کتاب سے ٹوٹا رشتہ واپس جڑ گیا

Print Friendly, PDF & Email

انسان کی سوچ و فکر کے زاویے اگر بدلتے ہیں تو علم و آگہی سے . اگر علم و آگہی آتی ہے تو کتاب سے . اچھی کتاب کے بارے میں جاننے کے لئے ضروری ہے مصنف سے شناسائی یا واقفیت . جی ہاں بالکل یہ درست ہے کہ ہر کتاب بھی علم و آگہی نہیں ہو سکتی. تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں اندازہ ہوگا کہ ایک آزاد مصنف نے کیا لکھا ہے اور درباری نے کیا لکھا ہے؟ لکھتے سبھی ہیں لیکن بعض اپنے روح و احساس کے قلم سے اور بعض مال و زر کی ہوس میں . موجودہ دور ہمارے سامنے ہے کتنے ہیں جو ان کے حق میں قصیدے لکھتے ہیں جو انسانوں کے خون پسینے کی کمائی چھین لیتے ہیں مال و زر جمع کرنے سے ان کے پیٹ کا جہنم بھرنے کا نام نہیں لیتا.

پہلے کتابوں سے جنون کی حد تک عشق تھا وقت میسر تھا شام کو گھر سے دور پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر مطالعہ کرنے سے جو سکون ملتا تھا وہ کسی اور چیز سے نہیں ملتا. وقت بدل گیا ایک طرف گھر کا بوجھ تو دوسری طرف پردیس کے سخت شب و روز کے باعث مطالعے سے محروم ہو گئے . لیکن بھلا ہو جدید ٹیکنالوجی کا کہ جس کے سبب کتاب سے ٹوٹا رشتہ واپس جڑ گیا. سوشل میڈیا پہ پہلے چند کتب ہی میسر تھیں لیکن بعد میں اس میں اتنا اضافہ ہوا کہ اب سب کا پڑھنا محال ہے. مطالعے کے شوقین افراد بھی اکثر اقتباسات شیئر کرتے ہیں اچھی اچھی تحاریر لکھ کر اذہان کی آبیاری کرتے ہیں. اسی سوشل میڈیا پہ ایک تحریر ( زنداں کی چیخ) کسی نے شیئر کی تھی پڑھتے ہی عجیب سا احساس پیدا ہوا اور اس ملک کی تاریخ میں بعض چھپے کردار بھی سامنے آئے اور یوں قلم کار ویب سائٹ سے منسلک ہو گئے. قلم کار کو ایک بہت زبردست ٹیم ملی ہے.

یہ بھی پڑھئے:   دسمبر جاگ ذرا: گلگت بلتستان سپیشل

یہاں پہ بہت قیمتی استاد بھی ملے اور علم و فہم کے متلاشی اچھے دوست بھی. جب بھی حالات کے بارے میں واقفیت لینا ہو تو حیدر جاوید سید صاحب کی تحریر کا انتظار رہتا ہے اور ان کی تحریر آنے کے بعد دل مطمئن سا ہو جاتا ہے ۔ کہیں پہ ظلم و جبر کا واقعہ ہو تو مرشد کے ساتھ ساتھ محمد عامر حسینی کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ وہ اس ظلم کے خلاف صف اول میں کھڑے ہیں اور کبھی کبھی رومانوی تحاریر سے جذبات میں تلاطم برپا کرتے ہیں.قلم کار ویب سائٹ پر ایک بہترین اصلاح کرنے والی شخصیت ام رباب صاحبہ سے روشناس ہوئے تو گھر بیٹھے ایک شفیق استانی ملیں. فرح رضوی جیسی حساس شخصیت ملیں جن کو خوبصورت لفظوں کو اشعار میں پرونے کا فن عطا ہوا ہے. نور درویش بھائی سے واسطہ رہا جوبوجوہ آج کل سوشل میڈیا سے دور ہیں. ملک قمر عباس اعوان بھائی جو کہ قلم کار کی رونق ہیں پہلے مزاج تھوڑا سےجذباتی تھے جواب دئیے بغیر انہیں سکون نہیں ملتا تھا لیکن اب شادی کے بعد ان میں کافی برداشت پیدا ہوئی ہے. میثم بھائی کی بات ہی کچھ اور ہے علم و فہم سے خاص انسیت رکھنے کے باعث لاجواب ہیں.

بلال بھائی ہیں جو پڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات بھی پیش کرتے ہیں اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بھی لکھتے ہیں. پردیس میں رہ کر بھی ویب سائٹ کے لئے ہر وقت تیار رہنے والے ایک اچھے دوست وقاص بھائی ملے. محترمہ حمیرا جبیں صاحبہ نے بہت کام کیا ہے. قلم کار کے لئے محترمہ مدیحہ سید صاحبہ کی خدمات قابل تحسین ہیں. قلم کار پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والی پوسٹس کرتی عظمٰی صاحبہ ہیں. اور قلم کار پر ایک مدت سے بہت زیادہ فعال رہنے والی زہرا تنویر صاحبہ ہیں جنہوں نے بلاشبہ بہت شاندار خدمات انجام دی ہیں اور پوری ٹیم کو ان کی کارکردگی پہ فخر ہے. ان سارے منتظمین کے ساتھ ساتھ اس ویب سائٹ پر لکھنے والے اور قارئین اصل سرمایہ ہیں. سب بہترین لکھنے والے ہیں جو قلم سے روشنی پھیلا رہے ہیں اور قارئین کرام ہیں جو اس روشنی سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں اپنے خیالات اور آراء بھی پیش کرتے ہیں.

یہ بھی پڑھئے:   شعور سے عاری عوام | کاشف بٹ

چونکہ قلم کار کی سالگرہ ہے تو اس حوالے سے یہ ساری چیزیں یاد آ گئیں. قلم کار ویب سائٹ میں یہی خوبی پسند ہے کہ ہمیشہ معیار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور قارئین کو سسپنس یا دیگر پبلسٹی سے بورنہیں کیا جاتا. کوشش ہوتی ہے کہ قارئین مطمئن ہوں نہ کہ بیزار. دل سے دعا ہے کہ قلم کار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی منازل طے کرتی رہے اور علم و فہم کی شمع یونہی جلاتی رہے. قلم کار ویب سائٹ کے سبھی منتظمین، لکھنے والوں اور قارئین کو سالگرہ مبارک ہو.

Views All Time
Views All Time
556
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: