Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کراچی کی سڑکوں پر بے حسی کا راج

Print Friendly, PDF & Email

گذشتہ دو تین روز سے چند وڈیوز اور تصاویر ارشاد رانجھانی کو انصاف دو (#JusticeforIrshadRanjhani) کے ہیش ٹیگ کیساتھ زیرِ گردش ہیں ساتھ ہی ساتھ الیکٹرانک میڈیا پر بھی اس معاملے پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ وائرل ہونے والی وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص بیچ سڑک پر لہو لہان حالت میں پڑا ہوا ہے اور اس کے گرد لوگوں کا ہجوم جمع ہے، اس ہجوم میں سے ایک شخص بہت زیادہ چیخ و پکار کر رہا ہے کہ “یہ ڈکیت ہے، اس کے ساتھ ایک اور ساتھی بھی تھا”، وہی شخص لوگوں کو وڈیو بنانے سے منع کرتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے۔ وہ شخص ملیر کی ایک یونین کاؤنسل کا چیئرمین ہے جس کے مطابق وہ بینک سے رقم نکال کر جا رہا تھا تو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اس کا پیچھا کیا اور پیسے لوٹنے کی کوشش کی جس پر اس نے اپنے لائسنس یافتہ پسٹل سے ان ڈاکوؤں پر فائر کھول دیئے جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو جس کا نام ارشاد رانجھانی بتایا جاتا ہے موقع پر زخمی ہوگیا جبکہ باقی ڈاکو بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔


دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس واقعے کے خلاف آواز اٹھانے والوں کا کہنا ہے کہ ارشاد رانجھانی کوئی ڈاکو نہیں بلکہ ایک لسانی جماعت کا نمائندہ تھا اور پرامن شہری تھا۔ گو کہ دونوں جانب کے بیانات میں باہم تضاد پایا جاتا ہے مگر قطع نظر اس کے کہ مقتول واقعی ڈاکو تھا یا نہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک انسان لہو لہان حالت میں سڑک پر پڑا منتیں کر رہا ہے کہ اسے ہسپتال لے جایا جائے مگر ان سینکڑوں انسانوں میں سے کسی کو بھی اس کی حالت پر رحم نہیں آیا کہ اسے تڑپتا ہوا چھوڑدینے کے بجائے ہسپتال پہنچایا دیتے۔

یہ بھی پڑھئے:   عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی - اختر سردار چودھری

ایک نجی ٹی وی چینل کے نمائندے کے مطابق سوا پانچ بجے زخمی ہونے والا ارشاد رانجھانی 7:15 بجے جناح ہسپتال پہنچایا جاتا ہے کیونکہ پولیس اسے زخمی حالت میں سڑک سے اٹھا کر ہسپتال کے بجائے تفتیش کیلئے تھانے لے گئی تھی۔ اس پورے واقعے کو دیکھنے کے بعد چند سوالات ذہن میں اٹھتے ہیں جن کا جواب آج ہر ایک کیلئے جاننا ضروری ہے؛ کیا کسی شہری کو اس بات کی اجازت ہے کہ کسی بھی شخص کو ڈاکو قرار دیکر سڑک پر اپنی عدالت لگا کر اسے گولیوں سے بھون دے؟ کیا کوئی مبینہ ڈاکو انسانیت کے ناطے اس قابل نہیں کہ سب سے پہلے اس کی زندگی بجائی جاسکے پھر بعد میں قانون کے مطابق کاروائی ہو؟ کیا پولیس کے قانون میں کوئی ایسی شق بھی ہے کہ زخمی ملزم کو پہلے تھانے اور پھر بعد میں ہسپتال لے جایا جائے تاکہ اتنے وقت میں اس کے جسم سے لہو باقی نہ رہے اور اس کی موت واقع ہوجائے؟


چند سوالات ان لوگوں کو اپنے آپ سے پوچھنے چاہئیں جو لوگ اس ایک قتل کو لسانیت کا رنگ دے کر امن عامہ کی خرابی کے درپے ہیں؛ وڈیو میں نظر آنے والا پسٹل کس کا تھا؟ کیا رانجھانی اور شاہ کی کوئی ذاتی دشمنی تھی؟ مقتول کی موبائل لوکیشن کے مطابق وہ اس کار کا مسلسل پیچھا کیوں کر رہا تھا؟

یہ بھی پڑھئے:   کراچی میں پائیدار امن کیلئے کوششیں بلارکاوٹ جاری رہیں گی، جنرل باجوہ



اصولی بات یہ ہے کہ وزارتِ داخلہ نے اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم جاری کردیا ہے لہٰذا مناسب یہی ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات مکمل ہونے تک ایسے کسی بھی بیان سے گریز کیا جائے جو شہر میں امن و امان کی خرابی کا سبب بن سکے البتہ ارشاد رانجھانی کی قبر اہلِ کراچی کیلئے ہمیشہ ایک سوالیہ نشان بن کر رہے گی کہ کیا آپ میں سے کسی کو میرے بچوں پر بھی ترس نہیں آیا؟؟

Views All Time
Views All Time
159
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: