وکیل بمقابلہ ڈاکٹر – ایک نطر ادھر بھی

Print Friendly, PDF & Email

گزشتہ روز  لاہور میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ رونما ہوا جس میں   وکلاء نے   اپنے مطالبات کے حق میں مظاہر ہ کرتے  ہوئے لاہور کے سب سے بڑے دل کے ہسپتال پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی  کے سامنے دھرنا دیا اور پھر کچھ ہی لمحات کے بعد یہ دھرنا پرتشدد احتجاج میں تبدیل ہوگیا جس کے باعث متعدد ہلاکتیں  بھی ہوئیں یہ تمام ہلاکتیں ان مریضوں کی ہوئیں جو علاج کیلئے ہسپتال میں موجود تھے اس پرتشدد مظاہرے کے باعث جیل روڈ اور ملحقہ علاقے میدان جنگ بنے رہے اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے انتظامیہ کو آنسو گیس اور واٹر گن کا بھی استعمال کرنا پڑا جس کے بعد مظاہرین منتشر ہونا شروع ہوگئے جبکہ انتظامیہ کے بقول اس سلسلے میں کئی وکیلوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن کی تعداد 40 سے زائد ہے ۔

اس واقعے کی اصل کہانی جاننے کیلئے ہمیں کچھ دن پیچھے جانا ہوگا تاکہ ہمیں اصل محرکات کا پتا چل سکے”  19 نومبر کو عظیم سندھو نامی وکیل اپنی والدہ کو جو کہ  دل کے عارضہ میں مبتلا تھیں پی آئی سی علاج کی غرض سے لیکر آئے اور ایمرجنسی میں داخل کروادیا ۔ علاج  معمول کے مطابق شروع ہوا مگر وکیل صاحب نے جلدی پر اصرار کیا اور پروٹوکول کے ساتھ مفت ادویات کا بھی مطالبہ کیا جس پر انہیں  انتظامیہ کی جانب سے انتظار کرنے کیلئے کہا گیا۔ بار بار کی تکرار پر وکیل صاحب مشتعل ہوگئے اور اپنے چند دوستوں کو فون کرکے بلالیا۔ بعدازاں وکلاء دوستوں کے آنے کے بعد یہ تکرار لڑائی کی شکل اختیار کرگئی اور ہاتھا پائی کے بعد پیرامیڈیکل اسٹاف اور وکلاء کی جانب سے غلیظ زبان کا استعمال بھی کیا گیا۔ جس کی وجہ سے ہسپتال میں موجود دیگر مریضان اور لواحقین میں بھگڈر مچ گئی اور وکیل صاحب اپنے دوستوں اور والدہ کو لیکر ہسپتال سے چلے گئے مگر جانے کے بعد دونوں اطراف کے لوگوں نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمات کا اندراج بھی پولیس کو کرواڈالا۔

واقعے کے بعد اگلے روز ڈاکٹرز نے اسپتال میں ہڑتال کی اور جیل روڈ پر گرینڈ ہیلتھ الائنس کی جانب سے دھرنا بھی دیا گیا جبکہ وکلاء نے بھی اس دوران ڈاکٹرز کے خلاف احتجاج کیا اور سول سیکرٹریٹ پر میں گھس کر چیف سیکریٹری کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔  جس کے بعد  پولیس کی جانب سے پی آئی سی کے 2 ملازمین کو گرفتار کیا گیا جس پر ڈاکٹرز نے ایک بار پھر ہڑتال کی جبکہ اس دوران وکلاء کی جانب سے پولیس پر کارروائی نہ کرنے کا الزام  بھی لگایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان 14 اگست کوبنا یا 15 اگست کو؟ | طلحہ شفیق

وکلاء اور ڈاکٹرز کے درمیان جاری اس سرد جنگ کو ختم کروانے میں لاہور بار کے صدر عاصم چیمہ اور پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت اور چیف سیکرٹری نے گورنر ہاوس میں ایک  اہم میٹنگ کی جس میں وکلاء صاحبان اور ڈاکٹرز  کے تمام مطالبات مان لئے گئے اور صلح کروادی گئی۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ اس صلح کے بعد صدر لاہور بار کو 25 سرکاری لیگل ایڈوائزر (لاء آفیسرز) کی نوکریاں اور آٹھ کے ہندسوں پر مشتمل کیش بھی فراہم کیا گیا ۔ اس کے بعد 9 دسمبر کو لاہور بار میں اراکین کی جنرل ہاؤس  میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈاکٹرز اور وکلاء کے مابین صلح کروانے کی باتیں منظرعام پر لائی گئیں مگر اس میٹنگ میں اگلے الیکشن میں صدر لاہور بار کے امیدوار رانا انتظار اور ان کے حمایتیوں نے اس  صلح  کا بائیکاٹ کرنے کا عندیہ دے ڈالا اور احتجاج کی کال بھی دی۔

“قارئین کی یاد دہانی کیلئے عرض سے کہ رانا انتظارسابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ اور ٹکٹ ہولڈر بھی ہیں جبکہ موجودہ صدر کا تعلق حکمران جماعت سے بتایا جاتا ہے”

اسی اثناء میں کچھ ڈاکٹروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں خطاب کرنے والے ڈاکٹر وکلاء کی نقل اتار کر مذاق اڑا رہے ہیں۔

 خیال رہے کہ مذکورہ ویڈیو میں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ایک ڈاکٹر ہسپتال کے احاطے میں کھڑے ہو کر وکلا اور ڈاکٹروں کے درمیان ہونے والی گفتگو عملے اور دیگر ڈاکٹروں کو بتا رہے ہیں جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ وکلا نے کہا کہ ہم ڈاکٹروں کو پی  آئی سی کے اندر جا کر کچھ نہیں کہہ سکتے ۔

ویڈیو دیکھنے کے بعد وکلا دوبارہ مشتعل ہوئے جس پر رانا انتظار گروپ نے اپنے الیکشن کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پی آئی سی کے سامنے احتجاج کی کال دے ڈالی اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ لاہور کی تاریخ کا ایک بدترین واقعہ تصور کیا جائے گا  ۔

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان زندہ باد - خورشید ندیم

اس میں شک نہیں کہ پاکستان کی ترقی میں  وکلاء کا کردارقابل ستائش رہاہے اور بہت سے کارہائے نمائیاں انھی وکلاء کے نام سے موسوم ہیں خود پاکستان کا قیام بھی ایک وکیل کے ہاتھوں سے ہی ممکن ہوپایا ہے مگر آج وکیل کا نام لوگ عزت سے نہیں لیتے  انھیں وہ مقام دینے کیلئے تیار نہیں جس کے وہ اہل ہیں اسی طرح ہمارے دودھ سے دھلے مسیحائی کے دعوے دار مکمل کاروباری بن چکے ہیں ان کےاپنے کلینک ایک مکمل کاروباری فرم کے مطابق چلتے ہیں اور اس کلینک سے متصل فارمیسی پر بکنے والی ادویات کو دیکھ کر زرا سی سمجھ بوجھ رکھنے والا انسان جان سکتا ہے کہ آج کل ڈاکٹر صاحب کا ایم او یو کس فارما کمپنی سے  طے  ہے  اس پر میڈ ان چائینہ ڈاکٹرز  جنھیں شائد کام بھی مکمل طور پر نہیں آتا مگر ذہن  ساتویں آسمان پر ہے ۔

لاہور ہائیکورٹ،  ایوان عدل اور متصل تمام علاقے کی پارکنگ کا ٹھیکہ لاہور بار کے پاس ہے اور ہر ہسپتال کے اندر کا ٹھیکہ ڈاکٹرزکی ایسوسی ایشن کے پاس ہوتا ہے  ۔ ہسپتال میں ہونے والے  ہر ٹینڈرز/ پرچیز  میں ان کا حصہ اور ادھر ہر کیس میں ان کا حصہ موجود ہوتا ہے دونوں شعبے انتہائی عزت کے حامل مگر حالات انتہائی پستی کی جانب  رواں ہیں ۔ عدالتوں میں سائل رسوا ہوتے ہیں اور ہسپتالوں میں مریض ۔ مرضی کی دوائی مرضی کے فیصلے ۔ ان دونوں کی لڑائی میں نقصان صرف اور صرف میرے اور آپ جیسے عام انسانوں کا ہی ہوا ہے اور ہوتا رہے گا ۔ اس وقت دونوں اطراف کی طرف سے کئے گئے احتجاج اور باتوں سے پرے ریاست سے سوال یہ بنتا ہے کہ قانون نام کی چڑیا جہاں قیدہے  اسے وہاں سے نکال کر دھوپ لگوالینی چاہیے وگرنہ وہ وقت دورنہیں جب یہ لڑائی گلی گلی لڑی جائے گی ۔

Views All Time
Views All Time
406
Views Today
Views Today
5

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: