Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جمہوریت اور عصری شعور

Print Friendly, PDF & Email

زیر بحث سوال یہ تھا کہ ” کیا کسی نظریہ پر استوار ہوئے نظام کی ناکامی کا ذمہ دار نظریاتی کج ہے یا نظریہ پر استوار نظام کو چلانے والے؟“۔ دوستوں( ملتانی منڈلی) کی اکثریت کا موقف تھا کہ نظریہ نہیں بلکہ اس کی بنیاد پر نظام ہائے حکومت چلانے والے کامیابی و ناکامی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ (یعنی نظریہ نہیں لوگ ناکام ہوتے ہیں) عرض کیا۔
کچھ عرصہ قبل تک مجھ طالب علم کی بھی یہی رائے تھی کہ نظریہ نہیں انسان ناکام ہوتے ہیں۔ لیکن مطالعے نے اس موقف سے رجوع کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔

سو اب میں اپنی یہ رائے آپ کے سامنے رکھ سکتا ہوں کہ ہم جسے افراد کی ناکامی قرار دے رہے ہوتے ہیں وہ در حقیقت نظریہ کی ناکامی ہے۔ اگر کوئی نظریہ اپنے پیروکاران کی تطہیر نہ کر پائے تو کج کس میں ہو گا۔ ہم یہ کہہ کر آگے نہیں بڑھ سکتے کہ پیروکاران بنیادی پیغام کو سمجھے نہیں یا پھر ان میں یکسر تبدیلی کو قبول کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ مجھے اس سے بھی انکار نہیں کہ اسلام اور سوشلزم نے انسانیت کو بہت کچھ دیا۔ مگر جس بات کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اسلام تطہیر نفس و سماج کی دعوت دیتا ہے۔

 کسی باقاعدہ سیاسی و ریاستی نظام کی بنیاد نہیں رکھتا۔ محض اسلام ہی نہیں دوسرے آسمانی مذاہب یا پھر جنہیں ہم انسانوں کے بنائے مذاہب کہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ تطہیر ذات و سماج کی دعوت ہیں۔ تطہیر شدہ سماج کے لوگ جب نظام ہائے سیاست و ریاست کی خدوخال ترتیب دیں گے تو یہ اپنی سماجی وحدت کی ابدی ضرورت کے ساتھ اپنے پڑوس کے سماجوں سے بہتر تعلقات کار کے اصول بھی طے کریں گے۔ معاملات عصری شعور کے ساتھ طے ہوتے اور آگے بڑھتے ہیں جب بھی عصری شعور پر مٹی ڈالی جائے گی یا پھر اسے آفاقیت پر قربان کیا جائے گا نظریہ کی کوکھ سے تخلیق شدہ نظام کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لگ بھگ چھ گھنٹوں پر پھیلی اس نشست میں دوسرے موضوعات پر بھی ہلکی پھلکی گفتگو ہوئی مگر بنیادی موضوع یہی تھا۔

اکثریت اس امر پر متفق تھی کہ نظریات و نظام ہر دو کی ناکامی کے اسباب جاننے کے لئے مکالمہ بہت ضروری ہے اور یہ بھی ہے کہ تقدسات کا ہالہ کھینچ کر مکالمے کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ اسلامی نظام کے اندر سے ملوکیت کی عمارت اٹھائی گئی ایک ایسی دعوت جو تقویٰ کی فضیلت کو مقدم قرار دیتی ہو اور شرف انسانی کو اولیت اس دعوت میں بھی کہیں غیر طبقاتی نظام کی بات نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے:   اکتیس کتابوں کی تقریب رونمائی

مساوی بنیادوں پر غیر طبقاتی نظام کی واحد مثال ہمارے سامنے صرف ایک ہے وہ ہے سندھ کے صوفی شاہ عنایتؒ کا اپنے عقیدت مندوں کے لئے قائم نظام”جس میں  زمین کسی کی ملکیت نہیں ۔ کاشتکاری میں سبھی حصہ لیں گے‘ فصل میں ہر خاندان کو ضرورت کے مطابق حصہ ملے گا۔ اضافی فصل فروخت کرکے حاصل کی جانے والی رقم تمام خاندانوں میں مساوی طور پر تقسیم کردی جائے گی”۔شاہ عنایتؒ کے اس کمیون سسٹم کے علاوہ پچھلی دو ہزاریوں میں جتنے بھی نظام اور نظریات کا تعارف ہماری تاریخ میں موجود ہے ان میں سے کوئی بھی نظریہ اور نظام مساوات پر مبنی ایسا سماج تشکیل نہیں دے پایا جس میں دستیاب وسائل مساوی طور پرپورے سماج کی ملکیت ہوں۔

 ملتانی منڈلی کے ایک نوجوان مہمان راﺅ ذکااللہ نے سوشلسٹ نظام کے ثمرات پر اپنے دلائل دئیے ان کے دلائل مطالعے سے عبارت تھے اور سماجی درد کے ساتھ جذبات کا اظہار بھی۔ ان کی خدمت میں یہ سوال رکھنا پڑا کہ کیا سوویت یونین کی ناکامی محض سامراجی سازشیں ہیں یا پھر غیر طبقاتی نظام قائم کرنے کے علمبردار نظریہ  کی کوکھ سے جنم لینے والا طبقاتی نظام تحلیل کا ذمہ دار ہے۔

 عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح ہم دیکھتے اور پڑھتے ہیں کہ جس نظام کو خالص اسلامی نظام اور دور قرار دیا جا رہا ہے اس میں وظائف درجہ بندی سے مقرر ہوئے۔ اسی طرح سوویت یونین میں سوشلسٹ انقلاب کے بعد بھی تو طبقات سامنے آئے اور یہ طبقاتی تقسیم بہت واضح دکھائی دیتی ہے عام محنت کش اور کمیونسٹ پارٹی کے مختلف درجات کے ذمہ داران کے درمیان خلیج قدم قدم پر دکھائی دیتی ہے یہاں تک کہ شاپنگ مالز میں بھی یہ درجہ بندی صاف دکھائی دی۔

لمبی چوڑی بحث و تمحیص کے بعد ملتانی منڈلی اس بات پر متفق دکھائی دی کہ مذہبی نظام ہائے حکومت اور سوشلزم کے مقابلہ میں جمہوریت بہت حد تک بہتر نظام ہے اور اس نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں کوئی بات حرف آخر ہے نا تقدس کے لبادے میں ابدی تحفظ کی طلبگار۔ عصری شعور کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے جمہوری نظام میں بہر طور یہ گنجائش موجود ہے کہ وقت کی ضرورتوں کے مطابق قانون سازی کرے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ طبقات کے درمیان خلیج کم ہو وسائل منصفانہ طور پر تقسیم ہوں۔ تعلیم‘ صحت‘ روز گار ریاست کی اولین ذمہ داری سمجھے جائیں۔ اس کے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   حامد میر کے نام کھلا خط - عامر حسینی

 فقیر راحموں کا کہنا تھا کہ غیر طبقاتی نظام یا سماج خواب کی حد تک تو درست ہے اس کی عملی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ البتہ جمہوریت میں یہ گنجائش اور فہم موجود ہے کہ سماج کے نچلے طبقوں کامعیار زندگی بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے ریاست کے وسائل جغرافیائی حدود میں آباد لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے صرف ہوں۔ اعتراض ہوا کہ ہمارے ہاں کی جمہوریت میں موروثیت ہے۔ عرض کیا نظام کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنے دیا جائے۔ انتخابات گھٹالوں کے بغیر ہوں تو سیاسی جماعتوں کے اندر بھی عصری شعور کی روشنی میں تبدیلی کا جذبہ پروان چڑھے گا ۔اس طور دو چار جماعتی انتخابات موروثیت کی جگہ عملیت پسند قیادت کو آگے لانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ہمارے مسائل کے حل  اور اکٹھے رہنے کی واحد ضمانت جمہوریت ہے۔ تجربوں کے شوقین مالکان نے ہمیں جہاں لاکھڑا کیا ہے وہ کوئی قابل فخر مقام ہر گز نہیں نا یہ کوئی مثالی جمہوریت ہے۔ مگر اس طبقاتی جمہوریت کے کوچے سے عوامی جمہوریت کا راستہ نکل سکتا ہے ورنہ تو تقدسات ہمیں بند گلی میں رکھ کر اطاعت مسلط کریں گے اور عصری شعور کے ساتھ آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا۔

22ستمبر 2019ء
روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
126
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: