سندھی سماج کی وحدت کو لاحق خطرات

Print Friendly, PDF & Email

ہم جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں، کانٹے بوکر فصل گلاب اُٹھانے کی خواہش کرنیوالے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کا خمیر برصغیر پاک وہند کے عمومی رویوں سے گندھا ہوا ہی ہے۔ چھلنی سے جتنی مرتبہ مرضی چھان لیجئے لیکن اُس اصل کو کیا کریں گے جو تلخ حقیقت کی طرح گلے کا ڈھول ہے۔عدم برداشت کا جادو یہاں ہمیشہ سر چڑھ کر بولا،اللہ بخشے ہمارے ایک دوست کہا کرتے تھے،پاکستان میں ایک کافر،ایک غدار اور ایک ڈاکو والے سودے ہمیشہ بکتے ہیں۔ بات ان کی درست ہے بہتر سال کی دستیاب تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھ لیجئے آنکھوں میں مرچیں بھر جائیں گی۔

افسوس کہ سات دہائیوں سے دو سال اوپر بیت جانے کے باوجود ہم ذہنی طور پر وہیں کھڑے ہیں جہاں چودہ اگست1947ء کو کھڑے تھے۔ تب مسلم لیگ کی سیاسی اُٹھان اور تقسیم کی سیاست سے فکری اختلاف کفر تھا۔ اختلاف رائے رکھنے والے اب بھی فتوئوں کی زد میں آتے ہیں۔ کئی بار اہل دانش کی خدمت میں عرض کیا۔ یہ تعصب وتنگ نظری آخر ہمارے گلے کا ڈھول ہی کیوں؟ سماج میں موجود عدم برداشت سے جان بچا کر زندہ رہنے کے آرزومندوں نے جواب میں کہا تھا تو بہت کچھ مگر ایک بات عرض کئے دیتا ہوں وہ یہ کہ ”ہمارے یہاں سیاسی عمل نئے افکار ونظریات سے زیادہ ذاتی نفرت وتعصب کے رزق سے پلتا بڑھتا ہے اسلئے بہتر سالوں میں روشن فکر سماج کے قیام کی سمت چند قدموں کی مسافت بھی طے نہیں ہو پائی منزل تو بہت دور ہے”۔

بدقسمتی یہ ہے کہ محض بہتر سال کی ہی بات نہیں اگر ہم دستیاب مسلم تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھ لیں تو ہر دور میں ایسی ہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔  جب کبھی اس فکری حبس سے گھبرانے لگتا ہوں تو کتابوں کے اوراق میں پناہ لے لیتا ہوں۔ پچھلی شب سندھ کے ایک وڈیرے اور پیر میاں مٹھا کا ویڈیو کلپ ایک دوست نے بھجوایا، پیر سائیں کسی زمانے میں پیپلزپارٹی کے ایم این اے ہوا کرتے تھے پھر چند ناپسندیدہ سماجی معاملات کی وجہ سے انہیں پیپلز پارٹی سے نکال دیا گیا، آج کل وہ تحریک انصاف کی بس میں سوار ہیں۔ بھرچونڈی شریف کی خانقاہ کے وارث میاں مٹھا پر سندھ کی ہندو برادری پچھلے دو عشروں سے متواتر یہ الزام لگاتی چلی آرہی ہے کہ وہ اپنے مریدوں کے ذریعے کم عمر سندھی ہندو بچیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب کے ذریعے سندھی سماج کو اس کے حقیقی حسن برداشت، رواداری اور انسانیت پرستی سے محروم کرنے میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   سانحات پر عقیدوں کا چورن بیچتے مچونے

پیپلز پارٹی سے انہیں نکالے جانے کی وجہ بھی ان کی یہی سرگرمیاں تھیں۔ پچھلے5ماہ کے دوران سندھ میں جوان سال لڑکیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب کے تین واقعات سامنے آئے اور ہمیشہ کی طرح ہندو لڑکیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب میں میاں مٹھا کے مریدین ہی ملوث نکلے۔  سندھ کی سیاست اور سماجی امور میں خاص اہمیت رکھنے والی ہندو برادری مسلسل صوبائی حکومت پر زور دے رہی ہے کہ بچیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب سے پیدا شدہ عدم تحفظ کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔ اعداد وشمار کے حوالے سے اگر صرف پہلے دس برسوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ان گزرے دس برسوں کے دوران ہندو لڑکیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب کے42واقعات سامنے آئے جن میں سے18 باقاعدہ رپورٹ ہوئے یعنی یہ معاملات تھانے اور عدالتوں تک پہنچے،

ان میں ڈاکٹرکماری کا معاملہ تو اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری تک کی عدالت تک پہنچا تھا ڈاکٹر کماری کے والدین آج بھی شاکی ہیں کہ افتخار چودھری نے ایک خاص مذہبی تنظیم سے اپنے خاندانی تعلق کی بنا پر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بجائے جانبداری سے کام لیا، اس طرح اغوا اور تبدیلی مذہب سے متاثرہ خاندانوں (لڑکیوں کے والدین) نہ صرف نظام انصاف بلکہ سندھ حکومت سے شاکی ہیں۔
آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کہ پچھلے دس بارہ سال کے دوران سندھ سے لگ بھگ3سے4ہزار ہندو خاندان بچیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب سے پیدا شدہ صورتحال سے گھبرا کر سندھ سے بھارت جا چکے، غالباً یہی وہ صورتحال ہے جس کی بنا پر سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے پچھلے دنوں ایک خصوصی مشاورتی اجلاس بلایا۔ اس اجلاس میں بلاول بھٹو بھی شریک تھے۔

یہ بھی پڑھئے:   سوشل میڈیا پہ موجود فکری جدال سماجی تقسیم کا عکس ہے

اجلاس میں سندھی سماج کی ہندو آبادی کے تحفظ اور دیگر معاملات کیساتھ بچیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب کے حوالے سے غور وفکر ہوا، اطلاع یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت اور صوبائی حکومت ہندو لڑکیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب کے معاملے میں ملوث افراد کیخلاف قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کرنے جارہی ہے۔ غالباً یہ اطلاع ہی میاں مٹھا کی برہمی اور فتویٰ بازی کی وجہ بنی ہے۔ اس لیے انہوں نے چند دن قبل ایک پریس کانفرس میں سندھی ہندوئوں کی حمایت کرنے پر پیپلزپارٹی کے قائدین اور کارکنوں کیخلاف کفر کا فتویٰ جاری کردیا افسوس یہ ہے کہ کسی ریاستی ادارے نے میاں مٹھا کے اس امن دشمن طرز عمل اور فتوے کاابھی تک نوٹس نہیں لیا

سوال یہ ہے کہ سندھ کے سماج میں ہزاروں سال سے آباد ہندو برادری کے تحفظ اور ان سے یکجہتی کے اظہار کو میاں مٹھا کس حیثیت میں کفر قرار دے رہے ہیں؟ کیا کسی نے یہ سوچنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ اس تکفیر کے سندھی سماج کی وحدت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ سیاسی جماعتوں اور اہل دانش کیساتھ خود کو اسلام کا ماڈریٹ چہرہ قرار دینے والوں کو آگے بڑھ کر اس فتوے کی نہ صرف مذمت کرنی چاہئے بلکہ میاں مٹھا کیخلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کا مطالبہ بھی کرنا چاہئے تاکہ سندھی سماج کی وحدت قائم رہ سکے۔

14 اکتوبر 2019ء
روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
169
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: