ہندی سینما اور عقیدہِ آواگون

Print Friendly, PDF & Email

آواگون یعنی روح کا ایک جسم کو چھوڑ کر دوسرے جسم میں داخل ہونا ہندو مذہب کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے ـ یہ عقیدہ البتہ صرف ہندوؤں سے متعلق نہیں ہے ـ قدیم انسانی تہذیبوں کے علما کے مطابق یہ نہایت ہی قدیم انسانی عقیدہ ہے ـقدیم انسان ہر شے کو زی روح سمجھتا تھا اور اس کا یہ عقیدہ تھا ظاہری جسم فنا ہوسکتی ہے لیکن روح ہمیشہ زندہ رہتی ہے ـ روح ہمیشہ نئے نئے جسموں میں منتقل ہوتی رہتی ہے ـ ابراہیمی مذاہب نے اس تصور کو لے کر حیات بعد الموت کا نظریہ پیش کیا ـ ابراہیمی مذاہب کے مطابق انسان مرنے کے بعد روزِ حشر کو دوبارہ جی اٹھے گا ـ ہندو مذہب روزِ حشر کی بجائے اسے دنیا سے مخصوص کرتا ہے ـ علما کا اتفاق ہے کہ ہندو مذہب میں آواگون کا تصور آریا لائے تھے ـ آریاؤں کا خام تصور سماجی ارتقا کے بعد آج کافی حد تک بدل چکا ہے ـ

آواگون کے عقیدے کو سب سے پہلے ہندی سینما کا حصہ بنانے کا سہرا ایک مسلمان سید کے سر جاتا ہے ـ سید کمال امروہی وہ پہلے فن کار تھے جنہوں نے اس تصور کو لے کر 1949 کو “محل” فلم تخلیق کی ـ نہ صرف “محل” کی کہانی انہوں نے خود لکھی بلکہ اسے ہدایات بھی دیں ـ مدھو بالا اور اشوک کمار کی بہترین اداکاری اور کھیم چند پرکاش کی مدھر موسیقی نے فلم کو چار چاند لگا دیے ہیں ـ فنی خوبیوں سے مالا مال ہونے کے باعث “محل” کو ایک عظیم کلاسیک قرار دیا جاتا ہے ـ میرا ذاتی خیال ہے یہ ایک ایسی فلم ہے جسے مرنے سے پہلے ایک دفعہ ضرور دیکھنا چاہیے ـعظیم ہدایت کار بمل رائے “محل” کی تخلیق کے دوران پروڈکشن کمپنی بمبئے ٹاکیز میں ایڈیٹر تھے ـ اس فلم کی ایڈیٹنگ کرتے انہیں اس اچھوتے خیال نے شدید متاثر کیا اور انہوں نے ٹھان لیا کہ وہ بھی مستقبل میں اس تصور کے گرد فلم بنائیں گے ـ

بمل رائے کو اس کا موقع 1958 کو ملا ـ انہوں نے دلیپ کمار اور وجینتی مالا کو لے کر “مدھومتی” کو ہدایات دیں ـ “محل” کی مانند یہ بھی ہندی سینما کی ایک شاندار تخلیق ثابت ہوئی ـ دلیپ کمار اور وجینتی مالا نے کرداروں میں ڈھل کر اداکاری کی ہے ـ سلیل چوھدری نے بھی یادگار میوزک ترتیب دیا ـ اس کے گیت آج بھی زندہ ہیں ـ “محل” کی نسبت “مدھومتی” نے ہندی سینما پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے ـ اس کی بنیادی تھیم پر آگے چل کر متعدد فلمیں بنیں جن کا ذکر آگے آئے گا ـ اس بات کا ذکر شاید دلچسپی سے خالی نہ ہو 1998 کی رومانٹک فلم “میں نے پیار کیا” کا ایک گیت “دیوانہ میں چلا اسے ڈھونڈھنے بڑے پیار سے” کی پکچرائزیشن کسی حد تک “مدھومتی” کے گیت “سہانا سفر اور یہ موسم حسیں” سے ہی متاثر ہے ـ

1967 کو ہدایت کار ادھورتی سبا راؤ نے آواگون کے عقیدے کو لے کر رومانٹک “ملن” بنائی ـ یہ “محل” اور “مدھومتی” کی روایت کے برعکس تامل فلم کی ری میک ہے ـ سنیل دت اور نوتن کی خوب صورت اداکاری سے مزین یہ بھی ایک بہترین پیشکش ثابت ہوئی ـ فلم کی موسیقی بھی سدا بہار ہے ـ “ملن” کا تقابل اگر سابقہ دو فلموں سے کیا جائے تو اسکرین پلے کی حد تک “ملن” کمزور نظر آتی ہے ـ دیگر شعبوں کے حوالے سے بہرحال یہ ایک مضبوط فلم ہے ـ
“ملن” کے بعد 70 کی دہائی کے وسط اور 80 کی دہائی کے اوائل میں یکے بعد دیگرے تین فلمیں اسی موضوع پر بنائی گئیں ـ یہ تینوں فلمیں کافی حد تک “مدھو متی” کی تھیم سے متاثر ہیں ـ
ان فلموں میں پہلی فلم 1976 کی “محبوبہ” ہے ـ ہدایت کار شکتی سامنت کی اس فلم کے مرکزی کردار راجیش کھنہ اور ہیما مالینی ہیں ـ فلم کے بعض سیکوینسز “محل” سے بھی متاثر ہیں ـ آر ڈی برمن کی بہترین موسیقی کے باوجود “محبوبہ” کوئی اچھی کاوش نہیں ہے ـ فلم کے بیشتر سیکونسز تھکا دینے والے بوجھل مناظر پر مشتمل ہیں ـ

یہ بھی پڑھئے:   رئیس‘‘ کی بندش-ڈاکٹر لال خان

“محبوبہ” کے برعکس 1981 کی “قدرت” اس موضوع پر بننے والی نسبتاً مضبوط فلم ہے ـ اس فلم کے مرکزی کردار بھی راجیش کھنہ اور ہیما مالینی ہیں لیکن راج کمار، ونود کھنہ اور ارونا ایرانی کے کردار بھی شاندار اور متاثر کن ہیں ـ دانشور طبقے سے تعلق رکھنے والے ہدایت کار چیتن آنند نے اسکرین پلے میں نفسیاتی ڈاکٹر کا کردار ڈال کر اسے منطقی بحث بنانے کی بھی کوشش کی ہے ـ آر ڈی برمن کی موسیقی بھی لاجواب ہے ـ اس فلم کے بیشتر گانے آج بھی ہمارے اردگرد سنائی دیتے ہیں ـ

80 کی دہائی میں لیکن سب سے زیادہ متاثر کن فلم ہدایت کار سبھاش گئی کی “قرض” رہی ـ “قرض” نے جہاں “مدھومتی” سے اپنی بنیاد بنائی وہاں اس نے امریکی فلم “The reincarnation of peter proud” سے بھی کافی کچھ مستعار لیا ـ اہم بات البتہ یہ ہے “قرض” پر سبھاش گئی کا اپنا انداز گہرا ہے ـ رشی کپور، ٹینا منیم اور پران سے جو بہترین کام لیا گیا وہ ایک طرف چونکا دینے والا نکتہ سیمی گریوال کا کردار ہے جسے بڑی خوب صورتی سے تراشا گیا ہے ـ لکشمی کانت پیارے لال کی میوزک بھی بلاک بسٹر ثابت ہوئی ـ اس میوزک کو ترتیب دینے میں بھی مغربی موسیقاروں کی تخلیقات سے استفادہ کیا گیا ـ “قرض” نے ہندی سینما پر دیرپا اثرات مرتب کیے ـ اگلے سالوں میں نہ صرف اس فلم کی تھیم (بنیادی طور پر “مدھومتی”) استعمال کی گئی بلکہ اس کے گانے بعض فلموں کے نام بن گئے جیسے “اک حسینہ تھی” ، “اوم شانتی اوم” ، “میں سولہ برس کی” وغیرہ وغیرہ ـ

ہدایت کار راکیش روشن نے 1995 کو دوسرے جنم کے عقیدے کے پسِ منظر میں بلاک بسٹر “کرن ارجن” پیش کی ـ “کرن ارجن” ہندی سینما کی سابقہ روایت سے ہٹ کر ایک منفرد تھیم پر بنائی گئی ہے ـ فلم کا بنیادی خیال قدرے چونکا دینے والا تھا ـ اس کی اسی خاصیت نے ہی اسے بلاک بسٹر بنایا ـ اس کے ساتھ ساتھ اسٹار کاسٹ بھی معاون ثابت ہوئی ـ شاہ رخ خان، سلمان خان، امریش پوری، راکھی گلزار، کاجول اور ممتا کلکرنی جیسے بڑے بڑے نام شامل تھے ـ میوزک بھی اچھا رہا ـ ایک ذومعنی فحش گانا “چھت پہ سویا تھا بہنوئی” بھی ڈال دیا گیا ـ یعنی خوب خوب مصالحہ ڈالا گیا ـ

یہ بھی پڑھئے:   سلور اسکرین کی دلی مراد

نئی صدی کے وسط میں یعنی 2007 کو فرح خان نے اسی موضوع کو لے کر بلاک بسٹر “اوم شانتی اوم” بنائی ـ “اوم شانتی اوم” کسی حد تک سبھاش گئی کی “قرض” لیکن بڑی حد تک بمل رائے کی “مدھو متی” سے متاثر ہے ـ فلم کا دوسرا حصہ تو تقریباً “مدھومتی” کا جدید ورژن ہے اور سونے پہ سہاگہ فلم کے مرکزی کردار شاہ رخ خان نے مکمل طور پر دلیپ کمار کی نقل اتاری ہے ـ دیپکا پڈکون کا کردار وجینتی مالا کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے لیکن انہوں نے “محل” کی مدھو بالا کے انداز کو اپنایا ہے ـ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے فلم کے ٹائٹل سونگ کی پکچرائزیشن 1981 کی فلم “نصیب” کے گیت “جان جانی جناردن” سے ماخوذ ہے ـ “اوم شانتی اوم” میں کہانی کی بنت اور اداکاری کا معیار اعلی ہے ـ یقیناً ان دو وجوہات کی بنا پر ہی یہ ایک بہترین فلم ثابت ہوئی ـ

“اوم شانتی اوم” کے بعد بھی آواگون کو لے کر مزید تین فلمیں بنائی گئیں ـ ان میں سے لیکن ایک بھی متاثر کن ثابت نہ ہوسکی ـ ان میں “لو اسٹوری 2050” , “ڈینجرس عشق” اور “ایک پہیلی لیلا” شامل ہیں ـ وکرم بھٹ کی “ڈینجرس عشق” میں بار بار جنم لینے کی کہانی دکھائی گئی ہے ـ تصور برا نہیں ہے لیکن اسکرین پلے اس قدر کمزور ہے کہ اس نے تصور کا بھرکس نکال دیا ہے ـ “ایک پہیلی لیلا” بھی ایک بکواس فلم ہے ـ اس فلم میں صرف سنی لیونی ہی دیکھنے والی شے ہیں باقی فلم کسی کام کی نہیں ہے ـ

جدید سائنسی دور میں بھی آواگون کا نظریہ عوام کی غالب اکثریت کو اپیل کرتا ہے ـ اس اپیل کی بنیاد پر امید رکھی جاسکتی ہے کہ اس موضوع پر مستقبل میں بھی فلمیں بنیں گی ـ سید کمال امروہی فلم سازوں کو ایک بہترین راستہ دکھا گئے ہیں ـ

Views All Time
Views All Time
135
Views Today
Views Today
1

ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کا تعلق لیاری، کراچی سے ہے اور وہ سیاست و شوبز پہ لکھتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: