Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

قلم کار – صحافتی اصولوں کی پاسداری کرتی ایک منفرد ویب سائٹ

Print Friendly, PDF & Email

کالم پہ خوب محنت کی اور بہت جانفشانی کے ساتھ اسے مکمل کیا۔ طوالت کے باعث اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ جس اخبار کے ساتھ منسلک تھا وہاں بھیج دیا۔ موضوع بحث کچھ نازک تھا اس کے باوجود پہلا حصہ شائع ہو گیا۔ مگر کئی دن گزر جانے کے بعد دوسرا حصہ شائع نہ ہو پایا کیوں کہ دوسرے حصے کے بغیر پہلے حصے کے شائع ہونے کی بھی اہمیت ختم ہو جاتی اس لئے ادارتی صفحے کے صاحب سے رابطہ کیا کہ بھئی کیا ماجرا ہوا پہلا حصہ اشاعت کے لائق ٹھہرا مگر دوسرے میں حیل و حجت کیوں۔ اگر نہیں کرنا تھا تو پہلا حصہ بھی نہ کرتے۔ جب اس کے آخر میں جاری ہے کا ٹیگ لگ گیا تو اب دوسرا حصہ بھی شائع کر دیجیے۔ مگر بہانوں کی لمبی قطار شروع ہو گئی اور اصرار پر رازداری رکھنے کی شرط پہ بتایا گیا کہ چونکہ آپ ابھی میدانِ صحافت میں نئے کھلاڑی ہیں اورغلطی سے آپ نے اچھا اور تحقیقی کالم لکھ دیا ہے لہذا پہلا حصہ تو بناء دیکھے شائع ہو گیا اب دوسرا حصہ چیف ایڈیٹر صاحب نے روک دیا ہے اور اندرون خانہ ان کا گلہ یہی ہے کہ ان کے ریسرچر نے اس موضوع پہ کیوں نہیں لکھا۔ اس لیے دوسرا حصہ شائع کرنے سے معذرت کر لی گئی ۔

اس طرح حالات کا سامنا ہر نئے لکھنے والے کو کرنا پڑتا ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ نئے لکھنے والے باقاعدہ صحافت کے شعبے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور جتنے مہان گرو ہیں وہ صحافت میں تجربے کی بنیاد پہ جڑے ہوئے ہیں کوئی شک نہیں کہ اخباری صحافت میں تجربے کی اہمیت تعلیم سے کہیں زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود ایسے نوجوان جو باقاعدہ صحافت کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ اچھا لکھنے کے باوجود اخبار میں اپنے الفاظ شائع کروانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کا حل متبادل میڈیا یعنی آن لائن میڈیا کی صورت میں سامنے آیا ہے اور حیران کن طور پر تمام بڑے لکھاری بھی اس کی طرف مائل ہوتے نظر آتے ہیں۔نوجوان لکھاری یہاں اس لئے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا پا رہے ہیں کہ یہاں لکھا اس قدر زیادہ اور معیاری ہے کہ بڑے اور چھوٹے لکھاری کا فرق ختم ہوتا نظر آ رہا ہے آپ اپنے قلوب و اذہان کے تحت کچھ بھی قبولیت کے معیارات پہ لکھیں وہ ضرور شائع ہو گا۔ اور سراہا بھی جائے گا اچھی پروفائل ڈویلپ ہونے کے ساتھ اب وہ دور بھی آ رہا ہے کہ آن لائن فورمز نوجوان لکھاریوں کو ان کے لفظوں کا حاصل بھی دینا شروع ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   شہرِ وبال، احساسِ زیاں کی موت، اور میڈیا

قلم کار۔۔۔۔ قلم کار کا نام جس تیزی سے ہر لکھنے والے کے لئے جانا پہچانا ہوتا جا رہا ہے وہ وقت دور نہیں کہ اس فورم کے لکھنے والے اور پڑھنے والے افراد کی تعداد بہت سے کراس میڈیا اونر شپ کے تحت صحافتی اداروں کے بڑے آن لائن فورمزسے بھی کئی گنا آگے بڑھ جائے گی۔ جس طرح تھوک کے حساب سے آن لائن تحریریں شائع کرنے کی ویب سائیٹس وجود میں آئی ہیں آپ آزما کے دیکھ لیجیے، گرامر، قاعدے ، ضوابط، اخلاقیات کا ہر دائرہ پار کر کے کچھ تحریر کیجیے آپ حیران ہوں گے کہ وہ من و عن بنا کسی تبدیلی کے شائع ہو جائے گی۔ کیوں کہ آن لائن فورم جو ہے۔ مگر قلم کار پہ آپ کو حیرت کا جھٹکا لگے گا کہ یہاں آپ کوئی بھی تحریر بھیجیں، باقاعدہ ایڈیٹوریل بورڈ اس کا جائزہ لے گا ، قابل اشاعت ہوئی تو شائع ہو گی ، ناقابل اشاعت ہوئی تو آپ کو مطلع کیا جائے گا۔

آج کل تو دور وہ ہے کہ آپ تین مختلف جگہ سے پیراگراف کاپی کیجیے، ایک کالم بنا لیں وہ کالم اخبار تک میں آسانی سے شائع ہو جائے گا، مگر قلم کار میں اگر آپ نے ایسا کالم بھیج دیا تو شائع ہونا تو درکنار آپ کو ایڈیٹوریل بورڈ کی جانب سے نہ صرف بے نقط سننے کو ملیں گی بلکہ آئندہ کے لیے آپ کے کسی کالم کو زیر غور تک نہیں لایا جائے گا۔ کیا آپ ایسی سخت پالیسی کا عملی نمونہ کسی باقاعدہ شائع ہونے والے اخبار تک میں دیکھ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ قلم کار اس لمحے ایک آن لائن فورم سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ کیوں کہ یہاں شائع ہونے والے تحاریر نہ صرف لکھاری کی کامیابی کی ضمانت بنتی جا رہی ہیں بلکہ اس کے ساتھ منسلک لوگ نہ صرف زندگی کے تمام شعبوں کے ماہرین شمار کیے جاتے ہیں بلکہ لکھنے کے حوالے سے ان کے الفاظ اثر بھی رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ایرانی نظام سیاست اور عوامی بے چینی ۔ حصہ دوم

قارئین قلم کار کے حوالے سے ان تمام حقائق کو دیوانے کی بڑھک سمجھنے کے بجائے ایک دفعہ عملاً سامنا کر لیں۔ کوئی اچھی تحریر لکھیے اور ایک بری تحریر لکھیے دونوں تحاریر اس ادارے کو بھیج دیجیے ، میری تمام کتھا کی صداقت آپ کو خود معلوم ہو جائے گی۔ اچھی تحریر ہوئی تو مقبول تحاریر میں آتے دیر نہیں لگے گی اور اگر بری تحریر ہوئی توراہنمائی ملے گی۔ اور اگرغلطی سے بھی آپ نے کاپی شدہ تحریر بھیج دی تو پھر قمر عباس کی میٹھی میٹھی کلاس اور حیدر جاوید سید صاحب کے لگی لپٹی بغیر سننے کو بھی تیار رہیے گا۔ قلم کار کی دوسری سالگرہ تمام لکھنے والوں کو مبارک ، بالخصوص قمر عباس جیسے کہنہ مشق لکھاری اور حیدر جاوید سید صاحب جیسے اُستاد کا درجہ رکھنے والے لکھاری کو۔

قلم کار کے لفظوں کی ہے منزل قلم کار
پر اثر ہوئے لفظ، جو پہنچے یہاں تک

Views All Time
Views All Time
436
Views Today
Views Today
1

شاہد عباس کاظمی

شاہد عباس کاظمی نوجوان کالم نگار ہیں۔ مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر کالم لکھتے ہیں۔ 100 لفظی کہانیاں بھی ان کی پہچان ہیں۔ ان سے فیس بک اور ٹوئٹر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: