Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جواب حاضر ہے

Print Friendly, PDF & Email

جھوٹ کی ناؤ بہاتے چلے جانے کو حُسنِ سیاست قرار دینے والے اب سوالوں سے بھاگتے ہیں۔ بھاگ لیجئے ہر صاحب اقتدار وطاقت یہی کرتا ہے۔ ستر بہتر برسوں میں اس ملک کے لوگوں نے بہت کچھ دیکھ بھگت لیا، ایک سے بڑھ کر ایک اصلاح پسند۔ فقیر راحموں کے بقول”یہاں سب کا اپنا اپنا حق ہے بس ضیاءالحق جیسا“۔ چند خطوط ہیں کچھ پیغامات، جواب واجب ہے۔ پشاور سے محمد ارشد لکھتے ہیں۔ ”شاہ جی! بس کردیں اب پیپلز پارٹی کی حمایت، سندھ کے چند اضلاع تک محدود ہو جانے والی زرداری پارٹی ختم ہوچکی۔ اگلی سطور میں فرماتے ہیں آپ کے بلاول نے سندھو دیش کی بات کر کے ثابت کردیا ہے کہ وہ اقتدار کےلئے کس حد تک جا سکتا ہے“۔

دو تین باتیں مزید ہیں مگر لکھنے میں امرمانع اخلاقیات ہیں جواب ان باتوں کا دیا جا سکتا ہے لیکن پھر شور ہوگا۔ کوئی جائے اور جاکر محمد ارشد کو بتائے کہ پیپلزپارٹی کے پاس صوبہ پنجاب کے سرائیکی بولنے والے اضلاع سے بھی قومی اسمبلی کی7نشستیں ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں بھی اس کی نمائندگی موجود ہے۔ سیاسی جماعتوں پر اُتار چڑھاو دو طرح سے آتے ہیں اولاًعوام ان کی کارکردگی کی بنیاد پر گھر کا راستہ دکھائیں۔وہ خود احتساب کریں خامیوں پر قابو پائیں اور پھر سے عوامی تائید حاصل کریں۔ دوسراطریقہ وہی ہے۔ ”پیا جس کو چاہے“

پاکستانی پیا جولائی1977ءسے پیپلزپارٹی کا ویری ہے، نوازشریف نے اس پیا کے آنگن میں آنکھ کھولی۔ زمانہ ساز ہوئے تو پیا کے دل سے اُتر گئے۔ 2008ءکے بعد پیپلزپارٹی کےخلاف ان کی ضرورت پڑی تو وہ کالاکوٹ پہن کر چوہدری کورٹس پہنچ گئے۔ 2013ءکے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل پیا اور ان کے درمیان معاملات ازسرنو طے ہوئے، اقتدار انہیں مل گیا۔اکتوبر1999ءکے زخم خوردہ نوازشریف اقتدار میں تو آگئے لیکن کھل کر نہ کھیل پائے۔ پاکستانی صحافت اتنی آزاد کبھی تھی ناہی ہوگی کہ کوئی پیا اور نواز شریف کے درمیان جھگڑے کی اصل وجہ لکھ سکے۔ 2018 کے انتخابی نتائج بھی 2013 کے انتخابی نتائج کی طرح متنازعہ ہی ہیں۔ ایک غیرجانبدار کمیشن ڈھونگی انتخابات کا آسانی کےساتھ پوسٹ مارٹم کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   مفاہمت…؟-خورشید ندیم

مثال کے طور پر جنگ سے فیصل حیات کے ہارنے اور بدین سندھ سے محترمہ فہمیدہ مرزا کے جیتنے کی تحقیقات کروا لیجئے انتخابی عمل کے گھٹالے عیاں ہو جائیں گے۔فیصل صالح حیات محض چند سو ووٹوں سے ہارے مگر مسترد شدہ ووٹ دس ہزار سے زیادہ ہیں۔ بدین سے فہمیدہ مرزا چند سو ووٹوں سے کامیاب ہوئیں لیکن مسترد شدہ ووٹ گیارہ ہزار سے زیادہ ہیں۔ لگ بھگ 30نشستیں قومی اسمبلی کی ایسی ہیں جن پر کامیاب ہونے والے چند سو ووٹوں سے جیتے ہیں اور مسترد شدہ ووٹ دس سے بارہ ہزار کے قریب ہیں۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ان 30نشستوں پر انتخابی قوانین کا صاف ستھرے انداز میں اطلاق ہو تو نتیجہ جو نکلے گا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ ثانیاً یہ کہ ارشد میاں نے بھی لگتا ہے کہ بلاول کا بیان پورا نہیں پڑھا سنا بس سرخیاں دیکھ کر بدک گئے۔ ورنہ بلاول کے بیان میں سمجھنے والوں کےلئے بہت کچھ ہے۔

رحمت اللہ اورکزئی کا شکوہ ہے ”کالم نویس حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے معاملے میں تعصب کا مظاہرہ کرتا ہے ان کے خیال میں مولانا پاکستان میں نظام اسلام کے نفاذ کی آخری اُمید ہیں اور ان کا آزادی مارچ (جو اکتوبر میں ہونا ہے) پاکستان کی تقدیر بدل دے گا“۔ کالم نویس مولانا فضل الرحمٰن سے تعصب کیوں رکھے گا اس کی ضرورت کیا ہے۔ مولانا دستیاب مذہبی سیاسی رہمناوں میں سب سے زیادہ وسیع المطالعہ شخصیت ہیں، ان کا حلقہ اثر اپنے مکتب کے مدرسوں سے باہر بھی کافی وسیع ہے۔البتہ اختلاف اس بات پر ہے کہ وہ حکومت کےخلاف مذہبی کارڈ کھیل رہے ہیں بالکل ویسا مذہبی کارڈ جو 2017ءمیں کچھ حلقوں نے کچھ حلقوں کے اشارے پر نوازشریف کےخلاف کھیلا تھا۔ تب بھی ان سطور میں عرض کیا تھا کہ سیاسی اختلافات میں مذہبی جذبات سے کھیلنے کا نتیجہ کبھی بھی مثبت نہیں رہا۔ آج بھی یہی عرض کرسکتا ہوں کہ عمران خان اور ان کی حکومت کا سخت ناقد ہونے کے باوجود مذہبی کارڈ کھیلنے کی حوصلہ افزائی قومی جرم تصور کرتا ہوں۔ حکومت کی خامیاں، کمزوریاں اور بعض پالیسیوں کے بھیانک نتائج عوامی تحریک منظم کرنے کےلئے بہت مددگار ثابت ہوں گے لیکن اگر مولانا یا کوئی اور یہ سمجھتا ہے کہ لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکا کر مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے تو اسے جولائی1977ءکو ہرگز نہیں بھولنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے:   فرمانِ قائد اور ہم

لگے ہاتھوں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل مستعفی ہو چکے۔ اطلاع یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ان کی بعض سرگرمیوں اور سازشوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ان کی برطرفی کا حکم جاری کرنے کےلئے کہہ دیا تھا پھر شہباز گل نے وزیراعظم کے مشیر اور اپنے ہم نوالہ وہم پیالہ نعیم الحق سے رابطہ کیا جن کے دباو پر پنجاب میں شہباز گل کی برطرفی کا حکم نامہ جاری نہ ہوسکا بلکہ انہوں نے استعفیٰ دےکر “سیاسی” عزت بچالی۔

شہباز گل پر وزیراعلیٰ کے اختیارات استعمال کرنے کےساتھ متعدد الزامات تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعلیٰ خاتون محتسب پنجاب کی تقرری کو منسوخ کریں گے۔ کیا ٹیچنگ ہسپتالوں والے معاملات ہوں یا چند ڈپٹی کمشنروں کی طرف سے ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان کو دو تین خاص ادویہ ساز کمپنیوں کی ادویات بطور خاص مریضوں کو لکھ کر دینے کے ”نادرشاہی“ حکم کی تحقیقات کروائیں گے؟صاف سیدھی بات یہ ہے کہ جن وجوہات کی بنا پر ڈاکٹر شہباز گل کو رخصت کیا گیا وہ نہ صرف سامنے لانا ہوں گی بلکہ انہوں نے وزیراعلیٰ کا نام استعمال کر کے جو فیصلے کروائے وہ بھی منسوخ ہونے چاہئیں تاکہ قانون اور میرٹ پر عمل ہوسکے۔

20 ستمبر 2019ء
روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
266
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: