Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

عزتِ نفس اور تہذیبِ نفس

Print Friendly, PDF & Email

کیا نفس قابلِ عزت ہوتا ہے؟ کیا نفسانی خواہشات قابلِ تکریم ہوتی ہیں؟ کیا جسمانی آسودگی ترجیحات کے باب میں مقدم رکھنی چاہیے؟ کیا خواہشات کے ہجوم سے نمٹنے کا طریقہ یہی ہے کہ اسے شہرِتہذیب میں بلوہ کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے؟ 
ہمارے ہاں کچھ تراکیب اور اصطلاحات اس طرح سے رواج پا چکی ہیں کہ لغوی معنوں میں اگر انہیں رائج کر دیا جائے تو کاروبارِ گلشن میں لینے کے دینے پڑ جائیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں عمل کی بجائے ردّ عمل کی بہتات ہو، جہاں تحمل ، صبر اور برداشت کا شدید فقدان ہو، جہاں غیرت کے نام پر غصے کا چلن عام ہو، وہاں عزت نفس کے نام پر اَنا پرستی کی دعوتِ عام دی جارہی ہے… اور سرِ عام دی جارہی ہے۔ حیرت ہے ‘ بڑے بڑے فائیوسٹار اسکولوں میں اعتماد confidence کے نام پر اپنے بڑوں کے ساتھ بے ادبی اور گستاخی کا نصاب پڑھایا جارہا ہے۔ یعنی دوسروں کی عزتِ نفس کی پامالی کو اپنا حق سمجھا،اور سمجھایا جارہا ہے…، اور بڑے اعتماد سے اس بدتہذیبی کو اعتماد کا نام دیا جا رہا ہے… حالانکہ دوسروں کی عزت نفس کو اپنی انا کے بوٹوں کے نیچے روندنا ہی غرور اور تکبر کہلاتا ہے۔

 
اگر کوئی نفس قابلِ تکریم ہوتا ہے ‘ تو وہ دوسروں کا نفس ہے۔ تہذیب ِنفس کا تقاضا ہے کہ پاکی داماں کی حکایت دوسروں کی سنائی جائے‘ْ اپنی نہ بڑھائی جائے۔ اخلاق یہ ہے کہ دوسروں کے گمان کے مطابق ان کی عزت کی جائے … اپنی تحقیق کے مطابق دوسروں کا قد اور گردن نہ ماپی جائے… یعنی جو شخص اپنے گمان کے مطابق خود کو جس عزت و تکریم کا مستحق سمجھتا ہے‘ اسے وہ بہم پہنچائی جائے… خواہ اس کی قیمت ایک جبری مسکراہٹ اور قدرے خاموشی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اخلاق کا ایک کم سے کم درجہ ہے۔ بداخلاقی کی ابتدا کسی کو اس کی اوقات یاد دلانے سے ہوتی ہے اور انتہا اسے تذلیل کے دائرے میں دھکیلنے پر۔ 
یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ہر شخص کو ہمارے متعلق اپنی ایک رائے رکھنے کی آزادی

حاصل ہے۔ کسی کی رائے کو ہم اپنی عزت کی پامالی پر محمول نہ کریں،بلکہ اسے شک کا فائدہ دے کر بری کریں، ممکن ہے اسے ہمارے نام ، کام اور کلام سے آگاہی میسر نہ ہو۔ کوئی شخص سب دائروں میں تخصص کا حامل نہیں ہوتا، اگر کسی کو لکھنے کا ہنر حاصل ہے تو لازم نہیں کہ وہ فن تقریر میں بھی ید طولیٰ رکھتا ہو، ایک ڈاکٹر اپنے کلینک اور ہسپتال سے باہر بے ہنر ہے، اپنی گاڑی میں نقص کی تشخیص کے معاملے میں اس کے سامنے ایک بظاہر کم پڑھا لکھا شخص ایک عالم کی حیثیت سے بولتا ہے۔ ہم اپنے تئیں خود کو اس قدر وی آئی پی سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے دوسروں کے سامنے ہمارا نام پوچھ لے تو اسے اپنی توہین سمجھ لیتے ہیں۔ ہمارے ایک کنسلٹنٹ سے اس کے کمرے میں ایک مریض نے اٹھتے ہوئے ان کا نام دریافت کیا تو انہوں نے بڑے غصے سے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا‘ باہر لکھا ہوا ہے… ہم نے اپنے علم و ہنر اور مقام و منصب کو دوسروں کی عزتِ نفس پر برسنے والا کوڑا بنا لیا ہے، حالانکہ علم ایک سائبان کی مانند ہوتاہے جس کے نیچے مخلوق کو سایہ اور سکون مہیا ہوتا ہے۔ کوئی ہم سے فون پر ہمارا نام پوچھ لے تو ہماری عزتِ نفس کو چرکہ لگتا ہے کہ ہمیں آخر ہماری آواز سے کیوں نہیں پہچانا گیا۔ کوئی ہمارے سامنے ہماری پسند کا کھانا نہ رکھ سکے تو اس سے ہماری عزتِ نفس مجروح ہو جاتی ہے … گویا عزت کا مقام ہم نے شکم سمجھ لیا ہے… دل یا شکم میں سے ہمارا انتخاب کس قدر واضح ہے۔ یادش بخیر! ایک سمینار میں مدعو ایک نیم مشہور ادیب سے میں نے فون پر اس کے تعارفی کلمات اور تصانیف کی تفصیل پوچھنا چاہی … تاکہ نقیب ِ محفل کو پیش کی جاسکے اور وہ حاضرین ِ محفل میں ان کا تعارف کرواسکے … تو موصوف طیش میں آ گئے، کہنے لگے‘ جنہوں نے میرا نام دیا ہے اُن سے ہی پوچھ لو، یعنی وہ اس بات پر سیخ پا ہوگئے کہ فون پر بات کرنے والے کو اُن کا مکمل تعارف کیوں نہیں ہے… خیر! تعارف تو ان کے ایک جملے سے ہو گیا تھا۔جملہ اور لہجہ مکمل تعارف ہوتا ہے۔ بعض اوقات جملہ اور حملہ ہم قافیہ ہی نہیں ہم وزن بھی ہوتے ہیں۔ ہمارا اصل تعارف ہمارا اخلاق و کردار ہے، یہ تصانیف، ڈگریاں اور مناصب محض تعارفی حوالہ جات ہیں… اصل مقام نہیں۔ ہمارا اصل مقام دوسروں کے دل و نگاہ میں ہوتا ہے، اور یہ مقام ہمارے درجۂ اخلاق کے راست متناسب ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   ’’ٹوٹے خوابوں کی کرچیوں سے زخمی روحیں‘‘

 
ستم یہ ہے کہ ہمارے ہاں اخلاق کی بات دوسروں کو سنا دی جاتی ہے، اور خود کو اس سے مبرا سمجھ لیا جاتا ہے، یعنی ’’ دوسروں کی عزت کرو‘‘ کا مطلب ہم یہ لیتے ہیں کہ دوسروں کو ہماری عزت کرنی چاہیے، “ملاوٹ نہ کرو” کی شست میں ہم صرف دوسروں کے باٹ رکھتے ہیں، اور اس میزانیے پر اپنا میزان درست کرنا بھول جاتے ہیں۔ میاں بیوی کو اگر رواداری، برداشت اور اخلاق کا سبق دیا جائے تو وہ اس سبق کو خود پڑھنے کی بجائے ایک دوسرے کو پڑھانا شروع کر دیتے ہیں، ’’دیکھو! بی بی! ایک دوسرے کو معاف کردینا چاہیے‘‘ اس کے جواب میں وہ اللہ کی بندی ٗاپنے بندے کو معاف کرنے کی بجائے کہے گی ٗ ہاں! یہی بات میں انہیں کافی عرصے سے سمجھا رہی ہوں کہ معاف کر دیا کریں۔ گویا ہمارے پاس اپنے نفس کی تکریم کیلئے ہر اخلاقی جواز موجود ہے، اور دوسروں کی عزتِ نفس پامال کرنے کیلئے بھی کوئی نہ کوئی ’’شرعی جواز‘‘ موجود ہے۔ ایک غریب ریڑھی والے سے درجن بھر کیلے خریدتے ہوئے ٗ چند روپے کم کروانے کیلئے اُس کے ساتھ بحث مباحثے کا شرعی جواز ڈھونڈ لیتے ہیں، یہاں ہم یہ فرمانِ رحمت بھول جاتے ہیں کہ لین دین میں نرمی برتنے والے کو اللہ کی رحمت کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ آخر ہم کسی غریب کی مدد کرنے کی غرض سے اس سے سودا سلف کیوں نہیں خریدتے، کسی فائیو سٹار قسم کے سپر سٹور سے گھر کی ماہانہ گروسری خریدنے کی بجائے آس پاس اپنے محلے میں کسی کھوکھے والے سے ، کسی پریشان حال ریڑھی والے سے سودا سلف خریدنا شروع کر دیں تو ہماری عاقبت اور غریب کی دنیا سنورنا شروع ہو جائے … اُمرا اَسراف سے بچ جائیں اور غربا اَفلاس سے!! کارپوریٹ کلچر اَمیر کو مزید اَمیر کرنے کا دھندا ہے، یہاں قوانین سرمائے کے تحفظ کیلئے بنائے جاتے ہیں، اور پھر قانون کی عملداری کا مطلب یہی ہوتا کہ سرمایہ دار کی علمداری میں معیشت کا سارا قافلہ حرکت کرے۔ اس circle viscious برائی کے دائرے کو توڑنے کیلئے کسی کو تو ہجوم کی مخالف سمت میں چلنا ہی ہو گا… کسی کو تو جھکنا ہوگا، کسی کو تو طاقت اور سرمائے کے ہوتے ہوئے کمزور اور غریب لوگوں سے میل جول بڑھانا ہوگا… اگر پیسہ آنے پر سب لوگ ڈیفنس مارکہ آبادیوں میں شفٹ ہو جائیں تو باقی ماندہ بستیاں ڈیفنس لیس ہو جائیں گی۔ اُمرا اپنے محلے اور شاپنگ مال الگ بنانا شروع کردیں تو غریب کی چھابڑی اور جھونپڑی میں کون آئے گا، ایک غریب دکاندار کا فائدہ تو اسی صورت میں ہے کہ اس کا سودا کوئی امیر لے کر جائے، اگر اسی طرح کے غریب گاہک ہی اس کو گھیرے رکھیں گے تو وہ ادھار دینے پر مجبور ہوگا، اور نتیجے میں خود مقروض ہو چائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:   محمد علی ... دی چیمپیئن

 
اس حبس کے موسم میں بارش کا پہلا قطرہ ہم خود کیوں نہیں بنتے … معاشرے میں ایک دوسرے کو عزت دینے کا رجحان دم توڑتا جا رہا ہے، نفسانفسی میں ہم اپنے ہم نفسوں کو بھولتے جا رہے ہیں، انسانیت کا نام لینے والے وحدتِ انسانیت کے تصور کو بھلا بیٹھے ہیں … آج سے ہم عہد کرتے ہیں ، بلکہ درست جملہ یہ ہوگا کہ آج سے میں عہد کرتا ہوں کہ اپنے نفس کو عزت کے قابل نہیں سمجھوں گا اور ہر دوسرے ذی نفس کو ہر حال میں قابلِ عزت سمجھوں گا… یہی ہے عزتِ نفس کا اصل تصور… اور اسی تصور کو اپنی اصل صورت میں برقرار رہنا چاہیے!! ہمیں اپنی عزتِ نفس کی بجائے تہذیبِ نفس کی فکر کرنا چاہیے۔

Views All Time
Views All Time
74
Views Today
Views Today
7

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: