Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

چارہ گر اگر سنجیدہ ہوں تو

Print Friendly, PDF & Email

نوٹ : وہ کالم جسے اخبار نے شائع کرنے سے انکار کر دیا

جان کی اماں ہو تو عرض کروں کالعدم تنظیموں بالخصوص لشکر طیبہ اور جیش محمد وغیرہ کے حوالے سے سرکاری نابغے پچھلے چند دنوں سے جو کہہ رہے ہیں اور جس طرح کے اقدامات کیے جارہے ہیں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا ان اقدامات سے ہم نے یہ تسلیم نہیں کر لیا کہ دنیا اور خصوصاََ بھارت جو کہہ رہا ہے وہ سو فیصد نہ سہی کچھ نہ کچھ درست ہے۔ 
مزید بات کرتے ہیں لیکن آئی ایس پی آر کے سربراہ کے اس بیان کو پہلے پڑھ لیجیے کہ “دنیا کالعدم تنظیموں سے چھٹکارے کے لیے پاکستان کی مدد کرے”۔ 

اخبار نویس کو حیرانی ہے کہ جب کالعدم تنظیموں، ان کے کردار اور سرگرمیوں کے حوالے سے جناب نواز شریف کے دور میں منعقدہونے والے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس میں وزیراعظم کے خارجہ امور کے لیے خصوصی ایڈوائزر نے دنیا کے سوالات اجلاس کے شرکاء کے سامنے رکھے تو برا منایا گیا۔ اس حوالے سے شائع ہونے والی خبر ڈان لیکس قرار پائی۔
محب وطنوں اور تھڑدلوں نے نواز شریف کو غدار کہا، مودی کا یار قرار دیا۔ سول عسکری قیادت کے معاملات ایسے ہوگئے جیسے پاک بھارت تنازعات ہیں۔ لیکن اب نہ صرف حرف بحرف وہی کچھ کہا جارہا ہے بلکہ جو اقدامات کیے جارہے ہیں ان سے پیدا ہونے والے سوالات سے آنکھیں چرائی جا رہی ہیں۔
یہ بھی عرض کردوں کہ جولوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کالعدم تنظیموں کو قومی دھارے میں لایا جانا چاہیے اور یہ تجویز بھی کہ ان کے ارکان کو پولیس، رینجرز اور دوسرے اداروں میں بھرتی کر لیا جائے تو وہ غالباََ زمینی حقائق سے نابلد ہیں۔

کالعدم تنظیموں کے لوگوں کی ایک خاص فہم سے تربیت ہوئی ہے۔ برسوں ایک جدا ماحول میں گزارنے اور مخصوص سوچ رکھنے والوں کی اصلاح کیسے ہوگی؟ ان سوالوں کا جواب بہرطور دینا ہوگا۔ ثانیاً جن تنظیموں کے وجود سے ہی ہم انکاری تھے وہ کہاں سے نکل آئیں؟
ثالثاً کیا یہ حقیقت نہیں کہ وزارت داخلہ نے جن 72 تنظیموں کے کالعدم ہونے کا تازہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے وہ پہلے سے ہی کالعدم تھیں۔ 
اس ضمن میں اصل سوال یہ ہے کہ مریدکے اور چند دوسرے مراکز پر تو جو سرکاری نگران پہلے سے مقرر تھے وہ کیا ہوئے ، کیسے یہ ادارے دوبارہ کالعدم تنظیم کے سپرد کیے گئے؟
عجیب بات یہ ہے کہ جنہیں دنیا امن دشمن قرار دے رہی ہے جن کی وجہ سے جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتیں جنگ کے دہانے پر آن کھڑی ہوئیں انہیں قومی دھارےمیں لانے کا سوچاجارہا ہے مگر ان پشتونوں ، بلوچوں ، سندھیوں ، سرائیکیوں اور اردو بولنے والوں سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں جو دستور پاکستان میں دیے گئے شہری سیاسی و معاشی حقوق کے حوالے سے ریاست کو یاددہانی کروانے کے جرائم کا مرتکب ہوئے۔
کالعدم تنظیمیں کیوں بنیں؟ آشیر باد کس کی تھی ، ضرورتیں کیا ؟ ان پر بحث اٹھاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ مگر ہم اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ انتہاؤں میں تقسیم معاشرے کو اعتدال کی طرف واپس لانے میں دانتوں پسینہ آجائے گا۔
بدقسمتی سے جنرل ضیاء الحق کے دور میں وضع ہوئی خاص فہم کے پجاری آج بھی موجود ہیں ۔ ہماری حکومتیں بنیادی اقدامات کرنے سے پہلو تہی برتتی آرہی ہیں۔ علم کے نور کے پھیلاؤ، غربت کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی سے شدت پسندی کا علاج ممکن ہے۔ 
تعلیمی نصاب ازسرِ نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایک تاریخ کمیشن بنانے کی بھی ۔ 
ہمیں غوری، غزنوی، ابدالی و قاسم کی جگہ رحمان بابا، بلھے شاہ ، مست توکلی ، خواجہ غلام فرید، شاہ لطیف بھٹائی اور سبد سبط حسن سے رجوع کرنا ہوگا۔
اپنی زمین، تہذیب، ثقافت اور تاریخ پر فخر کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ کیا ریاست اس کے لیے آمادہ ہو پائے گی؟
طالب علم کی رائے یہی ہے کہ ریاست اس کے لیے آمادہ نہیں ہوگی۔ لیکن حالات نے جس مقام پر ہمیں لاکھڑا کیا ہے یہاں ٹھنڈے دل سے یہ سوچنا ہوگا کہ شکایات و تحفظات دور کرنے کے لیے کیا اقدامات مؤثر ثابت ہوں گے۔
سیاست و صحافت کے اس طالب علم کی رائے میں بہت ضروری ہوگیا ہے کہ اس ملک کی حقیقی قومیتوں کے درمیان مستقبل کے حوالے سے مکالمہ ہو، اکٹھے رہنے کی وجوہات اور ضرورتوں کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے۔ چند دستوی ترامیم یا نیا عمرانی معاہدہ؟ دونوں میں سے کسی ایک پر متفق ہونے کے لیے مکالمہ بہت ضروری ہے۔
بات تلخ ہے لیکن عرض کرنا ضروری ہے کہ موجودہ پارلیمان گو کہ مکالمے کی اہلیت نہیں رکھتی پھر بھی مکالمے میں اسے ایک فریق کی حیثیت ملنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:   راؤ انوار کی پراسرار روپوشی

ان امور پر توجہ دیے بغیر شدت پسندی کا مؤثر علاج تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ وقت آگیا ہے کہ ریاست اپنے کردار کے حوالے سے ازسر نو غور کرے اور اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ حب الوطنی زمین زادوں کے خمیر میں شامل ہوتی ہے۔ یہ جنس بازار ہے نہ ریاستی سودا کہ خوانچوں پر فروخت کی جائے۔
کافر کافر اور غدار غدار کے پھرلو میچ بند کروانے ہوں گے۔

جنگ کے دہانے پر آن کھڑی ہوئیں انہیں قومی دھارےمیں لانے کا سوچاجارہا ہے مگر ان پشتونوں ، بلوچوں ، سندھیوں ، سرائیکیوں اور اردو بولنے والوں سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں جو دستور پاکستان میں دیے گئے شہری سیاسی و معاشی حقوق کے حوالے سے ریاست کو یاددہانی کروانے کے جرائم کا مرتکب ہوئے۔
کالعدم تنظیمیں کیوں بنیں؟ آشیر باد کس کی تھی ، ضرورتیں کیا ؟ ان پر بحث اٹھاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ مگر ہم اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ انتہاؤں میں تقسیم معاشرے کو اعتدال کی طرف واپس لانے میں دانتوں پسینہ آجائے گا۔

بدقسمتی سے جنرل ضیاء الحق کے دور میں وضع ہوئی خاص فہم کے پجاری آج بھی موجود ہیں ۔ ہماری حکومتیں بنیادی اقدامات کرنے سے پہلو تہی برتتی آرہی ہیں۔ علم کے نور کے پھیلاؤ، غربت کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی سے شدت پسندی کا علاج ممکن ہے۔ 
تعلیمی نصاب ازسرِ نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایک تاریخ کمیشن بنانے کی بھی ۔ 
ہمیں غوری، غزنوی، ابدالی و قاسم کی جگہ رحمان بابا، بلھے شاہ ، مست توکلی ، خواجہ غلام فرید، شاہ لطیف بھٹائی اور سبد سبط حسن سے رجوع کرنا ہوگا۔
اپنی زمین، تہذیب، ثقافت اور تاریخ پر فخر کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ کیا ریاست اس کے لیے آمادہ ہو پائے گی؟

طالب علم کی رائے یہی ہے کہ ریاست اس کے لیے آمادہ نہیں ہوگی۔ لیکن حالات نے جس مقام پر ہمیں لاکھڑا کیا ہے یہاں ٹھنڈے دل سے یہ سوچنا ہوگا کہ شکایات و تحفظات دور کرنے کے لیے کیا اقدامات مؤثر ثابت ہوں گے۔
سیاست و صحافت کے اس طالب علم کی رائے میں بہت ضروری ہوگیا ہے کہ اس ملک کی حقیقی قومیتوں کے درمیان مستقبل کے حوالے سے مکالمہ ہو، اکٹھے رہنے کی وجوہات اور ضرورتوں کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے۔ چند دستوی ترامیم یا نیا عمرانی معاہدہ؟ دونوں میں سے کسی ایک پر متفق ہونے کے لیے مکالمہ بہت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   جے ہو ماؤزے تنگ کی… - وسعت اللہ خان

بات تلخ ہے لیکن عرض کرنا ضروری ہے کہ موجودہ پارلیمان گو کہ مکالمے کی اہلیت نہیں رکھتی پھر بھی مکالمے میں اسے ایک فریق کی حیثیت ملنا چاہیے۔
ان امور پر توجہ دیے بغیر شدت پسندی کا مؤثر علاج تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ وقت آگیا ہے کہ ریاست اپنے کردار کے حوالے سے ازسر نو غور کرے اور اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ حب الوطنی زمین زادوں کے خمیر میں شامل ہوتی ہے۔ یہ جنس بازار ہے نہ ریاستی سودا کہ خوانچوں پر فروخت کی جائے۔
کافر کافر اور غدار غدار کے پھرلو میچ بند کروانے ہوں گے۔

مکرر عرض ہے کہ یہ بائیس کروڑ انسانوں کا ملک ہے۔ اس کی موجودہ جغرافیائی حدود (جو ہزاروں برسوں کی ہیں) میں جو قومیتیں آباد ہیں ان کی شناخت، تہذیب اور تاریخ اہم ہے۔

بگاڑ اس وقت پیدا ہوا جب ان سے انکا ر کیا گیا۔ آج پھر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا اپنی قومیتی شناخت پر فخر کرنے والوں نے مشترکہ شناخت اور پھر مذہب یا ریاست کے وجود سے انکار کیا؟
اختلاف اس امر پر ہے کہ مذہب انسان کا انفرادی معاملہ ہے اور ریاست مساوی حقوق دینے کی پابند ہے۔ 
یہاں اکہتر برسوں سے ریاست کا مذہبی چہرہ بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ ان کوششوں کا نتیجہ کیا نکلا؟
باردیگر یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ محض کالعدم تنظیموں کی لسٹ جاری کرنے اور ان میں سے بعض کے مراکز پر نگران بٹھا دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

اصلاح احوال چاہتے ہیں تو فروغ علم ، مساوات، انصاف ، قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ دستور میں دیے گئے سیاسی، معاشی اور مذہبی حقوق کا احترام کروانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
نصاب تعلیم از سر نو مرتب کرتے وقت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے اس قول کو سامنے رکھنا ہو گا کہ “اپنی اولاد کی تربیت اپنے نہیں اس کے زمانے کے مطابق کرو”۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں فرد یا طبقے یا پھر کسی اور سطح پر موجود شوق تھانیداری سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ 
ڈنگ ٹپاؤ اقدامات دھوکہ ہیں۔ اور اس طرح کے دھوکے بہت دیے جاچکے۔

اب سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ شدت پسندی کی یہ صورت سماجی وحدت کے لیے زہر قاتل ہے۔ کبھی اس سوال پر ٹھنڈے دل سے بھی غور کیجیے گا کہ اکہتر برسوں کے دوران اس ملک میں انسان سازی کے لیے ایک ادارہ قائم نہ کرسکنے والے اگر ہمارے مجرم نہیں تو پھر شدت پسندی کے بڑھاوے کا اصل مجرم کون ہے؟

Views All Time
Views All Time
305
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: