Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ممکنہ وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

Print Friendly, PDF & Email

عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے قوم سے پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن جیتنے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، 22 سال کی جدوجہد کامیاب ہوئی اور نئے پاکستان بنانے کا خواب پورا کرنے کا موقع ملا، اقتدار میں آنے کے بعد منشور پر عمل کرنے کا موقع آگیا، پاکستان میں تاریخی الیکشن ہوئے، لوگوں نے قربانیاں دیں، بلوچستان میں دہشتگردی کے باوجود لوگ ووٹ دینے کے لیے گھروں سے باہر نکلے جنہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ نئے پاکستان کو مدینے جیسی فلاحی اسلامی ریاست بناؤں گا، کسی سیاست دان پر اتنی ذاتی تنقید نہیں ہوئی جتنی مجھ پر ہوئی لیکن اس اہم موقع پر چاہتا ہوں کہ سارا پاکستان متحد ہو، اپنے تمام مخالفین کو معاف کرتا ہوں، ہماری حکومت میں کسی مخالف کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی، قانون کی بالادستی قائم کی جائے گی، ہمارا کوئی آدمی غلط کرے گا تو اسے پکڑیں گے، احتساب مجھ سے شروع ہوگا اس کے بعد میرے وزرا کا احتساب ہوگا، جو ملکی قانون کے خلاف جائے گا اس کے خلاف ایکشن لیں گے، قانون سب کے لیے برابر ہوگا، چین نے کرپشن کے خلاف مہم کی مثال قائم کی ہے، ان سے سیکھیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے مجھے بالی ووڈ فلم کا ولن بناکر پیش کیا جس پر مجھے افسوس ہوا، بھارت سے اچھے تعلقات میں برصغیر کی بہتری ہے، تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہیے، اس میں دونوں کا فائدہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں، دنیا میں کسی بھی جگہ فوج آبادی والے علاقوں میں جاتی ہے تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، پاکستان اور بھارت کو مذاکرت کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہیے، بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   مارکسزم اور ادب، ایک علمی نشست کا احوال

پی ٹی آئی چیرمین نے کہا کہ ہمارے ہاں جانوروں کا نظام ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس، کمزور کا کوئی پرسان حال نہیں، پی ٹی آئی حکومت کی ساری پالیسیاں کمزور طبقے کو اٹھانے کے لیے ہوں گی، عوام سے وعدہ کرتا ہوں ان کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کروں گا، ان کا ٹیکس چوری نہیں ہوگا، نیب اور اینٹی کرپشن کے اداروں کو مضبوط کریں گے، سرکاری اخراجات کم کریں گے، غریب ملک میں شاہانہ وزیراعظم ہاؤس زیب نہیں دیتا، ہماری حکومت وزیراعظم ہاؤس کا فیصلہ کرے گی، اسے تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تمام گورنر ہاؤسز کو عوامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، مثلا نتھیا گلی کے گورنر ہاؤس کو ہوٹل بنادیں گے۔

چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ افغانستان سے ایسے تعلقات ہونی چاہئیں کہ سرحدیں کھلی ہوں، امریکا سے ایسے متوازن تعلقات چاہتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہو، ایران سے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں، سعودی عرب نے بھی ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے، مشرق وسطیٰ میں ثالث کا کردار ادا کریں گے، جنگوں میں شرکت کی بجائے لڑائی ختم کرنے پر توجہ دیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں دھاندلی کا الزام لگارہی ہیں، موجودہ الیکشن کمیشن ن لیگ اور پی پی پی نے بنایا ہے پی ٹی آئی نے نہیں، انہیں جس حلقے میں دھاندلی کا شبہ ہے، ہم پوری مدد کریں گے اور وہ سارے حلقے کھلوائیں گے اور تحقیقات کرائیں گے، اپوزیشن کے خدشات کو دور کریں گے، قوم دعا کرے کہ اللہ مجھے اپنے وعدے پورے کرنے کی توفیق عطا کرے، قوم سے وعدہ کرتا ہوں گورننس نظام ٹھیک کرکے دکھاؤں گا جو عوام کی زندگی آسان بنائے گا، سادگی اختیار کروں گا، پچھلے حکمران عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر عیاشی کرتے تھے، لیکن ہم پاکستان میں پہلے سے مختلف قسم کی حکمرانی قائم کریں گے۔

Views All Time
Views All Time
503
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: