Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ہندی سینما اور جرائم

Print Friendly, PDF & Email

جرم کیا ہے؟ بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال ہے لیکن اگر اس سوال کا گہرائی میں اتر کر جواب ڈھونڈھنے کی کوشش کی جائے تو متعدد پیچیدگیاں راہ میں ہیں ـ از بس کہ جرم کی کوئی مکمل تعریف ممکن نہیں ـ ہر سماجی طبقہ جرم کی اپنی تعریف رکھتا ہے ـ کسی کے نزدیک سلطانہ ڈاکو اور قادو مکرانی ہیرو اور حکمران مجرم ہیں تو کوئی اوسامہ بن لادن کو مجاہد اور امریکی ریاست کو مجرم مانتا ہے ـ بعض کے نزدیک دونوں مجرم ہیں. جرم کی تعریف کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی سماجی سائنس دانوں میں موضوعِ بحث ہے کہ مجرم کیسے پیدا ہوتے ہیں ـ انفرادیت کے سیاسی و سماجی تصور پر یقین رکھنے والے علما جرم کو انفرادی فعل مانتے ہیں ـ ان علما میں فرائیڈین اور لبرل دونوں شامل ہیں بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا درحقیقت یہ دونوں ایک ہی ہیں ـ اجتماعیت اور بالخصوص مارکسزم کی عینک سے دیکھنے والے علما جرم کو سماجی، معاشی اور سیاسی نظام میں موجود تضادات کا ردعمل سمجھتے ہیں ـ وہ اس کے ڈانڈے ذاتی ملکیت اور قدرِ زائد سے جوڑتے ہیں ـ

اس بحث کو علما کے لئے چھوڑ کر جرم اور ہندی سینما کے تعلق پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہندی سینما نے جرم اور مجرم کو کس طرح دکھانے کی کوشش کی ہے ـ خاموش فلموں کے دور میں اس موضوع کو چھیڑنے سے اجتناب برتا گیا ـ بولتی فلموں کے دور کے اوائل میں بھی ہمیں اس موضوع کا کوئی سراغ نہیں ملتا ـ محبوب خان وہ پہلے ہدایت کار تھے جو دیہات اور ڈاکو کا تصور لائے ـ انہوں نے سب پہلے 1940 کو اپنی فلم “عورت” میں دیہاتوں میں کسانوں کے استحصال اور اس کے ردعمل میں ہر طرف سے مایوس نوجوانوں کے ڈاکو بننے کے خیال کو سینما اسکرین پر پیش کیا ـ یہ فلم دیہاتی سماج اور ڈاکو بننے کے عمل کے درمیان کوئی فکر انگیز تال میل پیش کرنے سے قاصر رہی ـ

محبوب خان نے 1957 کو دیہاتوں میں کسانوں کے سخت روز و شب، ساہوکاروں کے ہاتھ ان کے استحصال اور نتیجے میں بغاوت پر آمادہ نوجوانوں کے ڈاکو بننے کے عمل کو فلم “مدر انڈیا” میں دوبارہ پیش کیا ـ اس دفعہ انہوں نے اس پورے عمل کو مارکسی نظریے کے مطابق دکھانے کی کامیاب کوشش کی ـ محبوب خان کے بعد راج کپور نے 1960 کو فلم “جس دیش میں گنگا بہتی ہے” اور دلیپ کمار نے 1961 کو فلم “گنگا جمنا” میں ڈاکو کلچر کے پسِ پشت سماجی عوامل کا تجزیہ پیش کیا ـ راج کپور کی فلم البتہ نظری لحاظ سے دلیپ کمار کی فلم سے زیادہ گہرائی و گیرائی رکھتی ہے ـ راج کپور اس سے پہلے فلم “آوارہ” اور “شری چار سو بیس” میں شہری زندگی اور جرم کے درمیان تعلق دکھانے کی کامیاب کوشش کرچکے تھے ـ راج کپور کی ان کوششوں نے پچاس کی دہائی میں متعدد ہدایت کاروں کو اس جانب راغب کیا ـ شہری سماج کی منافقت، دولت کی تقسیم میں ناانصافی اور سیاسی نظام میں رخنوں کی وجہ سے جرائم کیسے راستہ ڈھونڈھتے ہیں، یہ پچاس کی دہائی کا محبوب موضوع بن گیا ـ شہری مجرم کے کردار میں پہلی پسند دیو آنند تھے ـ “کالا بازار” ، پاکٹ مار” اور “بمبئی کا بابو” وغیرہ میں دیو آنند نے سماجی نظام سے نالاں اور مجرم بنتے نوجوان کی زبردست ترجمانی کی ہے ـ ان فلموں میں مجرم کو ہیرو اور جرم کو دلکش بنا کر پیش کرنے سے کنارہ کرکے سماج اور جرم کے درمیان مادی تعلق دکھانے پر زور دیا گیا ہے ـ ہدایت کار وی شانتا رام نے اپنی فلم “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” میں ایک قدم آگے بڑھ کر اس تصور کو کلی طور پر رد کردیا کہ مجرم پیدائشی ہوتے ہیں اور ان کی اصلاح کا کوئی امکان نہیں ـ وی شانتا رام نے سزا پر اصلاح کو ترجیح دی ـ

پچاس کی دہائی کا یہ رجحان ساٹھ کی دہائی میں بھی برقرار رہا ـ بی آر چوپڑا کی فلم “آدمی اور انسان” موضوعاتی لحاظ سے ساٹھ کی دہائی کی رجحان ساز فلم ثابت ہوئی ـ اس فلم میں دھرمیندر اور فیروز خان کے درمیان فکری کشمکش کو غالب کی تشریح مانا جاسکتا یے جنہوں نے فرمایا تھا: آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا مجرم کی شخصیت کو مرکز بنا کر سماج کا تجزیہ کرنے کا رجحان ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں کمزور پڑنا شروع ہوا ـ 70 کی دہائی آتے آتے ایک نئے رجحان نے ہندی سینما پر دستک دی ـ یہ ڈاکو اور شہری مجرم کا نیا رجحان تھا جس میں ڈاکو کو ولن اور شہری مجرم کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا ـ راج کھوسلہ کی “میرا گاؤں میرا دیش” اور رمیش سپی کی “شعلے” کو اس ٹرینڈ کو ابھارنے میں کلیدی اہمیت حاصل ہے ـ پچاس کی دہائی کے ڈاکو کلچر کو 80 کی دہائی میں فلم “ڈکیت” ، “غلامی” اور “یتیم” وغیرہ کی صورت دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر 70 کی دہائی میں سلیم جاوید (سلیم خان اور جاوید اختر) ایک ایسا طوفان اپنے ہمراہ لائے جس نے پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں کو بھولا بسرا خواب بنا کر رکھ دیا ـ اس طوفان کا نام 1975 کی “دیوار” ہے ـ

یہ بھی پڑھئے:   اس ہفتے کی فلم لکشمی

سلیم جاوید نے پہلی دفعہ منظم جرائم کو نہ صرف دلکش بنا کر پیش کیا بلکہ سماجی تضادات کو بھی پسِ پشت ڈال دیا ـ سماجی نظام اور شہری منافقت سے نالاں نوجوان اب ہیرو بن چکا تھا ـ وہ جرم کے راستے پر چل کر سب کچھ بدلنے کی قوت رکھتا تھا ـ اس نوجوان کی نمائندگی کا فریضہ امیتابھ بچن نے انجام دیا ـ اینگری ینگ مین کی شبیہ ابھاری گئی ـ سماج کا تجزیہ کرنے کی ضرورت نہ رہی ـ جرم اور سماج کے درمیان مادی تعلق تلاش کرنے کو بیکار مشغلہ تصور کیا گیا ـ چالیس کی دہائی کے ممبئی انڈر ورلڈ ڈان حاجی مستان کی زندگی کو فلم “دیوار” کے ذریعے خراجِ تحسین پیش کرکے جرم کو رنگین بنانے کی پوری پوری کوشش کی گئی ـ 70 اور 80 کی دونوں دہائیوں میں سلیم جاوید فارمولا چھایا رہا ـ اس فارمولے کو استعمال کرکے سینکڑوں فلمیں تخلیق کی گئیں ـ ان فلموں کو سب سے زیادہ امیتابھ بچن کی کرشماتی شخصیت نے سہارا دیا ـ ونود کھنہ، فیروز خان، شتروگھن سنہا، دھرمیندر اور بعد ازاں انیل کپور ، جیکی شیروف اور سنجے دت بھی اس میدان میں نمایاں رہے تاہم امیتابھ بچن کا پلڑا بھاری رہا ـ امیتابھ بچن کے بعد سماجی ناانصافی کے خلاف جرم کا راستہ اختیار کرنے والے محبوب ہیرو کی نشست نانا پاٹیکر نے “انکش” ، “سلام بمبے” اور “پرندہ” وغیرہ کی شکل میں سنبھال لی ـ

نوے کی دہائی میں ہدایت کار رام گوپال ورما نے سلیم جاوید فارمولے کو ایک نیا آہنگ دیا ـ جہاں سلیم جاوید نے انڈر ورلڈ ڈان حاجی مستان کی زندگی کو ڈھکے چھپے انداز میں بیان کیا وہاں رام گوپال ورما نے سیدھا سیدھا انڈرولڈ کو ہی موضوع بنانے کی ابتدا کی ـ رام گوپال ورما نے انڈر ورلڈ کو سماجی نظام سے الگ تھلگ کرکے ایک منفرد اور خوبصورت دنیا کے روپ میں دکھایا ـ اس رجحان نے نہ صرف بھارت بلکہ پاکستانی سماج پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کئے ـ رام گوپال ورما نے اس کی ابتدا فلم “شیوا” سے کی مگر ان کی وجہِ شہرت فلم “ستیا” بنی ـ انہوں نے حاجی مستان، داؤد ابراھیم، چھوٹا راجن اور چھوٹا شکیل جیسے بدنام زمانہ گینگسٹرز کو سلیبریٹی بنا دیا ـ انہوں نے سینما پر منظم جرائم کو قابلِ تقلید بنا کر پیش کیا ـ گوکہ ان سے پہلے ہدایت کار و اداکار فیروز خان 70 کی دہائی کے وسط اور 80 کی دہائی میں “دھرماتما” ، “دیاوان” ، “جانباز” اور “قربانی” وغیرہ کے ذریعے منظم جرائم کی خوبصورت منظر کشی کرچکے تھے مگر ہالی ووڈ متاثر ہونے کی وجہ سے فیروز خان رجحان بدلنے کی بجائے سلیم جاوید فارمولا کے ہی زیرِ اثر رہے ـ رام گوپال ورما نے ممبئی انڈر ورلڈ کے ساتھ ساتھ گینگسٹرز کی ٹپوری زبان کو بھی سینما کی راہ دکھائی ـ ان کی فلم “رنگیلا” کو اس زبان کی شروعات قرار دینا یقیناً مبالغہ نہ ہوگا ـ رام گوپال ورما فارمولا نے بعد ازاں ہندی سینما کو اپنی گرفت میں لے لیا ـ

اکیسویں صدی کی پہلی اور دوسری دہائیوں میں گینگسٹرز ہی چھائے رہے ـ حاجی مستان اور داؤد ابراہیم کی زندگیوں پر “ونس اپاؤن آ ٹائم ان ممبئی” ، چھوٹا راجن کی زندگی پر “واستو” ـ مایا ڈولاس “شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈ والا” میں نظر آئے تو منیا سُروے “شوٹ آؤٹ ایٹ واڈیلا” میں رنگ بھرتے دکھے ـ انوراگ کیشپ نے “بلیک فرائیڈے” کے ذریعے ٹائیگر میمن کو زندہ کیا ـ مدھر بھنڈارکر نے پٹھان گینگ کو “آن: مین ایٹ ورک” میں دکھایا ـ پٹھان گینگ کو سنجے گپتا فلم “شوٹ آؤٹ ایٹ وڈالا” میں بھی دکھاچکے تھے ـ ممبئی کے بدنام زمانہ گینگسٹر اور شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے “ہمارے لڑکے” ارون گاؤلی ہی بچے تھے ـ 2017 کی فلم “ڈیڈی” میں انہیں بھی سیلیبریٹی بنادیا گیا ـ 2017 کو ہی ہدایت کار راہول ڈھولکیا نے سپر اسٹار شاہ رخ خان کو گجرات کے بدنام زمانہ گینگسٹر عبدالطیف کے کردار میں “رئیس” بنا کر پیش کیا ـ

یہ بھی پڑھئے:   سپر ہیروز فلم ’جسٹس لیگ‘ کا اچھا آغاز

گینگسٹرز کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کا یہ منفی رجحان ابھی برقرار ہی تھا کہ انوراگ کیشپ نے مافیا کی عکاسی شروع کردی ـ انوراگ کیشپ نے 2012 اور 2013 کو “گینگ آف وصی پور” کے ذریعے ایک نئے فیشن کو لاؤنج کردیا ـ “گینگ آف وصی پور” میں البتہ سماج میں مافیا کی تشکیل اور اس کے سیاسی و سماجی وجوہات پر بھی کافی بحث کی گئی ہے اس لئے اس فلم کو رام گوپال ورما فارمولا میں شمار نہیں کیا جاسکتا ـ نوے کی دہائی کے اواخر میں ایک اور رجحان بھی آب و تاب کے ساتھ چمکا ـ یہ پاکستان دشمنی اور مسلمان دہشت گردوں پر مبنی تھا ـ اس کی شروعات 1997 کو جے پی دتہ کی بلاک بسٹر فلم “بارڈر” سے ہوئی ـ گوکہ پاکستان مخالف فوجی فلمیں 60 اور 70 کو بھی بنائی گئیں مگر ان میں پاکستان کو ولن بنانے سے زیادہ ہندوستانی حب الوطنی کو ابھارنے میں دلچسپی لی گئی ـ “بارڈر” میں ہر طریقے سے پاکستان کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کی گئی ـ نفرت کا یہ فارمولا خوب چلا ـ نتیجہ یہ کہ اس فارمولے کو ہر دوسرے ہدایت کار نے استعمال کرنا شروع کردیا ـ اکیسویں صدی کی دونوں دہائیوں میں اس فارمولے میں مسلمان دہشت گردوں کی بھی آمیزش کی گئی ـ اس قسم کی فلموں میں سب سے زیادہ سنی دیول کا استعمال کیا گیا ـ عامر خان کی سپر ہٹ فلموں “سرفروش” اور “فنا” کو بھی اسی کٹیگری میں رکھا جاسکتا ہے ـ

چالیس، پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں مسلم سماج کو مثبت طور پر پیش کیا جاتا تھا ـ پہلی بولتی فلم “عالم آرا” بھی مسلم سماج کی ہی کہانی ہے ـ “مغلِ اعظم” ، “پاکیزہ” ، “میرے محبوب” ، “بہو بیگم” جیسی خوبصورت فلموں کے ذریعے مسلم سماج کی ناقدانہ اور حقیقت پسندانہ عکاسی کی جاتی رہی ہے مگر “بارڈر” کے بعد فلمسازوں کا رویہ بتدریج بدلتا رہا ـ لمبی لمبی داڑھی اور سر پر ٹوپی رکھے مسلمان اب دہشت گرد بنا کر دکھائے جانے لگے ـ ان فلموں میں مسلم سماج کی احساسِ محرومی و عدم تحفظ اور بڑھتی ہوئی معاشی ناانصافیوں کو نظر انداز کرکے انہیں پاکستانی ایجنٹ بنادیا گیا ـ اب تو “ایجنٹ ونود” ، “ٹائیگر” اور “ٹائیگر زندہ ہے” کے ذریعے دنیا بھر میں پاپولر لبرل نظریات کے تحت مسلمان دہشت گردوں کا پیچھا کیا جارہا ہے ـ ہندی سینما میں جرم کے اس مختصر جائزے میں یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہندی سینما اس موضوع پر سماج سے لاتعلق ہوچکی ہے ـ آزاد منڈی کی معیشت نے سینما کو سماج سے لاتعلق کرکے اسے بس پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے ـ یقیناً یہ ہر اس فلم بین و فلمساز کے لمحہِ فکریہ ہے جو سینما کو سماجی تبدیلی کا ہتھیار سمجھتا ہے ـ

Views All Time
Views All Time
816
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: