گونگے بہروں کی زبان

Print Friendly, PDF & Email

مجھے بال کٹوانے جانا تھا مگر میں باتونی حجام سے بہت تنگ تھا۔ لہذا میں نے ترکیب سوچی اور میں نے حجام کے پاس جا کر اشاروں میں اُسے سمجھایا کہ میں گونگا، بہرہ ہوں اور بال کٹوانے آیا ہوں۔ اُس نے مجھے ہاتھوں سے اشارے کر کے سمجھایا کہ میں سیٹ پر بیٹھ جاؤں۔

جب میں بیٹھا تو اُس نے ہاتھوں کی زبان سے میرے ساتھ باتیں کرنا شروع کر دیں جو میرے سر کے اوپر سے گزرنا شروع ہو گئیں کیونکہ میں تو یہ زبان نہیں جانتا تھا مگر وہ حجام بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ بالآخر میں نے اُسے تنگ آ کر کہہ ہی دیا، ’’بھائی جی! چپ کر کے میرے بال کاٹو یار‘‘

Views All Time
Views All Time
603
Views Today
Views Today
4
یہ بھی پڑھئے:   پیپلز پارٹی کا اسلام آباد لاک ڈوان میں شرکت سے انکار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: