Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

انصاف بعد از مرگ

Print Friendly, PDF & Email

مظفر گڑھ کا رہائشی ، وزیر احمد ایک فاطر العقل شخص تھا۔ سال 1997ء میں ان کے کچھ رشتہ دار ان کے اراضی پر قابض ہوتے ہیں اور ملکیت کا دعوی کرتے ہیں۔ ذہنی فرسودگی کے باعث وزیر احمد اس قابل نہیں تھا کہ وہ عدالتی جنگ لڑ سکے۔ اس لئے ان کے احباب میں سے کچھ نیک دل لوگ ان کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور مظفر گڑھ کی مقامی عدالت میں دعوی استقرار حق داخل کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس مقدمے کا اندراج بعنوان وزیر احمد بنام صاحب بی بی ہوجاتا ہے۔ 1997ء میں جب یہ مقدمہ داخل ہوتا ہے اس وقت وزیر احمد زندہ تھے ساتھ میں ان کے پاس گواہوں کی ایک لمبی فہرست بھی موجود تھی ۔ یہ مقدمہ 2011ء تک جاری رہتا ہے اوراس طرح 14 سال اس مقدمے کو لڑتے لڑتے آخر کار وزیر احمد اپنی زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ نہ صرف وزیر احمد بلکہ ان کے وہ احباب جنہوں نے یہ مقدمہ دائر کرایا تھا وہ بھی اس دار فانی سے کوچ کرجاتے ہیں جبکہ گواہان بھی ایک ایک کرتے سارے مرجاتے ہیں لیکن اس چھوٹے سے مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوپاتا۔  سال 2011ء  میں جب فاضل سول جج اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہیں تو اس وقت سائلین میں سے ایک بھی زندہ نہیں ہوتا۔ یوں وزیر احمد کو انصاف ملتا ہے لیکن اس کی موت کے بعد۔

وزیر احمد کے مقدمے جیسے مقدمے ہمارے عدالتی نظام پر کئی سوال اٹھاتے ہیں ۔ کیا14 سالوں کے بعد آنے والا فیصلہ فوری انصاف ہو سکتا ہے؟ کیا عدالتی نظام مردوں کو انصاف فراہم کرتا ہے یا اس کا منشاء زندہ شہریوں کو انصاف فراہم کرنا ہے ؟ ہمارے آئین کے آرٹیکل 37میں اس بات کاانتہائی صراحت کے ساتھ ذکر نہیں ہوا ہے کہ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی نہ صرف ہر شہری کا حق ہے بلکہ عدلیہ کی اولین ذمہ داری بھی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ انصاف کی طرف جانے والا راستہ نہ صرف طویل ہے بلکہ انتہائی کٹھن اور صبر آزما بھی ۔

یہ بھی پڑھئے:   زندگی ایک سفر اور ٹرین حادثہ

سال 2014  میں جب راقم سپریم کورٹ اآف پاکستان میں فاضل جج جسٹس اقبال حمید الرحمان کے ساتھ بطور لاء کلرک/ ریسرچ ایسوسی ایٹ کا م کر رہا تھا تو سابق چیف جسٹس ، جسٹس جوادایس خواجہ نے لاء کلرکس کو انصاف میں تاخیر کے موضوع پر تحقیقی مقالہ مرتب کرنے کو کہا۔ راقم نے اس وقت جس موضوع کا انتخاب کیا وہ اس سوال پر مبنی تھا کہ کس طرح فاضل ججز کے صوابدیدی اختیارات جیسے ایڈجرمنٹ انصاف کی فراہمی کو موخر کرتے ہیں۔ اس بارے جب گزشتہ ایک سال کی فہرست کا مطالعہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ صرف 2014 سے 2015 تک سپریم کورٹ میں 312 مقدمات میں ایڈجرمنٹ [سماعت کی موخری] کا حکم دیا گیا۔

وہ مقدمات جن کی سماعت موخر کی گئی ان میں سے 95فیصد مقدمات دیوانی [سول] جبکہ ۵فیصد مقدمات فوجداری [کریمینل] تھے۔ اس کے بعد جو سوال تحقیق طلب تھا وہ یہ تھا کہ عدالت کن وجوہات کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت موخر کر سکتی ہے۔ اس بارے جب وکلاء کی جانب سے دائر ہونے والی درخواستوں کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ 312 میں سے 187 مقدمات کی سماعت صرف وکلاء کی بیماری کی وجہ سے موخر ہوئی۔ اس کے علاوہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ڈی چوک میں جو دھرنا دیا گیا تھا اس کی وجہ سے بھی انصاف کا عمل بری طرح متاثر ہوا ۔ کیونکہ موخر ہونے والے 312 مقدمات میں سے 22 مقدمات وہ تھے جن میں وکلاء نے دھرنے کی وجہ بتاکر مقدمے کی کارروائی موخر کرائی تھی۔

یہاں اس امر کی وضاحت انتہائی ضروری ہے کہ برطانیہ میں اگر کوئی وکیل بیماری کی بنیاد پر مقدمے کی کارروائی موخر کرنا چاہے  تو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ درخواست کے ہمراہ میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی لف کریں۔ ہمارے قانون اور ضابطے میں چونکہ ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی ہے اس لئے وکلاء اکثر میڈیکل گراؤنڈ پر ہی ایڈجرمنٹ لے لیتے ہیں۔ ایڈجرمنٹ اتنی تواتر سے لے لی جاتی ہے کہ اکثر انصاف کی فراہمی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر محمد سعید بنام زرینہ مائی کا مقدمہ جس میں سول جج خانیوال نے ایک کارروائی سے دوسری کارروائی مکمل ہونے تک 19 سال لگا دئیے اور وکیل کی درخواست پر 178 مرتبہ مقدمے کی کارروائی موخر کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے:   آج کا کام آج اور ابھی

آخر میں اس امر کی وضاحت بھی انتہائی ضروری ہے کہ عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لئے ہماری اعلی عدلیہ کو چاہئے کہ وہ انصاف کی راہ ہموار کرے اور فوری  انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائین۔ 27 جون 2019 کو جب ای۔ کورٹ سسٹم کا افتتاح ہوا تو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے اسی عزم کا اعادہ کیا کہ ای۔ کورٹ سسٹم کے ذریعے ایڈجرمنٹ کی حوصلہ شکنی کی جائے گی تاکہ مقدمات کی کارروائی موخر نہ ہو اور عوام کو فوری انصاف مل سکے۔ ہم اس عزم کی تکمیل کیلئے دعا گو ہیں۔

راقم قانون کے شعبہ سے وابستہ ہے اور ابلاغیات میں ماسٹر ڈگری کا حامل ہے۔ 2014 سے 2015 تک سپریم کورٹ میں فاضل جج کے ساتھ بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ کام کرتا رہا۔ اب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ایل ایل ایم کا اسکالر ہے۔ 

Views All Time
Views All Time
241
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: