Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جھوٹے وعدے کرنا آسان ہے!۔ مگر صاحب جی، جن کی امیدیں ٹوٹتی ہیں، ان کے غصّہ کا کیا

Print Friendly, PDF & Email

جمیل کھوڑو اپنے ماں باپ اور بہن کے ساتھ مکران کے ساحل پر ایک بستی میں رہتا تھا۔ ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کی طرح پیدا ہوتے ہی سمندر کی مہک اُس کے رگ و پے میں کچھ اس طرح سرایت کر چکی تھی کہ وہ سمندر سے دور رہنے کے بارے سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔ صبح ہوتے ہی وہ سمندر پر نکل جاتا اور اُس وقت تک وہاں گھومتا رہتا جب تک وہ تھک کر چور نہ ہو جاتا۔ سردی ہو یا گرمی، دھوپ ہو یا بارش، صبح سویرے اٹھ کو ساحل پر گھومنا اُسے دنیا میں سب سے اچھا لگتا تھا۔ ساحل پر کھڑے ہو کر وہ دیر تک دور جاتے جہازوں کو دیکھتا، پانی کی سرسراہٹ، لہروں کے چٹانوں سے ٹکرانے کا شور، جہازوں کو خبردار کرنے والے ہوٹرز کی آوازیں سنتا۔ ننگے پاؤں گیلی ریت کا سرکنا اور پانی کا پاؤں سے ٹکرانا اُسے مسحور کر دیتا۔ دیر تک ساحل پر گھومنے سے اُسے خوب بھوک لگتی اور وہ بہت شوق سے مچھلی اور سمندری فوڈ کھاتا چاہے وہ جھینگے ہوں، کیکڑے ہوں یا سمندری فوڈ کی کوئی بھی قسم ہو۔

ایک دن اُس نے تین بادبانوں والی ایک مچھلی پکڑنے والی کشتی (فش ٹرالر) دیکھی تو اُسے حاصل کرنے کے لئے اُس کا دل مچل اُٹھا اور وہ دیر تک اُسے دیکھتا رہا اور اس کے ساتھ ساتھ ساحل پر چلتا رہا۔ راستے میں اُس نے ساحل کے ساتھ ایک چٹان کے پیچھے گھوڑوں کی نعل جیسی شکل والے کیکڑوں کا ایک ٹھکانہ بھی دیکھا اور سوچا کہ وہ اپنے ماہی گیر باپ کو اس بارے بتائے گا تاکہ وہاں سے ان نایاب کیکڑوں کو پکڑ کر فروخت کر سکے۔ مغرب سے کچھ پہلے جب وہ گھر پہنچا تو اُس کی ماں نے اُسے بتایا کہ وہ کھانے میں جھینگے بنا رہی ہے جو اُس کے باپ نے ایک دن پہلے ہی پکڑے تھے اور ان میں سے کچھ گھر میں پکانے کے لئے لے آیا تھا۔ وہ جھینگے کچن ٹیبل پر رکھے ہوئے تھے۔ پانی پیتے ہوئے جمیل نے ان جھینگوں کو دیکھا جو ابھی زندہ تھے اور اپنی ٹانگیں اور پَر ہلا رہے تھے۔ جمیل ان کا معائنہ بھی کر رہا تھا، اُسے سخت بھوک لگی ہوئی تھی اور وہ سب سے بڑا جھینگا اپنے لئے مخصوص کرنا چاہتا تھا۔ اِن میں سے ایک جھینگا باقی سب سے غیر معمولی طور پر بہت بڑا تھا۔ اِس کے بیرونی خول کا رنگ سیاہ تھا۔ جمیل نے اسے اٹھایا اور ننھے موتیوں کی طرح چمکتی اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

’’ہیلو باس‘‘، جھینگے نے سرگوشی کی۔ ’’مجھے اس برتن سے نکالو۔ میں تمہاری ساری خواہشیں پوری کر سکتا ہوں‘‘۔
جمیل تو حیران و ششدر رہ گیا۔ جھینگا اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرنے ہی لگا تھا۔
’’اپنے آپ کو سنبھالو، بچے۔ وہ موٹی عورت کبھی بھی ہماری طرف متوجہ ہو سکتی ہے‘‘۔
’’اوئے، وہ میری ماں ہے‘‘، جمیل نے کہا۔
’’اوہ، میری معذرت۔ دیکھو باس۔ تم مجھے عقل مند دکھائی دیتے ہو۔ جلدی سے کوئی ترکیب سوچو اور مجھے یہاں سے نکالو‘‘
۔جمیل نے کچھ سوچنا شروع کیا۔ اُس نے جھینگے کو بلی کی طرح سہارتا، چمکارتا ہوا اپنی ماں کی طرف چل دیا جو چولہے پر پانی ابالنے کی تیاری کر رہی تھی۔ 
’’ماں، یہ بہت ہی خوبصورت جھینگا ہے۔ میں نے ساری زندگی ایسا جھینگا نہیں دیکھا۔ میں ڈنر میں کھانے کی بجائے اِسے پالنا پسند کروں گا‘‘۔

جمیل کی ماں یہ سن کر بہت حیران ہوئی اور کہا، ’’جمیل تمہیں تو جھینگے بہت پسند ہیں اور تمہارے پاپا نے خاص طور پر یہ بڑے بڑے جھینگے گھر پکانے کے لئے بھیجے ہیں‘‘۔ 
’’پلیز ماں، مجھے یہ جھینگا پالنا ہے، آپ دوسرے جھینگے پکا لیجئے اور میرا حصّہ کم کر دیجئے گا‘‘۔
’’اچھا بابا۔ جیسے تمہاری مرضی۔ اب یہاں سے جاؤ اور مجھے کھانا پکانے دو، تمہارے پاپا آنے والے ہیں‘‘۔
’’واؤ ماں۔ بہت شکریہ‘‘۔ جمیل جلدی سے جھینگا لے کر کچن سے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گیا۔
’’واؤ، یہ تم نے بہت وقت پر سوچا۔ اس گندے برتن میں پانی ابلنے ہی والا تھا۔ باس، تم بہت ذہین ہو۔ یہ تمہارا سب سے لکی دن ہے کیونکہ تم نے مجھے پا لیا ہے، میں محنتی ہوں، میں بہت ایماندار ہوں۔ میں نے بہت کارنامے سر انجام دئیے ہیں۔ میں دیکھنے میں بھی بہت سمارٹ ہوں۔ بس یہ سمجھو، مَیں بہت جادوگر جھینگا ہوں‘‘۔
’’واقعی؟‘‘۔

’’ہاں، یہ بالکل درست ہے۔ اور مجھے معلوم ہے کہ تمہاری بہت خواہشیں ہیں۔ اُن کو پورا کرنے کے لئے مجھے تمہارے لئے بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ بولو، تمہاری خواہشیں ہیں نا‘‘۔
’’ہاں، کچھ خواہشیں ہیں تو صحیح‘‘۔
’’اوکے، سب ٹھیک ہو گیا۔ مجھے سب سے پہلے کچھ چیزیں چاہئے ہوں گی۔ جیسا کہ کچھ پانی ۔۔ نمک والا پانی اور شیشے کا ایک بڑا مرتبان تاکہ میں باہر دیکھ سکوں۔ اور ہاں، برائے مہربانی میرے پنجوں سے یہ ربڑ بینڈ ہٹا دو تاکہ میں آزادانہ طور پر پانی میں تیر سکوں‘‘۔ 
جمیل نے بہت تلاش اور دِقّت کے بعد گھر کے پرانے کاٹھ کباڑ سے شیشے کا ایک مرتبان ڈونڈھ نکالا۔ اُس نے اس مرتبان میں پانی، سمندری نمک ڈالا اور جھینگے کو اس میں منتقل کر دیا۔

’’ہیلو۔ یہ تو بہت ٹھنڈا پانی ہے بچے۔ فورا’’ جاؤ اور میرے لئے نیم گرم پانی لاؤ‘‘۔
’’تم بہت فتنہ پسند ہو‘‘، جمیل نے کہا۔ ’’میرا خیال تھا کہ جھینگے گرم پانی پسند نہیں کرتے‘‘۔
‘‘میں نے گرم پانی کب کہا۔ یہ نیم گرم پانی تھا تھا بچے۔ نیم گرم پانی لاؤ اور کراچی میں اپنی شاندار چھٹیوں کے بارے غورکرو‘‘۔
جمیل جھینگے کے لئے نیم گرم پانی لایا۔ پھر اُس کی ماں نے اُسے کھانے کے لئے آواز دی جہاں جمیل کو لہسن کی چٹنی کے ساتھ دوسروں کے مقابلہ میں بہت کم جھینگا مچھلی کھانے کو ملی۔ اُس رات سونے سے پہلے جمیل اپنے بیڈکے بائیں طرف جھکا جہاں شیشے کا مرتبان پڑا ہوا تھا۔ لگتا تھا کہ جھینگا اس نمکین نرم گرم پانی میں مزے سے اونگھ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   گلگت بلتستان میں صحافت کے نام پر اخباری کاروبار | شیرعلی انجم

’’ہیلو‘‘۔ جمیل نے کہا، ’’میں نے ایک خواہش سوچ لی ہے۔ یہ کیسے پوری ہو گی‘‘۔
’’ہممم ۔ او اچھا، چلو مجھے بتاؤ کہ تم نے کیا سوچا ہے‘‘۔
میں ہمیشہ سے ہی ایک فش ٹرالر  لینا چاہتا تھا۔ بہت بڑا نہیں مگرچھوٹا فش ٹرالر جس پر میں سبز اور سفید رنگ کا جھنڈا بناؤں۔ میں اُس کا نام گرین ڈالفن رکھوں گا۔ میں اُس پر ساری دنیا کا چکر لگانا چاہتا ہوں۔ موسمی طوفان، پہاڑ جیسی لہروں کو دیکھتے، مچھلیاں پکڑتے، رسیوں کو بَل دیتے ہوئے، جسم پر ٹیٹو بناتے ہوئے، پائپ پیتے ہوئے، پیانو بجاتے ہوئے میں یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور افریقہ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔

’’ہیلو، بچے۔ کوشش کرو کہ تمہارا خواب اتنا بڑا نہ ہو جائے کہ اسے پورا کرنا ممکن ہی نہ رہے۔ میری ڈیل یہ ہے کہ تمہیں ایک فش ٹرالر چاہئے۔ اوکے، اب تم آرام سے سو جاؤ اور فش ٹرالر کےخواب دیکھو۔ میں سیارہ زہرہ کی دی ہوئی جادوئی طاقت سے تمہارے لئے سبز اور سفید رنگ کا فش ٹرالر تیار کروں گا جو ساحل پر تمہارا انتظار کر رہا ہو گا‘‘۔ 
اُس ساری رات، جمیل گرین ڈالفن کے خواب دیکھتا رہا۔

اگلی صبح سویرے،جمیل نے ساحل کی طرف دوڑ لگا دی تاکہ وہ اپنے گرین ڈالفن کو حاصل کر سکے جو ساحل پر لنگر انداز اُس کے آنے کا منتظر ہو تاکہ وہ لہروں کا سینہ چیرتے ہوئے دور تک سمندر کی سیر کو نکل سکیں۔ مگر ساحل پر اُس نے پانی کی خالی پلاسٹک کی بوتلوں، مری ہوئی جیلی فش اور کچھ لکڑی کے ٹکڑوں کے علاوہ کچھ بھی نہ دیکھا۔ وہ بہت غصّہ میں تھا مگر جب وہ گھر واپس پہنچا تو سکول جانے کا وقت ہو چکا تھا۔ اس لئے وہ سکول چلا گیا۔ 

سکول سے واپسی پر وہ سیدھا جھینگے کے مرتبان کے پاس آیا تاکہ اُس سے بات کی جا سکے۔
’’اوہ۔ سچ کہوں بچے۔ تم رات کو مجھے کھانا دینا بھول گئے۔ تم خود ہی بتاؤ کہ خالی پیٹ کس طرح ایک فش ٹرالر کا جادو سرانجام دیا جا سکتا ہے‘‘۔
’’اوکے، اوکے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جھینگے چھوٹی مچھلیاں، سیپ مچھلی اور سمندری گھاس کھاتے ہیں۔ کیا یہ ٹھیک ہے‘‘۔ 
’’ہاں۔ اس طرح کا کھانا ٹھیک ہے مگر ایک اچھا زنگر برگر، بھنی ہوئی کستورا مچھلی اور کچھ پالک کے ساتھ اگرتمہارے پاپا کے خاص مشروب کے چند گھونٹ بھی مل جائیں تو میری جادوئی طاقتیں بہت بڑھ جائیں گی اور تمہارا کام آسان ہو جائے گا۔ تمہیں معلوم ہے نا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں‘‘۔
’’ہاں، میں سمجھ رہا ہوں‘‘۔جمیل بے چارے نے بمشکل وہ سارا سامان اکٹھا کیا جس کے لئے اسے اپنی بہن سے کچھ قرض بھی لینا پڑا۔ پھر اُس نے یہ سارا کھانا لا کر جھینگے کے آگے رکھا جو اس نے مزے لے لے کر چٹ کر دیا۔

’’واہ، کیا مزے کا کھانا تھا۔ ہاں، اب بتاؤ کہ تم کیا سوچ رہے تھے‘‘۔
’’ایک فش ٹرالر جو سبز اور سفید رنگ کو ہو اور جس کے دو بادبان ہوں‘‘۔
’’اوہ، ہاں سنو، بچے۔ کیوں نہ ہم جادو کسی چھوٹی چیز سے بنانا شروع کریں اور پھر بعد میں بڑی خواہشات کی طرف چلیں۔ بہت دن ہوئے ہیں کہ میں نے جادو نہیں کیا اس لئے میں کچھ آؤٹ آف پریکٹس ہوں‘‘۔
جمیل نے کچھ دیر سوچا اور ہاں میں سر ہلا کر کہا، ’’اچھا چلو، پھر زاویہ پیما آلہ (sextant) کیسا رہے گا‘‘۔کیا کہا، زاویہ پیما آلہ‘‘۔’
’ہاں۔ وہی پیتل کا بنا آلہ سُدس (sextant) جِس کے ذِریعے زاویاتی فاصلے ناپے جاتے ہیں یہ جہاز رانی میں راہنمائی کے لیے استمال ہوتا ہے۔ اس میں لینز لگے ہوتے ہیں اور ایک شیشہ بھی جس سے سورج کا زاویہ دوپہر میں اور رات میں ستاروں کا زاویہ جہاز کی منزل کی طرف جانے والے راستہ کی طرف ناپا جاتا ہے۔ میرے پاس ایک کتاب ہے جس میں آلہ سُدس کے استعمال کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ مگر یہ sextant بہت مہنگے ہوتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ میرے والدین مجھے یہ نہیں خرید کر دے سکتے‘‘۔نوٹ:۔  (اب اسے آلہ کو GPS نے تقریبا’’ مکمل طور پرreplace کر دیا ہے)۔
’’یہ چھ طرفی (six-shooter) چیز کتنی بڑی ہوتی ہے‘‘۔’’اسے آلہ سُدس (sextant) کہتے ہیں اور میرے خیال میں یہ ایک مووی کیمرہ کے جتنی بڑی ہوتی ہے‘‘۔
’’ٹھیک ہو گیا۔ اب ہمیں سو جانا چاہئیے۔ یاد رکھنا کہ تمہیں رات بھر اُس  سیکسوفون (saxophone) کے خواب دیکھنے ہیں جو تم چاہئیے۔ جب تم صبح اُٹھو گے تو ایک نیا اور چمکتا ہوا تمہارے پاس موجود ہو گا‘‘۔جمیل صبح سویرے بہت جوش سے اُٹھا اور سوچا کہ اپنے آلہ سُدس (sextant) سے صبح سویرے ساحل پر جا کر سورج کا معائنہ کرے۔ مگر اُسے کچھ بھی نہ دکھائی دیا۔ اُس نے جھینگے کے مرتبان کو کھٹکھٹایا اور اسے گہری نیند سے جگایا۔

’’ہیلو‘‘ جمیل نے کہا، ‘‘وہ کہاں ہے‘‘۔
’’کون، کہاں ہے بچے۔ تم مجھے کیوں پریشان کر رہے ہو‘‘۔
’’وہی آلہ سُدس (sextant) جس کی میں نے خواہش کی تھی‘‘۔
’’اوہ۔ سنو بچے۔ میں نے بہت کوشش کی۔ بہت ایمانداری سے محنت کی لیکن میرا جادو کام نہیں کر سکا کیونکہ میں اکیلا تھا‘‘۔
’’مجھے نہیں پتہ تھا کہ جھینگے تنہائی بھی محسوس کرتے ہیں‘‘۔
’’بالکل، ہم محسوس کرتے ہیں۔ ویسے ہی جیسے سب دوسرے محسوس کرتے ہیں۔ مَیں اب تمہیں سمجھاتا ہوں کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔ تمہارے قصبہ میں ایک بڑی مچھلیوں کی دکان ہے۔ تم وہاں جاؤ اور اُس کے مالک سے جا کر کہو کہ تمہیں سب سے خوبصورت مادہ جھینگا چاہئے جس کا وزن زیادہ بھی نہ ہو اور کم بھی نہ ہو۔ بس یہی دو پاؤنڈ کے لگ بھگ ہو۔ جس کی لمبی ہرنی جیسی ٹانگیں ہوں۔ پنکھے کی شکل کی دم ہو۔ نازک پنجے ہوں جن پر یقینی طور پر ربڑ بینڈ چڑھے ہوئے ہوں۔ کیا تمہیں سمجھ آ گئی ہے بچے‘‘۔ 

یہ بھی پڑھئے:   اعلیٰ نسل کے دانشور کا 29سال قبل کا ارشاد | حیدر جاوید سید

’’ہاں۔ میں سمجھ گیا ہوں‘‘۔جمیل بے چارے نے اپنا پیسے جمع کرنے والے منی بنک توڑا، اپنی بہن سے سارے جمع شدہ پیسے بطور قرض لئے اور ان سب پیسوں سے فش سٹور کی سب سے خوبصورت نیلے خول والی مچھلی خرید کر لے آیا۔ جادوئی جھینگا نیلے خول والی اس مادہ جھینگا سے بہت ہی خوش تھا۔ اُس نے اپنی ننھی موتیوں جیسی آنکھوں سے اشارے کئے، اپنے پنجوں کے کڑاکے نکالے اور اپنے پروں کو سیدھا کر کے اُس کے اردگرد کئی چکر لگائے۔

’’او لا لا۔ او او، بہت اچھے بچہ۔ یہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ تم نے اسے لا کر بہت ہی اعلیٰ کام کیا ہے۔ اب تم جاؤ اور ہمارے کھانے یینے کا بندوبست کرو‘‘۔
’’پھر تم مجھے آلہ سُدس (sextant) لے دو گے‘‘؟۔
’’دیکھو، اس پر بات کرتے ہیں۔ بچے، سنو۔ یہ آلہ سُدس(sextant) تھوڑا مشکل ہے۔ میں تو اس کے بارے جانتا تک نہیں۔ شاید تم کسی اور سادہ سی چیز کی خواہش کرو جسے پورا کرنا آسان ہو‘‘۔
’’اچھا، چلو ٹھیک ہے۔ جہاز والی سیٹی کے بارے کیا خیال ہے جو گلے میں ڈالنے والی رسی کے ہمراہ آتی ہے۔ پھر کم سے کم میں یہ ہی سوچ لیا کروں گا کہ میں دنیا کے گرد چکر لگانے والے کسی جہاز پر ملازمت کرنے والا ہوں۔ تم یہ تو مجھے دلا ہی سکتے ہو نا‘‘۔
’’کیوں نہیں بچے۔ جہاز کی سیٹی سے زیادہ سادہ اور آسان کیا ہو سکتا ہے۔ اب تم یہاں سے جاؤ تاکہ میں اور یہ خوبصورت خاتون ایک دوسرے سے اچھی طرح مانوس ہو سکیں‘‘۔
مرتبان سے آنے والی عجیب طرح کی آوازوں نے ساری رات جمیل کو جگائے رکھا اور ٹھیک سے سونے نہیں دیا۔ جب وہ سو کر اٹھا تو اگلی صبح بھی پورے گھر میں جہاز کی سیٹی کا کوئی سراغ نہیں تھا۔

جمیل کو بہت غصّہ آ گیا۔ ’’اوئے، میں نے جس سیٹی کی خواہش کی تھی، وہ کہاں ہے۔ تم نے کہا تھا کہ یہ بہت آسان ہے۔ کیا تم واقعی میں ایک جادوگر جھینگے ہو یا صرف تقریریں ہی کیا کرتے ہو‘‘۔
’’ہاں۔ بچے میں واقعی ایک جادوگر جھینگا ہوں۔ میں دراصل تمہیں یہ بتانا بھول ہی گیا کہ مجھے جادو والے کپڑے چاہئے ہوں گے، تم جانتے ہو نا۔ وہ ریشمی ٹوپی، بغیر آستین کے قبا اور ایک کالی چھڑی جس کے ایک سِرے پر سفید دستہ لگا ہو جسے میں جادو کی چھڑی کے طور پر استعمال کر سکوں۔ اس کے علاوہ مجھے اپنی نئی دوست کے سامنے خود کو ہیرو بنا کر بھی پیش کرنا ہے‘‘۔

جمیل نے اپنی جیکٹ پہنی۔ جادوئی جھینگے کو مرتبان سے باہر نکالا اور ساحل کی طرف چل دیا۔
’’کیا ہوا بچے۔ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ تم بہت غصّہ میں لگ رہے ہو۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ مَیں مزید محنت کرنے کی کوشش کروں گا۔ میں کسی بھی لفظ پر بغیر اٹکے ہوئے حلف لیتا ہوں کہ میں جادو کر کے تمہارے سارے مسئلے حل کر دوں گا۔ دیکھو، دیکھو تم کیا کرنے جا رہے ہو۔ کہیں تم مجھے کسی ریسٹورانٹ میں فروخت کرنے کے لئے تو نہیں لے جا رہے‘‘؟
۔جمیل نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ وہ ساحل تک پہنچا اور اُس گہرے گھاٹ کی طرف چل دیا جہاں کبھی اُس نےگھوڑے کی نعل والی شکل کے کیکڑے دیکھے تھے۔ جھینگے نے جب یہ دیکھا تو وہ خوف سے کانپنے لگ پڑا۔
’’تم کیا کرنے جا رہے ہو بچے‘‘۔
’’میں تمہیں وہاں پھینکنے جا رہا ہوں جہاں تمہاری بکواس سننے والا کوئی بھی نہ ہو۔ تم کوئی جادوئی جھینگے نہیں ہو‘‘۔

’’ارے نہیں، یہ مت کرو بچے۔ یہ تو مجھے قتل کر دینے کے برابر ہوگا۔ یہاں تو کیکڑے ہیں جو مجھے کھانے کی کوشش کریں گے۔ پھر یہاں مچھیرے بھی ہیں جو مجھے جال لگا کر پکڑیں گے۔ یہاں بہت اندھیرا بھی ہے اور یہاں خوراک حاصل کرنا بہت مشکل ہو گا۔ میں بہت جادوئی ہوں۔ میں لمبی تقریریں کر لیتا ہوں۔ مَیں محنتی بھی ہوں، مَیں بہت ایماندار بھی ہوں۔ مَیں نے بہت کارنامے سر انجام دئیے ہیں۔ اور تو اور مَیں دیکھنے میں بھی بہت سمارٹ ہوں۔ دوسرے جھینگے بہت خراب ہیں۔ گندے ہیں۔ کرپٹ ہیں۔ میں ہوں نا ایمان دار، محنتی، سمارٹ‘‘۔

’’نہیں۔ تم صرف سب سے بڑے جھوٹ ہو۔ تم جھوٹ بول کر دھوکہ دیتے ہو۔ جھوٹ خواب دکھاتے ہو‘‘۔ یہ کہہ کر جمیل نے جھینگے کو گہرے پانی میں پھینک دیا۔ اس نے اپنے پَروں کو ہوا میں پھیلانے کی کوشش کی۔ پانی میں گرنے سے ہلکا سا چھپاکا ہوا۔جھوٹا اور جعلی جادوئی جھینگا ایک دفعہ سطح پر ابھرا اور پھر پانی میں گم ہو گیا۔ پانی کی سطح پر سرف چند بلبلے ہی ابھرے تھے جو کچھ لمحوں میں آہستہ آہستہ ختم ہو گئے۔جمیل کھوڑو اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ اس نے سمندر کی طرف ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا تھا،
’’جھوٹے وعدے کرنا آسان ہے!۔ مگر صاحب جی، جن کی امیدیں ٹوٹتی ہیں، ان کے غصّہ کا کیا‘‘؟۔

Views All Time
Views All Time
324
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: