Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ایک بستی رات دن جس کا مقدر آفتاب 

Print Friendly, PDF & Email

ایک بستی رات دن جس کا مقدر آفتاب
روشنی در روشنی جیسے بہتر آفتاب
دھوپ میں ماتم کے عادی ہیں ہمیں کیا خوف ہو
کیا سوا نیزے پہ ہو گا روزِ محشر آفتاب

گود میں اصغر ؑ کو لے کر خود سے کہتے تھے حسینؑ
چاند بھی ہو جائے گا مقتل میں جا کر آفتاب
اے دیے خاموش ہو اے روشنی رخصت پہ جا
چُن رہا ہے اس گھڑی کرنوں کا لشکر آفتاب

اڑ گیا دریا کاپانی بھاپ بن کر اڑ گیا
دو قدم اترا تھا بس دریا کے اندر آفتاب
حُر ؑ کے آنے پر بھلا حیرت کی کیسی بات ہے
جس جگہ کا تھا پلٹ آیا وہیں پر آفتاب

جونؑ  کے چہرے کی تابانی صدا دیتی رہی
جس کو چاہیں بھیج دیں مولاؑ بنا کرآفتاب
تب لکھا جائے گا اکبر مجھ سے احساسِ عطش
میرے قدموں میں ہو دریا اور سر پر آفتاب

کلام: باوا حسنین اکبرؔ

Views All Time
Views All Time
522
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: