Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، تھکڑ میڈیسن کمپنیوں کا فراڈ اور عوام

Print Friendly, PDF & Email

قلم کار : انسانی ادویات کی قیمتوں میں بےتحاشہ اضافے نے غریب و نادار مریضوں سمیت سفید پوش اور عام شہریوں کی پریشانی اور مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔بلڈ پریشر، معدہ کے امراض، نسوانی امراض اور درد کی ادویات کی قیمتوں میں 100 فی صد سے بھی زیادہ اضافہ کرکے مریضوں کے ساتھ ناانصافی کر دی گئی ہے۔
گزشتہ دنوں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی(ڈریپ) نے ادویات ساز کمپنیوں کو 889 ادویات کی قیمتوں میں 15 فی صد تک اضافے کی اجازت دی تھی۔ لیکن ان ادویات کے جو نئے بیجز مارکیٹ میں بن کے آرہے ہیں ان میں زیادہ تر ادویات کی قیمت 100 فی صد سے بھی زیادہ پرنٹ ہو کر آ رہی ہے۔ جس نے عام شہریوں اور مریضوں کے ہوش اڑا کر رکھ دیے ہیں۔

پیٹ کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی عام گولی فلیجیل کو ہی لے لیجئے۔ 400گرام والی 100 گولیوں کی قیمت 315.10روپے سے بڑھا کر 403.44 روپے کر دی گئی ہے۔ پرووائرن 25ملی گرام 10 گولیوں کے پیکٹ کی قیمت 247.50 روپے سے بڑھا کر 586.00 روپے قیمت کر دی ہے۔ Lizolid infusion کی قیمت 600 روپے سے بڑھا 723.31 روپے ہو گئی ہے۔

فارما سوٹیکل کمپنیوں نے ادویات میں اضافے کا سبب کمیکل اور ڈالر مہنگا ہونے کا بتایا ہے۔
یہی کمپنیاں ڈاکٹرز حضرات اور اپنے ورکرز کو جو سیل ٹارگٹ پورا کر لیتے ہیں ان کو بیرونی ممالک کے دورے اور دیگر مراعات سے نوازتی ہیں (اس میں سب ڈاکٹر شامل نہیں )۔ اس کے علاوہ نجی ہسپتالوں کے میڈیکل سٹورز کو یہ اپنی ادویات ون پلس ون سے لیکر ون پلس تھری تک فروخت کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں تھکڑ اور اتنی زیادہ معروف نہیں ہوتیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:   افغان سفارتخانے کے حکام کی جی ایچ کیو طلبی ، 76 دہشتگردوں کی فہرست دے دی

ان تھکڑ ادویات ساز کمپنیوں کی ادویات کی قیمت معروف کمپنیوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مقابلہ میں سو فی صد سے بھی زائد ہوتی ہے اور اس کا براہ راست فائدہ کمپنی مالکان اور نجی ہسپتال مالکان کو (ڈاکٹر ہوں یا نہ ہوں ) کو جاتا ہے اور مریض ڈاکٹر کے لکھے ہوئے نسخہ کے مطابق تھکڑ کمپنی کی دوائی مہنگے داموں خرید کر لٹتے رہتے ہیں۔

مثال کے طور پر قبض کا شربت ڈوفالک ایک مشہور کمپنی کا ہے اسکی قیمت 170.92 روپے 120ملی لیٹر ہے اس کے مقابلہ میں تھکڑ دوائی دلہ کمپنی کی قیمت 250/روپے 120/ملی لیٹر ہے۔
معدہ کے لیے مشہور شربت میوکین 120ملی لیٹر 50روپے اور تھکڑ کمپنی 150 روپے 120/ملی لیٹر ہے حالانکہ فروخت شدگان نے یہی شربت تھکڑ کمپنی سے ون پلس ٹو تک کی آفر میں خریدے ہوتے ہیں۔ اور ٹی۔پی (ٹریڈ پرائس) 15 فی صد اسکے علاوہ ڈسکاونٹ لیا ہوتا ہے۔ 

آسان الفاظ میں سمجھا دوں کہ غیر معرف تھکڑ کمپنی کے شربت کی قیمت اگر 100 روپے ہے تو یہ میڈیکل سٹور / ڈاکٹرز کو 85 روپے میں ملے گا۔ اور ساتھ میں یہی دو عدد شربت جن کی مالیت 100 روپے فی شربت ہے وہ فری میں ملیں گے۔ اب یہ 85 روپے خرچ کرکے مریضوں سے تین سیرپ 300روپے میں فروخت کریں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے:   نو اور دس محرم کو موبائل سروس بند رکھنے کا فیصلہ

یہ ایک ڈرگ مافیا ہے جو مریضوں کو لوٹ رہا ہے۔
معروف کمپنیاں 15 سے لیکر 30 فی صد تک ڈسٹری بیوٹر / میڈیکل سٹورز/ نجی ہسپتال مالکان کو رعایت دیتی ہیں۔ 

Views All Time
Views All Time
272
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: