Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

دو فیصلے، ٹرین مارچ اور سوجھل کانفرنس

Print Friendly, PDF & Email

بہاولپور سے لاہور کے لئے روانہ ہوا راستے میں جناب نواز شریف کی چھ ہفتے کے لئے رہائی کی اطلاع ملی۔ سپریم کورٹ نے چھ ہفتے کے لئے ان کی سزا معطل کی ہے۔ ملک سے باہر جانے پر پابندی ہوگی۔ لگ بھگ یکم رمضان کو ان کی جیل واپسی ممکن ہے اور ضمانت کے لئے ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔ 
فقیر راحموں نواز شریف کی چھ ہفتوں کے لئے رہائی کا سن کر کہنے لگے شاہ جی اگر تم دو چار دن اور لہور سے باہر گزار لیتے تو میاں صاحب کی مدت ضمانت بڑھ جاتی۔ پچھلے چھ دن سرائیکی وسیب میں گزارے۔ سوجھل دھرتی واس کی قومی کانفرنس میں شرکت کے علاوہ اہل علم اور دوستوں سے ملاقاتوں کے لئے مسلسل سفر میں رہا۔ اس دوران دو دن بہاولپور میں قتل ہونے والے پروفیسر خالد حمید والے سانحہ کے حوالے سے معلومات اور حقائق تک رسائی کی کوششیں بھی کیں۔


گورنمنٹ ایس ای کالج کے طلباء و طالبات‘ اساتذہ کرام ‘ پرنسپل ڈاکٹر ولی محمد‘ معروف شہریوں اور مقتول پروفیسر کے صاحبزادوں سے بھی ملاقاتوں کے دوران چونکا دینے والی معلومات حاصل ہوئیں۔ ایک دو دن بعد ان سطور میں تفصیل کے ساتھ سانحہ بہاولپور اور منظر و پس منظر کے حوالے سے عرض کرتا ہوں۔
فی الوقت سرائیکی وسیب میں گزرے چھ دنوں کے احوال کے ساتھ جناب نواز شریف کی رہائی ہمارا موضوع ہے۔ منگل کے روز سپریم کورٹ نے نواز شریف کو رہا کرنے اور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کا ای سی ایل سے نام نکالنے کے ساتھ انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت بھی دے دی۔ ایک دو آوازیں “ڈھیل” کے حوالے سے ہیں۔ 
چند سیانے کہہ رہے ہیں معاملات طے پانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ فقیر راحموں کہتے ہیں عدالتوں کے فیصلوں کو مرضی کا رنگ دینے کی ضرورت نہیں۔ نواز شریف کی سزا اگر انصاف کا آفتاب طلوع ہونے کی نوید تھی تو چھ ہفتے کے لئے سزا کی معطلی کو قمری ستارے کا ابھرنا کیوں نہ سمجھ لیا جائے۔


ہمارے نو انصافی دوستوں کے ہاں سکوت مرگ طاری ہے۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے مراجعت کرکے بنی گالہ گئے دوستوں کا بہت برا حال ہے۔ ہزار طرح کی تاویلات ہیں۔ لیکن ٹھنڈے دل سے یہ سوچا جانا ہوگا کہ قانون کی بالا دستی اور بلا امتیاز احتساب بہر طور لازم ہے لیکن کردار کشی یا منہ بھر کے گالیاں دینا درست ہے نا مخالفین کو مٹا دینے کی خواہش۔ اگر عدالتوں کا منگل کے روز کا فیصلہ غلط ہے تو پہلے فیصلے کیسے آسمانی صحیفے قرار پائیں گے؟۔
بہتر یہی ہے کہ ہر شخص اور ادارہ اپنا اپنا کام کرے۔ میاں صاحب بیمار ہیں پنجاب حکومت کے سلوک کے باعث وہ جیل میں سرکاری نگرانی میں علاج نہیں کروا رہے تھے۔ چلیں اب وہ پسند کے ڈاکٹروں سے علاج کروا سکیں گے۔ مین میخ نکالنے یا آزردہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
منگل کو ہی پی پی پی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے کراچی سے ٹرین مارچ شروع کیا اس ٹرین مارچ کا آغاز اور راستے میں استقبال متاثر کن تھا۔ جناب فواد چوہدری اور چند دوسروں نے اس ٹرین مارچ پر پھبتیاں کسیں۔ آدمی کیا تبصرہ کرے اقتدار کے لئے پارٹیاں تبدیل کرنے والوں پر۔وہ صرف نئی وفاداری کو ثابت کرنے کے لئے پرانی جماعت اور قیادت کو کوستے رہتے ہیں۔ ایک دوست ہوتے تھے ملک ربنواز، اللہ ان کی مغفرت فرمائے وہ سیاسی جماعتوں سے راتوں رات ہجرت کرکے محب وطن بننے والوں کے بارے میں کہا کرتے تھے اگر انہیں اگلی صبح اندرا گاندھی کے اقتدار کا یقین ہو تو وہ رات کو ہی واہگہ بارڈر پر بینر لے کر کھڑے ہوجائیں۔ ان بینروں پر کیا لکھا ہوگا ملک صاحب وہ بھی بتاتے تھے آپ صرف ایک تحریر سے گزارا کیجئے۔ ’’ جمہوریت اور غریب پروری کی نشانی اندرا گاندھی‘‘۔

یہ بھی پڑھئے:   مذہبی منافرت کی تازہ لہر کس کا برین چائلڈ ہے؟



سیاسی جماعتیں بدلتے رہنے اور پچھلوں کو کوستے پھرنے والوں کا کمال یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر جیب کی گھڑی بن جاتے ہیں۔ بلاول ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں سیاسی سر گرمیاں جاری رکھنے اور انداز طے کرنے کا حق ان کو ہے آخر عمران خان نے بھی تو نون لیگ کا پورا دور احتجاجی سیاست میں بسر کیا نفرت کاشت کی آج اس کا پھل کھا رہے ہیں۔ 
البتہ انہیں یہ سمجھ میں آچکا ہے کہ ’’ مسائل اور طرح کے ہیں دوا اور طرح کی‘‘۔
نو انصافی دوستوں کو تحمل اور سیاسی شعور کا مظاہرہ کرنے کے لئے اب بچپنے سے باہر نکلنا ہوگا یہی وقت کی ضرورت ہے۔
ضلع راجن پور کی تحصیل فاضل پور میں منعقدہ سوجھل دھرتی واس کانفرنس کا حسن یہ تھا کہ وسیب کے اہل دانش اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ قوم پرستوں کے دونوں اتحادوں سرائیکستان گرینڈ الائنس اور سرائیکی صوبہ محاذ کے سرکردہ رہنما بھی شریک ہوئے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی نمائندگی بھی۔ سرائیکی صوبے کے حوالے سے کھل کر باتیں ہوئیں۔ حکومت اور خصوصاً تحریک انصاف سے کچھ تلخ سوالات بھی کئے گئے۔ کتابوں کی رونمائی‘ ایوارڈز کی تقسیم کے علاوہ جھمر کے ساتھ سیاسی تقاریر بھی تھیں۔ 
دو باتوں پر قوم پرست‘ اہل دانش اور عوام میں اتفاق تھا اولاً سرائیکی صوبہ بننا چاہئے اور وہ تین ڈویژنوں پر نہیں 21 سرائیکی بولنے والے اضلاع پر۔ ثانیاً یہ کہ قوم پرست متحد ہوں اس حوالے سے خوشگوار بات یہ ہوئی کہ دو اتحادوں میں سے ایک اتحاد ’’ ایس جی اے‘‘ نے اتحاد کی صورت میں تین بڑے مرکزی عہدوں سے دستبرداری کی پیشکش بھی کی۔
قومی کانفرنس نے جنوبی پنجاب کی شناخت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سرائیکی عوام پاکستانی وفاق میں قومی اکائی کا تشخص حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ہم پنجاب کی تقسیم نہیں دو سو سال سے غصب شدہ قومی آزادی کی بحالی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سوجھل قومی کانفرنس کے لئے شاہنواز خان مشوری‘ عثمان کریم بھٹو ان کے ساتھیوں اور سر پرست صوفی تاج محمد گوپانگ کی کاوشوں اور پر عزم جدوجہد کا بھی اعتراف کیاگیا۔ سرائیکی وسیب نے اپنی شناخت اور حدود پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان بہر طور کردیا ہے

Views All Time
Views All Time
243
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: