Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

راہِ فسوں – پہلی قسط

Print Friendly, PDF & Email

گھنٹوں تنہا بیٹھ کر سوچتے چلے جانا بھی ایک غیرمرئی سا عشق ہے جس کا سرا ذات کی گہرائی کے اندر کہیں بہت دور سے شروع ہوتا ہے گھپ اندھیرے سے کرنوں کی طرح جھانکتی ہوئی یادیں اور باتیں، مسکراتے لمحے اور آنسوؤں میں ڈوبتی لمبی لمبی راتیں سب آنکھوں کے تاریک جھریوں سے کسی جھلمل روشنی کی طرح جھانکنے لگتے ہیں۔ دل ڈوبنے لگتا ہے جب کچھ زندگی بخش چہرے زندگی میں شامل نہیں رہتے جنھیں روح کی مٹی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ نوکیلے پتھروں سے تراش کر من کی مسند پر سب سے عزیز جگہ رکھا جاتا ہے اور دن رات ان کی جی حضوری کی جاتی ہے ۔جہاں ہر سو ان کی حکمرانی ہوتی ہے اور پھر۔۔۔۔

اتنے ٹائم کی کوششوں کے بعد اسے وادئ نیلم میں پوسٹنگ ملی تھی۔ پورے ڈیڑھ سال کی ریسرچ اور انتھک محنت کے بعد وہ وادی کے دورافتادہ اور پسماندہ ترین گاؤں میں سکول کھول پائے تھے۔ اور اس پراجیکٹ کیلئے سب سے پہلا پروپوزل اس کا تھا اور اسی نے سب کو قائل کیا تھا کہ این جی او کو اس ایریا میں بھی کام کرنا چاہئے ۔ پھر دوتین بار اسے وہاں جانا پڑا اور یہ دو تین بار پوری حیات پہ محیط ہوئے لگتے تھے۔ اس نے وادی کے حسن کے بارے میں بہت سنا تھا مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ وہاں جاکر وہ کہیں اور کی نہیں رہے گی۔سرسبز اور برف سے ڈھکے پہاڑوں کے درمیان بہت اوپر چند دن کیلئے اس کی رہائش تھی۔ گھر کےپیچھے اونچائی پر لگے چنار اور اخروٹ کے اونچے اونچے درختوں میں سے اڑتے ہوئے شرارتی بادلوں کو چھلانگ لگاکے ہاتھوں سے چھوتے ہوئے اسے لگا تھا اس سے پہلے تو زندگی کہیں تھی ہی نہیں۔پیشے کے اعتبار سے سول انجینئر تھی اس لئے سارا دن این جی او کی سائیٹ پہ کام کرتے گزرجاتی۔ کبھی کبھی اتنی شدید سردی جب جان پہ بنی ہوتی اور پتہ چلتا کہ شہر سے ملحقہ چھوٹا سا نازک سا پل پہاڑوں پر سے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہو گیا ہے اور شہر سے آنے والا تعمیراتی سامان لیٹ ہوگیا۔ تو وہ سب پاس میں ایک کچے سے ڈھابے پر بیٹھ کر گرم چائے کے دھویں کے اوپر ہاتھ رکھ کر زندگی کوڈھونڈتی تو اسے لگتا شہر والے کچے ڈھابے کی اس سوندھی خوشبو سے یکسر محروم ہیں اور پھر اچانک بارش ٹھنڈ میں شدید اضافہ کردیتی، کچے راستے بند ہوجاتے تو رات تک ڈھابے کی سوندھی خوشبو اور ان سب کے اونچی آواز میں گانے، ٹھٹھرتے ہوئے مشاعرے اپنے جوبن پہ آجاتے اور کھانے کے نام پہ صرف بچوں والے بسکٹ اور نمکو سے تواضع ہوتی وہ بھی ایک وقت پہ آکے ختم ہوجاتی تو اکنامکس کا طلب اور رسد والا قانون یا آجاتا جب طلب تو ہو مگر رسد ندارد۔ پھر خالی پیٹ شہروں کے وسائل اور ان چھوٹے چھوٹے گاؤں قصبوں کے مسائل گنے جاتے۔ پر بات وادی کے حسن پہ آکے ختم ہوجاتی۔

یہ بھی پڑھئے:   گداگری اور این جی اوز - منافع بخش کاروبار | انور عباس انور

چھ مہینوں کی بجائے تعمیراتی اور موسمی مسائل کی مرہون منت سکول کی تعمیر دس ماہ میں ختم ہوئی اور یہاں سے جاتے ہوئے سب یکساں اداس تھے سوائے چند لوگوں کے جن کی اس سال شادیاں متوقع تھیں۔ اتنے ماہ میں اسے کئی بار ادھر جانا پڑا اس جگہ سے دلی لگاؤ ہوچلا تھا۔ اور جب کسی اور نے مستقل ادھر رہنے کی حامی نہ بھری تو اس نے وادی میں سکول اور این جی او کی ڈائریکٹرشپ کیلئے خوشی سے اپنی خدمات پیش کردیں ۔اس کے گروپ کے سب لوگ حیران تھے کہ اتنے دور دراز علاقے میں یوں اکیلے جاکے رہنا اتنا آسان نہیں اور پھر آگے بڑھنے کے مواقع بھی میسر نہیں آئیں گے۔”یہ صرف چند دن دنوں کا چارم ہے یہ وادیاں، یہ پہاڑ آنکھوں کو تو خیرہ کرسکتے ہیں مگر سوچو وہاں شہر والی کوئی سہولت نہیں اور تمھیں تو اکثر آدھی رات کو فاسٹ فوڈ کا دورہ پڑجاتا ہے ادھر کیا پہاڑوں پہ چھلانگیں لگاؤگی آدھی رات کو” اور پھر کوئی بھی دلیل اسے قائل نہ کرسکی۔ امی کی شدید وارننگز، ابا کی ناراضگی اور اس کے دیرینہ منگیتر کے نخرے بھی نہیں۔

تنہائی کا ایک کرشماتی پہلو ہے کہ یہ راس آنے لگتی ہے۔ اونچائی سے نظر آنے والی چند ہلکی ہلکی روشنیاں اس بات کی تسلی دیتی رہتیں کہ آس پاس دنیا موجود ہے۔ دن تو کاموں کی مصروفیت میں کدھر جاتا پتہ بھی نہ چلتا کیونکہ وہ اس پراجیکٹ کو آس پاس کے دوسرے گاؤں میں بھی کھولنے کیلئے کوششیں کر رہی تھی۔ مگر کبھی حالات و واقعات اور کبھی مقامی گورنمنٹ آڑے آجاتی۔ ہر کام کیلئے پیسے کی بولی لگتی۔ اب چونکہ اس سارے کام کو وہ ہینڈل کررہی تھی تو پتہ چلا کہ یہاں کے حالات میں موسمی شدتوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے وڈیروں کا ہاتھ سب سے اوپر تھا جو ترقی ان پسماندہ علاقوں کی شکل نہیں دیکھ پاتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:   مہاجر

اس جنت نظیر وادی کی غربت اور مفلسی کبھی کبھی اسے بہت اداس کرنے لگتی تو دل چاہتا کہ سب چھوڑ کر شہر بھاگ جائے۔ ان خوبصورت نظاروں کے درمیان رہ کر تنہائی اور اداسی ستانے لگتی جہاں س شام رات کی خنکی اتر آتی اور پھر شدید تاریکی۔ این جی او کاکام تیزی سے پھیلتا جارہا تھا انہی دنوں اکاونٹس کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے آزاد کشمیر سے سامع علی کو بھیجاگیا۔ سامع علی کے بارے میں اسے تسلی دلائی گئی کہ کبھی شکایت کا موقع نہیں دے گا

جاری ہے۔۔۔

 

Views All Time
Views All Time
284
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: