لاسکے۔  انصاف بھی شاید پابند سلاسل ہے ۔زبان خلق نقارہ خدا بنتی جاتی ہے۔ لیکن خاموش بے حس حرکت  صفحہ پلٹتا ہے ارے یہ کیا یہ کوئی ڈارک روم ہے ۔یہاں ان معصوموں کے وجود کو کچل کر مسل کر  ان کے منہ بھاری ہاتھوں سے بند کرکے ایک ایک کرکے سارے اعضاء کاٹے جاتے ہیں جہاں عیش کوش ان لذتوں سے رس کشید کرتے ہیں، ریٹنگ بڑھتی ہے ،سٹار ملتے جاتے ہیں ۔ڈارک ویب  ایسا بلیک ہول ہے سنا ہے وہاں تک کسی کی رسائی نہیں ، صرف چیخوں کی رسائی ہے ۔

آوازوں کے شور کی قیمت ہے جہاں  آوازیں جو صحرا کی ننگی جلتی ریت کے اوپر گھسٹتے بلال حبشی کی ہو یا اونٹ سے بندھے معصوم جان کی  جو اونٹ کو مہمیز کرتی اس کا لہو گرم کرتی ہے ۔وہ تیز دوڑے  اور تیز اور تیز  چاہے ڈارک رومز کی سیاہ دیواروں سے کسی انجانے دیس میں بیٹھے جنونی کی سواگت کے لیے خریدی گئی ہوں ۔ان کے حرم آباد رہیں گے لیکن اگلے صفحے پر ماں کے خالی دل کی باپ کی بے بسی کی بہن بھائیوں کی کھیلنے کے لیے ہمیشہ کیلیے چھپ جانے والی پیاری بہن کی تصویر ہمیشہ کیلیے ٹھہر گئی، وہ لمحہ جسے کوئی کیمرہ عکس بند نہیں کرسکا۔قانون کے ترازو کا پلڑا کب توازن کھو بیٹھا انصاف مانگتے ہونٹوں کو چپ کرادیا جاتا ہے کہاّں غلام گردشوں کے چکر کاٹوگے تھوڑے کو بہت جانو  اس ریل پیل میں بہتے جاؤ ۔سی سی ٹی وی کیمروں کے مناظر گھر بیٹھے مہیا ہو جاتے ہیں۔ بس اپنی لاڈلی کا آخری دیدار اسی فوٹیج سے کر لو،  بہت ہوا چند کھوکھلے لفظوں کے گلدستے منہ میں بد بداتے ۔جانے کون سے لفظ  اور بس،

یہ بھی پڑھئے:   خود اگائے پودے اور خود رو طلباء

بقول شاعر  ہم اس شہر ناپرساں کے باسی ہیں جہاں سارا کھیل نامعلوم افراد کھیل رہے ہیں۔ نامعلوم ویب سائٹس ،نامعلوم گروہ ،کسی کو کچھ علم نہیں اور نہ رکھنا چاہیے۔ آگ جب اپنے دامن کو لگتی ہے تو آگ ہوتی ہے ذاتی فوائد جاہ و حشم طمع دولت کے کوڑیالے سانپوں نے آنکھوں کو ذہن و دل کو مقفل کیا ہوا ہے یہ زہر ہم نے اپنے اندر اتار لیا ہے ۔ہمارے منبر مسجد مکاتب درسگاہیں محلے گلی کوچے شہر کچھ بھی محفوظ نہیں۔ جن فضاؤں میں ہمارے معصوم پھول کلیاں مرجھا جائیں ،جہاں بے حسی اغراض کی باد صر صر سب کچھ بہا کے لے جائے وہاں اس البم کے صفحے منہ چڑاتے رہیں گے۔  البم ابھی مکمل نہیں ہوا کچھ خالی صفحے بھی ہیں انتظار کریں کون سا نیا نام نیا چہرہ اس خالی صفحہ پہ سجتا ہے پھر سے اس زخمی روح کو گھائل کرتا ہے  ۔صفحے پلٹتے رہیں گے تاآ نکہ اس مردہ معاشرے میں کوئی زندہ آواز جمود توڑ دے شگاف ڈال دے  وگرنہ صفحے پلٹتے رہیں گے ۔

Views All Time
Views All Time
304
Views Today
Views Today
6

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: