Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

عمران خان کو ایک یوٹرن لینا ہوگا

Print Friendly, PDF & Email

انتخابات کے نتائج بھی قریب قریب مکمل ہو چکے جن کے حوالے سے مجھ سمیت کئی افراد اور جماعتوں کے علی الاعلان تحفظات ہیں لیکن پھر بھی یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ریاستی انتظام میں جمہوریت کا ممکنہ عمل دخل آگے بڑھا ہے اور یہ حقیقت بھی ایک دفعہ پھر بھی مسلّم ہوئی ہے کہ ریاستی انتظام میں عوام کی شرکت ہی اس انتظام کو قابل قبول بنا سکتی ہے ۔ایک اور امید افزا حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ عوام نے بھی گذشتہ مرتبہ سے زیادہ ذوق و شوق سے انتخابی عمل میں حصہ لیا ۔ملک میں امن و امان کی قدرے بہتر صورتحا ل کی وجہ سے وہ جماعتیں بھی انتخابی عمل میں شریک ہو پائیں، گذشتہ انتخابات میں امن و امان کی صورتحال نے جنہیں عملی طور پر دیوار سے لگا رکھا تھا ۔

لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ جمہوریت کا اصل حُسن حق حاکمیت کا اخلاقی جواز ہے ۔جس پر ایک دفعہ پھرقریباٌ تمام جماعتوں کی طرف سے انتہائی سنجیدہ سوالات اُٹھائے جارہے ہیں ۔ کیا ان سوالات کے ضمن میں پھر سے وہی گذشتہ کہانی دہرائی جائے گی ؟اکثریتی جماعت کے سامنے آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے ۔متوقع وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں اس مسئلہ پر مثبت پیش رفت کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن نشری تقاریر سے یہ مسئلہ حل ہونے کا نہیں ۔

اس سے پہلے کہ یہ قضیہ کسی اور طرف نکل لے عمران خان پر واجب ہے کہ وہ سیاسی انداز سے اس کا کوئی سیاسی حل نکالنے کی طرف فوری توجہ دیں ۔ یہ بات اُن سے زیادہ کون جانتا ہے کہ ملک جن حالات میں ہے کسی بھی قسم کی محاذ آرائی اور تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ انہیں سب سے پہلے کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ملک کے معتبر سیاستدانوں کے ساتھ بلاتخصیص اور بلا تعصب اپنے فاصلے دور کریں اور ایک قومی مکالمے کی راہ ہموار کریں ۔

یہ بھی پڑھئے:   پیشوائے بنی گالہ اور ریحام خان

قومی مکالمہ اُن کے لئے اس لئے بھی ضروری ہے کہ جس بھی ایوان میں انہیں حکومت بنانے کا اعتماد حاصل ہوا وہاں انہیں ایک بہت بڑی اور موثر حزب اختلاف کا سامنا ہو گا ۔ایک بااعتماد اور مضبوط حکومتی کارکردگی کے لئے اُن کے لئے ضروری ہو گا کہ ان ایوانوں میں کم سے کم اُن کے حق حاکمیت کے آئینی اور اخلاقی جواز پر سوالات نہ اُٹھائے جائیں کیونکہ ایسے سوالات انہیں خود غیر سیاسی ریاستی اداروں کی نظر میں کمزور کرتے چلے جائیں گے اور حکومت پر اُن کی گرفت کبھی بھی ایسی مضبوط نہیں ہو گی کہ جس کے ذریعے وہ عوامی توقعات پر پورا اُترنے کے قابل ہو سکیں ۔خود اُن کے اپنے بیانات اور طرز سیاست کی وجہ سے اُن پر اعتماد کرنے والے عوام نے اُن سے توقعات کے کوہ گراں وابستہ کر رکھے ہیں ۔جن کے پورا ہونے کے لئے میری ادنیٰ رائے میں وہ عوام انہیں بہت زیادہ وقت نہیں دیں گے ۔ انہیں اپنے کئے گئے وعدوں کے تناظر میں قومی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں جماعتی موجودگی پر بھی غور کرنا ہو گا کیونکہ قومی سطح پر کسی بھی قسم کی قانون سازی کے لئے انہیں سینٹ کی طرف دیکھنا پڑے گا جہاں اُن حزب اختلاف کی ناقابل تردید اکثریت بیٹھی ہوئی ہے ۔

یہ بھی پڑھئے:   جمہوریت اور کالا دھن

جمہوریت باہم مل بیٹھ کر اتفاقات اور اختلافات سے گذرتے ہوئے ملک اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے عملی پیش رفت کا نام ہے لیکن مجھے کہنا پڑے گا کہ خود عمران خان نے ایسا ماحول پیدا کیا ہوا ہے کہ تمام سیاستدانوں کا اُن کے ساتھ مل بیٹھنا ایک کار دشوار ہے ۔انہیں خود کو سمجھانا پڑے گا کہ اب وہ کسی ایک سیاسی جماعت کے راہنما نہیں بلکہ پورے ملک کے راہنما بننے جارہے ہیں ۔انہیں ایک اور پورا یو ٹرن اپنے سیاسی رویے میں لینا ہو گا۔

[poll id=”4″]

Views All Time
Views All Time
638
Views Today
Views Today
1

مجتبیٰ حیدر شیرازی

مزاج طبیعت سے شاعر،پیشے سے وکیل اور فکرو عمل سے سیاسی کارکن ہیں۔انہوں نے شکستہ جھونپڑوں سے زندان کی کوٹھڑیوں تک ،دلدل کی ماری گلیوں سے اقتدار محل کی راہداریوں تک زندگی کے سارے چہرے دیکھے ہیں ۔وہ جو لکھتے ہیں سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: