Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جمہوریت، جمہور اور طبقاتی نظام

Print Friendly, PDF & Email

وزیراعظم نے نومنتخب چیئرمین سینیٹ کیلئے جو الفاظ استعمال کئے وہ امریکی ائیرپورٹ پر نجی دورے کے دوران تضحیک آمیز تلاشی کے عمل سے گزرنے کا غصہ تھا تو زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ وہ ایئرپورٹ سے واپسی کا جہاز لیتے اور وطن لوٹ آتے۔ یہ سینیٹ کے حالیہ چناؤ پر ردعمل تھا تو کیا ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا مناسب ناہوگا ۔اگر نتائج چرائے جارہے تھے تو بائیکاٹ کرتے یا انتخابی عمل میں شرکت کے وقت احتجاج کے ساتھ شریک ہوتے ۔لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ ان کی جماعت نے جن صاحب (راجہ ظفرالحق) کو چیئرمین سینیٹ کیلئے اپنا اُمیدوار بنایا وہ ساڑھے تین عشروں سے اوپر کے عرصہ سے اسٹیبلشمنٹ کی ڈارلنگ سمجھے جاتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ وفاق اور پنجاب سمیت کشمیر وبلتستان میں نون لیگ کی حکومت ہے، جناب نوازشریف اپنے خلاف زیر سماعت مقدمات میں پورے کروفر کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوئے اور سماعتوں کے بعد اداروں پر برستے تھے۔ کیا ان کی سیاسی اٹھان انہی اداروں کی مرہون منت نہیں؟۔

 2013ء میں کیا ہوا تھا۔ اس سے قبل 2008ء سے 2013 کے درمیان کیا ہوتا رہا؟ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ شریف خاندان کے کچھ لوگ ملاقاتیں فرماتے ہیں اور کچھ ملاقاتوں کی درخواستیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر سول سپرمیسی اتنی ہی عزیز ہے تو درون خانہ ملاقاتوں کا سلسلہ کیوں؟۔ کیا نواز شریف کسی عوامی اجتماع میں حلفاً کہہ سکتے ہیں کہ خاقان عباسی ان کا انتخاب تھے؟۔ لاریب سول معاملات میں دوسرے اداروں کی مداخلت کسی طور پر بھی درست نہیں مگر کیا کسی میں اتنا ظرف ہے کہ وہ ماضی میں اداروں کی کٹھ پتلی بنے رہنے پر معذرت کرے۔ ایک سوال مکرر عرض کرتا ہوں۔ جناب نواز شریف جس سہولت کے ساتھ اداروں پر حملہ آور ہیں یہ سہولت کسی غیر پنجابی کو ملی یا مل سکتی ہے؟۔

معاف کیجئے گا ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ بنام جمہوریت شخصیت پرستی کا دور تھا اور ہے۔ سماج کے کچلے ہوئے طبقات تو رہے ایک طرف سفید پوشوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے کیا اقدامات ہوئے۔ ہمارے حکمران طبقات کی ترجیحات زمینی حقائق اور مسائل سے سوا رہیں اس پر ستم یہ ہے کہ پنجاب میں میڈیا کا بڑا حصہ کرپشن اور دوسرے امور پر اس طرح بات نہیں کرتا جیسے پیپلز پارٹی کے دور میں کرتا تھا۔ دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ جو لوگ کیانی وپاشا جوڑی کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہے تھے اب انہیں سول سپرمیسی کی توہین چین نہیں لینے دیتی۔

یہ بھی پڑھئے:   کلبھوشن کا پنڈورا اور غداری کے الزامات | حیدر جاوید سید

یہاں ایک ضمنی بات ہے۔ گوجرانوالہ کے ڈی سی کا پراسرار قتل سب کے سامنے ہے، ابتدا میں اس قتل کو خودکشی کا رنگ دیا گیا بات نبھ اس لئے نہ پائی کہ موقع کی چند تصاویر منظر عام پر آگئیں۔ اس قتل کے حوالے سے دو سوال اہم ہیں اولاً یہ کہ محفوظ پنجاب ڈپٹی کمشنر کو اپنے گھر میں تشدد کے بعد پھانسی دی جا سکتی ہے تو عام آدمی کی حالت کیا ہوگی۔ ثانیاً یہ کہ کیا یہ غلط ہے کہ مقتول ڈی سی قبل ازیں شہباز شریف کے پی ایس رہے اور اس تعیناتی کے دوران بعض امور کے عینی شاہد تھے۔ ان کا نام ان 17 افسروں میں شامل تھا جنہیں نیب بعض معاملات کی تحقیقات کے دوران بلانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ قدرے غیراہم خاندان کے اس فرد کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ وہی شاطر بنا سکتا ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ اگر یہ نیب میں پیش ہوا تو قانون کے ہاتھ اس کے گریبان تک پہنچ سکتے ہیں؟۔ دو نام اس حوالے سے زیر بحث ہیں حمزہ شہباز شریف اور گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر۔

 کچھ کہانیاں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ ساری باتیں درست نہ ہو محض افواہیں ہوں لیکن صاف ستھری تحقیقات کیسے ممکن ہے، ایک ایسے صوبے میں جہاں دن دیہاڑے پولیس اور نجی لشکر پولیس کی وردیاں پہنے دہشتگرد مل کر 14افراد کو قتل کر دیں۔ قاتلوں، منصوبہ سازوں اور مقصد سے ہر کس وناکس واقف ہو پھر بھی انصاف نہ ہو سکے اُس صوبے میں ایک ڈپٹی کمشنر کا ڈی سی ہاؤس میں پراسرار قتل کیا اہمیت رکھتا ہے۔مکرر عرض کروں سیاست کے میدان میں اتھل پتھل اور تند وتیز بیانات سے بنی فضا بہرطور مستقبل پر اپنے اثرات مرتب کرے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض امور میں صاف سیدھے سے انداز سے معاملہ کرنے کی بجائے ابہام پیدا کئے گئے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب سے ایک طرح کا برتاؤ ہے اور سندھ سے دوسری طرح کا، اس کے باوجود پنجاب میں ان دنوں مظلومیت کی کہانیاں دوڑائی جا رہی ہیں۔ کامریڈ نوازشریف انقلاب کے علمبردار ہیں مگر خاندانی ملکیت کی نون لیگ کی سربراہی انہوں نے چھوٹے بھائی کے سپرد کروائی۔

یہ بھی پڑھئے:   میری جیل میری جنت | وسعت اللہ خان

ہمارے خوش فہم پنجابی کامریڈوں کی اکثریت نواز شریف کو لمحہ موجود کا بھگت سنگھ بنا کر پیش کر رہی ہے، کاش ان دوستوں نے بھگت سنگھ کی داستان حیات کے اوراق پر طائرانہ نگاہ ہی ڈال لی ہوتی۔ جدوجہد کے آغاز سے پھانسی کے پھندہ پر جھولنے تک بھگت سنگھ ایک سچے اُجلے زمیندار کے طور پر ڈٹے رہے۔ ہمارے کامریڈ کی اٹک کے قلعہ میں کیا حالت تھی ان سطور میں متعدد بار عرض کر چکا، ہو سکتا ہے کہ کامریڈ اب ’’ڈٹا‘‘ رہے مگر کس کیلئے۔ نظریاتی سیاست اور اصول ان کی زندگی میں کبھی اہم نہیں رہے وہ اور ان کے نچلے درجہ کے ساتھیوں سمیت سبھی یہ تاثر دینے میں بے بس ہیں کہ بعض اداروں نے انہیں حکومت نہیں کرنے دی ممکن ہے موقف درست ہو مگر یہ بات ایوان اقتدار سے رخصتی کے بعد کیوں یاد آئی۔ حرف آخر یہ ہے کہ طبقاتی نظام کو جمہوریت کے طور پر پیش کرکے لوگوں کو بہت لوٹا جا چکا، یہاں سبھی کو اپنی پسند کی خاندانی جماعت جمہوریت کی محافظ لگتی ہے۔ طبقاتی نظام کی محافظ ان جماعتوں کے ساتھ وہ لوگ بھی اس ملک کے شہریوں کے مجرم ہیں جنہوں نے 2013ء میں منصوبے کے تحت نون لیگ کو مینڈیٹ دلوایا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں جمہوریت اور عوام ایوان اقتدار سے نکالے جانے کے بعد یاد آتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
401
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: