Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ٹیکسوں کے سیلاب سے بھرا بجٹ

Print Friendly, PDF & Email

بجٹ قومی اسمبلی میں وزیر مملکت حماد اظہر نے پیش کیا۔ اپوزیشن کا احتجاج بہت زیادہ تھا۔ وزیر مملکت کی حفاظت شیخ رشید اور طارق بشیر چیمہ فرماتے رہے۔
تنخواہوں میں گریڈ سولہ تک دس فیصد جبکہ 17 سے 20تک پانچ فیصد اضافہ ہوا۔ اکیس بائیس والے پرانی تنخواہوں پر گزارہ کریں گے۔
پنشنز میں 10فیصد اضافہ ہوا
توقع تھی کہ مسلح افواج کی پنشنز واپس دفاعی بجٹ کا حصہ بنا دی جائیں گی مگر ایسا نہیں ہوا، یہ بوجھ سول بجٹ پر پرویز مشرف ڈال گئے تھے۔
تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو چینی 54روپے کلو تھی پھر 68روپے کلو ہوگئی اب سیلز ٹیکس بڑھنے سے ساڑھے تین روپے فی کلو مزید اضافہ ہوگا۔
بجٹ کا نفاذ یکم جولائی سے ہونا ہے مگر کچھ دیر قبل جب چند روزمرہ ضرورت کی اشیاء خریدنے بازار گیا تو پرسوں کے مقابلہ میں نئی قیمتیں تھیں۔ تبدیلی کا کچھ فائدہ تاجروں کو بھی تو ہونا چاہئے۔ صاف سیدھا دو لفظوں میں بجٹ تبصرہ یہی ہے کہ ”اونٹ کے منہ میں زیرہ”

مہنگائی 40فیصد مزید بڑھے گی’ تنخواہیں اور پنشن 10فیصد بڑھی ہیں۔ 30فیصد کا اضافی بوجھ تنخواہ دار طبقہ کیسے اُٹھائے گا؟ 
سالانہ آمدنی کی ٹیکس گزاری کی حد 12لاکھ روپے سے کم کرکے 6لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ سادہ لفظوں میں کہہ لیجئے ٹیکسوں کے سونامی سے بھرا بجٹ ہے۔ 5555 ارب روپے محصولات وصول کرنے کی حد مقرر کی گئی ہے۔

رواں مالی سال میں مقررہ حد سے سات سو ارب روپے کم وصول ہوئے ہیں ۔ کم سے کم تنخواہ 17500روپے مقرر کی گئی، پانچ افراد کا کنبہ’ کرائے کا مکان’ یوٹیلٹی بلز’ دکھ سکھ کے موسم اور ماہانہ اخراجات ذرا ساڑھے سترہ ہزار روپے میں بجٹ بنا کر تو دیجئے۔
یہ میری صحافتی زندگی کا سنتالیسواں بجٹ ہے ہمیشہ کی طرح عوام دوست بجٹ۔ 
عوام کون ہیں’ اشرافیہ کے 12فیصد لوگ باقی کے 88فیصد تو رعایا ہیں۔ شودر’ کمی’ ہاری 
طبقاتی نظام ہائے حکومت کا اصل المیہ یہی ہوتا ہے اعداد کے گورکھ دھندے سے بہلانے والے جمع تفریق ضرب اور تقسیم سے زیادہ کچھ نہیں جانتے۔ 
بازار کے بھاؤ سے دفتری بابو ناواقف ہوتے ہیں۔ میرے ایک دوست بہزاد دو ضرب دو کو ہمیشہ چار ہی کہتے ہیں ان کا کہنا ہے 5سے7 فیصد غربت بڑھنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ بہزاد اقتصادی ماہرہیں اور کراچی کے نجی تعلیمی ادارے میں پڑھاتے ہیں۔
سلگتے ہوئے موسم میں سیاسی ماحول بھی گرم ہے۔
آصف زرداری کے بعد حمزہ شہباز گرفتار ہوئے۔ ادھر لندن میں الطاف بھائی گرفتار ہوگئے، ان کی عاق کردہ ایم کیو ایم پاکستان وفاقی حکومت کا حصہ ہے۔
ان حالات میں عوام کُش بجٹ کیا حکومت کیلئے مسائل پیدا نہیں کرے گا؟ 
جناب فیصل واوڈا نے ایک ٹی وی پروگرام میں ارشاد فرمایا 5ہزار افراد کو لٹکا دیا جائے تو بائیس کروڑ لوگوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ 
پانچ ہزار افراد کو ماورائے قانون وعدالت لٹکا دینے کی بات پتھر دل شخص ہی کرسکتا ہے۔ حیران ہوں کیسے کیسے لوگ وزیر بنا دئیے گئے۔
اس جملہ معترضہ کو رہنے دیجئے’ سچ تو یہ ہے کہ وفاقی بجٹ ایسا ہی ہونا تھا، آئی ایم ایف کی شرائط اور ان کی مرضی پر مشیر خزانہ وگورنر سٹیٹ بینک بلاوجہ نہیں لگائے گئے۔
ٹیکسوں کے اس سیلاب سے شودروں’ کمیوں اور ہاریوں کی جو درگت بنے گی اس کا مداوا کیسے ہوگا؟ بندہ ومزدور کے اوقات پہلے ہی تلخ ہیں۔ 
سیمنٹ پر فی کلو کے حساب سے محصول بڑھے گا۔ آٹا’ دالیں’ کوکنگ آئل سمیت ہر چیز مہنگی ہوگی بلکہ فوری طور پر ہوہی گئی ہے ۔
کیا اس بجٹ کو سوا تین توپوں کی سلامی دے کر صبر شکر سے چند آنسو بہا لئے جائیں؟
حالات خراب ہیں تو اسمبلیوں کے ارکان وزراء اور مشیران تنخواہیں نہ لیں لگ پتہ جائے گا کہ انہیں مخلوق سے کتنی ہمدردی ہے۔
اب جس سوال پر سب سے زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ لگی بندھی آمدنی سے زندگی بسر نہ ہو پائی تو کیا ہوگا۔ چور بازاری بڑھے گی، حضور اورکیا ہونا ہے’ رشوت کے نرخ بڑھیں گے۔ 
تحریک انصاف کو لانے والے کسی دن مارگلہ کی چوٹی پر تازہ ہواؤں کو پھیپھڑوں میں اتارتے ہوئے یہ ضرور سوچیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پچھلے 9ماہ کے دوران کسی ایک معاملے میں بھی بہتری نہیں آئی۔ تجربے کی کمی ہے یا اندھی خواب فروشی اور کھوکھلے وعدے؟۔

یہ بھی پڑھئے:   بلڈی سویلین

کیا ٹیکسوں کے اس سیلاب اور مہنگائی کے ذمہ دار بھی پچھلے حکمران ہیں؟۔ بجٹ پیش کرتے ہوئے حماد اظہر نے پھر وہی راگ الاپا، 31ہزار ارب کے قرضے پچھلی تین حکومتوں نے لئے۔
اچھا خود سے حکومت جو بارہ ارب روپے روزانہ قرضہ لے رہی ہے یہ کیا ہے نو ماہ کا حساب کر لیجئے۔ 
کہا جاتا تھا ہم اقتدار میں آئے تو بیرون ملک پاکستانی 8ہزار ارب ایک اپیل پر دے دیں گے۔
اس معاملے کو بھی اُٹھا رکھئے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ زرعی معیشت کی ترقی کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔ ایک زرعی معیشت والا ملک اگر اصل کام پر توجہ نہیں دے گا تو کیا کرے گا؟۔
”نو من تیل ہوگا تو رادھا ناچے گی”۔ 
مکرر عرض ہے حکومت اپنے وعدے کے مطابق ادویات کی قیمت کم نہیں کرواسکی۔ رمضان المبارک اور عید پر مہنگائی میں 8سے12فیصد کا مجموعی اضافہ ہوا۔ اب چالیس فیصد مزید ہوگا یعنی لگ بھگ پچاس فیصد مہنگائی بڑھ جائے گی۔ کسی کے پاس اس کا علاج ہے؟

اپوزیشن اگر موجودہ حالات سے فائدہ اُٹھاتی ہے تو یہ اس کا حق ہے اس کی سیاست ہوتی ہی حکومت کی لغزشوں پر ہے۔ 
کیا وزیراعظم کسی دن چند گھنٹے نکال کر اس پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے کہ ان کے وہ وعدے کیا ہوئے۔ سرائیکی صوبہ کہاں گیا’ پٹرول 48روپے لیٹر کیوں نہیں ہوا’ ہسپتالوں میں غریب آدمی کا مفت علاج کیوں نہیں ہوا’ اقربا پروری کیوں ختم نہیں ہوئی۔
کیا تبدیلی صرف سوشل میڈیا پر مخالفین کو ویناملک سے گالیاں دلوانے کو کہتے ہیں؟ 
حضور! مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عام شہری حیران وپریشان ہیں کچھ ان کے بارے میں ہمدردی کیساتھ سوچیں، ورنہ تو بھاگ لگے رین’ رام بھلی کرے گا

Views All Time
Views All Time
88
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: