Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بوذری کی مستی سے ملی سرشاری | حیدر جاوید سید

Print Friendly, PDF & Email

حیران ہوتا ہوں کہ جب کبھی اس ملک میں شیعہ مسلمان دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں تو امہ اور اسلام کے پھریرے لہراتے نابغے ایک لمحے میں درس اخوت دیتے ہیں تو دوسرے ہی لمحے میں سعودی عرب اور ایران کے تنازعات کو لے کر ساری بھڑاس ایران پر نکالتے ہیں۔ حدِ ادب مانع ہے ورنہ ان نابغوں کی اصلیت اور فہم کے “مرکز” بارے پورا دفتر لکھا جاسکتا ہے۔ عجیب لوگ ہیں اس حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں کہ پاکستان میں انجمن سپاہ صحابہ ( یہ تنظیم 1985ء میں بنی) کے قیام سے پھوٹنے والی دہشت گردی افغان جہاد کا تحفہ ہے مگر یہ اس کو ایرانی انقلاب کا ردعمل کہتے نہیں تھکتے۔ اچھا کیا 1987 میں جب انجمن سپاہ صحابہ کے سربراہ مولوی حق نواز جھنگوی نے اپنے لشکر سمیت اے سی چوبارہ ضلع لیہ کو اغوا کیا تھا تو کیا یہ بھی ایرانی انقلاب کا کوئی مورچہ تھا جس پر چڑھ دوڑے تھے؟ جھنگوی کے قتل کا ملبہ جھنگ کی شیعہ برادری پر کیسے اور کیوں ڈالا گیا یہ کبھی راز نہیں رہا۔ اسی جھنگ سے تعلق تھا کیپٹن ماجد گیلانی کا جو جنرل ضیاء الحق کے خصوصی محافظ دستے میں شامل تھا اور اس نے اس حال میں پشاور پہنچ کر تحریکِ نفاذِ فقہ جعفریہ کے سربراہ علامہ عارف حسین الحسینی کو قتل کیا کہ ایوانِ صدر کے ریکارڈ میں وہ ڈیوٹی پر مامور تھا۔ جانے دیجیئے ان قصوں میں کیا رکھا ہے۔ لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں زندہ شیعہ کافر اور دہشت گردی میں مرنے والا شیعہ امتِ مسلمہ کا حصہ ہوتا ہے۔ہمارے کچھ مہربانوں کو حالیہ سانحہ پارا چنار کے بعد وہ درجن بھر شیعہ تنظیمیں یاد آگئیں جو بقول ان کے عراق اور شام میں داعش کے خلاف لڑنے والوں کو پارا چنار سے بھرتی کر کے بھیجتی ہیں۔ حضور وہ نمبر ون ایجنسی سبز بوٹی پی کر سوئی ہوئی تھی یا اس کی نمبر ون پوزیشن آپ کی اطلاعات کی مرہون منت ہیں؟ مکرر عرض کرتا ہوں دو سو سال کے ہندی اسلام کی عمر رکھنے والے ہوا میں تلواریں چلانے اور منہ بھر کے الزام تراشی کی بجائے کبھی اپنی اداؤں پر ہی غور کر لیا کریں۔ دوسروں کی تکفیر میں جتے ہوؤں کا اپنا اسلام کتنا خالص ہے اس پر بحث اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ تالی ایک ہاتھ سے بجتی ہے کیا ؟ نہیں دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ایک ہاتھ سے بم پھوڑا جاتا ہے یا بارودبھری جیکٹ کا ریموٹ دبایا جاتا ہے۔
شیعوں نے اگر عسکری تنظیمیں بنا رکھی ہیں تو 30 ہزار جنازے دفنانے کے باوجود ردِ عمل کا مظاہر کیوں نہیں کیا ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ چور چور کا شور اس لئے مچا رہے ہیں کہ آپ کی طرف کسی کا دھیان نہ جائے۔ میرے بہت سارے دوست کہتے ہیں کہ شیعہ نسل کشی کے خلاف نہ لکھا کرو۔ سوال کرتا ہوں کیوں؟ کہتے ہیں تمہارا مقام اس سے بلند ہے ، صحافی ہو ایک فرقے کے ترجمان مت بنو۔ کبھی مشرقِ وسطیٰ کے امور کے صحافتی حافظ رابرٹ فسک کو کسی نے کہا کہ تم کرسچین ہو کر اپنے ہی ہم مذہبوں کے سامراجی عزائم کی پول کیوں کھولتے ہو؟ یہ بدعت ہمارے ملک میں ہی ہے۔ لیکن کیا ایک صحافی کی حیثیت سے کیا میں نے ریاض بسرا، ملک اسحٰق کے پولیس مقابلوں میں رخصت ہونے کی سٹوریاں نہیں لکھیں؟ جہلم اور چکوال میں قادیانیوں پر ہونے والے مظالم پر ظالموں کی نقاب کشائی کر کے کیا میں دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا تھا؟ معاف کیجیئے صحافی کا کام خبر دینا ہے تجزیہ کرنا ہے۔ بطور انسان ظالم کو ظام کہنا ہے چاہے وہ بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ کچھ دوست کہتے ہیں مسلک فروشوں کے ہتھے چڑھ گئے ہو قلم کار تو شیعہ ویب سائٹ ہے۔ سبحان اللہ آپ تکفیری لونڈے جمع کر کے واہ واہ کروائیں تو خدمتِ اسلام و پاکستان، ہم مظلوموں کی ہمنوائی کریں تو فرقہ پرست۔ بہت ادب سے کہوں گا کہ غیر جانبداری کھلی منافقت ہوتی ہے۔انسان ہو تو مظلوم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے۔ آدمی کا بھروسہ نہیں پل میں تولہ پل میں ماشہ۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ صحافت میرا ذریعہ روزگار ہے مگر روزگار کو فہم پر حاوی نہیں ہونےدیتا۔ صحافت کے ہم ایسے طلباء جب اس کوچے میں آئے تھے تو اساتذہ کرام کہا کرتے تھے اپنی فہم کے مطابق جو درست سمجھو لکھو اور پھر ڈٹ جاؤ۔ سو مجھے فتوؤں کی پرواہ ہے نہ طعنوں کی۔ جیسا ہوں ایسا ہی ہوں۔ میرے لئے شرفِ انسانیت افضل و محترم ہے۔ وقت اور خواہشوں کا قیدی تھا نہ ہوں۔ ایم کیو ایم سے شدید اختلاف کے باوجود اس پر توڑے گئے ریاستی مظالم کو درست نہیں کہتا۔ بلوچستان سے سرائیکی محنت کشوں کی لاشیں آئیں مگر ان کا دکھ فرض کی ادائیگی پر حاوی نہیں ہوا۔ سو میرے دوستو! میری پرواہ نہ کرو۔ میری تعمیر میں یہی کج ہے کہ دوسرے کے اگلے ہوئے لقموں پر زندگی بسر نہیں کرتا بلکہ اپنی محنت سے زندگی کی گاڑی کھینچ رہا ہوں۔ جو آج ہوں ایسا ہی پہلے تھا اور ایسا ہی رہوں گا۔ کوئی اپنی نسلی، مذہبی یا علاقائی شناخت پر مارا جائے گا تو اس کی شناخت پر مٹی ڈالنے کا گناہ ہرگز نہیں کروں گا۔ تکفیری درندےہیں چاہے کوئی بھی ہوں۔ تکفیریت کا نشانہ بننے والے مظلوم ہیں چاہے کوئی بھی ہوں۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ بوذری کی مستی وقت پر سچ بولنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ رام لیلائیں الاپنے والے کیا جانیں بوذری کی مستی کی سرشاری کو۔

Views All Time
Views All Time
2012
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مسئلہ کشمیر ،او آئی سی اور اقوام متحدہ کا عالمی دن - اختر سردار چودھری

One thought on “بوذری کی مستی سے ملی سرشاری | حیدر جاوید سید

  • 30/06/2017 at 8:45 شام
    Permalink

    سر آپ کا علم اور تجزیہ بہت ہے۔ سوال ہے کہ اس سارے قضئے کا کوئی حل بھی ہے؟

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: