Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

زندگی تصاویر سے زیادہ قیمتی ہے

Print Friendly, PDF & Email

آج آفس سے گھر کے لئے نکلا تو کوشش تھی کہ جلد گھر پہنچ جاؤں۔ جیل روڈ سے جب فیروز پور روڈ انڈرپاس پر پہنچا تو ٹریفک معمول سے کچھ زیادہ سست چل رہی تھی۔ فیروز پور روڈ انڈر پاس کراس کر کے تو ٹریفک تقریباََ جام تھی۔ آہستہ آہستہ جب انڈر پاس گزرا تو آگے ایک سفید رنگ کی کرولا ترچھی کھڑی نظر آئی تو ذہن میں فوراََ خیال آیا کہ یہ شخص جلدی کے چکر میں لین تبدیل کرتے ہوئے کسی گاڑی کو ٹکر مار بیٹھا ہوگا اور اب خود تو لیٹ ہو ہی رہا ہے باقی سب کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ جیسے ہی گاڑی کو کراس کیا دو لڑکے سڑک پر گری ہوئی موٹرسائیکل سے آگے لیٹے نظر آئے تو میں نے سائڈ پر کر کے موٹر سائیکل روک لی۔ اتر کر جب لوگوں کے پاس پہنچ کر دیکھا تو پنجاب کالج کے دوسٹوڈنٹس تھے۔ ایک کو تو دیکھتے ہی احساس ہو گیا کہ اس دنیا میں نہیں رہا دوسرا زخمی حالت میں پڑا کراہ رہا تھا۔ جاتے ہی پوچھا کہ کسی نے ایمبولینس کو فون کر دیا ہے کہ نہیں۔ ایک صاحب بولے وہی کر رہے ہیں۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور بتایا کہ ان کو کچلنے والا ٹرک پولیس کا ہے اور اسے تھوڑا ہی آگے روک لیاہے ۔ اردگرد کوئی چالیس پچاس لوگ جمع ہو چکے تھے۔ گاڑیوں کی طویل قطار پیچھے نظر آ رہی تھی۔ جو بھی آتا اپنی جیب سے موبائیل نکالتا اور زخمی اور ڈیڈ باڈی کی تصویر بنانے لگ جاتا۔ میں نے کچھ ذمہ داری کاا حساس کرتے ہوئے فوراََ ریسکیو سروس کو کال کر دی کہ جلدی ایمبولینس بھیجیں۔

ایک طرف تو جہاں انتہائی المناک سانحے پر دل انتہائی دکھی تھا وہیں عوام کے رویے نے بھی بہت مایوس کیا۔ فیس بک پر ایک بار کبھی پڑھا تھا کہ ماضی میں اگر کوئی بندہ گر جاتا تو اردگرد والے سارے اسے اٹھانے کو بھاگتے تھے۔ لیکن اب اگر کسی کوکوئی شخص گرتا نظر آجائے تو وہ اس کی طرف بھاگتا تو ضرور ہے لیکن اس کی ویڈیو بنانے کے لئے۔ آج مجھے اس بات کا عملی نمونہ بھی نظر آگیا۔

یہ بھی پڑھئے:   میرا خدا مت چھینو

حادثے کے بعد سب کو پتہ ہوتا ہے کہ ایمبولینس کو کال کی جاچکی ہوگی اور وہ اس پیچھے رکی ہوئی ٹریفک میں ہی پھنس جائے گی۔ لیکن مجال ہے کہ ذرا بھی احساس کریں۔ ہر گزرنے والا وہاں گاڑی روک کر تھوڑی دیر کے لئے “تماشا” ضرور دیکھ رہا تھا۔ موٹرسائیکل ہو یا رکشہ یا گاڑی ہر کوئی اس فریضے میں بخوبی شامل ہو رہا تھا۔ ایمبولینس کا سائرن بھی چل رہا ہے سڑک پر خون کی بہتی ہوئی موٹی سی لکیر بھی سب کو نظر آرہی ہے جو واقعے کی سنگینی کی دکھانے کو کافی ہے لیکن لوگوں کے دلوں میں احساس شائد ختم ہو چکا ہے کہ وہ چند لمحوں کے لئے گاڑی سست کر کے منظر دیکھ ضرور رہے ہیں۔

ہم کچھ لوگوں نے مل کر ٹریفک کو نکالنا شروع کیا۔ تاکہ ایمبولینس جلد از جلد پہنچ سکے اور دوسرے زندہ بچ جانے والے بچے کو جلد از جلد ریسکیو کیا جاسکے۔ فیروز پور روڈ پر ریسکیو آفس سے فقط دو منٹ کی دوری پر موجود جائے حادثہ پر پہنچنے کے لئے ایمبولینس کو کم از کم بیس منٹ لگ گئے۔ اور اس کی وجہ فقط لوگوں کا رویہ تھا۔ موقع پر کوئی ٹریفک وارڈن پہنچ پایا نا ہی پولیس تھی۔ سب لوگ بیس پچیس منٹ بعد جائے حادثہ پر پہنچے۔ انڈر پاس کےاوپر کھڑے اور حادثہ کی جگہ پر کھڑے ہر بندے کی کوشش ہے کہ جلد از جلد تصویر حاصل کر لے۔ شکل اور لباس سے انتہائی مہذب اور پڑھالکھا نظر آنے والے ایک لڑکے نے تو انتہا ہی کر دی جب ریسکیو والے سٹریچر لا رہے ہیں تو ان کی راہ میں بچے کے بہنے والے خون سے بچ کر فوٹو بناتا ہوا ان کے راستے میں کھڑا ہے۔

حادثہ تو چلیں کسی نہ کسی غلطی کی وجہ سے ہو گیا۔ لیکن کیا ہم نے بطور عوام کبھی اس حادثے کے موقع پر اپنی ذمہ داری محسوس کرنے کی کوشش کی؟ کبھی ہم نے ایمبولینس کو ترجیحی بنیادوں پر راستہ دینے کی کوشش کی ؟ بجائے ہم اسے راستہ دیں یا ہم ان کی آڑ میں اپنا راستہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ کوشش ہوتی ہے کہ اب گاڑی ایمبولینس کے بالکل پیچھے لگا لیں تاکہ ہمیں بھی جلدی جلدی راستہ ملتا جائے۔ چاہے اس کوشش میں کسی حادثے کا سبب بن جائیں۔ حادثہ ہونے پر بجائے ہم ریسکیو سروس کال کرنے کے کوشش کرتے ہیں کہ یار کارِ خیر کوئی دوسرا انجام دے لے میں تصاویر لے لوں حادثے کی۔
ایسا ہی ایک واقعہ کل انڈیا سے بھی رپورٹ ہوا۔ انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ کے ضلع پالاکڈکے ایک قبائلی لڑکے کو چوری کے الزام میں باندھ کر مارا گیا۔ لوگ اس مرتے ہوئے انسان کے ساتھ سیلفیاں لے رہے تھے۔ معاشرے میں ایسا رجحان سفاکیت کی انتہا کو ظاہر کر رہا ہے۔ بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے وہاں قبائیلیوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی خاتون دھنیا رمن نے جو جملہ کہا میں پوری طرح متفق ہوں کہ ’’ایک شخص دوسرے کے ساتھ سب سے برا یہ کر سکتا ہے کہ ایسی صورتحال میں سیلفی لے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:   محبوب کے نام پہلا اور آخری خط - ثناء بتول

خدارا اگر کبھی کسی حادثے کے موقع پر موجود ہوں تو بجائے صحافی بننے کے یا سوشل میڈیا پر “سب سے پہلے یہ خبر ہم نے آپ تک پہنچائی” کا تمغہ پانے کے زخمی انسان کی زندگی کا خیال کریں۔ اسے آپ کے جائے حادثہ پر رکنے اور اس کی تصویریں بنانے سے زیادہ ضرورت طبی امداد کی ہے۔ ایمبولینس کال کریں اور کوشش کریں اپنی مدد آپ کے تحت جائے حادثہ پر متعلقہ اداروں کی عدم موجودگی میں ان کا کام کسی نہ کسی انداز میں پورا کریں۔ تاکہ امداد پہنچنے میں معاونت ہو سکے۔ فوٹو سے زندگی زیادہ قیمتی ہے۔

Views All Time
Views All Time
625
Views Today
Views Today
3

قمرعباس اعوان

پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ دوستی کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سوشل ویب سائٹس سے کافی اچھے دوست بنائے جنہیں اپنی زندگی کا سرمایہ کہتے ہیں۔ قلم کار ان کا خواب ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نےبہت محنت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: