مذاکرات کے دروازے بند نہ کیجئے

Print Friendly, PDF & Email

وزیراعظم عمران خان نے آزادی مارچ کے روح رواں مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کیلئے وفاقی وزیر دفاع پرویزخٹک کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے،وزیراعظم کہتے ہیں ”حکومت کو اس وقت معیشت اور کشمیر جیسے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے،اپوزیشن کے جائز تحفظات ضرور سنیں گے، سیاسی حل کیلئے مذاکرات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں”  پی ٹی آئی کے ایک سینیٹر فیصل جاوید نے بدھ کے روز کہا کہ”کنٹینر اور کھانا دینے کوتیار ہیں مولانا چاہیں تو”ڈی جے کی خدمات بھی فراہم کر سکتا ہوں”۔ ان کالموں میں تواتر کیساتھ یہ عرض کرتا چلا آرہا ہوں کہ سیاسی درجہ ہرارت بڑھاتے چلے جانے کی بجائے حکومت کو اپنے سیاسی شعور کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔  اپوزیشن سے کسی معاملے پر مذاکرات کفر ہوتے ہیں نادستور سے ماوراء۔حکومت اور حزب اختلاف نظام حکومت کی گاڑی کے دو پیہے ہیں گاڑی کے چلتے رہنے کی ضرورت ہے ان میں سے کسی ایک کا انکار شدت پسندی کے بڑھاوے کا موجب تو بن سکتا ہے تعمیر و ترقی کے اہداف کے حصول کا ذریعہ نہیں۔ یہ بجا ہے کہ حکومت نے وسعت قلبی کا مظاہرہ(مذاکرات کرنے) میں کچھ تاخیر کردی ہے پھر بھی دیر آید درست آید کے مصداق حزب اختلاف اور خصوصاً مولانا فضل الرحمن کو دروازہ بند کر کے ہرگز نہیں بیٹھ جانا چاہیئے۔

 آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کہ ”پچھلے ایک ہفتہ کے دوران بعض حکومتی شخصیات اورحزب اختلاف کے بعض رہنمائوں سے یکساں مراسم رکھنے والے دو افراد نے جناب زرداری اور میاں نواز شریف سے رابطہ کاری کی اور ان دونوں راہنمائوں سے درخواست کی کہ وہ ملک اور خطے کی عمومی صورتحال کے پیش نظر مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ اور احتجاجی تحریک سے روکنے میں کردار ادا کریں۔ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی ایک بات مشترکہ تھی”ہم بے حیثیت قیدی” بھلا کیا کر سکتے ہیں حکومت باقی لوگوں کو بھی اپنے وزراء کے بیانات کے مطابق جیلوں میں ڈال دے اور سکون سے نظام چلاتی رہے”۔ البتہ ان دونوں رہنمائوں نے رابطہ کاروں سے کہا کہ “وہ جیل سے باہر موجود رہنماوں سے بات چیت کیلئے رابطہ کریں اور ثانیاً حکومت کو انتقامی رویہ ترک کرنے کیساتھ عوام کے مسائل کے حل پر آمادہ کریں”۔

یہ بھی پڑھئے:   مذہبی منافرت کی تازہ لہر کس کا برین چائلڈ ہے؟

اطلاع یہ بھی ہے کہ ان رابطہ کاروں کی جناب احسن اقبال اور سردارلطیف کھوسہ سے بات ہوئی تو دنوں نے اپنی جماعتوں سے مشورہ کر کے جواب دینے کا کہا۔ سیاسی عمل میں احتجاجی تحریکیں اور مذاکرات دونوں اہم ہیں کبھی ایک کے بعد ایک اور کبھی دونوں کام ساتھ ساتھ بھی ہوتے ہیں۔ اس امر پر حکومت کو غور کرنا چاہئے کہ اس کے جو وزراء ”دھول چٹوا دینے” کی باتیں کرتے ہیں وہ کس برتے پر ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ رابطہ کاروں نے منگل کی شام کراچی کے ایک بڑے دینی مدرسہ کے سربراہ سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے جے یو آئی(ف) کے کچھ رہنماوں کی بعض ٹی وی پروگراموں اور تقاریر میں استعمال کئے جانے والے الفاظ کو علماء کی شان سے متصادم قرار دیا۔ بظاہر یہ شکوہ مناسب بلکہ درست ہے۔

جناب حافظ حسین احمد اور حافظ حمداللہ ٹی وی پروگراموں میں لفظوں سے جس طرح کھیلتے ہیں یہ نامناسب ہے۔ مگر یہ امر بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ اس معاملے میں اہم حکومتی شخصیات بھی مخالفین کیلئے الفاظ کے چناو میں احتیاط نہیں کرتے وہ بھی ذومعنی جملوں کا سہارا لیتے ہیں۔  طرفین کے سوشل میڈیا پر دندناتے لشکری تو بالکل بے لگام ہیں ایک دوسرے کیلئے بازاری زبان استعمال کرتے فتوے دیتے اور فوٹو شاپ تصاویر کے ذریعے کردار کشی کرتے یہ لشکری اپنے رہنماوں اور جماعتوں کی خدمت ہرگز نہیں کر رہے۔ ثانیاً یہ کہ آزادی مارچ کرنے اور اس کی حمایت کرنیوالی اپوزیشن جماعتوں کے پاس احتجاج کا کوئی جواز نہیں والی بات اور اس پر بھونڈے انداز میں اصراربھی درست نہیں۔

اپوزیشن کہتی ہے کہ2018 کے انتخابی نتائج چرائے گئے۔حکومت نے پارلیمان کے اولین دنوں میں متحدہ اپوزیشن کے مطالبہ پر پارلیمانی کمیشن بنایا اور سال بھر گزر جانے کے باوجود اس کمیشن کا اجلاس نہیں بلایا گیا جس سے یہ پیغام ملا کہ حکومت کو حزب اختلاف کی شکایات وتحفظات سے کوئی دلچسپی نہیں۔  حزب اختلاف کی شکایات کو یکسر نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ادارہ دستور میں طے شدہ کردار اور حدود سے تجاوز کر کے حکومت کے ساتھ کھڑا ہوگا تو پھر وہ قومی ادارہ نہیں حکومت کا ماتحت بلکہ سیاسی طور پر ذیلی ادارہ سمجھا جائیگا۔ یہ سوال بھی درست ہے کہ ایک ایسی حکومت سے حزب اختلاف کیونکر مذاکرات کرے جو زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور تنظیموں کو مطمئن نہ کر سکتی ہو اور ان شخصیات اور تنظیموں کو کسی ادارے کے سربراہ یا آرمی چیف سے مذاکرات کرنا پڑیں؟۔

یہ بھی پڑھئے:   اسکردو کارگل کوریڈور

بہر طور ان شکایات وتحفظات اور مسائل کے باوجود ہم یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف اور خصوصاً مولانا فضل الرحمن کو مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہئے۔ سیاسی عمل میں مذاکرات ایسا گناہ نہیں کہ یہ سمجھا جائے کہ اس سے سیاسی شعور اور موقف بھرشٹ ہو جائیں گے۔  اگر مذاکرات سے حل نکل سکتا ہے تو کوئی برائی بھی نہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ روزمرہ کے مسائل دن بدن سنگین تر ہوتے چلے جارہے ہیں حکومت کو بھی سوچنا چاہیئے کہ آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن کی بدولت جس بری طرح لوگ متاثر ہوئے ہیں اس کا حل نہ نکالا گیا تو معاملات گمبھیر ہوسکتے ہیں۔
بہت ادب سے عرض کروں کہ عالمی سطح پر سہولت کاری یا اقوام متحدہ کی تقریر سے بھوکے کو روٹی نہیں ملتی۔حکومت اپنے حقیقی فرائض پر توجہ دے۔ حرف آخر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور پنجاب حکومت کے ذمہ داران بھی حزب اختلاف کیلئے سخت زبان استعمال کرنے اور دھمکیوں سے گریز کریں۔ عوام ان دونوں حکومتوں کے ذمہ داران سے امید کرتے ہیں کہ وہ منفی باتوں کی بجائے اپنے فرائض پر توجہ دیں گے تاکہ شہری جن مسائل ومشکلات کا شکار ہیں انہیں ان سے نجات مل سکے۔

روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
231
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: