اتحاد بین المومنین کے لیے ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ علامہ اقتدار حسین نقوی

Print Friendly, PDF & Email

ایم ڈبلیو ایم سرائیکی وسیب (جنوبی پنجاب) کے سیکرٹری جنرل علامہ سید اقتدار حسین نقوی کی قلم کار سے گفتگو

حجتہ الاسلام مولانا سید اقتدار حسین نقوی مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سرائیکی وسیب (جنوبی پنجاب) کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ صاحب علم، متحرک اور انسانیت پرست مذہبی رہنما سے پچھلے دنوں ملتان میں ان کی قیام گاہ پر ایک نشست رہی ۔ اس ملاقات میں جناب مبشر علی فاروق ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ سیدی سے ملکی و بین الاقوامی امور کے ساتھ ساتھ شیعہ مکتبی سیاست اور بعض اختلافات کے حوالے سے کڑوے کسیلے سوالات بھی کیے۔ انہوں نے خندہ پیشانی سے نہ صرف ان سوالات کا جواب دیا بلکہ اپنی جماعت کا موقف بھی سامنے رکھا۔ خیال  تھا کہ تحریک جعفریہ (جو اب شیعہ علما کونسل کہلاتی ہے) کے کسی رہنما سے بھی نشست کر لی جائے۔ پھر یہ معاملہ کسی اور وقت ے لیے اٹھا رکھا تاکہ قارئین یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم انٹرویوز کے نام پر کوئی ملاکھڑا کروانے چلے ہیں۔ پاکستان میں جہاں دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث مسلک میں سے ہر مسلک کی پانچ پانچ چھ چھ جماعتیں موجود ہیں اور انہیں ان مکاتبِ فکر کا سیاسی چہرہ سمجھا جاتا ہے یہ بڑی عجیب بات ہے کہ مسلکی بنیاد پر شیعہ جماعت کے قیام پر حرف گیری میں اہل تشیع کے علاوہ دوسرے لوگ بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ حالانکہ اگر دوسری مسلکی جماعتوں کی موجودگی میں ان مسالک کے بہت سارے لوگ اپنی مذہبی سیاسی جماعتوں کی بجائے جمہوری سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں تو شیعہ جماعتوں کی موجودگی میں دوسری سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینا کیسے غلط ہو گا یا شیعہ جماعتوں کا قیام کیسے غلط؟ ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ مسلک کی سیاسی جماعتوں پر سب سے زیادہ تنقید پیپلز پارٹی کے حامی شیعہ خاندان کرتے ہیں۔ ان کا گمان ہے کہ شیعہ جماعتوں کی وجہ سے فرقہ واریت پھیلی بڑھی۔ مگر جب ان سے پوچھا جائے کہ کیا دوسرے مسالک کی مذہبی  سیاسی جماعتوں کا فرقہ واریت بڑھانے میں کوئی کردار نہیں تو وہ سوال کا جواب دینے کی بجائے شیعہ مکتب کی سیاسی تنہائی کا مرثیہ سنانے لگتے ہیں۔ شیعہ جماعتوں کے کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کے مکتب امامیہ پر بہت احسان ہیں۔ فرقے کی بنیاد پر الگ جماعت سازی احسان فراموشی ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں پنجاب کے اہل تشیع کا بڑا حصہ پیپلز پارٹی کی حمایت سے دستبردار ہو کر تحریک انصاف کی طرف چلا گیا۔ اس سیاسی ہجرت کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ چونکہ مسلم لیگ ن کالعدم سپاہ صحابہ کی اتحادی ہے اس لیے پنجاب میں پیپلز پارٹی کی عدم موجودگی (ان کے بقول) میں تحریک انصاف اولین ترجیح ہے۔ کچھ شیعہ دوست اپنے سیاسی موقف کی تبدیلی کو زرداری کی کرپشن کے اس بیانیہ سے بھی جوڑتے ہیں جو پچھلے 30 برسوں کے دوران اسٹیبلشمنٹ کی چھتر چھایہ میں جاری ہے۔ ن لیگ کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے اتحادی کے طور پر  پیش کرنے والے (جوکہ غلط ہرگز نہیں) تحریک انصاف کے حامی شیعہ اس سوال سے پہلو بچا کر گزر جاتے ہیں کہ عمران خان بھی تو 2014ء میں  طالبان کی طرف سے حکومت سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے رکن تھے۔ ایم ڈبلیو ایم کے سرائیکی وسیب کے لیے سیکرٹری جنرل  حجتہ الاسلام سید اقتدار حسین نقوی سے کم وقت میں جو زیادہ گفتگو ہوئی یا اس میں تشفی بھرے جوابات ہیں یا تشنگی باقی ہے اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں (حیدر جاوید سید)

قلم کار: مکتب امامیہ کی تقسیم در تقسیم سے قائم ہونے والی جماعتیں شخصی انانیت پر معرض وجود میں آئیں، ریاستی سازشوں یا پھر چندے کی لڑائی تقسیم کی وجہ ہے؟
سید اقتدار حسین نقوی: شخصی انانیت اور چندے کی لڑائی ہرگز نہیں ۔ کام کرنے کے طریقہ کار اور تحرک و غیر متحرک ہوجانے والے معاملات ہیں۔ وقت آگے بڑھتا ہے نئے سیاسی پروگراموں کے ساتھ نئی سیاسی جماعتوں کا قیام غلط کیسے ہوگا؟ جو لوگ اسے منفی قرار دیتے ہیں وہ دیگر سیاسی جماعتوں کی تقسیم یا نئی جماعتوں کے قیام کو اس طور کیوں نہیں دیکھتے؟ ہر طبقہ فکر کے لوگوں یا یوں کہہ لیجئےکہ بعض لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ دستیاب جماعت اور قیادت عوامی توقعات پر پورا نہیں اترے تو الگ سے جماعت  سازی کا حق استعمال کریں۔ ایم ڈبلیو ایم کے قائدین نے اسی بنیادی جمہوری حق کو ہی استعمال کیا۔ نئی جماعت کا قیام کوئی گناہ ہرگز نہیں۔

ہمیں کیا معلوم علامہ ساجد نقوی ، اعظم طارق کیس میں رہائی کے لیے کیا لکھ کر دے کر آئے تھے۔

قلم کار: ایک حلقہ یہ رائے رکھتا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے قیام کی صرف دو وجوہات ہیں۔ اولاََ ضدِ ساجد نقوی اور ثانیاََ ایک ریاستی ادارے کی سرپرستی جو شیعہ وحدت کو تقسیم کر کے مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔
سید اقتدار حسین نقوی: ہم دونوں باتوں کو نیک نیتی سے مسترد کرتے ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم کسی ریاستی ادارے کی خوشنودی کے لیے قائم ہوئی ہے نا جناب ساجد نقوی سے کسی بغض و عناد پر۔ ہم نے جماعت سازی کے لیے دستورِ پاکستان میں دیے گئے اپنے حق کو استعمال کیا کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ اعظم طارق کے قتل کے الزام میں گرفتاری اور پھررہائی کے بعد علامہ ساجد نقوی کا غیر فعال ہو جانا مسائل پیدا کر رہا تھا۔ رہائی کے وقت وہ کیا لکھ کر دے آئے ؟ کیا غیر فعالیت اس تحریر سے جڑی تھی یا مجبوریاں، ان سوالات کا جواب کبھی نہیں مل پایا۔ تب ملک اور ملت کے حالات کو دیکھتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ، علامہ امین شہیدی اور علامہ حسن ظفر نقوی میدان عمل میں آئے اور ایم ڈبلیو ایم کی بنیاد رکھی گی۔ میں دو ٹوک انداز میں اس الزام کو مسترد کرتا ہوں کہ اس جماعت سازی کے پیچھے کوئی ریاستی ادارہ تھا یا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   احمد شاہ مسعود، طالبان اور افغانستان - حصہ اول

قلم کار: اتحاد بین المسلمین کی باتیں اور دعوے کرنے والے اتحاد بین المومنین پر توجہ مرکوز کیوں نہیں کرتے؟
سیداقتدار حسین نقوی: ہمارا ذاتی جھگڑا ہے کسی سے نہ جائیداد پر تنازعہ۔ ایک محترم شخصیت کی غیر فعالیت سے بحران پیدا ہوا ، اس بحران کا خاتمہ اور قوم کی مرکزیت کی بحالی ہمارے پیش نظرتھی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علامہ ناصر عباس جعفری خود چل کر ایک عید کے موقع پر علامہ ساجد نقوی کی قیام گاہ پر گئے اور ہاتھ باندھ کر ان کی خدمت میں درخواست کہ ملی وحدت کے لیے آپ پاکستان میں رہبر کا منصب سنبھال لیجئے۔ اور اپنی شفقت سے مختلف الخیال گروہوں (جماعتوں) کو منظم کر کے قوم کی قیادت کیجئے۔ جواب ملا پہلے اپنی تنظیمیں ختم کر کے ہمارا نظم و نسق قبول کریں پھردیکھتے ہیں کیا ہوسکتا ہے۔ ہم آج بھی ملت کی وحدت کے لیے اپنی تجویز پر قائم ہیں۔ یہ نہ بھولیں کے فاصلے تب ختم ہوں گے جب دوسری طرف سے بھی اخلاص کا مظاہرہ ہوگا۔ اتحاد کے لیے پیش رفت ہوتی ہے فیصلہ نہیں سنایا جاتا۔

مکتبِ امامیہ کا اتحاد ہماری اولین ترجیح ہے۔ مگر تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔

قلم کار: عجیب نہیں لگتا ، شیعہ مسلک کی مذہبی سیاسی جماعتیں پاکستان کی داخلی سیاست کے مسائل اور ضرورتوں کو نظر انداز کر کے ایران شناسی، القدس ریلی پر وسائل پھونکتی ہیں ، اپنے داخلی مسائل پر ویسا ہی مؤقف کیوں نہیں ہوتا؟
سید اقتدار حسین نقوی: ایران کی تائید و حمایت مکتب امامیہ سے رشتے کی وجہ سے ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کی اسلامی حکومت دین شناسی اور حکومت الٰہیہ کا تعارف ہے۔سامراجی قوتوں کے مقابلہ میں ایران کی حمایت حق پرستوں کی نصرت کے لیے ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی عملی و سیاسی ذمہ داریوں سے منہ موڑ چکے ہیں۔ پاکستان ہمارا وطن ہے ۔ اس کی حفاظت یہاں عادلانہ نظام کا قیام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے جدوجہد ہی ہمارا پروگرام ہے۔ یہی دستورالعمل بھی۔ القدس کے لیے ہر سال ریلی نکالنا مظلوم فلسطینیوں کی ہمنوائی اور قبلہ اول سے محبت و عقیدت کا اظہار ہے۔ مکتب امامت کی بنیاد ہی حق گوئی کے اظہار اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے پر ہے۔

قلم کار: القدس اور فلسطینیوں جیسی محبت کا مظاہرہ کشمیریوں سے کیوں نہیں؟
سید اقتدار حسین نقوی: بھارت کے زیرقبضہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت اور ان کی جدوجہد آزادی کی ایم ڈبلیو ایم نے اپنے قیام کے دن سے ہمیشہ بھرپور حمایت کی ہے۔ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی پر ایک دو اسلامی ممالک کی خاموشی بھی صریحاََ ظلم ہے۔ ان ممالک کا بھارت سے اپنے تجارتی مفادات کی بنیاد پر کشمیریوں کی نسل کشی سے چشم پوشی برتنا قابل مذمت ہے۔ ایم ڈبلیو ایم اپنے کشمیری بھائیوں کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کر سکتی۔

قلم کار: عام انتخابات میں تحریک انصاف کی حمایت  ریاستی ادارے کے حکم پر تھی یا آزادانہ سیاسی فیصلہ؟
سید اقتدار حسین نقوی: مکرر عرض کرتا ہوں ، ہماری پالیسی سازی میں کسی ادارے کا عمل دخل ہے نہ ہمیں کسی ادارے کی خوشنودی عزیز ہے۔ ایم ڈبلیو ایم اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔ 2013 اور اب 2018 میں ہم نے اپنا فیصلہ خود کیا۔ کہیں ہم نے اپنا امیدوار الگ سے کھڑا کیا کہیں تحریک انصاف کی حمایت کی۔ اس تعاون کے بدلے میں ایم ڈبلیو ایم کو پنجاب میں معاہدہ کے مطابق خواتین کی ایک مخصوص نشست ملی اور اب وزیراعلیٰ کا ایک مشیر بھی بنا ہے۔

ہم پر اعتراض کرنے والے دوسرے مسالک کی سیاسی جماعتوں پر یہی اعتراض کیوں نہیں کرتے

قلم کار: شیعہ نسل کشی کو طالبانائزیشن کی پالیسی قراد دینے والوں نے طالبان کی طرف سے حکومت کے لیے مقرر کیے گئے مذاکرات کار عمران خان کی جماعت سے ہی اتحاد کیوں کیا؟ اس موقع پر شیعہ جماعتیں مل کر کوئی فیصلہ کیوں نہ کر سکیں؟
سید اقتدار حسین نقوی: پھر تو ہم بھی جوابی طور پر یہ سوال کر سکتے ہیں کہ سپاہ صحابہ کو حکومت میں شامل کرنے والی پیپلز پارٹی کو شیعہ ووٹ دیتے وقت اپنے مقتولین کو یاد کیوں نہیں کرتے؟ کیوں تحریک جعفریہ نے پیپلز پارٹی سے اس وقت یہ احتجاج نہ کیا جب پنجاب میں شیخ حاکم علی کو وزیر بنایا گیا اور ریاض حشمت کو مشیر، دونوں کا تعلق سپاہ صحابہ سے تھا۔ ہمارا نہیں خیال کہ عمران خان کو اگر طالبان نے اپنے مذاکرات کاروں میں شامل کیا تھا تو وہ طالبان کے پروگرام سے متفق تھے۔ ہم نے ایک سیاسی جماعت سے انتخابی تعاون کیا کسی فرد  واحد سے نہیں۔ ہمارے پیشں نظر کم برائی سے تعاون تھا وہی ہم نے کیا۔

یہ بھی پڑھئے:   باتیں‌رابعہ سلیم کی

قلم کار: 22 کروڑ کی آبادی میں تجاوز بھی کریں تو شیعہ 6 کروڑ ہوں گے۔ ان چھ کروڑ کو ملک میں اپنی مرضی کا انقلاب لانے اور ولایت فقیہ کا نظام نافذ کرنے کی اجازت کون دے گا؟
سید اقتدار حسین نقوی: ہم مکتب امامیہ کو داخلی طور پر ولایت فقیہ کے نظام میں لانے کے خواہش مند ہیں تاکہ نظم و نسق سے آگے بڑھا جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایرانی طرز کا انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ انقلاب اور نظام ہمارے لیے رول ماڈل ہے۔ ہم چاہتے ہیں مکتب امامیہ اس فہم کی روشنی میں داخلی طور پر منظم و متحد ہو اور سماج و نظام کے ارتقا میں اپنے حصہ کے مطابق کردار ادا کرے۔ یاد رکھیں ایرانی نظام ایک ماڈل ہے ہمارے لیے ۔ ہم اس سے روحانی رہنمائی لینا تو اپنا حق سمجھتے ہیں البتہ یہ امر مسلمہ ہے کہ پاکستان کے دستور سے تجاوز ہمارا شوق ہے نہ پروگرام۔ ہم ہر مظلوم کے حامی و مددگار ہیں وہ کوئی ہو  اسی طرح ہر ظالم کے مخالف ہیں وہ کوئی بھی ہو۔

جعفر جتوئی، حافظ تصدق، آصف علوی اور غضنفر تونسوی پر مشتمل چار کے ٹولے کے خیالات شیعہ عقائد سے متصادم ہیں۔

قلم کار: یہ مکتب امامیہ کے اندر بڑھتی ہوئی انتہا پسندی ، فتوے بازی ، غالی مقصر کے جھگڑے، شہادت ثالثہ کا تنازعہ، تقسیم در تقسیم ملت کو کہاں لے جا کر کھڑا کرے گی؟
سید اقتدار حسین نقوی: دیکھیں ایک بات طے ہے کہ توحید، رسالت ﷺ، اور امامت سب شیعہ کے مشترکات ہیں نکتہ وحدت بھی ۔ فتوے بازی اور عدم برداشت سے جو نقصان ہو گا وہ کسی ایک کا نہیں ہو گا اجتماعی ہو گا۔ ولایت علیؑ پر دو آراء ہر گز نہیں البتہ صدیوں سے طے شدہ اصول و ضوابط یا فہم سے متصادم رویوں اور نظریات پر سر پھٹول کی بجائے ٹھنڈے دل سے بیٹھ کر سوچنا ہوگا۔ کیا ہم نے دین و رہنمائی آئمہ معصومین ؑ سے لینی ہے یا منبر کو سٹیج کہنے والوں سے؟ ملک میں اعتدال پسند اہل تشیع کی اکثریت ہے۔ وہ داخلی معاملات کے ساتھ اتحاد امت پر یقین  رکھتے ہیں۔ قومی وحدت کے منکرین یا یوں کہہ لیں عقائد امامیہ سے انحراف کرنے والے چار کے ٹولے جعفر جتوئی، غضنفر تونسوی، حافظ تصدق اور آصف علوی کو پہچان چکی ہے۔ اس چار کے ٹولے کی وجہ سے اجتماعی اور حقیقی عقائد پر سوالات اور انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ اعتدال پسند شخصیات ، ذاکرین اور علماء متحد ہو کر قوم کی راہنمائی کریں۔ رہا سوال شہادت ثالثہ کا تو علماء و مجتہدین کی آراء موجود ہیں ان سے صرف نظر ممکن نہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کو گلے سے لگا کر حقیقی دشمن سے نبرد آزما ہو نا چاہیے ناکہ دشمن کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ ہماری نسل کشی کے جواز ہماری باتوں  ، عقائد اور چار کے ٹولے کی خودسری سے پیش کرے۔

Views All Time
Views All Time
542
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: