بے حد رمزاں دسدا نی میرا ڈھولن ماہی

Print Friendly, PDF & Email

صاحبو! ہمارے مرشد حضرت واصف علی واصفؒ کی محفل میں جب کوئی شخص شعر سناتا اور اُس کی تشریح کا طالب ہوتا تو آپؒ فرمایا کرتے‘ بھئی! دیکھو، ہم ایسے شاعر کا کلام سنتے ہیں جس کی قبر پر گنبد ہو۔ یہ گنبد بھی عجب راز ہے… یہ سبز گنبد والے کی منظوری سے بنتا ہے۔ گنبد کسی فنڈ، تنظیم یاثقافتی حالات سے تعمیر نہیں ہوتا، یہ مالک کی منشا اور اِذن سے تعمیر ہوتا ہے، اولیا کی تربت پر گنبد ‘سبز گنبد والے کی دین ہے۔ آپؒ کا ایک مشاہداتی شعر ہے:
داتاؒ کی گلی کافی غریبوں کیلئے ہے داتاؒ کے بھی روضے پہ ہیں انوارِ مدینہ
ہر صوفی شاعر بھی ہوتا ہے، لازم نہیں کہ ہر شاعر صوفی بھی ہو۔ ہر عارف عالم بھی ہوتا ہے، لازم نہیں کہ ہر عالم عارف بھی ہو۔ ہر ولی عارف بھی ہوتا ہے ، لازم نہیں کہ ہر عارف ولی بھی ہو۔ ولایت محض کلام اور بیان کا ہنر نہیں، یہ ایک تکوینی عہدہ ہے، تصرف کے حوالے سے ایک designation ہے۔
مجھے یاد آیا ، میرے دادا مرحوم ، جن کی قبر یہیں قصور کے کوٹ شہباز خان کے قدیمی قبرستان میں ہے، اپنی نوجوانی کے دور کا ایک واقعہ بتایا کرتے، یہ واقعہ میرے پاس ایک امانت اور اس فورم سے بہتر کوئی جگہ نہیں جہاں یہ امانت سپرد کی جائے۔ دادا جان، جنہیں ہم بابا جی کہا کرتے‘ بتایا کرتے کہ ان کا ایک استاد تھا،جس سے انہوں نے روحوں کو بلانے کا ہنر سیکھا، یہ spiritualism،کا ایک شعبہ ہے۔ دو تین یا چار ساتھی مل کر گلاس پر ہاتھ رکھ کر کوئی عمل پڑھتے، روح کو بلاتے، اس سے سوال کرتے، سوال کے جواب میں گلاس میں حرکت پیدا ہوتی، اور گلاس ایک تختی پر لکھے ہوئے حروف پر کھسکتا اور حروف جوڑ کر سوال کا جواب ملتا۔ ان کے دوستوں نے یہ ایک مشغلہ بنا لیا، وہ روزانہ رات کو اکٹھے ہوتے، ہنسی مذاق چلتا، کبھی کسی کے دادا اور کبھی کسی کے نانا کی روح کو بلوایا جاتا۔ ایک دن کسی نے کہا، آج بابا بلھے شاہؒ کی روح سے رابطہ کرتے ہیں، چنانچہ اسی طرح سب ایک ٹرانس میں چلے گئے، کسی نے نام پوچھا، پورا نام القاب سمیت بتایا گیا۔ دادا جی نے پوچھا‘ آپ اس وقت کہاں سے آئے ہیں؟ جواب موصول ہوا… میں بارگاہِ نبویؐ سے آیا ہوں، اور تمہارے لیے یہ پیغام لے کر آیا ہوں کہ یہ مشغلہ چھوڑ دو، اس میں تمہارا ایمان سلب ہونے کا خطرہ ہے… بس پھر کیا تھا، دادا جی فوراً اٹھے، توبہ کی اور سارا سامان ایک کنویں میں پھینک دیا… تو صاحبو! یہ لوگ شاعری کرنے کیلئے نہیں آتے ، اور نہ مقامی سیاست اور ثقافت کا عَلم لہرانے کیلئے آتے ہیں…بلکہ یہ لوگ سفیرانِ بارگاہِ نبوتؐ ہوتے ہیں … اور اْمتِ محمدیہؐ میں ایمان اور یقین کی دولت تقسیم کرنے کیلئے آتے ہیں، شاعری ان کیلئے ایک ذریعہ اظہارِ ضرور ہے، ذریعہ افتخار نہیں۔


بابا بلھے شاہؒ اگر شاعری نہ بھی کرتے تب بھی ان کا مزارِ اقدس ایسے ہی مرجعِ خلائق ہوتا۔ سیدِ ہجویر حضرت علی ہجویریؒ المعروف داتا گنج بخشؒ کے عرس پر حاضری دینے والے زائرین میں سے کتنے لوگوں نے “کشف المحجوب” پڑھ رکھی ہے؟ یہاں بھی زائرین کا انٹرویو کرلیں، کتنے لوگ بابا جی کی شاعری کے حافظ ہیں؟ بھائی! یہ میلہ روحوں کا میلہ ہے ، یہ فیض میلہ نہیں، فیض والوں کا میلہ ہے۔ اہلِ دل ہی جانتے ہیں یہاں کس کے ساتھ کیا واردات ہو رہی ہے۔ میزبان جانے یا مہمان…یہاں دونوں ہی گرامی ہیں، بلکہ گرامی قدر!!
اکڑ کھڑکے، دکڑ وجّے، تتّا ہوئے چْلھا
آن فقیر تے کھا کھا جاون، راضی ہووئے بلّھا
اولیا اللہ کی آرم گاہوں پر سجنے والے میلے اگر محض ثقافتی میلے ہوتے، تو سوال یہ ہے بھگت کبیر کا عرس کیوں نہیں ہوتا، بھرتری ہری کا میلہ بھی نہیں ہوتا، یہاں کسی میلا رام کا میلہ نہیں لگتا، بنگال میں رابندر ناتھ ٹیگور کا عرس نہیں ہوتا۔ ہاں! بنگال کے لالن فقیرؒ کا عرس ہوتا ہے، لاہور کے شاہ حسینؒ کا عرس ہوتا ہے، شور کوٹ کے سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ کا عرس ہوتا ہے ، جنڈیالہ شیر خان کے پیر وارث شاہؒ کا عرس ہوتا ہے، سندھ میں بھٹ کے شاہ عبد للطیف بھٹائیؒ کا عرس بھی ہوتا ہے… بات سمجھنے کی ہے، عرس ایک راز ہے، یہ قطرے کا قلزم سے واصل ہونے کا اعلان بھی ہے، اور یاد اور یاد دہانی بھی!! یاد رہے کہ یاد روح کا سفر ہے۔ خلیل جبران کا عرس نہیں ہوگا، ہمارے واصف علی واصفؒ کا عرس ہوگا… یہی فرق ہے جو ایک مفکر اور صوفی کے حال اور مستقبل میں دیکھا جاتا ہے۔
؎ نام فقیر تنہاں دا باھوؔ قبر جنہاں دی جیوے ھْو
صوفی روحِ عصر ہوتا ہے، صوفی کی زبان سے اس کے زمانے کی روح کلام کرتی ہے… کہا گیا ہے، حدیثِ قدسی میں، کہ زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ ہم خود ہیں… لاتسبو الدھر و نحنِ الدھر… جس سے وہ خود کلام کرے، وہ ہر کسی سے کلام کر سکتا ہے ، وہ لفظوں کے بغیر بھی کلام کر سکتا ہے… وہ کسی بھی زبان میں کلام کر سکتا ہے، پیغام وہی ہوگا ٗ صرف زبان اور ذائقہ مختلف ہو گا۔ صوفی کا کلام اپنے زمانے کے طلب اور تقاضوں کے مطابق الکتاب کے کسی ورق کی تشریح ہوتی ہے۔
صاحبو! کوئی سے دو لفظ ایک دوسرے کے مترادف تو ہو سکتے ہیں‘ متبادل نہیں۔ انسانیت مذہب کا متبادل نہیں، مذہب دین کا متبادل نہیں۔ انسانیت مابعد سے ڈیل نہیں کرتی، جبکہ دین بنیادی طور پر انسان کی روح کے تقاضوں کی تکمیل کرتا ہے۔ روح عالمِ اَمر کی حقیقت ہے۔ آج تک کسی صوفی نے دینی حقائق پر انگشت نمائی نہیں کی، اس نے صرف مذہب کے نام پر اپنے مفاد کی دکان چمکانے والے آڑھتیوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے، لیکن دین کی مبادیات کی تضحیک کبھی نہیں کی… یہ ہم جیسے چھوٹے ظرف کے مرید ہوتے ہیں جو ذرا سی پی کر بہک جاتے ہیں، اور اشاروں کنایوں سے فکری تخریب کاری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہم ایسے دوئی کا شکار لوگ عین اور غین میں فرق محسوس کرتے ہیں، شریعت اور طریقت کو دو الگ خانوں میں تقسیم دیکھتے ہیں، حالانکہ طریقت شریعت ہی کا باطن ہے۔ کوئی باطن اپنے کسی ظاہر کی نفی نہیں کرتا۔ روح جسم کی نفی کرنا شروع کر دے تو حیات خطرے سے دوچار ہو جاتی ہے۔
گزشتہ صدی میں جنگ عظیم اوّل کے بعد جب انسانیت کا بدن زخموں سے چور چور تھا، توالیگزینڈر فلیمنگ کو پینسلین کی بابت القا کر دیا گیا۔ جب اہلِ مذہب ظاہر پرستی کا شکار ہوگئے اور روحِ دین نفاق سے زخم خوردہ ہوئی تو بابا بلھے شاہؒ کو شاعری الہام کر دی گئی۔ صوفی طبیبِ زمانہ ہوتا ہے، ایسے اَطبا کو ہر دور کی فکری ضرورتوں اور بیماریوں کے مطابق نسخہ ہائے وفا و شفا ودیعت کیے جاتے ہیں، ایک صوفی کے کلام میں اُس دور کے تمام فکری پیراڈاکس کا حل موجود ہوتا ہے۔ آج سے تین سو برس قبل دین کو خارجیت اور جارحیت
سے کوئی خطرہ نہیں تھا، آج ڈالروں اور ریالوں کی ریل پیل سے فکری تخریب کار مسلح ہیں، آج مسجدوں اور میناروں کی جگہ برجیوں والے قلعے تعمیر ہو رہے ہیں، شعلہ بیان خطاب یافتہ خطیب کے جملے نشتربن چکے ہیں اور یہ نشتر نفاق اور افتراق کے زہر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اس زہر کا تریاق اہلِ مدرسہ کے پاس نہیں۔ ہاں! صوفی کے پاس اس کا دَم موجود ہے۔ صوفی روحِ دین کا حامل ہوتا ہے، وہ جانتا ہے کہ روحِ دین کو کن عناصر سے خطرہ ہے۔ دائیں اور بائیں بازو والے آج مل کر تصوف کا بازو مروڑ رہے ہیں۔ بائیں بازو والے کسی ایسے تصوف کی تلاش میں ہیں جو کلمے سے آزاد ہو، وہ مادر پدر آزاد گرورجنیش مارکہ روحانیت میں سکون کی معجون تلاش کر رہے ہیں ، دوسری طرف خود کو دایاں بازو کہلوانے کے شوق میں مبتلا نادان دوستوں کا ایک گروہ ہے جو تصوف کو خارج اَز دین سمجھتا ہے۔ وہ ظاہر کو کافی اور باطن کو اضافی سمجھتا ہے۔ صوفی ایسا شارحِ دین جانتا ہے کہ ایک پھونک سے گرم کو ٹھنڈا اور ٹھنڈے کو گرم کیسے کرنا ہے۔ وہ ایسا منتر پھونکے گا کہ مولوی اور صوفی ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک کامل صوفی صاحبِ حال ہوتا ہے ، اور صاحبِ حال عقل اور عشق کے موتی ایک مالا میں پرونے کا ہنر جانتا ہے۔ آج کے دور کا فکری چیلنج شریعت اور طریقت کو ایک پیج پر لے کر آنا ہے۔ شریعت اور طریقت دو الگ نصاب نہیں، ایک ہی نصاب کی دو تشریحات ہیں۔ مرشدی واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے ” طریقت دراصل شریعت بالمحبت ہے” بابا بلھے شاہؒ آج کے دور میں شاعری کرتے تو مسجد میں بیٹھ کر اپنا دیوان مکمل کرتے۔ طریقت شریعت کو اپنے قالب و قلب میں نافذ کرنے کا ایک طریقہ کار ہے۔ طریقت وہی حقیقت ہے جس کی طرف بابا بلّھے شاہ قادیؒ نے یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے:
ع سِکھ چج کوئی یار مناون دا
ہمارے ممدوحِ خلایق حضرت سید عبداللہ شاہ شطاری قادری المعروف بابا بلھے شاہ علیہ الرحمۃ کی ہر دوسری کافی تراکیبِ قرآنی سے مرصع ہے۔ ذرا غور تو کریں وہ اپنے کلام میں … فاینما تولو فثمہ وجہہ اللہ ، وھو معکم این ما کنتم، وفی انفسکم افلا تبصرون ، صم بکم ، فالذکرونی اذکرکم ، فنفخت فیہ ، کن فیکون، یٰسین اور مزملکی تراکیب سے کیا پیغام دے رہے ہیں۔ باباجی کی شاعری میں استعمال ہونے والے استعاروں پر ذرا غور کریں۔ کڑی‘ روح ہے، میکہ‘ یہ دنیا ہے، سسرال ‘ دارِ آخرت ہے، داج ْ اعمالِ صالحہ ہیں اور چرخہ ‘ ذکرِ الٰہی کی علامت ہے۔ جب وہ شرع اور عشق میں بَیر کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد عقل اور عشق کا موازنہ ہے، یہاں scholistic اور mystic رویوں میں فرق واضح کرنا مقصود ہے۔ جب بابا جیؒ فرماتے ہیں…”نہ میں مومن وچ مسیتاں، نہ میں پاکاں وچ پلیتاں، نہ موسیٰؑ نہ فرعون، بلھیا! کیہ جاناں میں کون”… کیا یہ کثرت کی دنیا کے ظلمت کدے میں گم ہو کر سمتوں کے کھو جانے کا اعلان ہے؟ یا پھر کثرت سے وحدت اور پھر وحدت سے نورِ احدیت کی طرف مراجعت کا وفور سے بھرپور تحیر و سرمستی کا اظہار؟؟ دائرہِ صفات سے نکل کر ذاتِ لاتعین کے مشاہدے میں مستغرق بلھے شاہؒ کے کلام کی جانکاری کیلئے شیحِ اکبر حضرت محی الدین ابنِ عربیؒ کی “فصوص الحکم” ، جنابِ منصور حلاجؒ کی “طواسین” اورحضرت غوث علی شاہ قلندر پانی پتیؒ کی “مراۃ الوحدت” میں موجود وحدت الوجود کے بنیادی کلیات و مبادیات کا قرطاسِ شعور پر منتقل ہونا ضرری ہے۔ بابا بلھے شاہ قادریؒ فنا فی المرشد کی جن کیف آگیں وادیوں میں محوِ خرام رہے، وہاں ملامت باعث ِ راحت و رافت ہے۔ جس طرح آپؒ کی شخصیت ملامت کا شکار رہی، آپؒ کی شاعری بھی کوچہ ملامت سے گزرتی رہی، اور ابھی تک گزر رہی ہے۔ یاد رہے کہ بلھے شاہ ؒ کا کلام بظاہر جتنا آسان اور دلکشا ہے، معانی و مفاہیم کے اعتبار سے اتنا ہی دقیق اور نکتہ کشا بھی ہے۔ بابا جی کے کلام کو ملامت کی گلی میں گھسیٹنے میں دوسرے درجے کے قوالوں اور تیسرے درجے کے دانشوروں کا ہاتھ ہے۔ یہ اَمر بدستور باعث ِ حیرت و تاسف ہے کہ یار لوگ ایک فنا فی المرشد، فنا فی الرسولؐ اور فنافی اللہ درویش خدا مست ولی اللہ کو محض پنجابی زبان کے مقامی شاعر کے طور متعارف کرواتے ہیں، یا پھر معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف مزاحمت کرنے والا ایک عامی سا سیکولر پرچارک۔ سوال یہ ہے کہ آسان فہم روز مرہ پنجابی میں “الم” کی تشریح کرنے والے صاحبِ حال فقیر کے کلام کی شرح کون کرے گا؟
جد اَحد اِک اَکلّا سی نہ ظاہر کوئی تجلّٰیٰ سی
نہ رب رسول نہ اللہ سی نہ جبار نہ قہار

یہ بھی پڑھئے:   نون لیگ کا دور اقتدار تمام ہوا

ہن میں لکھیا سوہنا یار
جس دے حسن دا گرم بازار

پیارا پہن پوشاکاں آیا آدم اپنا نام دھرایا
احد تو بن احمدؐ آیا نبیاں دا سردار

ہن میں لکھیا سوہنا یار
جس دے حسن دا گرم بازار

کن کہا فیکون کہایا بے چونی سے چون بنایا
احد دے وچ میم رلایا تاں کیتا ایڈ پسار

ہن میں لکھیا سوہنا یار
جس دے حسن دا گرم بازار

(حضرت عبداللہ شاہ قادری شطاری المعروف بابا بلّھے شاہؒ کے ۲۶۲ ویں سالانہ عرس کے موقع پر منعقدہ سیمنیار مجلس بلھے شاہؒ قصور میں پڑھا گیا)

Views All Time
Views All Time
156
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: