Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

آخری نجات دہندہ

Print Friendly, PDF & Email

دنیا ظلم کا گہوارہ بنتی جا رہی ہے. آئے روز دل دہلا دینے والے واقعات پیش آ رہے ہیں. ایک طرف فکری یلغار کے زریعے اللہ کی وحدانیت, قرآن کی حقانیت اور اسلام کی آفاقیت پر حملہ کرکے حق کو پامال کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف انسان اور انسانیت کی تذلیل سے لے کر ناحق قتل و غارت کا بازار گرم ہے. آئے روز ستمگرانِ جہاں دنیا والوں کا چین و سکون چھین رہے ہیں. کہیں حکمرانوں کی کرپش کے قصے ہیں تو کہیں ظالموں کے ظلم کی داستانیں ہیں. کہیں ماؤں کی گودیاں ویران کی جا رہی ہیں اور کہیں عورتوں کے سہاگ اجاڑے جا رہے ہیں. والدین کو اولاد کے غم میں رلایا جا رہا ہے تو کہیں بھائیوں کو بہنوں سے جدا کیا جا رہا ہے. معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتیوں کے دل دہلا دینے والے واقعے پیش آ رہے ہیں.

دنیا کا محروم طبقہ غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور امیر اپنی دولت کے ساتھ کھیل رہا ہے. گھریلو ناچاقیوں کی خبریں پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں. فیشن کے نام پر فحاشی و عریانی کو عام کیا جا رہا ہے. آزادی اظہار کے نام پر الہی تعلیمات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور بے حیائی کو عام کیا جا رہا ہے. دنیا کے ستم گر ممالک جب چاہیں اپنے مفادات کی خاطر دوسرے ملکوں پر جنگ مسلط کر دیتے ہیں. امن کے نام پر ظلم و ستم کو عام کیا جا رہا ہے. غرضیکہ ہر طرف قتل و غارت, جھوٹ, فریب, حسد و غیبت, جوا بازی, ملاوٹ اور کرپشن وغیرہ جیسی برائیاں عام ہوتی جارہی ہیں. فکری و عملی طور پر شیطانیت کو پھیلایا جا رہا ہے.

ایسے میں کوئی بھی انسان دل کی گہرایوں سے دنیا کے حالات پہ فکر و تدبر کرے تو اس کے دل سے یہ آواز آئے گی کہ یہ دنیا ایسے نہیں چل سکتی. ہاں ایک ایسا وقت آئے گا جب ہر زندہ ضمیر یہ محسوس کرے گا کہ اس دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ ہو کر رہے گا. ایک ایسا وقت آئے گا جب دنیا کا ہر ذی شعور ایک ایسے عالمی مصلح و مسیحا کو پکارے گا جو اس دنیا سے ظلم و جور کا خاتمہ کرکے اسے امن کا گہوارہ بنا دے. اور ایسا کیوں نا ہو جبکہ کائنات کے سچے ترین صادق و امین الہی نمائندے اور اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ آخری زمانے میں میری نسل سے ایک شخص کا ظہور ہوگا جو دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح پہلے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی.
یہ وہ وقت ہوگا جب دنیا اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کا بول بالا ہوتا دیکھے گی. وعدۂ الہی کے مطابق اللہ کا دین تمام ادیانِ عالم پر غالب آئے گا. اور “جاء الحق و زھق الباطل” کا عملی نمونہ پیش ہوگا.

یہ بھی پڑھئے:   حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی

امام مہدی (عجل اللہ فرجہ الشریف) وہ ہستی ہیں کہ جن پر دنیا کے تمام ادیان کا (نام کے اختلاف کے ساتھ) اتفاق ہے. وہ ایک عالمی مصلح کے طور پر پوری دنیا کے لیے مسیحا بن کر آئیں گے. وہ ہر مظلوم و پسے ہوئے طبقے کی آخری امید ہیں. وہ ظالم سے مظلوم کو انصاف دلائیں گے. وہ کمزورں کو طاقت ور بنائیں گے. وہ ستم گروں کا قلع قمع کریں گے. اللہ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے اور پھر ہر نبی کے بعد ان کے اوصیاء بھیجے مگر انسانوں کی اکثریت ہمیشہ سے الہی نمائندوں اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے آئی. ان کے ساتھ ظلم و ستم روا رکھا. حتی کہ بعض انبیاء کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہ کیا گیا.

ایسے میں اللہ نے آخری نبی کے آخری وصی کو “بقیۃ اللہ” (اللہ کا بچا کر رکھا ہوا) کا مصداق قرار دے کر محفوظ کر لیا. اب دنیا کا ظلم و ستم دیکھ کر ایک وقت ایسا آئے گا جب دنیا والے خود ایک الہی نمائندہ کی آرزو کریں گے. دنیا والے الہی ہدایت کے پیاسے ہو جائیں گے. اہل دنیا یہ جان لیں گے کہ اس دنیا کی امن و آشتی کے لیے ایک ایسے الہی نمائندہ کا وجود ضروری ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی دنیا پر الہی قانون کا نفاذ کرکے اسے امن و آشتی کا گہوارہ بنائے. پس جب دنیا والے اس عالمی مصلح, چراغِ ہدایت اور نویدِ امن و امان کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اسے پکاریں گے تو پھر اللہ کا وعدہ پورا ہونے میں دیر نہیں لگے گی. اور اللہ زمین پر اپنی آخری حجت کا ظہور کرکے دنیا والوں پر اپنی نعمتیں تمام کر دے گا.15 شعبان المعظم کی مناسبت سے دنیا میں امن و آشتی کے ہر طالب کو منجئِ عالمِ بشریت, نویدِ امن و اماں, حجتِ خدا, بقیۃ اللہ الاعظم حضرت امام محمد مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی ولادت باسعادت مبارک ہو.

Views All Time
Views All Time
640
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: