Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

میٹر میں ہاتھ ڈالا، بجلی چلی گئی

Print Friendly, PDF & Email

جسے پیار کیا وہ ممبئی چلی گئی
جسے عشق کیا وہ دہلی چلی گئی
دل نے ارادہ کیا تھا خود کشی کا
میٹر میں ہاتھ ڈالا، بجلی چلی گئی

پوسٹ گریجویٹ کالج کی دیوار پر یہ شعر لکھنے والا کوئی بہت ہی بڑا لوزر ہو گا ۔ کچھ ایسا ہی لوزر آج اپنا آپ محسوس ہو رہا ہے۔ دل نے ارادہ کیا تھا ووٹ ڈالنے کا، NA60 کا الیکشن ہی موخر ہو گیا۔ پھر دل کو تسلی شیخ رشید کی حالت سوچ کر ہو جاتی ہے، پچھلے پانچ سالوں میں شیخ جی نے “ایکسکلوسو” انٹرویوز میں جتنی گولا باری کی تھی آج اتنے ہی ٹھنڈے پڑے ہیں۔

آپس کی بات بتاؤں تو دل کو خوشی کیساتھ ساتھ ملال سا بھی ہو رہا ہے۔ سیاست بھلے سیاہ ست بنا کر کی ہو، شیخ رشید نے ایک ٹھیٹ پنڈی بوائے والی زندگی گذاری ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں جب ہم راجا بازار رہتے تھے، 14 اگست کی شب لال حویلی سے ہونے والی آتش بازی سے پورا آسمان دور تک سرخ سنہرا ہو جایا کرتا اور ہم بچے بڑے شوق سے چھتوں پر چڑھے یہ نظارہ کیا کرتے۔گلی محلے کے سیاسی جلسے، رات گئے تک آریہ محلے میں لائوڈ سپیکرز پر چلتے ترانے گانے، جھنڈیوں سے سجا پنڈال، یہ ہلچل پنڈی میں شیخ رشید کی بدولت ہی ہوتی تھی۔ کبھی بلکہ اکثر جب بھابھڑا بازار میں لال حویلی کے سامنے سے گزرتے، بالخصوص رمضان کے مہینے میں تو لگتا جیسے کوئی میلہ لگا ہوا ہے۔ شیخ رشید عوامی کھابے کھانے والا عوامی آدمی ہے، بھانت بھانت کے لوگ آس پاس جمع کئے رکھنا، چٹ پٹی پیشن گوئیاں کرنا ان سب نے شیخ کو شیدا ٹلی، شیدا ٹلی سے سیاستدان اور سیاستدان سے “مشہوریا” بنا دیا۔

یہ بھی پڑھئے:   میری وال | مصلوب واسطی

شاید انہوں نے سیاست کا انتخاب غلط کیا۔ یہ اگر سیاست نہ کرتے تو بہت کامیاب فنکار یا اینکر پرسن ہوتے۔ کسی نے نواز شریف کے بارے میں کہا تھا یہ بڑے پائے کے سیاستدان ہیں تو آگے سے جواب آیا حالانکہ چھوٹے پائے مہنگے ہوتے ہیں اور انہیں زیادہ پسند بھی ہیں۔ ایسی ہی بڑے چھوٹے پایوں کی سیاست شیخ رشید نے کی۔ میں نے اپنے ہوش میں جتنا انکی سیاست کو جانچا، یہی دیکھا کہ انہوں نے خود کو اپنی جماعت (بشمول پی ٹی آئی) کا حصہ نہیں سمجھا بلکہ جماعت کو اپنا حصہ سمجھتے رہے۔ یہی وجہ رہی کہ کسی جماعت میں کھپ نہ سکے بلکہ جہاں گئے وہاں کھپ ڈال دی۔ پی ٹی آئی اب تک تو کھپ رہی ہے، آگے دیکھیئے۔

سنا ہے اس حلقے کا الیکشن اب بعد میں ہوگا۔ اب یہ نہ سمجھیے گا کہ میری تحریر شیخ جی کے لئے تھی تو ووٹ بھی شیخ جی کا ہو گا ➳

Views All Time
Views All Time
620
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: