Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ووٹ ذرا سوچ کر

Print Friendly, PDF & Email

الیکشن 2018 کا نقارہ بج چکا ہے۔ صوبائی وقومی اسمبلی کے امیدوار لنگوٹ کس کر میدان میں آچکے ہیں قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے ہر حلقہ میں امیدواروں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جن میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اور آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ کئی ایک بڑی سیاسی جماعتوں کو ٹکٹ دینے کے لیے ملک کے متعدد حلقوں سے امیدوار دستیاب نہیں۔ تو دوسری طرف کچھ سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم پر کئی دھڑے وجود میں آچکے ہیں۔ اور ٹکٹوں کی ردو بدل کے لیے احتجاجی دھرنے اور کھینچا تانی جاری ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے انتخابات کے بروقت انعقاد کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں ۔ پرنٹنگ میٹریل کی مسلسل چھپائی ، پولنگ سٹیشنوں کی تشکیل اور پولنگ کے لیے خدمات سرانجام دینے والے الیکشن عملہ کی تربیت کا عمل جاری ہے۔ جو ہر ضلع کے ریٹرنگ آفیسر کی زیر نگرانی پائیہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ جبکہ الیکشن کمیشن نے سکیورٹی انتظامات کے لیے پولیس کے ساتھ فوج کی خدمات بھی حاصل کر لی ہیں۔ تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے ۔

دوسری طرف امیدواروں کی فوج ظفر موج بھی محدود دنوں میں اپنے حلقہ انتخاب کے زیادہ سے زیادہ علاقے فتح کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کئی پرانے امیدوار نئے وعدوں کے جھانسے دینے اور کچھ پارٹی مظلومیت کا رونا رو کر اور چند ایک نئی تبدیلیوں کے راگ الاپ کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرکے ان سے اپنے انتخابی نشانات پر ٹھپے لگوانے کے درپے ہیں 2018 کا جنرل الیکشن گزشتہ الیکشنوں سے کافی مختلف ہے اس الیکشن میں عوام میں شعور بیدار چکا ہے انہیں اچھے اور برے کی سمجھ آچکی ہے خصوصا سوشل میڈیا نے عوام میں ووٹ سے متعلق شعور و آگاہی بیدار کرتے ہوئے انہیں سابق اراکین اسمبلی کے اصلی چہرے دکھا دیئے ہیں۔ اور انہیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ آپ کے منتخب نمائندوں میں اکثریتی قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران ایوانوں میں گونگوں اور بہروں کا کردار ادا کرتے رہے۔

انہوں نے کسی قومی و صوبائی معاملہ میں ایک لفظ تک نہیں ادا کیا ۔ اور نہ ہی کسی علاقائی مسئلہ کو ایوان میں اٹھانے کی جرات کی اپنی نشت پر کھڑے ہوکر بولنا تودرکنار نشت کے سامنے لگے مائیک میں پھونک تک مار کر چیک کرنا گوارہ نہیں کیا کہ ٹھیک ہے یا خراب ہے۔ اسمبلیوں کا ریکارڈ ان گونگے بہرے اراکین اسمبلی کی خاموشیوں کا گواہ ہے ووٹر میں دماغ میںیہ بات اب اچھی طرح آچکی ہے کہ اسمبلی میں پہنچ کر ان کے منتخب اراکین نے کیا کردار ادا کیا اگر حکومت میں رہے تو حکومتی مصروفیات کا بہانہ بناتے رہے ۔ اور اگر اپوزیشن میں رہے تو اپوزیشن میں ہونے کا رونا روتے رہے کوئی ترقیاتی کام سرانجام نہیں دیا ۔ فنڈز کی بندش ان کا بہانہ رہا حالانکہ واقفان حال جانتے ہیں کہ اپوزیشن ممبران کو بھی ترقیاتی فنڈز کوٹہ کے مطابق جاری کیئے جاتے ہیں اور انہیں پورا حصہ دیا جاتاہے۔ عوام کو یہ بھی پتہ چل چکا ہے کہ کون کون سے اراکین و امیدواروں کے گھر بڑے شہروں اور دوسرے ملکوں میں موجود ہیں ۔ اور انہوں نے منتخب ہو کر ماضی کی طرح اپنے ووٹرز کو جھنڈی دکھا دینی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   نوجوانوں کو بد ظن کیا جا رہا ہے

راقم الحروف کی طرف سے آمدہ الیکشن کے حوالے سے این اے 55 اور پی پی 1 کے انتخابی حلقوں پر کیے جانے والے ایک سروے کے دوران ووٹرز کی اکثریت نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ہم ایسی شخصیات کو منتخب کریں گے جنہوں نے گزشتہ چند سالوں میں برسر اقتدار نہ ہوتے ہوئے بھی عوامی خدمت کی تاریخ رقم کی عوام کے لیے ریسکیو1122 کی طرز پر خدمات انجام دیں ۔ عوام کے دکھ درد میں برابر کے شریک رہے ۔ پولیس گردی ،بیورو کریسی کے مظالم ، ظلم و زیادتیوں ، ناانصافیوں کے خلاف ان کے پشت بان بنے رہے ۔مسائل ملکی ہوں ، سماجی ، علاقائی ، انفرادی عوام کے ساتھ کھڑے رہے۔دھوپ دیکھی نہ چھاؤں ، رات دیکھا نہ دن مظلوموں اور بے کسوں کی داد رسی کے لیے انکی آواز میں آواز ملا کر اور ان کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر زنجیرعدل ہلاتے رہے ۔ بلا امتیاز عوام کی خدمت کو اپنا معیار رکھا ۔ متعدد نوجوانوں جن میں غلام سرور کھٹڑ، اشتیاق احمد ، کامران سرور ، طارق بنگش ، سجاد حسین سرمد شامل تھے نے تو یہاں تک کہا کہ ہم اور ہمارا پورا خاندان صوبائی اسمبلی پی پی 1کے اس آزاد امیدوار کو ووٹ دیں گے جس کا دوسرے کسی شہر میں کوئی ٹھکانہ نہیں وہ جدھربھی جائے پلٹ کر شام کو گھر آنا ہوتا ہے اس کے ڈیرے کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں وہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھتا ہے اور اس تک ہماری رسائی ہر حال میں ممکن ہے ۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا پیپلز پارٹی اور اے این پی کا حقیقی احیا ممکن ہے؟ -حیدر جاوید سید

ملک قوم اور علاقے کا خیرخواہ ہے ۔نوجوان حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار عوامی ، سماجی خدمات کا عزم رکھتا ہے اظہار رائے کے دوران ان افراد کی آنکھوں کی چمک اور چہرے کے تاثرات اور ان کی زبانوں سے نکلے ہوئے الفاظ ان کے دل کی ترجمانی کر رہے تھے۔ اور وہ جو کچھ زبان سے ادا کر رہے تھے اس میں رائی برابر بھی جھوٹ نہیں عوام کو اب اپنی ووٹ کی عزت کا اندازہ ہو چکا ہے ۔ وہ کسی کے غلام نہیں نہ ہی کوئی انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کر سکتا ہے وہ اب کسی کے جھانسے میں نہیں آنے والے ۔ کسی شخصیت سے مرغوب ہوں گے نہ ہی کسی کی دھمکیوں کو خاطر میں لائیں گے۔ وہ اپنی سوچ اور ضمیر کے مطابق ملکی ، صوبائی ، علاقائی ، اجتماعی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے مخلص قیادت کو منتخب کریں گے۔ اور بار بار پارٹیاں تبدیل کرنے ، گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے چھاتہ برداروں کو مستردکر دیں گے کیونکہ ان افرادنے علاقے ،صوبے ، ملک کی فلاح کے لیے کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا انہیں صرف کرسی سے پیار ہے چاہے جس طریقے سے حاصل ہو۔

Views All Time
Views All Time
493
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: