Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

سانحہ ایس ای کالج بہاولپور – پورا سچ کیا ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

ناخلف شاگرد کے ہاتھوں استاد کا قتل

کتنی عجیب صورتحال ہوتی ہے کہ آپ کا کوئی عزیز بے جرم و خطا کسی مذہبی جنونیت کی بھینٹ چڑھ جائے اور آپ دوسرے اہل خانہ کے ساتھ مل کر محلے محلے، شہر شہر اور موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر مقتول کو راسخ العقیدہ مسلمان ثابت کرنے میں جت جائیں۔ کبھی پابند صوم و صلوٰاۃکہیں بتائیں اور کبھی اس کے عمروں اور حج کا ذکر کریں یا پھر کبھی صاحبزادے کی شادی کے موقع پر مسجد میں تقریب نکاح کے اہتمام کی تصاویر لوگوں کو دکھا دکھا کر یقین دلائیں کہ مقتول وہ کچھ نہیں تھا جو قاتل اور اس کے حواری کہہ رہے ہیں بلکہ وہ تو ایک سچا مسلمان تھا۔ عجیب گھٹن اور تنگ نظری کی گرفت میں ہے ہمارا سماج۔ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ ریاست، فرقوں کے عقائد کو اسلامی عقائد کے حرف آخر کے طور پر پیش کرنے والے مولوی یا پھر فرقہ پرستی کی جنونیت سے عبارت مسلکی بنیادوں پر قائم تنظیمیں؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ صورتحال کا ذمہ دار پورا سماج اجتماعی طور پر ہے۔ مردہ پرست معاشروں میں بعد از مرگ واویلے کا رواج ہوتا ہے۔ اس پر ستم یہ بھی ہے کہ قاتل کا مؤقف تو جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا ہے مگر حقائق سامنے لانے اور دیگر معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت سے چشم پوشی برتی جاتی ہے۔

بدھ 20 مارچ کی صبح آٹھ بج کر 20  تیس منٹ کے درمیان گورنمنٹ ایس ای کالج بہاولپور کے شعبہ انگریزی کے سربراہ پروفیسر خالد حمید اپنے ایک ناخلف مذہبی جنونی شاگرد خطیب حسین کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہوئے۔ اس سانحہ کی خبر چند لمحوں میں پورے ملک میں پھیل گئی۔ ابتداء میں یہ تاثر ابھرا کہ کالج کی سیاست میں بالادستی کی خواہش مند اسلامی جمیعت طلبہ کے سابقین و حاضرین قتل کی اس سازش کے پیچھے ہیں۔ استعمال ایک دوسرے مسلک کے جنونی طالب علم کو کیا گیا۔ یہ تاثر ایسے بھی پھیلا کہ پروفیسر کے سفاکانہ قتل کے نصف یا پون گھنٹہ بعد اسلامی جمعیت طلبہ نے سوشل میڈیا پر ایک وضاحتی بیان جاری کیا جس میں جمعیت کے اس قتل میں کسی بھی طرح کے کردار کی تردید کی گئی اوریہ وضاحت بھی کہ قاتل خطیب حسین کا جمعیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی اس وضاحت کو یار لوگوں نے اپنے رنگ میں رنگ کر خوب اچھالا اور رائے عامہ کا ایک بڑا حصہ سمجھنے کہنے لگا کہ ہو نہ ہو اس قتل کی سازش اسلامی جمیعت طلبہ کے سابقین و حاضرین کی ہی تیار کردہ ہے۔ ماضی کے بعض افسوس ناک واقعات میں جمعیت کے کردار نے اس مؤقف پر یقین کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔ پروفیسر خالد حمید  کے چند دوستوں ، ان میں سے بعض میرے بھی قابل احترام دوست ہیں جن میں امریکہ میں مقیم خواجہ مجید بھی شامل ہیں ، یہ تحریک دی کہ اس قتل کے حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ اصل مجرم کیفر کردار تک پہنچیں۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی سازشی ٹولا کسی بے گناہ کو پھنسا کر حقائق مسخ کر نے میں کامیاب ہوجائے۔ موضوع پر بات کرنے سے قبل میں اپنے میزبان دوست پروفیسر سید عصمت اللہ شاہ جی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایس ای کالج میں مقتول پروفیسر خالد حمید کے شعبہ جاتی ساتھیوں،شاگردوں اور دیگر احباب سے ملاقاتوں کا اہتمام کیا اور وہ سب اس بات پر آمادہ ہوئے کہ سانحہ کے حوالے سے اپنا اپنا مؤقف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ میرے سوالات کا جواب بھی دیں۔ وقت کی کمی کے باعث بہت سے احباب سے سوال و جواب کی نشست نہ ہو سکی۔ ان احباب (ان میں پروفیسر صاحبان، مقتول کے چند قریبی ساتھی اور طلباء بھی شامل ہیں) سے بعد ازاں ٹیلی فون پر رابطہ ہوا اور مفصل انداز میں بات ہوئی۔ اس تحریر کے لکھے جانے اور حقائق کو سامنے لانے کے لیے کڑوے کسیلے سوالات کا خندہ پیشانی سے جواب دینے والے ایس ای کالج کے اساتذہ کرام ، طلباء و طالبات، کالج کے دیگر ملازمین اور شہر کی سماجی ، سیاسی اور مذہبی شخصیات کا شکر گزار ہوں۔ اپنے محترم دوست اور ایس ای کالج کے پرنسپل جناب ڈاکٹر ولی محمد صاحب کا بھی خصوصی طور پر شکر گزار ہوں جنہوں نے کھوج کے اس مرحلے میں شفقت بھرے تعاون کے ساتھ سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ اس امر کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ میں اس تحریر میں ان اساتذہ کرام ، طلباء اور سماجی ، مذہبی اور سیاسی شخصیات کے اسمائے گرامی نہیں لکھ رہا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ جس قسم کی تنگ نظری اور جنون کا رواج ہو گیا ہے اس میں لگی لپٹی کے بغیر بات کر دینا بھی حوصلے کا کام ہے۔ اپنے مختلف الخیال دوستوں کے لیے مثبت جذبات رکھتا ہوں جنہوں نے پورا سچ سامنے لانے میں مقدور بھر تعاون کیا۔

سوموار 25 مارچ کی صبح جب میں اپنے دو مقامی دوستوںملک امتیاز چنڑ اور شبیر لکھیسر کے ہمراہ ایس ای کالج  بہاولپور کی حدود میں داخل ہوا تو پروفیسر خالد حمید کے قتل کو 6 دن گزر جانے کے باوجود کالج کا ماحول سوگوار تھا۔ اس صبح کالج میں مقتول پروفیسر خالد حمید کے ایصال ثواب کے لیے اجتماعی دعا بھی منعقد کی جارہی تھی۔ ہزاروں طلبا و طالبات، اساتذہ کرام، سماجی شخصیات اور محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں کی بڑی تعدادا س موقع پر موجود تھی۔ طلباء اور اساتذہ بچھڑنے والے استاد اور ساتھی کا ذکر کرتے تو ان کی آنکھیں نم ہو  جاتیں۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ہر لب پر ایک ہی سوال  تھا یہ قتل کیوں ہوا؟ خالد صاحب تو انتہائی نفیس، شائستہ اطوار صاحب علم اور دردمند شخصیت تھے۔ سیدی عصمت اللہ شاہ کے تعاون سے یہ ممکن ہو پایا کہ مقتول پروفیسر کے شاگردان عزیز ایک کلاس روم میں جمع ہو جائیں اور شعبہ انگریزی کے اساتذہ ایک دوسرے کلاس روم میں تاکہ دونوں سے الگ الگ نشست ہو سکے۔ اپنے ہوٹل سے کالج کے لیے روانہ ہونے اور کالج سے قبل شہر میں مختلف شخصیات سے اس حوالے سے گفتگو میں سانحہ کے حوالے سے دو بنیادی سوالات ابھر کر سامنے آئے تھے۔ اولاََ یہ کہ کیا واقعی اسلامی جمعیت طلبہ اس سانحے میں ملوث ہے اور اس نے اپنی تنظیمی قابلیت اور وسائل کے زور پر معاملے کو دوسرا رخ دیا تاکہ وجہ قتل سامنے نہ آسکے؟ ثانیاََ یہ کہ اگر اس قتل میں مولانا خادم رضوی کی تحریک لبیک ملوث تھی تو کیا تنظیمی طور پر وہ اس گھناؤنے عمل میں شریک تھی یا پھر چند افراد کا انفرادی فعل تھا؟ میں اسے بدقسمتی ہی کہوں گا کہ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبا کے ماضی کی بنیاد پر مختلف حلقوں  کے بعض ذمہ داران پورے وثوق کے ساتھ جمعیت کو سازش کا مرتکب قرار دیتے تھے۔ چند خواتین و حضرات ہی مجھے ایسے ملے جنہوں نے کامل سنجیدگی کے ساتھ یہ کہا کہ ہم نہیں سمجھتے  جماعت اسلامی اور جمعیت اس قتل میں کسی بھی سطح پر ملوث ہوں گے۔

ان سے ان کے یقین کی وجہ دریافت کی تو ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر  خالد حمید کے کالج کے اندر اور باہر جماعت اسلامی کے متعلقین سے مثالی تعلقات تھے۔ ان کے ذاتی دوستوں میں ایسے لوگ اور خاندان بڑی تعداد میں شامل ہیں جو جماعت اسلامی کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ ایس ای کالج کے ایک سٹاف ممبر نے مجھے بتایا کہ مقتول پروفیسر اساتذہ  کی جس تنظیم کے کچھ عرصہ قبل عہدیدار تھے وہ تنظیم جماعت اسلامی کی ہمدرد تصور کی جاتی ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ جمعیت  قتل کی سازش تیار کرے۔ اب دوسرے سوال کا جواب تلاش کرنا تھا۔ تحریک لبیک آخر کیوں اس واقعہ میں ملوث ہوئی اور قاتل خطیب حسین کا تحریک سے رابطہ کب ہوا؟ کیا محض چند افراد سے ذاتی تعلق تھا یا تنظیمی طور پر بھی کوئی سلسلہ تھا؟ ہم پہلے خطیب حسین کا پس منظر جان لیتے ہیں۔ آبائی طور پر یزمان کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والا قاتل  خطیب سال ڈیڑھ قبل تحریک لبیک  کے رضوی گروپ سے متعارف ہوا۔ اس کا خاندان بنیادی طور پر رضوی کے مسلک سے ہی متعلق ہے مگر دوسرے عام بریلوی مسلمانوں کی طرح سماجی طور پر کھلا ڈھلا خاندان ہے۔ خطیب کے والدین بہاولپور میں ایک کرائے کے مکان میں مقیم ہیں۔ اس کے والد نے اپنے بیٹے کے نام پر بہاولپور میں ہی “خطیب آٹوز کے نام پر دکان بنا رکھی ہے۔ خطیب پچھلے سال مولانا خادم رضوی کے دھرنے میں شریک ہونے کے لیے بہاولپور سے لاہور گیا ۔ دھرنے کے دوران ہی اس کا ظفر گیلانی اور چند دوسرے لوگوں سے رابطہ ہوا۔ اس کے عزیز و اقارب ، محلہ دار اور ساتھی طلباء سے اس امر کی تصدیق ہوئی کہ دھرنے سے واپسی کے بعد اوسط درجہ کے اس متوازن طالب علم کے معمولات میں تبدیلی آچکی تھی۔ وہ اپنے موبائل فون میں تحریک لبیک کے خادم رضوی اور دوسرے رہنماؤں کی تقاریر کے کلپس سنتا رہتا اور ہر بات پر اپنے فہم کو اسلام کا نام دے کر اعتراضات کرنے لگا تھا۔ تحریک لبیک کی قربت سے قبل بھی وہ کوئی کھلنڈرا طالب علم نہیں تھا مگر اس نئے تعلق نے اسے کالج اور کلاس کے دوستوں سے الگ تھلگ کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   قوم کا حقیقی مسیحا !عبدالستار ایدھی

بدھ 20 مارچ کے سانحہ ایس ای کالج کے حوالے سے دستیاب معلومات عرض کرنے سے قبل پروفیسر خالد حمید شہید کی عملی جدوجہد کے روشن پہلوؤں پر ایک نگاہ ڈال لیجئے بہاولپور کے عام سفید پوش خاندان میں پیدا ہونے والے خالد حمید نے میٹرک کرنے کے بعد مقامی سرکاری نرسری میں ملازمت کر لی۔ ایف کر کے ایک دوسرے محکمے میں بھرتی ہو گئے۔ بی اے اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا۔ ایم اے انگلش میں وہ بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کے قابل فخر طالب علم کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا اور اپنی پرانی خواہش کے مطابق معلمی کا فرض ادا کرنے لگے۔ بطور استاد ان کے سینکڑوں طلباء و طالبات بہاولپور اور مضافات کے شہروں  اور قصبوں میں موجود ہیں۔ ان کے دو تین شاگردوں سے دوران سفر ملاقات ہوئی وہ اپنے استاد کے سفاکانہ قتل پر دکھی تھے۔ عملیت سے عبارت زندگی کے حامل پروفیسر خالد حمید صاحبِ علم، شفیق اور مہربان شخصیت کی شہرت رکھتے تھے۔ اپنے طلباء و طالبات کی بساط سے بڑھ کر مدد کرنے میں پیش پیش رہنے والے مقتول استاد کے شہر بہاولپور کے حلیم احمد (ان کے صاحبزادے چند سال قبل پروفیسر خالد حمید کے شاگرد تھے) کہتے ہیں ، “میں نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں پروفیسر خالد حمید جیسا حلیم  اور مہربان استاد نہیں دیکھا”۔ لگ بھگ سات سال قبل ان کا بیٹا مقتول پروفیسر کا شاگرد تھا۔ سات سال بعد ایک طالب کے والد کا بچے کے استاد کو اس محبت اور احترام سے یاد کرنا اور یاد رکھنا خود ایک مثبت بات ہے۔

بدھ 20 مارچ 2019ء کی صبح حسبِ معمول پروفیسر خالد حمید آٹھ بج کر دو یا تین منٹ پر کالج میں داخل ہوئے۔ 8 بج کر سترہ یا اٹھارہ منٹ پر وہ اپنا بیگ اٹھائے شعبہ انگریزی کی حدود میں دیکھائی دیے۔ ساتھی اساتذہ سے سلام دعا اور طلباء پر مسکراہٹیں نچھاور کرتے ہوئے آٹھ بج کر بیس منٹ پر وہ اپنے لیے مختص دفتر میں داخل ہوئے۔ اور اگلے 8 سے 10 منٹ میں وہ دنیا سرائے سے پڑاؤ اٹھا چکے تھے۔ ان کا قاتل خطیب حسین پچھلے دس دنوں سے خالد حمید کے معمولات کی ریکی کر رہا تھا۔ بیگ سے لیپ ٹاپ اور کچھ کتب نکال کر میز پر ترتیب سے رکھنے میں مصروف استاد پر طالب علم نے لوہے کے ایک وزنی تالے سے حملہ کیا جو ان کے سر پر لگا۔ انہوں نے سنبھل کر اٹھنا چاہا تو وہ کرسی سے الجھ کر فرش پر جاگرے۔ جنونی قاتل ان کے سینے پر سوار ہوا اور دونوں ہاتھوں کو اپنے پاؤں کے نیچے دبا کر گردن سے اوپر چہرے اور سر پر  اس نے چاقو سے 17 وار کیے۔ گھاؤ اس قدر جنونیت سے لگائے گئے جس سے قاتل کے اندر بھری نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔ مقتول کی چیخیں ابتداء میں اس طالبہ نے سنیں جو ان کے دفتر کے باہر سے گزر کر ملحقہ کلاس روم میں جارہی تھی۔ اس طالبہ کی چیخ سن کر ملحقہ کلاس روم سے طلباء و طالبات باہر نکلے تو انہیں صورتحال کی سنگینی کی اندازہ ہوا۔ جتنی دیر میں طلباء اور اساتذہ کالج سٹاف کے ہمراہ پروفیسر خالد حمید کے دفتر میں داخل ہوئے جنونی قاتل اپنا کام مکمل کر چکا تھا۔ ایس ای کالج اور بہاولپور ایک نیک نام استاد اور شرف آدمیت سے مالا مال انسان سے محروم ہوگئے۔ بعض عینی شاہدین کا مؤقف ہے کہ قاتل نے جب اساتذہ  اور طلباء کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا تو پروفیسر صاحب کے سینے سے اتر کر اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی رگیں کاٹنے کی کوشش کی جو ناکام بنا دی گئی۔ جنون سے بھرے بدحواس قاتل کے پکڑے جانے کے بعد دو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ پہلی ویڈیو میں وہ جنون بھرے انداز میں چاروں طرف دیکھ رہا ہے جبکہ دوسری میں اس نے وجہ قتل کو توہین اسلام سے جوڑنے کی کوشش کی۔ دونوں ویڈیوز چند منٹوں کے وقفے سے بنائی گئیں۔ میرے نزدیک اہم ترین سوال یہ تھا کہ قاتل کو پکڑنے  اور پولیس کی آمد کے دوارن اس سے کون کون ملا؟ درمیانی وقفہ میں اس سے ملنے والے ، وہ کسی بھی انداز میں ملے ہوں اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جنہوں نے (وہ جو بھی تھے)اسے اس گھناؤنے سفاکیت بھرے اقدام کے لیے تیار کیا  تھا وہ یا ان کے کارندے وقوعہ کے بعد قاتل تک پہنچے بھی اور پڑھایا ہوا سبق سناتے رہنے پر قائم رہنے کی تلقین کر گئے۔

پروفیسر خالد حمید پر قاتل نے توہین اسلام کا الزام لگایا۔ یہ توہین اسلام کا الزام شعبہ انگریزی کی آگے چل کر منعقد ہونے والی فئیر ویل پارٹی کے حوالے سے ہے۔ اس قتل سے چند روز قبل یعنی سوموار 18 مارچ کو کالج میں کم از کم آٹھ مقامات پر شعبہ انگریزی کی فئیر ویل پارٹی کے پروگرام کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دینے والے پمفلٹ چسپاں کیے گئے۔ جمعہ  15 مارچ یا ہفتہ 16 مارچ کو شعبہ انگریی کے اساتذہ کے اجلاس میں بھی چند اساتذہ نے بھی اس فئیر ویل پارٹی کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے۔ ان تحفظات کے جواب میں پروفیسر خالد حمید نے کہا کہ اس حوالے سے کالج کے پرنسپل سے بات کرنا زیادہ مناسب ہو گا باہم الجھنے کی بجائے۔ اس موقع پر تلخی بھی ہوئی ۔ اس تلخی کو کم کروانے کے لیے بازار سے سوہن حلوہ منگوا کر سب نے مل کر کھایا اور سب شیر و شکر ہو گئے۔

سوموار 18 مارچ کو کالج میں فئیر ویل پارٹی کے خلاف پمفلٹ لگائے گئے۔ اسی تحریر کا حامل پمفلٹ ڈی پی او، ڈپٹی کمشنر بہاولپور کو بھی  بھیجا گیا۔ شعبہ جاتی فئیر ویل پارٹیوں کا سلسلہ مارچ کے آغاز سے ہی جاری تھا۔ مثال کے طور پر اس سانحہ سے چند روز قبل شعبہ ایجوکیشن کی فئیر ویل پارٹی ہوئی۔ اس پارٹی کے دوران طالبات کا تین اوورز پر مشتمل کرکٹ میچ بھی ہوا۔ فئیر ویل پارٹیز غیر اسلامی تھیں تو قبل ازیں ہونے والی پارٹیوں پر ایسا اعتراض کیوں نہیں کیا گیا؟ اسلامی تہذیت ، تعلیمات اور اقدار نے شعبہ انگریزی کی فئیر ویل پارٹی سے قبل ہی انگڑائی لے کر بیدار ہونے کی زحمت کیوں کی؟ یہ کہاگیا کہ قاتل اپنی مبینہ منگیتر کی فئیر ویل پارٹی میں شرکت پر برہم تھا۔ جبکہ اس کا کوئی رشتہ دار کالج میں زیر تعلیم نہیں ہے۔ سوموار کے روز ہی خطیب حسین نے پروفیسر خالد حمید سے ملاقات کر کے انہیں کہا کہ فئیر ویل پارٹی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں وہ اسے ملتوی کر دیں۔ جواباََ انہوں نے مسکراتے ہوئے قاتل سے کہا کہ بیٹا آپ پرنسپل صاحب کے پاس جائیں اور ان سے بات کریں۔  کیا سوموار کو خطیب حسین کا پروفیسر خالد حمید سے ملنا اور سٹاف میٹنگ میں ہونے والی تلخی جو بعد میں میٹھائی کی پلیٹ اور چائے پر ختم ہو گئی محض اتفاق تھا؟ واقعات کی ترتیب ذہن میں رکھیں۔ 16 یا 17 مارچ کو کالج میں  شعبہ انگریزی کی فئیر ویل پارٹی کے خلاف پمفلٹ چسپاں ہوئے۔ 18 مارچ کو قاتل خطیب حسین نے پروفیسر خالد حمید سے پارٹی منعقد نہ کروانے کا مطالبہ کیا اسی روز اسٹاف میٹنگ میں اس پارٹی کے حوالے سے کچھ تلخی ہوئی۔ پھر 20 مارچ کو پروفیسر خالد حمید قتل ہوگئے۔

پروفیسر خالد حمید کے طلبہ و  طالبات اور خود خطیب حسین کی کلاس پانچویں سمیسٹر کے ساتھیوں کا مؤقف ہے کہ قاتل پچھلے کچھ عرصہ سے بگڑا بگڑا رہنے لگا تھا۔ بات بات پر چڑ جاتا۔ کلاس میں اگر کوئی ہنستا تو وہ ٹوک دیتا کہ ہنسو مت یہ غیر اسلامی ہے۔ خطیب میں یہ مذہبی جنونیت پچھلے کچھ عرصہ میں ابھر کر سامنے آئی۔ ایس ای کالج کی ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ تفتیش اس بات کی ہونی چاہیے کہ قاتل پچھلے مہینہ بھر سے کن لوگوں کے ریب تھا؟ یہ نکتہ بہت اہم ہے۔ شکوک و شبہات کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی جارہے تھے۔ ایک سوال مکرر عرض کرتا ہوں۔ شعبہ انگریزی کی فئیر ویل پارٹی ابھی ہونا تھی لیکن دوسرے جن شعبہ جات کی پارٹیاں منعقد ہو چکی تھیں ان کے انعقاد کے دوران کفرو اسلام کا تنازعہ کیوں نہ کھڑا ہوا ؟ ایسا لگتا ہے کہ پروفیسر خالد حمید آسان ہدف تھے یا پھر انہیں ہی راستے سے ہٹانے کا منصوبہ تھا۔ اسلا م اس کھیل میں اس لیے داخل کیا گیا کہ معاملے کو مذہبی رنگ دیا جائے تاکہ قاتل اور سرپرست فائدہ اٹھاسکیں۔  اس کے ساتھ ہمیں اس سوال کا جواب بھی حاصل کرنا چاہیے کہ جب اسلامی جمعیت طلبہ پر کسی نے قتل کا الزام لگایا ہی نہیں تھا تو قتل کے کچھ دیر بعد اس کی طرف سے یہ تردید کیوں کی گئی کہ جمعیت کا وقوعہ اور قاتل سے کوئی تعلق نہیں؟ اسے کیا کہیں؟ آ بیل مجھے مار یا چور کی داڑھی میں تنکا؟

یہ بھی پڑھئے:   عالمی دباؤ اور حافظ سعید - ایاز امیر

پروفیسر خالد حمید کے شاگرد طلباء و طالبات کے ساتھ شعبہ انگریزی کے ایک کلاس روم میں گھنٹے بھر کی نشست کے دوارن یہ احساس شدید تر ہوتا  گیا کہ قتل کے اس معاملے کو مذہبی رنگ دینے کا منصوبہ بنانے والے شکست کھا گئے ہیں۔ طلباء و طالبات اپنے استاد کے قتل کو دہشت گردی قرار دے رہے تھے۔ ایک طالبہ کہہ رہی تھیں کیا لوگوں  کو قتل کرنے سے اسلامی اقدار پروان چڑھتی ہیں؟ میرے سامنے یہ سوال بھی تھا کہ آخر اس بات کی تحقیقات کیوں نہیں کی جارہیں کہ خطیب حسین پچھلے ایک سال سے کن افراد کے قریب دیکھا گیا؟ اور ان افراد کا میلان کیا ہے؟ اپنے شہید استاد کا ذکر کرتے ہوئے طلباء و طالبات آنسو مشکل سے روک پاتے۔ وہ کالج انتظامیہ، پولیس اور اہلِ صحافت تینوں سے نالاں اور شاکی تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ تینوں نے اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے وہی ڈھول پیٹا جو خطیب حسین کے پیچھے موجود  قوت پیٹ رہی تھی یعنی توہینِ اسلام۔

پروفیسر خالد حمید کے صاحبزادے بھی اس قتل پر حیران و پریشان تھے۔ شفیق و مہربان باپ سے محروم ہونے والے بچے اپنے والد کے قتل سے زیادہ ان بیہودہ الزامات سے پریشان تھے جو ان کے والد پر قتل کے بعد لگائے گئے۔ ان کے اہلِ محلہ اور شہر دار (بہاولپور کے شہری) تینوں ان الزامات کو حقارت اور سختی کے ساتھ مسترد کرتے دکھائی دیے۔ لیکچر کی جو ویڈیو ان سے منسوب کی گئی وہ تین سال قبل راولپنڈی کے ایک استاد کی ویڈیو تھی۔ توہینِ اسلام والی بات ثابت ہوئی نہ مذہبی پیجز سے لگایا گیا ایک اور بیہودہ الزام۔

1984 میں انجمن سپاہ صحابہ کے قیام کے بعد شروع ہوئی فرقہ واریت سے سرائیکی وسیب سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ توہین اسلام کے نام پر ایک عملیت پسند روشن خیال اور شفیق استاد کا سفاکانہ قتل کیا سرائیکی وسیب کے لیے گھنٹی ہے؟ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ ایک مسلمان  خاندان کو قیمتی انسان گنوانے کے بعد اب اپنے پابند صوم و صلوٰۃ  ہونے کی یقین دہانی کروانی پڑ رہی ہے۔ لاریب ایک شفاف اور آزادنہ تحقیقات حقائق سامنے لا سکتی ہے۔ابتدائی پولیس تحقیقات اور دیگر معلومات سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ قتل میں کالج کی داخلی سیاست یا چودراہٹ کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ایک منصوبے کے تحت داخلی سیاست کا شوشہ چھوڑا گیا۔ ثانیاََ یہ کہ قاتل خطیب حسین کا لاہور کے خادم رضوی والے دھرنے کے دوران تحریک لبیک کے ظفر گیلانی اور دوسرے لوگوں سے رابطہ ہوا جو بعد میں ذاتی تعلق میں تبدیل ہوگیا۔ ظفر گیلانی لیہ سے (موصوف ملتان کے رہائشی ہیں اور لیہ میں ان کی جائیداد ہے) تحریک لبیک کے ٹکٹ پر 2018 میں قومی اسمبلی کے امیدوار بھی تھے۔ قاتل خطیب نے ظر گیلانی کو بتایا کہ پروفیسر خالد حمید اولیائے کرام کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ جس پر ظفر گیلانی نے اسے ہدایت کی کہ وہ پروفیسر سے اس حوالے سے کلاس میں سوالات کرے اور کسی کے  ذریعے سوال و جواب کی ویڈیو بنائے۔ مقتول پروفیسر کے ساتھی اساتذہ اور شاگرد طلباء و طالبات اس امر پر متفق ہیں کہ خالد حمید متنازع گفتگو کرنے والی شخصیت نہیں تھے۔ البتہ یہ بات ضرور سامنے آئی کہ انہوں نے ایک دن کلاس میں صوفیائے کرام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں یہ ضرور کہا تھا کہ تبلیغ اسلام اور روحانی تربیت میں اعلیٰ خدمات سرانجام دینے والے صوفیائے کرام کی تعلیمات کو مسخ  کر کے بعض خانقاہوں پر عرس و میلوں کے انعقاد کی آڑ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا اسلام اور صوفیائے کرام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ قاتل خطیب نے پروفیسر کے جواب کو مسخ کر کے ظفر گیلانی تک پہنچایا جس پر گیلانی نے اسے ہدایت کی کہ وہ خالد حمید پر گہری نظر رکھےا ور ان کے معمولات کا جائزہ لے تاکہ اگر اسلام کی سربلندی کے لیے کوئی مشن سرانجام دینا مقصود ہو تو ہمارے پاس مکمل معلومات ہوں۔ 10 مارچ کو ظفر گیلانی نے اسے ہدایت کی کہ وہ پروفیسر کی ریکی کرے۔ جواباََ خطیب نے پوھا کہ ریکی کیا ہوتی ہے؟ گیلانی نے کہا وہ کب گھر سے کالج آتے ہیں، دفتر (شعبہ میں اپنے آفس) میں کس وقت تنہا ہوتے ہیں ، ان کے معمولات کیا ہیں، کن کن اسلام دشمنوں سے ان کے روابط ہیں۔ یہ وہ ساری باتیں ہیں جو ہمیں سمجھاتی ہیں کہ اس سانحہ کا ماسٹر مائنڈ ظفر گیلانی ہی ہے۔ قاتل نے یکم مارچ سے 19 مارچ کے درمیان اس سے ٹیلی فون اور واٹس ایپ پر جو گفتگو کی دونوں ابتدائی تفتیش میں اس کا اعتراف کر چکے ہیں۔ قبل ازیں عرض کر چکا ہوں کہ فئیر ویل پارٹی والا معاملہ محض ایک بہانہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اوسط درجہ کے طالب علم کی ظفر گیلانی وغیرہ اسلامی مشن کی تکمیل کے لیے ذہن سازی کرتے رہے اور بالآخر وہ سانحہ ہوگیا جس نے ایس ای کالج اور بہاولپور کے ساتھ پورے ملک اور خصوصاََ سرائیکی وسیب کو ہلا کر رکھ دیا۔ پروفیسر خالد حمید کے سفاکانہ قتل کے بعد تحریک لبیک کے سوشل میڈیا گروپس نے قاتل کو ممتاز قادری ثانی کے طور پر پیش کیا اور قتل  کو اسلام کی حفاظت کا نام دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ یا جماعت اسلامی کے حوالے سے شکوک و شبہات کیوں پھیلائے گئے؟ اس میں ایک غلطی جمعیت کی ہے وہ یہ کہ فوری طور پر قتل میں اپنے کردار کی تردید کرنا جبکہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔ ثانیاََ کالج کے اندر تحریک لبیک کے ہمدرد عناصر کا خاموش پروپیگنڈہ تاکہ حقائق مسخ ہوں۔

پروفیسر خالد حمید کے صاحبزادے نے مجھے سے دریافت  کیا “انکل آپ حقائق جاننے کے یے لاہور سے سفر کر کے آگئے مگر بہاولپور کے صحافیوں نے سوشل میڈیا کے پروپیگنڈے کو خبروں کا رنگ دیا”۔ دل گرفتہ نوجوان نے یہ بھی دریافت کیا کہ آخر صوفی مزاج سرائیکی وسیب کے صاحبان علم اور دوسرے لوگ ہماری آواز کیوں نہیں بنے؟ مقتول پروفیسر خالد حمید کے دکھی صاحبزادے کے سوالات سو فیصد درست تھے۔ بہاولپور سرائیکی وسیب میں علمی و تہذیبی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شہر میں چراغ علم گل کر دیا جائے اور شہر والے اپنے عالی دماغ روشن فکر استاد کے قتل ہونے پر بے حسی کا مظاہرہ کریں تو بہت عجیب محسوس ہوتاہے۔

پروفیسر خالد حمید کا قتل محض ایک حادثہ ہرگز نہیں یہ قتل ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کے کرداروں نے اپنی تنگ نظری کو مقصد حیات اور اسلامی تعلیمات کا نام دے کر اوسط درجہ کے ایک طالب علم کو مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا اور مقصد صرف اپنی فہم کی دہشت پھیلانے کے ساتھ علاقائی سیاست میں اس سوچ کو پروان چڑھا کر سیاسی مقاصد حاصل کرنا تھا۔ منصوبہ ساز ظفر گیلانی بہت شاطر شخص ہے۔ اس نے اپنی سیاسی چودھراہٹ  قائم کرنے کے لیے ایک طالب علم کی فراہم کردہ معلومات کو عقیدے پر حملہ قرار دے کر اسلامی مشن پورا کرنے کے لیے طالب علم کو قتل جیسا کام کرنے پر آمادہ کیا اور اس کی برین واشنگ کی۔ اس کے ہمدردوں نے حقائق مسخ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن سچ چھپائے نہ چھپ سکا۔ ایس ای کالج کے ایک ایسے استاد  ناکردہ گناہ میں قتل ہو گئے جس کا وہ زندگی میں تصور ہی نہیں کر سکتے تھے۔ ایک ایسا صاحب علم قتل ہو گیا جس نے ساری زندگی ایک عملیت پسند انسان کے طور پر بسر کی۔ اپنے شاگردوں پر اولاد کی طرح مہربان پروفیسر خالد حمید سے ان کے ساتھیوں  کو شکوہ رہتا کہ وہ طلباء و طالبات کو دو چار نمبر کم کیوں نہیں دیتے۔ وہ ہمیشہ مسکراتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اپنے بچوں (طلباء و طالبات) کی آنکھوں مین موجود خواب انہیں ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔ ان کی کلاس سے غیر حاضری شاگردوں کو گوارا نہیں تھی۔ ہمیشہ سو فیصد حاضری رہتی۔ وہ اپنے طلباء کے لیے ایک باپ کی طرح شفیق و مہربان تھے۔ مستحق طلباء و طالبات کی مدد کرنے میں انہوں نے کبھی تامل کا مظاہرہ نہیں کیا۔

ان کے کلاس روم میں گفتگو کے دوران درجنوں طلباء و طالبات  یہ کہہ رہے تھے  “یقین کیجئے ہم اپنے استاد سے نہیں بلکہ اپنے باپ سے محروم ہوئے ہیں۔ ایسے باپ سے جو ہمارا درد اور خواب ہمارے جنم دینے والے والدین سے زیادہ بہتر سمجھتے تھے۔ قاتل خطیب اور اس سرپرست ظفر گیلانی پولیس تحویل میں ہیں۔ کیا ہم امید کریں کہ قاتل و سرپرست دونوں کیفر کردار تک پہنچائے جائیں گے؟ ریاست کسی مرحلہ پر مصلحت سے کام نہیں لے گی اور قانون مذہبی جنونیوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت نہیں ہوگا؟

Views All Time
Views All Time
1773
Views Today
Views Today
5

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: