ترک افواج کا عفرین پر حملہ اور امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کی بےاعتنائی

Print Friendly, PDF & Email

ترکی نے بالآخر  شمالی شام کے کرد نشین علاقوں خصوصاََ عفرین  میں فوجیں اتار دی ہیں۔ ترک بری فوجوں کو ترک فضائیہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ترکی نے شام کے کُرد نشین علاقوں پر اس وقت حملہ کیا ہے جب کُردوں کے دائمی اتحادی اور حامی امریکہ نے ان علاقوں سے اپنی افواج کو نکال لیا ہے۔  امریکی صدر ٹرمپ جو اپنی پالیسی، حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا اعلان ٹوئٹر پر ہی کرتا ہے،  اس نے ایک ٹوئٹ میں کُردوں کی سپورٹ کو سابقہ امریکی حکومتوں کی غلطی قرار دیا اور کُردوں پر وہی الزام لگایا ہے جو اس نے کچھ عرصہ قبل پاکستانی فورسز پر لگایا تھا کہ ہم نے انہیں پیسے دئیے، اسلحہ دیا، ٹریننگ دی لیکن بدلے میں انہوں نے ہمیں کیا دیا ؟ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ کُردوں نے دوسری جنگ عظیم میں ہماری کون سی مدد کی تھی جو ہم اس موقع پر اُن کی مدد کریں۔ ٹرمپ کے بقول ہم نے شام میں داعش کو شکست دے دی اور اپنا کام کر دیا ہے اب ہماری وہاں کوئی ذمہ داری نہیں ہے لہذا ہمیں  کرد علاقوں سمیت تمام شام سے فوجیں واپس بلا لینی چاہئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کے بقول کُرد اور ترک صدیوں سے آپس میں لڑتے آ رہے ہیں ہم ان کی اس لڑائی میں غیر جانبدار رہیں گے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر میں اپنی بے مثال فہم و فراست کی بنا پر اس نتیجے پر پہنچا کہ ترکی ریڈ لائن کراس کررہا ہے تو میں ترکوں کی معیشت تباہ کر دوں گا۔  ٹرمپ کے بیانات، امریکی فوجوں کی کُرد علاقوں سے واپسی اور اسی دوران ترک فوجوں کے حملے کو دیکھ کر مشرق وسطیٰ معاملات کے ماہرین  اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ترکی نے امریکہ کے گرین سگنل کے بعد شام پر حملہ کیا ہے۔

دوسری طرف امریکی افواج کی کُرد علاقوں سے واپسی کو بنیاد بناتے ہوئے امریکی پارلیمنٹ میں ٹرمپ کی پارٹی ری پبلیکن اور اپوزیشن ڈیموکیٹس سینیٹرز میں شدید سراسیمگی پھیل گئی ہے اورانہوں نے اس فیصلہ کو مشرق وسطیٰ کے امن وامان کے لئے شدید ترین خطرہ قرار دیا ہے۔ امریکی سینیٹرز کا کہنا تھا کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز میں شام کے شمالی سرحدی علاقوں کے کُردوں کا بنیادی کردار ہے جس کی حمایت کی وجہ سے امریکہ نے شام میں جاری 8سال سے زیادہ  طویل جنگ میں داعش کو شکست دی تھی۔ امریکی افواج کی تب سے اس علاقہ میں کُرد گروپوں کے ساتھ امن و امان کے قیام میں کوشاں تھے۔ داعش کے ساتھ اس طویل جنگ میں کُردوں کے 11 ہزار جوانوں نے جانیں قربان کیں اور داعش کے زیر تسلط آخری ٹھکانہ کو امسال مارچ کے مہینے میں واگزار کروایا تھا۔ امریکی سینیٹرز کا کہنا تھا کہ اگر امریکی افواج نے کُرد علاقوں سے واپسی کی تو کُردوں کی جیل میں قید داعش کے 12 ہزار قیدیوں کے جیل سے فرار کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ شاید ٹرمپ ان قیدیوں کے جیلوں سے فرار پر اس لئے لاپرواہی کر رہے ہیں کہ ان قیدیوں کی اکثریت داعش سے ہمدردی رکھنے والی عورتوں اور بچوں سے منسلک ہے یا ان میں وہ قیدی ہیں جن کا تعلق امریکہ کی بجائے یورپی ممالک سے ہے۔ جنوبی کیرلینا سے منتخب امریکی ری پبلیکن سینیٹر اور ٹرمپ کے قریبی ساتھی لنڈسے گراہم نے شمالی شام سے امریکی افواج کے انخلاء پر  صدر ٹرمپ کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اُن مظلوم اور غیر مسلح کُردوں کی زندگیاں بچانے کے لئے دعا کریں جنہیں ہم نے نہایت شرمندہ کرنے والے حالات میں  ترک طیاروں کے بموں میں مرنے کے لئے تن تنہا چھوڑ دیا ہے۔ امریکی ریاست مین (Maine) سے منتخب ری پبلیکن سینیٹر سوسن کولنز نے امریکی افواج کے انخلاء کو شدید احمقانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔ حتیٰ  کہ اقوام متحدہ میں ٹرمپ حکومت کی سابق سفیر سکھ نژاد نکی ہیلی نے بھی امریکی افواج کے کُرد علاقوں سے انخلاء کو بڑی غلطی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران کُردوں نے ہماری بنیادی اور اہم ترین مدد کی تھی۔ انہیں مرنے کے لئے چھوڑ دینا ایک سنگین غلطی ہے۔

کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی PYD کے رہنما صالح مسلم کی زوجہ عائشہ آفندی کا کہنا ہے کہ ہم نے دنیا کے امن کے لئے  اپنے جوان مروائے ہیں اور اب دنیا نے ہمیں ایک خونخوار دشمن کے سامنے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ دنیا نے ہمیں اچھا صلہ نہیں دیا ہے۔  عائشہ آفندی کا مزید کہنا تھا کہ اردگان کا ہدف اپنی سرحد سے دور شام کے علاقہ میں سیف زون بنانا  نہیں ہے اور  نہ شام کے مہاجرین کی آبادکاری بلکہ اردگان کا ہدف کُردوں کی نسل کشی ہے وہ بھی  صرف اس بہانے پر کہ علیحدگی پسند عسکری کُرد جماعت PKK  ترکی کے امن و سلامتی کے لئے  خطرہ ہے جبکہ PKK کا شام کے کُرد علاقوں میں کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ عائشہ آفندی کے بقول اردگان کے سر پر خلافت عثمانیہ کے احیاء کا بھوت سوار ہے جس کی خاطر وہ ترکی کی سرحدوں کی توسیع چاہتا ہے  اور اس راستے میں کُرد قوم ایک بڑی رکاوٹ ہے لہذا وہ کُردوں کو راستے سے ہٹانا چاہتا ہے۔ عائشہ آفندی نے ترک جارحیت کا مقابلہ کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا تسلیم ہونا کُردوں کی سرشت میں شامل نہیں ہے ہم آخری سانس تک ترکوں سے لڑیں گے۔ کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے عسکری ونگ YPJ کی خواتین برگیڈ کی کمانڈر نسرین عبداللہ کے بقول ترکی شام کے شمال پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ نسرین عبداللہ کے بقول دنیا ترکی کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکے ورنہ یاد رکھیں ترکی تمام ہمسایوں کو ہڑپ کر جائے گا۔ نسرین عبداللہ کے بقول ترکی نے کُردوں پر حملہ امریکہ اور مغرب کے گرین سگنل کے بعد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ  امریکہ قابل اعتماد اتحادی نہیں ہے اور وہ اپنے  دوستوں کو عین مشکل کے درمیان  چھوڑ جاتا ہے۔ (یہ بات کُردوں سمیت ہر اس ملک کے لئے عبرت ہے جو امریکہ کے اتحادی یا جن کا امریکہ حامی ہے)۔

یہ بھی پڑھئے:   یہ بھی نکمیّ نکلے تو آگے ہوگاکیا؟

مارچ 2011ء  سے جاری شام کی  جنگ میں اب تک 3 لاکھ کے قریب شامی شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔  شام کی آدھی آبادی ملک سے ہجرت کرگئی ہے اور 80 فیصد بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے جس کی بنیادی وجہ شام کے داخلی سیاسی بحران میں علاقائی اور عالمی طاقتوں کی مداخلت ہے۔ ترکی نے ایک بار پھر شام کے بحران کے حوالے سے فوجی مداخلت کا راستہ اختیار کیا ہے جس سے بے گناہ اور نہتے شہریوں کی ہلاکتوں، ہجرت اور بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی میں مزید اضافہ ہوگا۔ ترکی علاقائی امن و سلامتی اور سیاسی استحکام کو کس قیمت پر کب تک خطرے میں ڈالتا رہے گا یہ بات آنے والے وقت میں مزید واضح ہو جائے گی لیکن ایک چیز ابھی سے واضح ہے کہ جنگ زدہ تباہ حال شام کے ٹکڑے کر کے اپنی انا کی تسکین، توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل اور خطے میں اپنی برتری ثابت کرنے کی دوڑ میں ترکی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔

تاریخی طور پر کردوں اور ترکی کی لڑائی بہت پرانی ہے۔  ترکی میں ایک بڑی تعداد کردوں کی ہے جو ترکی سے آزادی چاہتے ہیں۔ کئی عشروں سے ان کی یہ تحریک پرتشدد ہو چکی ہے لیکن ترکی ان کو کافی حد تک دبانے میں کامیاب ہوا ہے۔ جبکہ دوسری طرف شام کی طرف بھی ترکی کی سرحد کے قریب کرد بہت بڑی تعداد میں ہیں جن کو داعش اور بشار الاسد سے لڑنے کے لئے عالمی طاقتوں نے ٹریننگ اور اسلحہ دیا ہے۔ ترکی ان کردوں کو اپنے لئے خطرہ تصور کرتا ہے لہذا ان کے خلاف آپریشن کر رہا ہے تاکہ یہ شامی کرد ترکی کے کردوں کی مدد نہ کر سکیں یا پھر ترکی کے لئے کسی قسم کا خطرہ نہ بن سکیں۔ کُردوں کے کمزور ہونے سے داعش اور النصرہ کو پھر سے موقع ہو سکتا ہےمگر  اب شام کے حالات اتنے دگرگوں ہو چکے ہیں کہ ایسی  مزید خرابی بھی اب کوئی  خاص اثر نہیں ڈالے گی۔ کرد  عوام اپنے لئے ایک الگ ملک  کردستان چاہتے  ہیں ۔ یہ ایران ، عراق ، ترکی اور شام سب کے لئے  درد سر ہیں ۔ ضرورت پڑنے  پر ہر فریق ایک دوسرے کے خلاف ان کو استعمال کر کے اس بلا کو اپنے سر سے وقتی طور پر ٹالتے رہتے ہیں  لیکن جب سے عراق اور شام میں حالات خراب ہوئےہیں امریکہ نے پالیسی اپنائی ہوئی ہے کہ شام،  عراق،  ایران اور ترکی  کے علاقوں میں آباد کُردوں کی مدد کی جائے تاکہ  ایک علیحدہ مکمل اور  آزاد کردستان بنایا جا سکے۔ اس  کردستان سے امریکہ اور اسرائیل ان  تمام مذکورہ بالا ممالک پر نظر بھی رکھ سکیں گے اور بوقت ضرورت چھیڑ چھاڑ کے مواقع بھی حاصل کرتے رہیں گے ۔ترکی نے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف  کردوں کی اچھی خاصی امدادبھی کی تھی مگر اب جبکہ امریکہ پیچھے ہٹا ہے تو ترکی ان کی کمر توڑ  رہا ہے تاکہ یہ اس  علاقے میں محکوم بن کر یا ترک شہری بن کر رہیں۔

 علاقائی ہمسایہ  ممالک میں ایران نے ابھی تک ترک افواج کی طرف سے شمالی شام پر حملوں کی مخالفت نہیں کی بلکہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے تاہم اس نے ترکی،  شام اور کردوں میں مفاہمت کرانے کی پیشکش کی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک  نے ترک جارحیت کی شدید مخالفت کی ہے۔ ترک فوجوں کے شام کے کرد نشین علاقوں پر حملے کے بارےمیں  دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ حالیہ سہ فریقی انقرہ سمٹ میں روس، ترکی اور ایران کے درمیان یہ طے ہوا ہو کہ ترکی ملکی امن و سلامتی کو دلیل بنا کر شام کے کُرد علاقوں پر حملہ کرے جس سے مستقبل میں شام کے اندر علیحدہ کرد ریاست کی تشکیل کا راستہ روکا جا سکے۔  دوسرا احتمال یہ ہے کہ امریکہ نے اردگان حکومت کو اُکسا کر ایک غیر ضروری جنگ میں پھنسا دیا ہو جہاں سے سوائے معاشی نقصان، عالمی رائے عامہ میں حیثیت کی خرابی، سیاسی شکست اور پشیمانی کے ترکی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔  یہ امریکہ کا ترکی سے بدلہ ہوگا ان اختلافات کا جو سرد جنگ کے بعد سے امریکہ اور ترکی کے درمیان چلے آرہے ہیں۔ بادی النظر میں دوسرا احتمال زیادہ قوی دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   کیموفلاج تکفیری فاشزم میں اعتدال پسندی کی تلاش – دوسرا حصہ

ممتاز دانشور اور مشرق وسطیٰ امور کے ماہر سید ابن حسن نے لکھا ہے کہ جنگیں جیتنے کے لئے لڑی اور عبرت کے لئے  پڑھی جاتی ہیں۔ ہر دوسری جنگ کی طرح شام کی 8 سالہ جنگ میں بھی فتح و شکست کے علاوہ بہت ساری عبرتیں ہیں۔ جنگوں سے حاصل ہونے والی عبرتیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔ شام جنگ کی ایک عبرت جو شام کی تازہ صورتحال میں مزید تازہ ہوگئی ہے وہ شام جنگ میں کردوں کے کردار کے حوالے سے ہے۔ شامی کردوں نے اس وقت علیحدگی کا نعرہ لگایا جب شام کی فوج اور حکومت شامی عوام کو داعش کے درندوں سے بچانے میں مصروف تھی۔ کردوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور شام کی مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا۔ شامی کردوں کا یہ اقدام شام کی مرکزی حکومت کی پیٹھ میں خنجر کے مترادف تھا۔ ایسے میں کُردوں نے ہر اس علاقائی اور بین الاقوامی طاقت کے تلوے چاٹے جن سے انہیں اپنی غیر قانونی حکومت کی مضبوطی میں مدد کی ذرا بھی امید تھی۔ شام میں بشار الاسد حکومت کی مخالف طاقتوں خصوصاً امریکہ اور اسرائیل نے بھی اپنے اہداف کے پیش نظر کُردوں کو خوب استعمال کیا، کردوں کو سبز باغ دکھائے گئے، کردوں کی حفاظت کی ضمانتیں دی گئیں۔ اور پھر کچھ ہی عرصے بعد ترکی نے عفرین پر حملہ کر دیا۔ کرد ترک فوجوں کے محاصرے میں آگئے۔اس موقع  پر  روس نے کُردوں کو پیشکش کی کہ اگر وہ اپنے زیر تسلط علاقے شام کی مرکزی حکومت کے حوالے کردیں تو شام کی سرکاری فوجیں اور اس کے اتحادی انہیں  نجات دلانے کے لئے عفرین آسکتے ہیں لیکن کردوں نے روسی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ عفرین کُردوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور ترکی نے وہاں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو بٹھا دیا۔ 16 فروری 2018 کو حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کُردوں کو ایک نصیحت کی جس کی اہمیت کا احساس گزشتہ روز اس وقت ہوا جب   طیب اردگان اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ایک بار پھر کُردوں پر حملہ آور ہوا۔ سید حسن نصراللہ نے کردوں کو کہا تھا:
“امریکہ تمہیں شام کی حکومت، ایران، روس اور مزاحمتی بلاک کے خلاف بطور جنگی ٹول استعمال کرے گا اور آخر میں اپنے مفادات کے پیش نظر تمہاری مدد سے ہاتھ کھینچ لے گا اور تمہیں مفت میں بیچ دے گا”۔

سید حسن نصراللہ کی یہ پیشگوئی سو فیصد درست ثابت ہوئی ہے۔ امریکہ نے کردوں کی حفاظت کی ذمہ داری سے ہاتھ اٹھا لیا ، ترکی نے امریکہ کے گرین سگنل سے شام کے کردوں پر حملہ کر دیا ہے۔ چند کرد شہروں پر ترکی نے قبضہ کر لیا ، سینکڑوں کُرد مارے گئے اور ہزاروں اگلے چند دنوں میں مارے جائیں گے یا ذلت آمیز شکست سے روبرو ہوں گے۔

یہ بات درست ہے کہ ترکی کا شامی کُردوں پر حملہ غیر انسانی، غیر اخلاقی اور اس وقت غیر ضروری ہے، یہ بات بھی درست ہے کہ یہ حملہ شامی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور شام کے امن پراسس کو بھی متاثر کرسکتا ہے اور شاید اسی وجہ سے شامی حکومت سمیت دنیا کی اکثر مہذب اور سنجیدہ حکومتوں نے ترکی کے شام پر تازہ حملے کی مذمت کی ہے لیکن جنگیں کسی نہ کسی صورت میں اپنی عبرتیں ظاہر کرتی رہتی ہیں۔  ضرورت اس چشمِ بینا کی ہوتی ہے جو ان عبرتوں کو دیکھ سکے۔

Views All Time
Views All Time
202
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: