Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

گارسیا مارکیز سے مکالمہ۔ انٹرویو نگار : مارلائز سائمنز انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال

Print Friendly, PDF & Email

گیبرئیل گارسیا مارکیز کی نئی تخلیق
” وبا کے دنوں میں محبت ” دو ایسے افراد کی کہانی ہے جن کی محبت جوانی میں ناکام رہ کر اس وقت پھیلتی پھولتی جب وہ تقریباً اسی برس کے ہوجاتے ہیں۔۔۔

مارکیز نہ صرف پیدائشی بلکہ ادبی تحریک کے حوالے سے بھی کولمبین ہیں۔۔۔ گو وہ عمر کی چھٹی دہائی میں جلد قدم رکھنے والے ہیں لیکن ہمیشہ کی طرح مصروف توانائی سے بھرپور اور خوش طبع نظر آتے ہیں۔۔۔ 1980 کے اوائل میں کولمبیا کی حکومت اور بائیں بازو گوریلوں میں مصلحت کرانے کے لیے وہاں بڑے پیمانے پر جاری تشدد کی وجہ سے وہ کولمبیا واپس نہیں گئے۔۔۔۔ ان دنوں وہ اور انکی بیوی مرسیڈز اپنا وقت میکسیکو سٹی میں گزارتے ہیں
( جہاں وہ پچھلے کئی برسوں سے مستقلاً رہتے ہیں) اور ہوانا آتے جاتے رہتے ہیں جہاں مارکیز نے 
” فاؤنڈیشن آف نیولٹن سنیما ” نامی ادارہ کھول رکھا ہے۔۔۔ فلم اس نوبل یافتہ ادیب کا پرانا شوق ہے اور ٹیلی ویژن کی ڈرامائی امکانات بھی انہیں گرویدہ رکھتے ہیں۔۔۔

گو کہ عام طور پر انہیں بائیں بازو کی سیاست کا عملی آدمی سمجھا جاتا ہے لیکن دوستوں کے نیزییک وہ فقط ایک ایسے غیر قدامت پسند قصہ گو ہیں ، جو چربہ سازی اور عمومیت پسندی پر معترض ہے اور زندگی سے اسی غیر متوقع حکائتی انداز میں نمٹنا پسند کرتا ہے جو اس کی اصل ہے۔۔۔

حال ہی میں ستمبر 1988 ہم نے ان سے میکسیکو سٹی میں گفتگو کی جو ادب و فن کے دوسرے مسائل کے علاؤہ انکی تازہ تخلیق پر بھی محیط ہیں۔۔ میں ان سے انکی غیر معمولی تخلیق کے بارے میں پوچھا۔۔۔

° سائمنز : آپ نے ابھی ایک ڈارمہ مکمل کیا ہے اور فلموں کی کہانیاں لکھنے کے علاؤہ فلموں کا ایک ادرہ بھی چلا رہے ہیں۔۔۔ کیا آپ اپنی زندگی کی سمت تبدیل کر رہے ہیں۔۔۔؟

مارکیز : جی نہیں ! میں ایک ناول لکھ رہا ہوں۔۔۔ اسے مکمل کر رہا ہوں کہ ایک اور شروع کر سکوں۔۔۔ لیکن اس سے پہلے میں نے اتنے بہت سے کاموں میں ہاتھ نہیں ڈالا تھا۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے کبھی اپنے آپ کو اتنا مکمل محسوس نہیں کیا ، زندگی کے اتنے عروج پر نہیں پایا۔۔۔ میں لکھ رہا ہوں۔۔۔ میری چھ مختلف کہانیاں مکمل ہوتی جارہی ہیں۔۔۔ میں سنیما فاؤنڈیشن بھی چلا رہا ہوں اور اسی سال میرا ڈرامہ ارجنٹینا اور برازیل میں دیکھایا جائے گا۔۔۔ بلاشبہ میں طویل عرصے تک کھٹن حالات سے نبردآزما رہا ہوں۔۔۔میری زندگی کی ابتدائی چالیس سال اسی کشاکش سے عبارت ہیں۔۔۔ میں بے روزگاری کا شکار رہا ہوں۔۔۔ میں مسائل سے دو چار تھا۔۔۔ میں ابھی ادیب یا کچھ اور نہیں بن پایا تھا۔۔۔ جزباتی اور نفسیاتی طور پر وہ ایک مشکل دور تھا۔۔۔ میں اپنے آپ کو محسوس کرتا تھا میرا کہیں شمار ہی نہیں تھا۔۔۔ پھر 
” تنہائی کے سو سال ” کے ساتھ ہی حالات بدل گئے ، اب سارے کام اسی طرح چل رہے ہیں کہ مجھے کسی پر تکیہ کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اب بھی مجھے ہر قسم کے کام کرنے پڑتے ہیں۔۔۔ ہر روز ورزش کے لیے سائیکل چلانی پڑتی ہے۔۔۔ میں مستقل طور پرہیزی کھانے کھاتا ہوں۔۔۔ اپنی نصف زندگی میں جو کچھ کھانا چاہتا تھا غربت کی وجہ سے نہیں کھا سکا اور بقیہ نصف زندگی اس وجہ سے کہ میں پرہیز پر ہوں۔۔۔

° سائمنز : آپ کی تازہ تخلیق
” وبا کے دنوں میں محبت ” میں اسلوب اور موضوع دونوں بہت مختلف معلوم ہوتے ہیں۔۔۔ آپ نے عشقیہ کہانی لکھی۔۔۔؟

مارکیز : میں سمجھتا ہوں ڈھلتی ہوئی عمر نے مجھے احساس دلایا ہے کہ میں احساسات اور جذبات ہی۔۔۔۔ یعنی جو کچھ دل میں ہوتا ہے ۔۔۔ سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔۔۔۔
لیکن ایک طرح سے میری ساری کتابیں ہی محبت سے متعلق ہے۔۔۔۔ ” تنہائی کے سو سال ” میں ایک کے بعد ایک عشقیہ داستان ہے۔۔۔ 
” ایک پیش گفتہ موت کی روداد ” محبت کا ایک ہولناک ڈراما ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ محبت ہر کہیں ہے۔۔۔ اس بار یہ زیادہ شدید ہے کیونکہ دو محبتیں مل کر آگے بڑھ رہی ہے۔۔۔ میرا خیال کہ میں نوعمری میں 
” وبا کے دنوں میں محبت ” نہیں لکھ سکتا تھا۔۔۔اس ناول میں زندگی بھر کا عملی تجربہ ہے۔۔۔ بلکہ بہت سے چھوٹے چھوٹے تجربے ہیں۔۔۔ اپنے علاؤہ دوسروں کے بھی ہیں۔۔۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس میں ایسے نقطے ہاے نظر ہیں جن سے میں پہلے واقف ہی نہیں تھا۔۔۔ اس سال میں ساٹھ برس کا ہوجاوں گا انسان اس عمر میں پہنچ کر ہر معاملے میں زیادہ متن ہو جاتا ہے۔۔۔

° سائمنز : اور زیادہ ،فراغ دل بھی ، کیونکہ مذکورہ ناول بہت زیادہ عمومی ہے۔۔۔

مارکیز : چلی کی ایک پادری نے مجھے بتایا ہے کہ اس سے زیادہ مسیحی کتاب اس نے کبھی نہیں پڑھی۔۔۔

° سائمنز : اور اسلوب ؟ کیا آپ اسے ابتدائی تخلیقات سے انحراف سمجھتے ہیں۔۔؟

مارکیز : میں ہر کتاب میں ایک مختلف راہ پر چلنے پر کوشش کرتا ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ یہاں بھی یہی صورت ہے۔۔۔ آدمی اسلوب کا انتخاب نہیں کرتا ۔۔۔ ہاں غور و فکر سے جاننے کی کوشش کی جاسکتی ہے کہ ایک خاص موضوع کے لیے سب سے بہتر اسلوب کیا ہوگا۔۔۔ اسلوب کا تعین موضوع سے ہوتا ہے۔۔۔ اپنے عہد کے مزاج سے ہوتا ہے۔۔۔اگر میں ایسا اسلوب اختیار کروں جو موزوں نہ ہو تو بات نہیں بنی گئی۔۔۔ نقاد اس پر طرح طرح کے نظرئے پیش کرینگے اور وہ کچھ دیکھ لیں گے جو میرے وہم گمان میں بھی نہیں ہے۔۔۔ میں صرف اپنے لوگوں کے طرز زندگی یعنی کریبیئن طرز زندگی سے اثر لیتا ہوں۔۔۔ آپ میری کوئی بھی کتاب اٹھا لیں۔۔۔میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ کس سطر کے پیچھے کون سی حقیقت یا کون سا واقعہ ہے۔۔۔

°سائمنز : ” تنہائی کے سو سال ” میں بے خوابی کی وبا تھی اور آپ کی ایک دوسری کہانی میں ایک وبا نے سارے پرندوں کو ہلاک کیا تھا۔۔۔ آپ نے 
” وبا کے دنوں میں محبت ” لکھی۔۔۔ آخر بات کیا ہے ، آپ وباؤں میں اتنی دلچسپی کیوں لیتے ہیں۔۔۔؟

مارکیز : گزشتہ صدی کے اختتام پر کارٹا گینا میں واقعی ایک بہت بڑی وبا آئی تھی۔۔۔ وباؤں میں میری دلچسپی ہمیشہ سے رہی ہے۔۔۔ ” آڈی پس ریکس ” سے ابتداء کرتے ہوئے میں نے وباؤں کے بارے میں بہت پڑھا ہے۔۔۔ ڈینیل ڈیفو کی کتاب ” اے جرنل آف پلیگ ” میری پسندیدہ کتابوں میں سے ہے۔۔۔ وبائیں غیر مادی خطرات کی طرح ہوتی ہے ، لوگوں کو اچانک الیتی ہیں۔۔۔ وباؤں میں تقدیر کی سی خاصیت ہوتی ہے اور یہ بڑے پیمانے پر موت کی مظہر ہوتی ہے تاہم جو بات مجھے لگتی ہے وہ یہ کہ بڑی وباؤں نے ہمیشہ بڑی بے اعتدالیاں پیدا کی ہے۔۔۔ لوگوں کو اور جینے پر اکسایا ہے۔۔۔ وباؤں کی یہی مابعد الطبیعیاتی جہت ہے جو مجھے اپنی طرف کھنچتی ہے۔۔۔ میں نے دوسری ادبی حوالوں سے بھی استفادہ کیا ہے جیسے کامیو کی 
” دی پلیگ ” ایلیسانہ رومانزونی کی کتاب 
” دی بی ٹروتھڈ ” میں بھی ایک وبا ہے۔۔۔ میں ہمیشہ ایسی کتابوں کی تلاش میں رہتا ہوں جو اس موضوع سے بحث کرتی ہے جس پر میں لکھ رہا ہوں۔۔۔ میں ایسا اس لیے کرتا ہوں کہ مشابہت سے بچ سکوں ، ان کتابوں سے نقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ انہیں کسی نہ کسی طرح کام میں لانے کے لیے ، میں سمجھتا ہوں کہ سب لکھنے والے ایسا ہی کرتے ہیں۔۔۔ ہر خیال کے پیچھے ادب کی ہزار سالہ تاریخ ہوتی ہے۔۔۔ یہ جاننے کے لیے کہ آدمی ادب میں کہا کھڑا ہے اور اس کا راستہ کیا ہے، اس بات کو جتنا سمجھا جاے کم ہے۔۔۔

° سائمنز : ” وبا کے دنوں میں محبت ” کی تخلیق کس طرح ہوئی۔۔؟

مارکیز : محبت میں اس کے دو مآخذ ہے جو ایک دوسرے سے مل گئے ہیں۔۔۔ ایک تو میرے ماں باپ کا معاشقہ ہے جو ” فرمینا ڈازا اور فلورنیتنیو ریزا” کی جوانی کی معاشقہ سے مشابہہ ہے۔۔۔ میرے باپ اراکاٹا کا ( کولمبیا ) میں ٹیلی گراف آپریٹر تھے۔۔ وہ وائلن بجاتے تھے۔۔ میری ماں ایک کھاتے پیتے گھرانے کی خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔ ماں باپ آزاد خیال ہونے کے باوجودِ اس رشتے کے اس لیے مخالف تھے ک میرے ماں باپ غریب تھے۔۔۔ کہانی کا یہ سارا حصہ میرے ماں باپ سے متعلق ہے۔۔۔ ان کا سکول جانا ، خطوط ، نظمیں ، میرے باپ کا راتوں کو وائلن بجانا ، تار کے ذریعے اطلاع ملنے پر کا اندرونی ملک جانا۔۔۔ یہ ساری باتیں مستند ہے۔۔۔ ماں کا واپس آنا اور ہر ایک کا یہ سمجھنا کہ وہ میرے باپ کو بھول چکی ہے، یہ بھی درست ہے۔۔۔ یہ ساری باتیں اسی طرح ہے جس طرح میرے باپ نے بتائی ہے۔۔۔ فرق صرف یہ ہے کہ میرے ماں باپ کی شادی ہوگئی تھی اور جونہی انکی شادی ہوئی وہ ادبی شخصیتوں کے طور پر غیر دلچسپ ہوگے۔۔۔۔

یہ بھی پڑھئے:   ایرانی سماج میں عورت کامقام اب بھی طاہرہ کے دور والا ہے- شبنم طلوعی

° سائمنز : اور دوسرا ماخذ۔۔۔؟

مارکیز : اس سے پہلے میں نے میکسیکو کے ایک اخبار میں دو معمر امریکیوں کے بارے میں ایک کہانی پڑھی تھی۔۔۔ وہ مرد و زن تھے اور ہر سال اکا پلکو میں ملا کرتے تھے۔۔۔ وہ ایک ہوٹل میں قیام کرتے تھے۔۔۔گو انکی عمر اسی برس کی قریب تھی لیکن انکی آمد و رفت جاری تھی۔۔۔ ایک دن وہ کشتی میں سیر کرنے گئے تو کشتی بان نے انہیں لوٹنے کے غرض سے پتوار سے قتل کر دیا۔۔ اسی طرح موت نے ان کے خفیہ رومان کی داستان کو مشتہر کر دی۔۔۔ مجھ پر اس واقعے کا گہرا اثر ہوا۔۔۔ میں ہمیشہ اپنی ماں باپ کی کہانی لکھنے کے بارے میں سوچا کرتا تھا لیکن کہانی کا سرا میرے ہاتھ نہیں آتا تھا۔۔۔ ادبی تخلیق کے دوران کچھ ایسے باتیں پیش آتی ہے جو یکسر ناقابل فہم ہوتی ہے۔۔۔ سو ایک دن یہ دونوں کہانیاں میرے ذہن میں آگئی۔۔۔ نوجوانوں کی محبت مجھے ماں باپ سے ملتی ہیں، بوڑھوں کا پیار میں نے معاشرے سے لیا۔۔۔

° سائمنز : تو آپ کی اکثر کہانیوں کی وجہ تخلیق ذہن میں آنے والا محض ایک عکس ہوتا ہے۔۔۔؟

مارکیز : سچی بات تو یہ ہے کہ میں کہانی کے لمحہ تخلیق کو گرفت میں لانے کا اتنا متمنی ہوں کہ میں نے سنیما فاؤنڈیشن میں ” ہاؤ ٹو ٹیل اے اسٹوری ” نامی ایک ورکشاپ قائم کی ہے۔۔ میں نے لاطینی امریکہ کے مختلف ملکوں سے دس طالب علم اکھٹا کئے ہیں۔۔۔ ہم ایک گول میز کے گرد بیٹھ جاتے ہیں اور چھ ہفتے تک روانہ چار گھنٹے کسی خیال کے بغیر کہانی لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ ہم بار بار بحث سے آغاز کرتے ہیں۔۔۔ شروع میں صرف اختلاف ہی سامنے آتے ہیں۔۔۔ وینزویلا کا طالب علم کچھ کہتا ہے اور ارجنٹائن کچھ اور۔۔۔ پھر اچانک ایک خیال ظاہر ہوکر سب کو اپنے گرفت میں لے لیتا ہے اور کہانی کی عمارت اٹھائی جاسکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اب بھی جانتے کہ خیال کیسے پیدا ہوتا ہے ، وہ ہمیشہ ہمیں اچانک آلیتا ہے۔۔۔ میرے ہاں معاملہ کسی خیال یا تصور سے نہیں بلکہ ہمیشہ عکس سے شروع ہوا ہے۔۔۔
” وبا کے دنوں میں محبت ” کی وجہ تخلیق کشتی کے تختے پر ناچتے ہوئے کا عکس تھا۔۔۔

° سائمنز : جب ایک بار کوئی عکس ذہن میں اجائے تو پھر کیا ہوتا ہے۔۔۔؟

مارکیز : عکس میرے ذہن میں نشوونما پاتا ہے تاوقتیکہ پوری کہانی اس طرح متشکل ہو جاتی ہے جس طرح حقیقی زندگی میں ہوتی ہے۔۔۔ لیکن مسلہ یہ ہے کہ مجھے اپنے آپ سے یہ مشکل ترین سوال پوچھنا پڑتا ہے کہ میں اس سے کیسے اخذ کروں؟ اس کتاب کے لیے موزوں ترین ساخت کیا ہوگی ؟ میں ہمیشہ موزوں ساخت کا آرزومند رہا ہوں۔۔۔ ادب میں موزوں ترین ساخت کی ایک مثال سوفوکلیز کا ڈراما ” آڈی پس رکس ” ہے۔۔۔ ایک اور مثال انگریز ادیب ولیم جیکبنز کی کہانی ” منکیز پا ” ہے۔۔۔
جب میں کہانی اور ساخت کے بارے میں مطمئن ہوجاتا ہوں تو لکھنا شروع کرتا ہوں۔۔ لیکن صرف اس شرط پر کہ مجھے ہر کردار کے لیے موزوں نام مل جائیں۔۔۔ کرداروں کو موزوں نام نہ ملیں تو ان میں جان نہیں پڑتی۔۔۔ میرا خیال تو یہی ہے۔۔۔ میں ایک بار لکھنے بیٹھ جاؤں تو عام طور پر مجھے کوئی تذبذب نہیں ہوتا۔۔۔ میں اگلی صبح کام میں لانے کے لیے چند یاد داشتیں ایک آدھ لفظ یا فقرے کو تو کہیں استعمال کرسکتا ہوں لیکن ڈھیر ساری یاد داشتوں کے ساتھ کام کرنا میرے لیے ناممکن ہے۔۔۔ یہ بات میں نے نوعمری ہی میں دریافت کر لی تھی۔۔ میں ایسے لکھنے والوں کو بھی جانتا ہوں جن کے پاس یاد داشتوں سے بھرے پلندے ہیں جو اپنی یاد داشتوں ہی کے بارے میں سوچتے رہ جاتے ہیں اور اپنی کتابیں کبھی نہیں لکھ پاتے۔۔۔

° سائمنز : آپ نے ہمیشہ کہا ہے کہ آپ خود صحافی بھی اس قدر سمجھتے ہیں کہ جس قدر فکشن لکھنے والا ادیب۔۔۔ کچھ ادیبوں کا خیال ہے کہ صحافت میں دریافت کی مسرت چھاپنے سے حاصل ہوتی ہیں۔۔ جبکہ فکشن میں یہ چیز مخص لکھنے سے میسر آتی ہیں۔۔۔ آپ اتفاق کرتے ہیں۔۔۔؟

مارکیز : مسرتیں تو یقیناً دونوں میں ہیں۔۔۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں صحافت کو ایک ادبی صنف سمجھتا ہوں۔۔۔ دانشور بھلے اتفاق نہ کریں لیکن مجھے اپنی راے پر اعتماد ہے۔۔۔ صحافت فکشن نہ ہوتے ہوے بھی ایک صنف ہے، اظہار حقائق کا ایک ذریعہ ہے۔۔۔ گوکہ دونوں کے مواقع محتلف ہوسکتے ہیں۔۔۔ لیکن جہاں تک تجربے کا سوال ہے وہ صحافت و ادب میں یکساں ہے۔۔۔ فکشن میں اگر آپ یہ محسوس کریں کہ کوئی ایسا خیال مل گیا ہے جو آپ کے تحریر میں سما سکتا ہے تو یہ ایسا ہی جذبہ ہے جیسا کوئی صحافی کسی خبر تک پہنچنے کے بعد کر سکتا ہے۔۔۔ ایسے لمحے بلکل غیر متوقع طور آتے ہیں اور ان کے جلو میں غیر معمولی مسرت ہوتی ہے۔۔۔۔ جس طرح صحافی خبر کی بو سونگھ لیتا ہے بلکل ایسی طرح ادیب کو بھی الہام ہو جاتا ہے۔۔۔ یہ اور بات کہ ابھی اسے بنانا سنوارنا ہوتا ہے لیکن وہ جان لیتا ہے کہ کہانی اسکی گرفت میں ہیں۔۔۔ یہ تقریباً ایک طرح کی جبلت ہے۔۔۔ صحافی جان لیتا ہے کہ یہ خبر ہے یا نہیں۔۔۔ ادیب جان لیتا ہے کہ یہ ادب ہے یا نہیں ، شاعری ہے یا نہیں۔۔۔ اس کے بعد لکھنے کا عمل تقریباً یکساں ہوتا ہے۔۔۔ دونوں ایک جیسی بہت سی تکنیکیں استعمال کرتے ہیں۔۔۔

° سائمنز : لیکن اپ کے صحافت لگے بندھے ضابطوں کی پابندی نہیں کرتی۔۔۔

مارکیز : بات یہ ہے کہ میری صحافت معلوماتی نہیں ہوتی لہذا میں اپنی ترجیحات خود متعین کرتا ہوں اور اسی طرح مزاج کو برقرار رکھتا ہوں۔۔۔ جو ادب کا خاصا ہے۔۔۔۔ اب میری بدقسمتی ہے کہ لوگ میری صحافت میں یقین نہیں رکھتے ، من گھڑت سمجھتے ہیں۔۔۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں صحافت میں کچھ گھڑتا ہوں نہ فکشن میں۔ فکشن میں حقیقت کو جوڑنا توڑنا پڑتا ہے کہ فکشن کا مقصد ہی یہ ہے۔۔۔ صحافت میں میں اپنی مزاج سے ہم آہنگ موضوع کا انتخاب کر سکتا ہوں۔۔۔ کیونکہ اب میں پیشے کے تقاضوں سے آزاد ہوں۔۔۔

° سائمنز : کیا آپ کو اپنی کوئی ایسی صحافتی تحریر یاد ہے جس سے آپ کو حاص لگاؤ ہوں محسوس ہوتا ہوں۔۔۔

مارکیز : جی ہاں جب میں ” ایل ایسکپیٹڑر ” نامی اخبار میں کام کرتا تھا تو اس وقت کی ایک چھوٹی سی تحریر تھی ” دی مسٹری آف لاسٹ لیٹرز ” میں بگوٹا میں ٹرام میں جا رہا تھا یکایک میری نظر ایک بورڈ پر پڑی جس پر ” ہاؤس آف لاسٹ لیٹرز ” تحریر تھا۔۔ میں نے گھنٹی بجائی۔۔۔ مجھے بتایا گیا کہ ایسے تمام خطوط جو غلط پتوں یا کسی اور وجہ سے تقسیم نہ ہوسکتے ہوں اسی مکان میں بھیج دیں جاتے ہیں۔۔۔ اس مکان میں ایک بوڑھا آدمی رہتا ہے جس نے ساری زندگی ان خطوط کی درست ترسیل کے لیے وقف کر رکھی تھی۔۔۔ بعض اوقات اسے کئی کئی دن لگ جاتے ہیں۔۔۔ اگر درست پتہ تلاش نہیں ہوسکتا تھا تو خط جلا دیا جاتا تھا ، لیک۔۔کھولا کبھی نہیں جاتا تھا۔۔۔ ایک خط پر یہ پتہ درج تھا ۔۔ 
” اس عورت کے لئے جو ہر بدھ کے شام پانچ بجے ڈی لاس ارماس چرچ جاتی ہے”
سو وہ مرد ضعیف وہاں گیا۔۔۔ اسے سات عورتیں مل گئیں۔۔ اس نے باری باری ہر ایک سے استفسار کیا جب مطلوبہ عورت مل گئی تو کسی امکانی غلطی سے بچنے کے لیے اس نے عدالت سے حکم لیکر وہ خط کھولا ، بہر حال اس کا اندازہ درست نکلا۔۔۔ میں یہ تحریر کبھی نہیں بھولوں گا کہ اس میں صحافت اور ادب دونوں کا امتزاج ہے۔۔۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں آج تک دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کر پاتا ہوں۔۔۔

یہ بھی پڑھئے:   ہمیں ایک نئی جمالیات کی ضرورت ہے- ارن دھتی رائے ( حصّہ اول )

° سائمنز : فاؤنڈیشن کے ذریعے آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔۔؟

مارکیز : میں چاہتا ہوں کہ لاطینی امریکہ میں فنکارانہ ذریعہ اظہار کی حثیت سے فلمسازی کی بھی وہی قدر ہو جو ہمارے ادب کی ہے۔۔۔ ہمارا ادب اعلی درجے کا ہے لیکن اسے شناخت حاصل کرنے میں بہت وقت لگا ہے۔۔۔ بڑی سخت جدوجہد کرنی پڑی ہے اور بغض اوقات تو یہ مرحلہ اب بھی مشکل ہے۔۔۔۔

° سائمنز : بہرحال ادب نے تو اب جڑ پکڑ لی ہے۔۔!!

مارکیز : آپ کو پتہ ہے اس آغاز اس وقت ہوا جب ہم نے مقامی قارئین کو تسخیرِ کر لیا۔۔۔ جب ہماری تحریریں لاطینی امریکہ میں پڑھیں جانے لگی لیکن ہم نے ہمیشہ اس کے برعکس صورت کو اہم جانا تھا۔۔۔ جب ہم کوئی کتاب چھاپتے ہیں تو ہمیں اس کے بکنے کی فکر نہیں ہوتی تھی۔۔۔ ہم تو بس یہ چاہتے تھے کہ اس کا ترجمہ کروالیں۔۔۔ گو کہ ہمیں اس کا انجام بھی معلوم ہوتا تھا۔۔۔ کتاب کا ترجمہ ہوجانا تھا اور ماہرین ایک آدھ مضمون لکھ دیتے تھے۔۔۔ لیکن کتاب ہمیشہ کے لیے یونیورسٹیوں کے ہسپانوی شعبے میں دفن ہو جاتی تھی، بہر حال جب ہم لاطینی امریکہ میں پڑھے جانے لگے تو صورت حال یکسر بدل گئی بلکل یہی صورت حال فلموں کے ساتھ ہیں۔۔۔ اب لاطینی امریکہ میں اچھی فلمیں بن رہی ہے اور یہ کام بہت بڑے سرمائے سے نہیں ہو رہا ہے۔۔۔ یہ کام ہم اپنے وسائل اور اپنے طریقوں سے کر رہے ہیں۔۔۔ ہماری فلمی بن الاقوامی میلوں میں دکھائی جا رہی ہے اور انعامات کے لیے نامزد ہو رہی ہے۔۔۔ لیکن انہیں ابھی سے ہی ناظرین کو گرفت میں لینا ہے۔۔۔ مشکل بڑے تقسیم کاروں کے ساتھ ہے انہیں غیر معمولی فلموں کے لیے بہت سے رقم لگانی پڑتی ہے جس کے بدلے میں انہیں کچھ نہیں ملتا لیکن جس دن ہماری فلموں نے مالی اعتبار سے کامیابی حاصل کی سارا منظر بدل جاے گا۔۔۔ یہی کچھ ہم نے ادب میں دیکھا ہے اور آنے والے دنوں میں یہی کچھ فلموں میں دیکھیں گے۔۔۔

° سائمنز : آپ سیاست کو اتنی اہمیت دیتے ہیں لیکن کتابوں کے ذریعے اپنے سیاسی نظریات کا پرچار نہیں کرتے۔۔۔؟

مارکیز : میں نہیں سمجھتا ہوں کہ ادب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔۔ لیکن کسی کے نہ چاہنے کے باوجود بھی اس کا نظریاتی موقف اس کی تحریروں سے ناگریز طور پر منعکس ہوجاتا ہے اور قارئین پر اثر ڈالتا ہے میرا خیال ہے کہ میری کتابوں نے لاطینی امریکہ پر اس لحاظ سے سیاسی اثر ڈالا ہے کہ وہ لاطینی امریکہ کا تشخص ابھارتی ہے اور لاطینی امریکوں کو اپنی ثقافت سے زیادہ باخبر کرتی ہے۔۔۔اگلے روز ایک امریکی نے مجھ سے پوچھا کہ سنیما فاؤنڈیشن کے پس پشت حقیقی سیاسی مقصد کیا ہے۔۔۔ میں نے اسے جواب دیا ، مسلہ یہ نہیں ہے اس کے پیچھے کیا مقصد ہے بلکہ یہ کہ اس کے آگے کیا ہے۔۔ سنیما فاؤنڈیشن کا مقصد لاطینی امریکی سنیما کے بارے میں آگہی کا فروغ ہے اور یہ مقصد بنیادی طور پر سیاسی ہے۔۔۔ بلاشبہ ہمارا منصوبہ صرف فلم سازی سے متعلق ہے لیکن اس کے نتائج سیاسی ہوں گے۔۔۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ سیاست صرف انتخابات کا نام ہے اور سیاست صرف وہی کچھ ہے جو حکومتیں کرتی ہیں لیکن لاطینی امریکہ کا تشخص ابھارنے کے لیے ادب ، سنیما ، مصوری اور موسیقی دونوں لازمی ہے۔۔۔

° سائمنز : آپ کے نزدیک یہ بات فنکارانہ صلاحیت کو سیاست کی تحویل میں دے دینے سے مختلف ہے۔۔؟

مارکیز : میں تو کبھی ایسا نہیں کرونگا، ٹھہرے میں آپ کو واضح کردوں ، فن ہمیشہ سیاست کی خدمت پر مامور ہوتا ہے اور اس نظریے یا تصور کی ترجمانی کرتا ہے جو ادیب یا فنکار دنیا کے بارے میں رکھتا ہے لیکن فن کو حکومت کی خدمت پر کبھی مامور نہیں ہونا چاہیے۔۔۔

° سائمنز : لاطینی امریکہ کے بارے میں آپ کا تصور کیا ہے۔۔۔؟

مارکیز : میں چاہتا ہوں کہ لاطینی امریکہ ،متحد ، خودمختار اور جمہوری ہو۔۔۔

° سائمنز : یورپی مفہوم میں۔۔۔؟

مارکیز : اس مفہوم میں کہ اس کے مفادات اور نقطہء ہاے نظر ایک ہوں۔۔۔

° سائمنز : آپ اسی وجہ سے ” سائمن بولیوار ” کے متعلق لکھ رہے ہیں…؟

مارکیز : نہیں ، یہ وجہ نہیں۔۔۔ سائمن بولیوار کو میں نے اس لیے موضوع بنایا کہ مجھے اس کی شخصیت سے دلچسپی ہے۔۔ وہ حقیقت میں کیا تھا ، یہ کوئی نہیں جانتا۔۔۔ وہ ہیرو کی طرح مفرس ہوگیا ہے۔۔۔ می۔ اسے ایک کریبین سمجھتا ہوں جسے رومانیت نے متاثر اور متشکل کیا تھا ، زرا سوچو تو ، کس قدر دھماکا خیز بات ہے کہ لیکن سائمن بولیوار کے خیالات آج کے مسائل سے متعلق ہے۔۔ لاطینی امریکہ کے بارے میں اس کا تصور ایک خودمختار متحدہ وحدت کا تھا جو اس کے نزدیک دنیا بھر میں سب سے بڑی اور طاقتور بن سکتی تھی۔۔۔ اس بارے میں اس کا ایک بہت خوبصورت فقرہ ہے :

” ہم اپنی نوعیت کے واحد انسانی نسل ہے۔۔۔”

وہ ایک غیر معمولی شخص تھا لیکن اس کے باوجود عبرت ناک شکست سے دو چار ہوا۔۔۔ اسے جن طاقتوں نے نیچا دیکھایا وہ آج بھی موجود ہے یعنی زمیندار اور مقامی روائتی طاقتور گروہ جو اپنے مفادات اور مراعات کو بچانا چاہتے ہیں۔۔۔ انہوں نے اس کے خلاف کٹھ جوڑ کر لیا تھا لیکن اس کا یہ خواب کہ لاطینی امریکہ متحد اور خودمختار ہو۔۔۔ آج بھی زندہ ہے۔۔۔ آپ نے غور کیا میں مختلف الفاظ استعمال کر رہا ہوں۔۔۔ حقیقت میں مجھے سیاسی گفتگو سے نفرت ہے۔۔۔ بطور مثال ” عوام ” جیسے الفاظ ہمیں مردہ زبان کے بارے میں جدوجہد کرنی ہے۔۔۔ صرف مارکسیوں کی صورت ہی میں نہیں جنہوں نے زبان کو سب سے زیادہ حنوط کیا۔۔۔ بلکہ آزاد خیالوں کی طرح بھی۔۔۔۔ ایسا ہی ایک اور لفظ ” جمہوریت ” ہے۔۔۔ روسی کہتے ہیں کہ ہم جمہوری ہیں اور امریکی کہتے ہیں ہم جمہوری ہیں۔۔۔ایلسلو آڈور بھی یہی کہتا ہے اور میکسیکو بھی ایک آدھ انتخاب کروالیتا ہے خود کو جمہوری کہنے لگتا ہے۔۔۔ ایک اور لفظ ” آزادی” ہے۔۔۔ یہ ایسے الفاظ ہیں جن کے معانی بہت محدود ہوگئے ہیں۔۔۔ یہ مردہ ہوگے ہیں۔۔۔ یہ اس حقیقت کا اظہار نہیں کرتے جس کی نمائندگی کرتے ہیں۔۔۔ میں ہمیشہ ایسے الفاظ کی تلاش میں ہو جو کھوکھلے نہ ہوں۔۔۔ آپ کو معلوم ہے کہ میری زندگی میب سب سے بڑی کمی کیا رہی ہے۔۔۔ ایسی کمی جس کی تلافی ناممکن ہے یعنی یہ کہ میں ثانوی زبان کے حیثیت سے انگریزی اچھی طرح نہیں بول سکتا ۔۔۔کاش میں انگریزی بول سکتا۔۔

° سائمنز : لکھنے کے بارے میں آپ کا اگلا منصوبہ کیا ہے۔۔۔؟

مارکیز : میں ” سائمن بولیوار ” مکمل کروں گا۔۔۔ مجھے چند ماہ اور چاہئیں۔۔۔ اسکے بعد میں اپنا اپ بیتی لکھوں گا۔۔۔ عام طور پر لوگ آپ بیتی اس وقت لکھتے ہیں جب کچھ یاد ہی نہیں رہتا۔۔ میں آہستہ آہستہ لکھنا شروع کروں گا اور پھر تادیر لکھتا رہوں گا ۔۔۔میری آپ بیتی عام آپ بیتی نہیں ہوگی۔۔۔ ہر بار جب میں چار سو صفحے لکھو گا تو ایک جلد چھپوا دوں گا جن کی تعداد چھ تک ہوسکتی ہے۔

ترجمہ : راشد مفتی

Views All Time
Views All Time
177
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: