Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کیا انڈیا اور پاکستان میں جنگ ہو سکتی ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

آج کی تاریخ میں بھی جنوبی ایشاء دنیا بھر کا سب سے غیر یقینی اور بحران کا شکار خطہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 1980ء سے انڈیا اور پاکستان کے مابین کشمیر کے مسئلہ کو لے کر بہت دفعہ دنیا نے ممکنہ جنگ کے نقارے بجتے دیکھے ہیں۔ آج ایک دفعہ پھر انڈیا اور پاکستان سیاسی اور فوجی بحرانوں کی اُس اسٹیج تک پہنچ چکے ہیں کہ اگر اسے حل نہ کیا گیا تو محدود پیمانے کی ایک جنگ چھڑ سکتی ہے۔ اس وقت بھی انڈیا دفاعی ساز و سامان کی خریداری پر سالانہ 60 ارب ڈالرز خرچ کر رہا ہے جبکہ پاکستان اس کے مقابلہ میں اسلحہ کی خریداری پر تقریباََ 8 ارب ڈالرز خرچ کرتا ہے۔ یہ اتنی بڑی خریداری ہے کہ اگر ایک سال دونوں ممالک یہ خریداری نہ کریں تو انڈیا ہر کشمیری کو 32 لاکھ روپے جبکہ پاکستان 8 لاکھ روپے کا تحفہ دے سکتا ہے۔ خیر انڈیا اور پاکستان کی افواج اور اُن کے حکمرانوں کو یہ بات سمجھانا تقریباََ ناممکن ہے اس لئے ہم ان عوامل کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جن سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ انڈیا اور پاکستان میں جنگ کیوں نہیں ہو سکتی۔

جنگ برپا کرنے کے لئے سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کی صورت میں اس خطہ میں فیصلہ ساز طاقتیں اور اردگرد کے ممالک اس حوالہ سے کس ملک کی مدد کریں گے۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی جنگ میں سپر پاور امریکہ انڈیا کا ساتھ دے گا یا پاکستان کی حمایت کرے گا۔ افغانستان میں عرصہ 18 سال سے پھنسی اپنی فوجوں کو باہر نکلوانے کے لئے امریکہ کو طالبان سے مذاکرات کرنے اور انہیں کامیاب کروانے کے لئے پاکستان کی اشد ترین ضرورت ہے تو انڈیا کی 1 ارب 30 کروڑ آبادی والی مارکیٹ کو نظر انداز کرنا بھی امریکہ کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ اِس کے علاوہ چین پر نظررکھنے کے لئے امریکہ کو انڈیا کی ناراضگی مول لینا یا امریکی انتخابات میں انڈین لابی کی مدد سے صدارتی انتخابات میں مدد ایسے عوامل ہیں جن کے لئے امریکہ کبھی بھی انڈیا کو اپنے مخالف نہیں کھڑا کر سکے گا۔ پاکستان نے حال ہی میں براستہ سعودی عرب جو اشارے امریکہ بھیجے ہیں اُن میں ممکنہ طور پر اسرائیل کو قبول کرنے پر رضامندی سے لے کر مشرق وسطی کی سیاست میں امریکی مفادت کے ساتھ دوستانہ سلوک شامل ہیں لہذٰا اب امریکہ کے لئے پاکستان کو ناراض کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔

انڈیا کی حمایت میں اس خطہ سے جو ممالک اثرانداز ہو سکتے ہیں وہ بنگلہ دیش اور افغانستان ہی ہیں۔ بنگہ دیش دور ہونے کی وجہ سے انڈیا کی مدد نہیں کر سکتا اور افغانستان کے اپنے حالات اس طرح کے نہیں ہیں کہ وہ پاکستان پر کسی طرح کا دباؤ ڈال سکے۔ ایران کبھی بھی انڈیا پاکستان تنازعہ میں اسلام آباد کے لئے خطرہ نہیں بنے گا بلکہ سنہ 1971ء کی جنگ کے دوران تو پاکستانی طیارے ایران سے اُڑان بھر کر انڈیا پر حملہ کرتے تھے اور انہیں ایران سے مفت تیل بھرنے کی سہولت حاصل رہی تھی۔ آج کل ایران اور انڈیا کے مابین بہت اچھے تعلقات ہیں مگر اس کے باوجود ایران نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کر کے پاکستانی مؤقف کی حمایت کی۔

اس طرح بچتا صرف چین ہے جس کے ساتھ پاکستان کی دوستی ہمیشہ سے مثالی رہی ہے۔ سنہ 1971ء کی جنگ کے دوران چین نے ایک موقع پر اپنی فوجیں تبت میں انڈین بارڈر پر یہ کہہ کر لگا دی تھیں کہ انڈین فوجی جان بوجھ کر انڈین مویشی چارہ چرنے کے لئے چینی علاقوں میں بھیج دیتے ہیں۔ چین کی اس حرکت کی وجہ سے اور بعد میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی مداخلت کی وجہ سے انڈین فوج مغربی پاکستان کی طرف حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکی۔ آج بھی چین اور پاکستان کی انڈیا کے حوالہ سے ایک ہی پالیسی ہے اور انڈٰیا پاکستانی جنگ کی صورت میں چین کی ساری ہمدردیاں پاکستان کی لئے ہی ہوں گی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حال ہی میں پہلے پاکستان اور پھر انڈیا کا دورہ کیا ہے۔ سعودی قیادت کی طرف سے پہلے پاکستان کا دورہ کرنے سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سعودی عرب کی پہلی ترجیح پاکستان ہے۔ اسی طرح انڈیا کے بھی سعودی عرب سے گہرے تعلقات ہیں اور انڈیا کا 25 فیصد پٹرولیم (یعنی ہر روز سات لاکھ پچاس ہزار بیرل) سعودیہ سے ہی آتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے انڈیا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری (اندازا‘‘ 100 ارب ڈالرز) شروع کی ہے۔ سعودی عرب میں 27 لاکھ سے زیادہ انڈین شہری کام کر رہے ہیں وہاں سے یہ کارکن ہر برس 36 ارب ڈالرز انڈیا بھیجتے ہیں۔ انڈیا کو ملنے والا تیل کھلے سمندر کے جس علاقہ سے گزر کر انڈیا پہنچتا ہے وہاں سے پاکستان کی سمندری حدود کچھ زیادہ نہیں ہیں اس لئے جنگ کی صورت میں تیل کی رسائی متاثر ہوگی۔ اور یہ انڈیا کی تیز رفتار معیشت کے لئے بہت خطرناک یا کہہ لیں کی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک بات ہو گی۔

یہ بھی پڑھئے:   تاریخی تناظر اور لاہور شہر کا پانی - اکرم شیخ

بھارتی افواج کو اُس کے کچھ سمجھدار لیڈروں اور بڑے تجارتی اداروں نے شاید یہ اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ بھارت صرف بھارت ہے اور امریکہ نہیں ہے۔ تیز رفتار ترقی کے باوجود اُس کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کرتے ہوئے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر سکے۔ اگر بھارت میں یہ قوت اور صلاحیت ہوتی تو وہ کسی دھمکی اور اعلان کے بغیر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو فوجی کارروائی کے ذریعے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا۔ نریندر مودی نے ایک ہفتہ سے بھی پہلے گجرات میں تقریر کرتے ہوئے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ نئی دہلی کی حکومت پاکستان سے مقابلہ کےلئے تیار ہے۔ یہ مقابلہ دو ہی صورتوں میں ہو سکتا ہے کہ بھارت پاکستان پر حملہ کردے یا پاکستان جنگ کا آغاز کرے۔ ماضی کے تلخ تجربوں کے بعد پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کبھی بھی حملہ کرنے میں بھی پہل نہیں کرے گی اس لئے مودی کی چتاؤنی دراصل پوائنٹ سکورنگ ہی لگتی ہے۔

شواہد مسلسل یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ بھارت نے جنگ کے سارے امکانات پر غور کرنے کے بعد یہ دانشمندانہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جنگ کا آغاز بھارت کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ بھارت نے جن آپشنز پر غور کیا ہے ان میں سب سے پہلے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستانی چوکیوں پر حملہ کر کے انہیں تباہ کرنا تھا تاکہ پاکستان کو یہ سبق سکھایا جا سکے کہ اگر ان چوکیوں کے ذریعے ’’دہشت گرد‘‘ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر یا کسی دوسرے علاقے میں بھیجے جائیں گے تو بھارت بھی دندان شکن جواب دے سکتا ہے۔ تاہم اس خوابناک خواہش کے غبارے سے اس وقت ہوا نکل گئی جب وزیر اعظم عمران خاں نے ایسی کسی بھی بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے پاک فوج کو فری ہینڈ دینے کا اعلان کر دیا۔ دوسری طرف پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو ٹوک الفاظ میں یہ واضح کر دیا کہ لائن آف کنٹرول کی کوئی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر ایسی کوئی طبع آزمائی کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بھارت کے زیر غور دوسرا آپشن سرجیکل اسٹرائیک کا تھا مگر پچھلے نام نہاداور جعلی سرجیکل اسٹرائیک کا جس طرح پاکستانی، انڈین اور انٹرنیشنل میڈیا میں مذاق اُڑایا گیا، اُس کی وجہ سے اس آپشن پر زیادہ غور ترک کر دیا گیا۔ سرجیکل اسٹرائیک کے حوالے سے کولڈ اسٹارٹ اسٹریٹجی کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔ بھارتی فوج کی ہائی کمان اور سیاسی قیادت نے اس امکان پر تفصیل سے غور کیا ہے۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ ایسی کسی اصلی کارروائی کی صورت میں پاکستان بھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔ نیز برآں بھارت کے پاس ایسی فضائی قوت کی کمی ہے کہ وہ ایک ہی ہلے میں پاکستان ائر فورس کو جوابی کارروائی کے قابل نہ رہنے دے۔ اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو پاکستان ائر فورس کا جوابی حملہ سخت، تکلیف دہ حد تک جارحانہ اور نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس مختلف رینج کے میزائل داغنے کی صلاحیت موجود ہے جو بھارت کے کسی بھی شہر تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس لئے اس آپشن کو بھی مسترد کر دیا گیا۔

کسی اور طرح کی ممکنہ عسکری کارروائی کے حوالے سے بھارت بدستور وزیراعظم نریندر مودی کے سلامتی امور کے مشیر اجیت ڈوول کی ڈاکٹرائن پر غور کر رہا ہے۔ اس سوچ کے تحت بھارت تخریبی عناصر کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں کلبھوشن طرز کی دہشت گردی کی کارروائیاں کروانے کی پلاننگ کر سکتا ہے۔ نریندر مودی اور ان کے رفقا نے اگر اجیت ڈوول کے اس احمقانہ نظریہ پر عمل کرتے ہوئے دہشت گردی کو ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو دنیا میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے ’’ساٖفٹ امیج‘‘ کی شبیہہ ختم ہو جائے گی۔ اجیت ڈوول اکثر یہ بھاشن دیتے ہیں کہ اگر پاکستان نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے بھارت کو نقصان پہنچا سکتا ہے تو بھارت یہ کام زیادہ مؤثر انداز میں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بڑ املک ہونے کے طور پر بھارت زیادہ وسائل صرف کر سکتا ہے۔ اس طرح جو عناصر بقول ان کے آئی ایس آئی (ISI) کے لئے کام کرتے ہیں، زیادہ معاوضہ ملنے کی صورت میں وہ بھارت کے دست و بازو بن جائیں گے۔ امید کرنی چاہئے کہ بھارتی قیادت ان ناقص اور گمراہ کن مشوروں پر اپنی صلاحیت اور وسائل صرف نہیں کرے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان میں کیا جانے والے ماضی کا تجربہ ہے جو شاید بھارت کے لئے بھی عبرت کا سبب ہونا چاہئے۔ پاکستان نے 80 کی دہائی میں جن عناصر یعنی سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی و طالبان وغیرہ کو قومی سلامتی اور مفاد کےلئے اہم سمجھتے ہوئے استعمال کیا تھا، وہ اس کے لئے اتنا بڑا بوجھ ثابت ہوئے کہ 90 ہزار شہریوں کی جان کا نذرانہ پیش کرنے اور اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانے کے باوجود، ملک کو ان سے پوری طرح جان چھڑانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ جو طریقہ پاکستان کےلئے تباہی اور عالمی سطح پر بدنامی کا سبب بن چکا ہے، اسی پر عمل کرنے سے بھارت کو بہتر نتائج کی امید نہیں کرنی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے:   عقیدوں کے کوٹھوں پر انسانیت کا مجرا دیکھنے والو!

لہذا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ علاقائی ممالک سے نہ مل سکنے والی حمایت اور اوپر بیان کئے گئے عوامل میں سے کسی بھی جنگی آپشن پر عملدرآمد ممکن نہیں ہے۔ اگر ان میں سے ایک یا زیادہ طریقوں پر عمل کرنے کی کوشش کی گئی تو بھارت کو شدید مشکل اور بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بات کافی حد تک بھارتی قیادت بھی سمجھ چکی ہے۔ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے باوجود جنگی ماحول اور دھمکیوں کی فضا کیوں پیدا کی جا رہی ہے؟۔ اگرچہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے متوالوں کی جہدوجہد اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے مظالم نے بھارت کو جس صورت حال میں پھنسا دیا ہے، نئی دہلی اس سے عالمی رائے عامہ اور بھارتی عوام کو بے خبر رکھنے کی ناکام کوششوں کے طور پر طبل جنگ بجا کر ایک جعلی جنگی فضا پیدا کرنا ضروری سمجھتی ہے۔ لیکن یہ پالیسی بھارتی عوام کو گمراہ کرنے اور انہیں اپنے ملک کی فوج اور حکومت کے بارے میں بوگس تصور قائم کرنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔ اس کا بھانڈا جلد یا بدیر پھوٹ ہی جائے گا۔ تاہم اس دوران ایسے انتہا پسند عناصر طاقتور ہوں گے جو دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت، امن اور بھائی چارے کا ہر راستہ بند کر کے جنگ کی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مذہبی انتہا پسند گروہ پہلے ہی بھارت کے کثیر الثقافتی سماج اور سیکولر نظام کےلئے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اب حال ہی میں انتہا پسندوں نے اندرون انڈیا کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے کشمیری طلبہ اور کاروبار کے لئے جانے والے کشمیری تاجروں پر حملے شروع کر دئیے ہیں جس سے پورے ملک میں ہندو، مسلم ٹکراؤ کی فضاء بن چکی ہے۔ ان حالات میں اگر پاکستان کے ساتھ جعلی مقابلہ کی کیفیت پیدا کر کے انہیں مزید توانا کیا گیا تو انڈیا کے چپے چپے میں فساد اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوتے دیر نہیں لگے گی۔یہ وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر یہ نہایت اطمنیان سے کہا جا سکتا ہے کہ فی الحال انڈیا پاکستان کے درمیان جنگ کے امکانات نہیں ہیں البتہ دونوں ممالک کے حکمران اپنے سیاسی معاملات کی وجہ سے بیان بازی اور ایک دوسرے کے ساتھ ہلکی پھلکی گولہ باری تک محدود رہیں گے۔

Views All Time
Views All Time
690
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: