Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ادویات کی قیمتوں میں اضافہ’ مہنگائی کی نئی لہر

Print Friendly, PDF & Email

بجلی’ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بعد اگلے روز ادویات کی قیمتوں میں بھی 9 سے 15فیصد اضافہ کردیاگیا۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی( ڈریپ) نے قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی ہے۔
کہاجارہاہے کہ ادویات بنانے والی کمپنیاں ڈالر کی قدر بڑھنے’ بجلی ‘پٹرولیم اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سے ادویات کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
فارماسیوٹیکل مینو فیکچررز کی ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ ان کا مطالبہ 40فیصد اضافے کا تھا ڈریپ کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یہاں ایک سادہ سوال ہے وہ یہ کہ ” کیا ڈالر کی قدر میں اضافے اور بجلی’ پٹرولیم و گیس کے نرخ بڑھنے سے عام شہری متاثر نہیں ہوئے؟ ہوئے ہیں تو انہیں ریلیف دینے کے لئے حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟

ادھر ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں 9 سے 15فیصد اضافہ حق خدمت کا بدلہ ہے۔ حق خدمت کے حوالے سے سامنے آنے والی داستان بڑی دلچسپ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ماضی کی روایات کو دیکھتے ہوئے جو حق خدمت دینے پر مالکان تیار تھے اس کے پانچویں حصے کی ڈیمانڈ کی گئی حق خدمت دینے والے حیران رہ گئے۔ اس اطلاع کے درست یا غلط ہونے کی تصدیق کوئی تحقیقاتی ادارہ ہی کرسکتا ہے لیکن اگر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ماضی کے طریقہ ہائے واردات کو سامنے رکھا جائے تو حالیہ اضافے کا جو پس منظر بتایا جا رہا ہے وہ غلط نہیں لگتا۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ڈریپ کا موقف ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا اطلاق نئی تیار شدہ ادویات پر ہوگا۔ پیکنگ پر پرانی درج قیمت کاٹ کر نئی نہیں لکھی جاسکے گی مگرایک میڈیسن کمپنی کے ایک سیرپ کی نئی پیکنگ 11جنوری کی شام ہی مارکیٹ میں دستیاب تھی۔ اس سیرپ کی نئی قیمت 150روپے ہے جبکہ اسی سیرپ کی پرانی پیکنگ پر قیمت 98روپے لکھی ہوئی ہے۔

دریافت کیا جانا چاہئے کہ اگر قیمتوں میں اضافہ کسی لین دین کے بغیر ہوا ہے تو کمپنی نے ایڈوانس میں نئی قیمت خود سے کیسے طے کرلی یا پھر یہ کہ کمپنی اس سیرپ کی پہلے ہی 52 روپے قیمت بڑھا چکی تھی 15فیصد کے اضافے کے بعد اب نئی قیمت بھی سامنے آئے گی۔
یہ ایک مثال ہے ثانیاً یہ کہ 11جنوری کو جیسے ہی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان ہوا میڈیکل سٹورز نے بڑھتی ہوئی قیمتیں وصول کرنا شروع کردیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ اس امر کو یقینی بناتی کہ سٹاکسٹوں اور پرچون فروشوں کے پاس پہلے سے موجود ادویات سٹاک ختم ہونے تک پرانی قیمتوں پر فروخت ہوں؟
ثالثاً یہ کہ کیا ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری دینے والی اٹھارتی نے شہریوں کی قوت خرید اورمینو فیکچررز مالکان کے پہلے سے خالص منافع کے تناسب کا جائزہ لیا تھا؟ قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں عامتہ الناس کی آگاہی اور تجاویز کے لئے کوئی اشتہار دیاگیا کہ شہری بھی اپنی داد فریاد لے کر آسکیں۔
رابعً کیا ڈرگ اتھارٹی کے علم میں ہے کہ ادویات کمپنیاں ڈاکٹرز کو کیا ترغیبات دیتی ہیں اور کس طرح ان کی خدمت بجا لاتی ہیں کتنے ڈاکٹرز مختلف ادویات کمپنیوں کی دعوت پر بیرون ملک چھٹیاں گزارتے ہیں۔ یہ سب کن خدمات کا بدلہ ہے۔ تفریحی دورے اگر سٹڈی ٹوورزہیں تو کتنے ڈاکٹرز کا تعلق ریسرچ سے ہے؟

یہ بھی پڑھئے:   خواتین مخالف کونسل

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فیصلہ کن پوزیشن پر جلوہ افروز صاحبان اختیار کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہیں۔ انہیں عوام کے نچلے طبقات کی حالت زار اور قوت خرید دونوں سے کوئی دلچسپی ہے نا کبھی اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے کی منظوری دیتے ہوئے کیا ڈرگ اتھارٹی نے فارما مینو فیکچررز سے ان کے قبل ازیں خالص منافع کی شرح دریافت کی یا ان کے علم میں تھی؟ ڈالر کی قدر بڑھنے’ بجلی’ پٹرولیم اور گیس کے نرخوں میں اضافے سے صرف ادویات بنانے والے اداروں کے مالکان ہی متاثر ہوئے تھے’ خریدار کیا کسی دوسرے سیارے پر رہتے ہیں جہاں سب اچھا ہے؟
امر واقعہ یہ ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو نرم سے نرم الفاظ میں ”مرے کو مار شاہ مدار” کے مصداق ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ستم یہ ہے کہ فارما مینو فیکچررز ابھی جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اتھارٹی نے ان کے مفادات اور ضرورتوں کو مد نظر رکھا نہ مطالبے کو۔
صاف سیدھی بات یہ ہے کہ مسائل و مشکلات اور مہنگائی عام شہریوں کو تگنی کا ناچ نچائے ہوئے ہے ایک عام ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے مریض سے ایک دن کی دوائی کے 450 اور دو دن کی دوائی کے 900 روپے وصول کرتا ہے خاص کمپنیوں کی ادویات لکھنے کا رواج بھی عام ہے ان حالات میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ماضی کی طرح اب بھی سرمایہ داروں کے مفادات ہی مقدم ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   جستجو‘ علم‘ زندگی اور اقرار کا سرمدی نغمہ

اس صورتحال کا نوٹس لینا اور شہریوں کے مفادات کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے۔ مہنگائی کے طوفان بلا میں کمی لانے کے لئے اب تک حکومتی سطح پر کیا اقدامات ہوئے۔ چند دن قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو ریلیف دیاگیا اس کے بعد کسی حکومتی ادارے نے ٹرانسپورٹ مالکان سے کہا کہ وہ اس تناسب سے کرایوں میں کمی کریں؟
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں عوام الناس کے لئے سوچنا کبھی بھی حکومتی اداروں کی اولین ترجیح نہیں رہا۔یہ کہہ کر وزراء جی نہ بہلائیں کہ بجلی’ گیس امیروں کے لئے مہنگی کریں گے۔ مہنگائی کی شرح اتنی بلند ہے کہ عام طبقے کے شہری سانس بھی مشکل سے لے پا رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ کہہ کر بھی جان نہیں چھڑائی جاسکتی کہ بیورو کریسی ‘ تعاون نہیں کر رہی اور حکومت کو ناکام بنانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ حکومت اگر عام شہریوں کا مفاد اور حقوق کو ترجیح نہیں دے گی تو حالات بگڑیں گے اس لئے لازم ہے کہ آپ بھی اپنی ادائوں پر غور کیا کیجئے۔

روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
261
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: