Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بے نظیر بھٹو بنام بلاول بھٹو

Print Friendly, PDF & Email

ڈئیر بلاول!
مجھے امید ہے تم خیریت سے ہوگے۔ 
میں ہمیشہ تمہیں یاد کرتی ہوں‘ کل بابا اور ماما دونوں ملنے آئے تو بہت دیر تک تمہاری باتیں کرتے رہے۔ بابا کاکہنا تھا کہ تمہاری طرف سے دی گئی افطار پارٹی اگر چند دنوں کے لئے آگے کردی جاتی تو مناسب ہوتا کیونکہ اس روز پارٹی کے رہنما محترم قمر زمان کائرہ کے مرحوم صاحبزادے اور اس کے دوست کا سوئم تھا۔ 
میں نے انہیں بتایا کہ اس سلسلے میں تم نے کائرہ صاحب سے اجازت لے لی تھی۔
کبھی مجھے محسوس ہوتاہے کہ تم پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کی زبان درازیوں پر بہت پریشان ہوتے ہو۔ اس کی ضرورت نہیں۔ سیاست اب نظریہ نہیں بزنس بن چکی ہے کاروباری مفادات کو مد نظر رکھنے والے کبھی ایک جماعت میں نہیں رہتے اس لئے چھوڑ جانے والوں کی دشنام طرازیوں پر پریشان ہونے کی بجائے میری جدوجہد سے سبق حاصل کیا کرو۔ 
میں نے جب سیاسی عمل میں حصہ لینا شروع کیا تھا تو ملک میں مارشل لاء نافذ تھا ہزاروں کارکن جیلوں میں تھے۔ ان میں بہت ساروں کو قید و کوڑے اور جرمانوں کی سزائیں ہو چکی تھیں۔ 
مگر اس دور کے اہل دانش‘ ادیبوں‘ شاعروں‘ صحافیوں اور سماج سدھاروں نے مارشل لاء کے خلاف مزاحمت میں میرا فکری استقامت کے ساتھ ساتھ دیا۔

مختلف الخیال اہل دانش جمہوریت پسندوں اور پارٹی کے کارکنوں کی جدوجہد ہی ثمر آور ثابت ہوئی۔ یہ بجا ہے کہ ہمارے ادوار میں قومی جمہوریت اور سماجی ترقی کے لئے وہ اقدامات نہ ہوسکے جو ہونے چاہئے تھے مگر ان ادوار میں قانون سازی اور تعمیر و ترقی کے لئے جو کچھ ہوا وہ خالی خولی نعرہ بازی کے مقابلہ میں موثر نتائج کاذریعے بنے۔

ڈئیر بلاول!

مجھے خوشی ہے کہ کسی جھجھک اور خوف کے بغیر تم اپنی بات موثر انداز میں کرتے ہو پیپلز پارٹی سے لوگوں کو شکایات ہوسکتی ہیں مگر انشاء اللہ کبھی کوئی یہ طعنہ نہیں دے گا کہ پیپلز پارٹی ابتر حالات میں عوام کو استحصالی ریاست کے سامنے چارہ بنا کر خود نکل گئی۔ مجھے یہ بھی احساس ہے کہ پارٹی چھوڑ کر جانے والے نون لیگ سے سیاسی تعاون پر تمہیں طعنے دیتے اور توہین آمیز باتیں کرتے ہیں
انہیں بتادو کہ میری والدہ نے جس دن نواز شریف سے میثاق جمہوریت کیا تھا اسی دن شریف خاندان اور نون لیگ کو ان بد زبانیوں کے لئے معاف کردیا تھا جو انہوں نے میرے خلاف کی تھیں۔ 
اس سے قبل تمہارے نانا کی پھانسی میں سیاسی سہولت کار کاکردار ادا کرنے والی قومی اتحاد کی جماعتوں کے ساتھ جمہوریت کی بحالی کے لئے پیپلز پارٹی نے بیٹھنے کا فیصلہ کیا تو یہ اس بات کاثبوت تھا کہ پیپلز پارٹی سیاسی اختلافات ذاتی دشمنیوں میں تبدیل کرنے کو جمہوری شعور اور سماجی وحدت کے منافی سمجھتی ہے۔
پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں یہ ہمیشہ ہوا ہے تمہارے ناناکے ساتھ نانی اماں کے ساتھ اور خود میرے ساتھ بھی۔ مخالفین اور کرائے کے سپاہی جب سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کر پاتے تو پھر وہ کردار کشی و دشنام طرازی پر اتر آتے تھے۔ تمہارے نانا اور میں بد ترین حالات میں آگے بڑھتے رہے تمہارے لئے بھی یہی مشورہ ہے کہ گالم گلوچ کردار کشی اور ذات پر حملوں کو خاطر میں لائے بغیر آگے بڑھتے رہو اورمیری تربیت کا حق ادا کرو۔

یہ بھی پڑھئے:   سوال تو ہوں گے، برا مت منائیں

پیارے بلاول! یہ ہمارا ملک ہے اس ملک سے ہمارا رشتہ بہت مضبوط ہے اس سر زمین پرہمارے آبائو اجداد کے ساتھ تمہارے نانا نانی اور ماموئوں اور میری قبریں ہیں عوام اور جمہوریت سے ہمارا رشتہ مشروط ہر گز نہیں۔ پاکستان اس وقت گمبھیر مسائل سے دو چار ہے۔ 
میں تمہیں نصیحت کرتی ہوں کہ جمہوریت پر کوئی آنچ نہ آنے دینا چاہے تمہیں جمہوریت کے تحفظ کے لئے اپنے بد ترین سیاسی مخالف کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے خطے میں بدلتے ہوئے حالات بالخصوص امریکہ ایران تنازعہ پر پارٹی کی وطن پرست پالیسیوں سے لوگوں کو آگاہ کرو عوام کو یاد دلائو کہ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے علاوہ ایٹمی پروگرام میں پڑوسی ملک ایران نے کیسا تعاون کیا۔ 
ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے اور سعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس مقامات مگر ایک کی تذلیل پر د وسرے کی عزت و تکریم کی بجائے دونوں سے مساویانہ تعلقات پاکستان کے لئے اہم ہیں۔ پارلیمان کے اندر حکومت پر دبائو بڑھائو کہ وہ امریکی سامراج کے کسی نئے منصوبے کا دور بننے سے گریز کرے ۔ امریکہ کی سرپرستی میں اگر عرب وعجم کی کوئی جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات سے پاکستان کو محفوظ رکھنا حکومت سے زیادہ پیپلزپارٹی کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   پنجاب میں رینجرز کو کتنے اختیارات ملیں گے؟

پیارے بلاول!
اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے پارلیمان اور سربراہان کی حیثیت سے عوام کے درمیان جاکر انہیں روشن مستقبل محفوظ وپرامن پاکستان کی امید دلائو۔ سیاسی اتحاد بنتے ٹوٹتے رہتے ہیں۔ سیاسی عمل میں جو جتنا ساتھ دے دے اس کی مہربانی جو چھوڑ جائے اس پر غمزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔
پیپلز پارٹی کو پھر سے ایک ترقی پسند جمہوری اور روشن خیال جماعت بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائو، پارٹی کے اندر سٹڈی سرکل قائم کرو اپنی جماعت کی نچلی سطح تک کے ساتھیوں سے کہو کہ وہ اہل علم وادب سے روابط کو مضبوط بنائیں ان سے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کریں۔ میڈیا منیجمنٹ پر توجہ دینابہتر ہے مگر اس سے زیادہ عوام تک رسائی بہتر اور دیر پا ہوگی۔

ڈئیربلاول! میں جانتی ہوں کہ تم عملی سیاست کے میدان میں نہیں آنا چاہتے تھے مگر میرے قتل کے بعد اس میدان میں اُترے میرے بچے اگر تم میرے قتل کا بدلہ لینا چاہتے ہو تو عوام کے حق حکمرانی کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے پرعزم جدوجہد کرو، فروغ علم ، غربت کے خاتمے،بلا امتیاز انصاف اور ریاستی وسائل پر اقدام مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کرو، اس جدوجہد کی راہ کٹھن ضرور ہے لیکن فتح عوام کی ہی ہوگی 
انسانی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ استحصالی قوتیں زیادہ عرصہ تک عوام کا مقابلہ نہیں کر سکیں 
بلاول بیٹے !
ایک پرعزم جدوجہد کے ذریعہ ہی لوگوں کے خوابوں کو تعبیر دی جاسکتی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ تم اپنی والدہ کو مایوس نہیں کرو گے اور آخری سانس تک عوام کے ساتھ کھڑے رہو گے ۔ 
بختاور اور آصفہ کو میرا سلام دینا اپنے باباسئیں کی صحت کا خیال رکھنا 
تمہاری والدہ 
بینظیر بھٹو 
ابوذر کالونی 
عالمِ بالا



Views All Time
Views All Time
118
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: