باہر حبس بہت ہے

Print Friendly, PDF & Email

بہت سارے تو نہیں دو تین سوالات تھے ۔سوچا تھا اس کالم میں وہ سوال لکھوں گا پس منظر عرض کردوں گا پھر تفصیل سے بات ہوگی۔
لیکن باہر موسم اچھا نہیں ہے۔حبس بلا کا ہے ۔
صبح سے اپنی لائبریری میں کتاب بینی کر رہا ہوں۔مبشر علی زیدی امریکہ سدھار چکے پاکستان میں تھے تو ان سے خوشگوار مراسم یا تعلق کے چند لمحے بھی نہ بن پائے۔
البتہ ان کے خلاف دوستوں کی صف بندی ہوئی تو ہم اس لشکر میں تھے یا سمجھے گئے جو ان کے خلاف صف آراء ہوا،اس لشکر کے سپہ سالار ہمارے دلارے یار عامر حسینی تھے۔
پانی پت کا یہ معرکہ کیوں ہوا، ہم اس کے سپاہی کیوں بنے؟ جواب فقط یہی ہے کہ ہم دیہاتی لوگ دوست کو لڑتا دیکھ کر میدان میں بنا پوچھے سمجھے اتر جاتے ہیں پھر جو ہو سو ہو،اس جنگ میں بھی یہی ہوا،
درمیانی وقفہ کے بعد ایک اور رن تب برپا ہوا جب وہ امریکہ چلے گئے،اس دوسری جنگ کی وجہ ان کی ایک مختصر تحریر تھی۔
مصنف نے نجانے کیا لکھا تھا لیکن پہلی جنگ کے لشکر یوں نے اس تحریر کو خود پر نیم شب کا دھاوا سمجھا اور تیر وتفنگ سنبھالے میدان میں اتر آئے

عامر حسینی،مبشر علی زیدی اور ہم ایک ہی وسیبی پس منظر کے حامل ہیں ۔
حسینی اور زیدی کے خاندان تقسیم کے وقت ہجرت کر کے خانیوال آن آباد ہوئے۔ہمارے بزرگ صدیوں سے اسی خطے میں بس رہے تھے۔حسینی اور مبشر علی زیدی نے نور علم کا فیض خانیوال اور کراچی سے پایا دونوں وسیع مطالعہ پڑھے لکھے اور خالص جنگجو ہیں .
طالب علم نے بھی رزق کمانے کی مشقت کے ساتھ نور علم کراچی کی درسگارہوں سے حاصل کیا۔
حسینی خالص صوفی سنی بریلوی خاندان کے کمیونسٹ فرزند ہیں۔مبشر خالص شیعہ خاندان کے لامذہب۔رہے ہم تو کیا کہیں اپنے بارے میں صوفی سنی والدین کے بو ترابی بیٹے بارے چلیں اس تعارف کو رہنے دیں۔
حسینی ہمارا دوست ہے۔ہم اس کے،وقت گزر جائے گا دوستی قائم رہے گی۔مبشر سے بھی کوئی ذاتی عداوت دشمنی یا کھیتوں کی سانجھ کا تنازعہ نہیں۔

یہ تحریر کسی وضاحت یا معذرت کیلئے بالکل نہیں۔وضاحت اورمعذرت کیسی جو ہوا وہ گزرے دنوں کا قصہ ہے۔گزرے دنوں میں اور قصے بہت ہوئے۔
زندگی کا سفرجاری ہے چھ دہائیاں پوری کر کے ساتویں دہائی کے پہلے سال کو بھگت رہے ہیں۔
ان چھ دہائیوں میں درجنوں بار طبل جنگ بجا۔کبھی جنگ ہم نے چھیڑی کبھی مخالفوں نے کبھی ہم دوستوں کے لشکری ہوئے۔
زندگی اسی کا نام ہے۔
مجھ سے چند سال پہلے کسی طالب علم نے سوال کیا تھا۔
”آپ کو زندگی میں کیا عزیز ہوا؟۔
“عرض کیا کتابیں،استادان گرامی، دوست اور دشمن”۔نوجوان نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اور کہا سر میں سمجھا نہیں؟
عرض کیا عزیزم!
“کتابیں اس لئے عزیز ہوئیں کہ ان کے مطالعہ نے روایتی عقیدوں کی بند گلی سے نکل کر خود سے غوروفکر کی راہ دکھائی۔صوفی سنی والدین کے بو ترابی کہلانے والے بیٹے کے پاس آج جو کچھ ہے وہ مطالعے اور غور فکرکا عطا کردہ ہے۔ اس لئے کتاب ہمیشہ اولین ترجیح رہی بہت بار ایسا بھی ہوا کہ کتاب خریدنے کیلئے دو وقت کی بھوک برداشت کی۔”

یہ بھی پڑھئے:   زرداری ان پنجاب اور چند معروضات - حیدر جاوید سید

استادان گرامی اس لئے عزیز ہیں کہ میری تعمیر میں آپاسیدہ فیروزہ خاتون نقوی رح
سے جناب اکرم شیخ تک اساتذہ کرام نے قدم قدم پر رہنمائی کی اپنے اساتذہ اور مربی شخصیات سے بہت فیض پایا سو اگر آج بھی مجھے اپنے استادان گرامی کی جوتیاں سر پر رکھ کر پر ہجوم شاہراہ پر چلنا پڑے تو لمحہ بھر کیلئے بھی نہیں سوچوں گا”۔
“دوست اس لئے اہم ہیں کہ انہوں نے اچھے برے ہر قسم کے حالات میں میرا ساتھ دیا۔ یہ مجھے اس وقت بھی نہیں بھولے جب بیروزگارتھا اور تب بھی سایہ بن کر ساتھ رہے جب ایک میڈیا ہاوس سے کئی سال تنخواہ نہ ملی یہاں تک کہ کچھ ساتھی غداری کر کے فیض پاگئے مگر دوستوں نے ہمت بڑھائی اس مشکل اور بد ترین وقت میں یوں یہ ہوا کہ ہم سمجھوتہ سے بچ گئے۔
رہا حق خدمت تو وہ ایک دن مل ہی جائے گا۔ محنت ومشقت کی کمائی ہے ملے گی ضرور”۔
“دشمن اس لئے عزیز ہیں کہ یہ نہ ہوں تو زندگی کا مزا کرکرا ہو جاتا ہے۔دشمن آپ کو سنبھل کر بڑھنے اور صلاحیتوں کے بروقت استعمال کا موقع سکھاتے ہیں۔دشمنوں سے خالی زندگی تو کورا کاغذ ہے جس پرکبھی کچھ نہ لکھا گیا ہو”

نوجوان نے پر جوش انداز میں کہا سر ہمارے اساتذہ اس طور ہماری رہنمائی کیوں نہیں کرتے ۔
مسکراتے ہوئے عرض کیا کہ کسی دن ٹھنڈے دل سے غور کیجئے گا کہ کیاآپ نے خود کو طالب علم سمجھا؟۔
چند سال قبل کے اس مکالمے نے بس اچانک دستک دی۔جو حافظے میں محفوظ تھا تحریر کر دیا۔
دو دن ادھر ایک ویب ٹی وی چینل کے حسام درانی نے سوال کیا۔”
سر گیارہ ماہ اکٹھے رہنے گھومنے دعوتیں اڑانے ۔غمی خوشی میں مشترکہ طور پر شرکت کرنے والے بارہویں مہینے میں ایک دوسرے سے منہ موڑ کر ناراض ناراض کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ ”
میں نے عرض کیا

یہ بھی پڑھئے:   آسیہ بی بی کا مبنی بر انصاف فیصلہ

”جب تک میں حق پر ہوں اور باقی غلط ہیں کازعم دماغ سے نہیں نکلتا صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔ہمیں اپنی سماجی روایات کو عقیدوں کی بھینٹ چڑھانے کی بجائے ان روایات کو مضبوط کرنا ہوگا سماج انسانی جذبوں سے تعمیر ہوتے ہیں۔ہمیں سماج میں اپنے حصے کا کردار بطور انسان ادا کرنا ہے۔مذہب ہو یا عقیدہ یہ ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے اس خالص ذاتی معاملے میں ٹانگ اڑائے بغیر ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنا ہی شرف انسانیت کا پہلا سبق ہے”

معاف کیجئے گا کالم روایتی انداز سے ہٹ کر لکھا گیاوجہ کیا ہے کچھ بھی نہیں سوائے اس حبس کے جس میں سانس لینا دشوار ہے۔
ورنہ خبریں اور سوال بہت ہیں
مثلاً کل سندھ کے وزیر اطلاعات نے ایک سوال اٹھایا۔
یہی سوال سال بھر قبل جب بے نامی اکاونٹس کا غلغلہ ہوا تھا تو ان سطور میں عرض کیا تھا
وہ یہ کہ آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ کے خلاف جس اومنی گروپ سے ڈیڑھ کروڑ روپے لینے کا الزام ہے اسی گروپ سے وفاقی وزیر اور سابق سپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدہ مرزا کے صاحبزادے نے 20کروڑ روپے لئے ۔ڈیڑھ کروڑ والے معاملے میں دستاویزات پیش کرنے کے باوجود زرداری اپنی بہن سمیت جیل میں ہیں اور20کروڑ کے حوالے سے نیب نے کبھی مرزا خاندان سے سوال نہیں کیا۔
کیا احتساب اسی کو کہتے ہیں؟۔

روزنامہ مشرق پشاور
8ستمبر 2019ء

Views All Time
Views All Time
139
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: