Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

تنازعہ کشمیر،چندقابل توجہ نکات

Print Friendly, PDF & Email

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت اور خطاب کے لیے وزیراعظم عمران خان پچھلے چند دنوں سے امریکہ میں ہیں صدر ٹرمپ سمیت درجنوں عالمی رہنماﺅں،امریکی تھینک ٹینک اور شخصیات سے ان کی ملاقاتیں ہو چکیں۔ ان سطور کی اشاعت تک آپ تنازعہ کشمیر اور بھارت کی حالیہ کارروائی کے حوالے سے ان کا خطاب سُن پڑھ چکے ہوں گے ۔صدر ٹرمپ سے ملاقات میں وزیراعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کروانے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ ٹرمپ کہتے ہیں مودی اور عمران دونوں نفیس آدمی ہیں اوراچھے دوست ہیں میں ان سے کہتا ہوں مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات کریں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صرف جناب اردوگان(ترکی کے صدر) نے کشمیر یوں پر توڑے جارہے مظالم کا دلگیر انداز میں ذکر کیا۔ایران کے روحانی پیشوا سید علی خامنہ ای ایک سے زیادہ بار کشمیریوں کے لئے محبت بھرے جذبات کا اظہار کرچکے لیکن ایرانی صدرحسن روحانی نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران کشمیریوں کا ذکر کرنے سے گریز کیا۔

تجزئیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ ایران اور سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات میں در آیا عدم توازن ہے۔اس تجزئیہ کو اگر درست بھی مان لیا جائے تو ایرانی انقلاب کے قائد آیت اللہ سید روح اللہ خیمنیؒ کے اس فلسفلے کی نفی ہے کہ ”ایران ۔۔عالم کے مظلوموں کی بلا امتیاز مذہب وملت آواز ہے“۔ وزیراعظم نے دو دن قبل نیویارک میں کہا کہ دنیا کشمیر کے مسئلہ پر اس طرح کا ردعمل نہیں دے رہی جو اس کی ذمہ داری بنتا ہے۔سادہ الفاظ میں انہوں نے کہا۔  ”دنیا نے مجھے مایوس کیا“۔ جمعرات کو امریکی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کردی کہ “ایران امریکہ ثالثی کے لئے صدر ٹرمپ نے درخواست نہیں کی جبکہ پاکستانی وزیراعظم نے خود اس خواہش کا اظہار کیا تھا” ،کیا پاکستان واقعی اس پوزیشن میں ہے کہ ایران سعودیہ یا ایران امریکہ ثالثی کا فرض نبھا سکے؟۔مختصر جواب یہ ہے کہ
”جی بالکل نہیں“۔

5اگست کو بھارت نے اپنے ہی دستور کو روندتے ہوئے اپنے زیر قبضہ ریاست جموں وکشمیر کے تینوں حصوں وادی،جموں اور لداخ وغیرہ کو بھارتی یونین کا باقاعدہ حصہ بنالیا۔5اگست سے ہی بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں کرفیونافذہے۔ جموں میں جو ہندو اکثریت کی آبادی والاعلاقہ ہے صورتحال قدرے مختلف ہے مگر وادی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔  9لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج اپنے زیر قبضہ کشمیری علاقوں میں بد ترین مظالم ڈھانے میں مصروف ہے5ہزار سے زائد نوجوانوں کو ان کے گھروں سے گرفتار کر کے فوجی کیمپوں اور دور دراز کی بھارتی جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ بچوں اور خواتین پر تشدد کے واقعات عام ہیں۔ کشمیری قیادت یہ الزام لگارہی ہے کہ فوجی وردیوں میں آر ایس ایس نامی ہندو انتہا پسند تنظیم کے غنڈے مقبوضہ وادی میں دندناتے پھرتے ہیں گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں پر تشددان کی توہین اور توڑ پھوڑ کے ذمہ دار یہی غنڈے ہیں جنہیں فوج تحفظ دے رہی ہے۔ ان سطور کے لکھے جانے تک کرفیو کو53دن ہو چکے ۔ان 53دنوں میں ہم عالمی ضمیر کو بیدار کرنے میں ناکام رہے۔اس ناکامی کے تجزیہ کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا کشمیر انڈیا کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے؟‘

بہت آسان الفاظ میں اگر یہ عرض کیا جائے کہ ” نیویارک میں اقوام متحدہ کے عالمی اجتماع کے موقع پر کشمیریوں کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے کاندھوں پر ناکام خارجہ پالیسی کا بوجھ بھی ہے تو یہ کچھ غلط بھی نہیں ہوگا“۔ الفاظ چھاچبا کر بولنے اور دعوے کرتے چلے جانے والے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستانی تاریخ کے ناکام ترین وزیر خارجہ ہیں۔انہوں نے ہی وزیراعظم کو بتایا تھا کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ”انسانی حقوق کونسل“ میں مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کو50سے زیادہ رکن ممالک کی حمایت حاصل ہے لیکن ہوا کیا قرارداد پیش کرنے کے لئے 16ارکان کی تائید  بھی نہ مل پائی۔ اندریں حالات یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کشمیر پالیسی پر ریویو کی ضرورت ہے وزیراعظم دورہ امریکہ کے بعد جب وطن واپس آئیں تو کسی تاخیر کے بغیر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلوا کر نئے سرے سے کشمیر پالیسی پر غور وفکر کریں اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق حکمت عملی وضع کریں۔ اس پر دو آراءبالکل نہیں کہ جناب شاہ محمود قریشی عملی طور پر یہ ثابت کرچکے کہ وہ اس منصب کے اہل نہیں۔زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ وہ وزارت خارجہ سے الگ ہو جائیں

تحریک انصاف کی حکومت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیئے کہ وہ دنیا کو تصویر کا وہ رُخ دیکھانے اور کشمیریوں کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کرنے میں ناکام رہی۔ اس ناکامی کا مداوا کرنے کی ضرورت ہے اولین مرحلہ پر اپوزیشن سے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایک ایسا فورم بنانے کی ضرورت ہے جس میں تجربہ کار پارلیمنٹرین شامل ہوں اور وہ دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں جاکر مظلوم کشمیریوں کی توانا آواز بنیں۔ حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ یہ کام پارلیمان کی کشمیر کمیٹی بہتر طور پر کرسکتی ہے تو پھر اس کمیٹی کی از سر نو تشکیل کی ضرورت ہے کیونکہ اب تک کی اس کی کارکردگی صفر جمع صفر سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس امرکو نظر انداز کرنا از بس مشکل ہے کہ کشمیریوں کے حق میں عالمی طور پر جس پر جوش مہم کی ضرورت تھی اور ہے وہ پر جو ش مہم چلانے میں ہم ناکام رہے ہیں وزیراعظم کا یہ کہنا کہ کشمیر کا مسئلہ پر دنیا نے مجھے مایوس کیا خود اس امر کی زندہ گواہی ہے۔  کیا ہم اس مایوسی پر غور کرنے کی زحمت کریں گے؟۔

یہ بھی پڑھئے:   سی پیک سے وابستہ پاکستان کا روشن مستقبل | عابد ایوب اعوان

یہ بھی عرض کردینا ضروری ہے کہ اگر کشمیر پر عالمی رائے عامہ بیدار کرنے کی مہم کے آغاز سے قبل اپنے داخلی تضادات کے خاتمے اور بلوچستان سمیت چند دیگر مسائل کے حل کے لیے راست اقدامات کر لیئے جائیں تو زیادہ بہتر اور توانا انداز میں ہم کشمیریوں کا موقف دنیا کے سامنے رکھتے ہوئے بھارت کے گھناﺅنے چہرے کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔ بھارت کے خلاف عالمی مہم شروع کرتے وقت ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ بھارت سوا ارب سے زیادہ انسانون کی وہ منڈی ہے جسے دنیا یکسر نظرانداز نہیں کرسکتی اس لئے منظم اور بھرپورانداز میں عالمی برادری کی حکومتوں کے ساتھ انسان دوست تنظیموں کو ہم خیال بنانے کی ضرورت ہے۔

27 ستمبر 2019ء
روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
204
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: