Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

دوسروں کی بجائے اپنا آپ ٹٹولنا فائدہ مند رہتا ہے

Print Friendly, PDF & Email

ممبئی کا رہنے والا ایک سُنار لکھنؤ آیا تو اس نے ایک محفل میں زیورات رکھنے والے اپنے صندوق کو کھولا۔ یہ صندوق رنگ برنگے زرق برق قیمتی اصلی موتیوں سے لبالب بھرا ہوا تھا۔ سُنار نے ان موتیوں کی جو قیمت مانگی وہ انتہائی ارزاں تھی اس لئے دیکھتے ہی دیکھتے تمام موتی فروخت ہو گئے۔ سُنار نے اہنے معاون کو دیگر سامان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم دے کر واپس روانہ کر دیا اور خود اس سہ روزہ محفل میں رہ کر اس سے لطف اندوز ہونے لگا۔

محفل کے آخری دن کچھ لوگوں نے ازراہ تجسس سُنار سے پوچھا کہ کچھ اور بھی ہے تو وہ بھی فروخت کے لئے سامنے رکھے۔ سُنار نے کہا کہ “ایک ایسا نگینہ ہے کہ آپ سب اسے دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ وہ شاید آپ قبول نہ کر سکیں”۔ محفل کے شرکاء نے شور مچایا کہ پھر تو اسے ضرور دکھایا جائے اور اس کی قیمت بتائی جائے۔
بالآخر سُنار نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک نہایت قیمتی موتی سامنے رکھ دیا جس کا سائز رائج الوقت قیمتی موتیوں کے دگنا سے بھی بڑا تھا۔ سُنار نے اس کا نام شب افروز بتایا کیونکہ یہ اندھیرے میں چمکتا تھا۔ محفل میں فورا” اندھیرا کیا گیا اور واقعی موتی جگمگا رہا تھا۔ سُنار نے اس موتی کی جو قیمت مانگی وہ واقعی اتنی تھی کہ کسی میں بھی اسے خریدنے کی ہمت نہ پیدا ہو سکی۔
محفل تمام ہوئی اور سب نے گھروں کو روانگی شروع کی۔ سُنار نے بھی ممبئی واپسی کا قصد کیا اور محفل سے رخصت لینے لگا۔

یہ بھی پڑھئے:   دارشکوہ کے نام بلوچ ادیب کا خط

ایک ٹھگ چور جو اسى محفل میں بیٹھا تھا پوچھنے لگا کہ “جناب کہاں کے ارادے ہیں”۔
سُنار نے جواب دیا “ممبئی جا رہا ہوں”۔
چور نے کہا کہ ” اتفاق دیکھیں، میرا بھی وہیں کا پروگرام ہے۔ چلیں مل کے چلتے ہیں”۔
یہ سُنار بھى سمجھ گیا کہ یہ میرا ہم سفر نہیں ہے بلکہ اس موتى کے پیچھے ہے۔ چونکہ سمجھدار تھا اس لئے کہنے لگا، “ہاں، ہاں۔ آؤ چلتے ہیں”۔ کیونکہ خطرہ تھا کہ اگر انکار کیا تو اپنے شہر میں کہیں نقصان ہی نہ پہنچا دے۔
دونوں مل کر چل پڑے۔ سارا دن سفر کیا اور شام کو کو جب سونے لگے تو چور نے اپنى واسکٹ اُتار کر علیحدہ ایک جگہ پر لٹکا دی۔ سُنار نے چور سے نظر بچا کر وه قیمتی موتى اپنی جیب سے نکال کر چور کی واسکٹ کی اندرونی جیب میں اس طرح رکھ دیا کہ اس کی روشنی باہر نہ آ سکے۔

اب سُنار خود تو بے فکر ہو کر سو گیا مگر چور ساری رات کروٹیں بدل بدل کر کچی پکی نیند سوتا رہا۔ بالآخر نصف شب کے بعد اُٹھا اور سُنار کى جیب سمیت اس کا سب سامان دیکھنے لگا۔ لیکن شب افروز اگر سُنار کے سامان میں کہیں ہوتا تو ملتا۔ موتى نہ ملا تو چور بھی اخر تھک ہار کر صبح کے نزدیک سو گیا۔
اگلی صبح اُٹھتے ہی سُنار نے سوتے ہوئے چور سے نظر بچا کر شب افروز واپس اپنی جیب میں رکھ لیا۔ جب چور اُٹھا تو اس نے ناشتہ کرتے ہوئے سُنار سے باتوں باتوں میں پوچھا کہ “تمہارے پاس وه جو قیمتی موتى شب افروز کہاں ہے اور وہ رات کو چمک کیوں نہیں رہا تھا”۔

یہ بھی پڑھئے:   حسینی برہمن کون ہیں؟

سُنار نے موتى جیب سے نکال کر دکھایا اور کہا کہ “یہ تو میرے پاس ہے مگر یہ کپڑے میں لپیٹ دیں تو نہیں چمکتا”۔
چور حیران ہو گیا کہ میں نے تو اس کى پورى جیب چھان ماری لیکن مجھے یہ نہ ملا۔ چلو کوئی بات نہیں، آج رات نکال لوں گا۔
سُنار نے اگلى رات پھر وہی عمل کیا۔ ادھر چور بھى سارى رات ڈھونڈتا رہا لیکن کچھ نہ ملا۔ صبح کو پھر وہی ماجرہ کہ موتى سُنار کى جیب سے نکل آیا۔ یہی کام تین سے چار دن چلتا رہا۔

آخر جب وہ ممبئی سے ایک دن کی دوری پر رہ گئے تو چور نے اس صبح سُنار سے کہا کہ “میں آپ کا ہم راہی نہیں تھا بلکہ آپ کے ساتھ شب افروز کی وجہ سے تھا۔ میں نے آج آپ کو اُستاد مانا مگر مجھے یہ تو بتائیں کہ آخر آپ یہ موتى رات کو رکھتے کہاں تھے”۔
سُنار نے کہا کہ “میاں تو اوروں کى جیبیں یا کمزوری ٹٹولتا رہا مگر کبھى اپنى جیب میں بھی تو ہاتھ ڈالا ہوتا”۔
آج ہمارى مثال بھی اس چور کى سى ہے جو لوگوں کے عیوب اور کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے چکر میں کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھتے تک نہیں۔

Views All Time
Views All Time
222
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: